معاشرتی ناہمواریاں
زمانہ قدیم سے انسان کا یہ وتیرہ رہا کہ وہ انواع و اقسام کے تقابلی جائزہ و فکر اور نت نئی ایجادات کا تمنائی رہا اس کو انسانی جبلت کہا جائے یا وقت کہ ساتھ ساتھ آنے والی معاشرتی تبدیلیوں کے نتیجے میں اجاگر ہونے والی سوچ انسان ہر دور میں ہی جدت پسندی اور تحقیق سے عملاً وابستہ رہا۔
اس اختراعی سفر نے انسانی زندگی کو بہت سی آسانیاں بھی فراہم کیں اور اسی ترقی کے نتیجہ میں انسان بے شمار معاشرتی ناہمواریوں کا سامنا بھی کر رہا ہے۔ قرہ ارض پر بسنے والے بنی نوح انسان اپنی ترقی کی رفتار کو بڑھانے میں مصروف اس سوچ سے بے خبر ہوتے گئے کہ ترقی کی اس دوڑ میں انسان کی اپنی ایجادات اس کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ پتھروں کو دور سے شروع ہونے والا سفر تیغ۔ تلوار۔ نیزہ۔ بندوق توپ سے گزر کر آج ایٹمی توانائی سے تیار ہونے والے انسان کش مہلک ہتھیاروں تک آن پہنچا۔
انفرادی زندگی سے ابتدا کرنے والا انسان لاشعوری طور پر خاندان کے ادارے کو تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی ملکیت کی لالچ میں بھی مبتلا ہوتا چلا گیا۔ بنیادی ضروریات خوراک۔ چھت۔ دفاع اور جنسی اختلاط تک محدود رہنے والا قدیم دور کا انسان آج تراوت۔ جدت پسندی کی چاہ اور اپنے آپ کو امتیازی حیثیت دلوانے کی خواہش میں خود کو مختلف زبانی۔ لسانی۔ مذہبی۔ علاقائی اور قومی گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے اپنے اپنے دائرہ عمل کو متعین کر چکا ہے۔
انسان نے ہر شعبہ میں ترقی کے ساتھ ساتھ ترقی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اچھے اور برے نتائج کا سامنا بھی کیا۔ طبقاتی گروہوں نے اپنی اپنی ترجیحات اور مزاج کے مطابق اپنے اپنے گروہ کی شمولیت اختیار کی۔ ترجیحات اپنے ارتقائی عمل سے گزرتی ہوئی تمدنی اور ثقافتی ڈھانچے میں ڈھلتی گئیں جہاں ہم ترقی اور تعلیم یافتگی کو پروان چڑھاتے گئے وہاں ہمیں کبھی اس بات کا شائبہ نہ ہوا کہ ہم اپنے مقاصد کے حصول کے درپے کسی دوسرے کے حقوق کو سلب یا پامال تو نہیں کر رہے۔
ترقی پسند معاشرہ دنیا کی دوڑ میں ہمیشہ آگے رہنے کے خواہاں لوگوں کا وہ گروہ ہے جو ہمیشہ بے حسی کو پریکٹیکل ہونا گردانتا رہا اور معاشرے میں اختلال پیدا کرتا رہا۔ ترقی کی راہ پر برق رفتاری سے بھاگنے والے انسان نے معاشرے کے اندر کئی اخلاقی شگاف پیدا کر دیے۔ ترقی تو جاری ہے مگر معاشرہ ناہمواری سے متعارف ہوتا گیا۔ دنیا ترقی کی منزلوں کو طے کرتی گئی اور معاشرے میں خلا پیدا ہوتے چلے گئے۔ گروہ اپنے اپنے مفادات کے تحفظ میں دوسروں کے حقوق سلب کرنے لگے۔ چھینا چھپٹی۔ نفسا نفسی۔ آپا دھاپی۔ خود پرستی اور خود غرضی نے معاشرے کے اندر رنجوری اور آزاری جیسی کیفیات کو جنم دیا۔ سکھ کی تلاش میں سرگرداں انسان دکھوں کا موجد بھی کہلانے لگا۔
ساری دنیا کی خبروں اور حالت حاضرہ کا محاصرہ کرنے والا انسان اپنے آباء و اجداد کی تہذیب سے نابلد ہوتا جا رہا ہے۔
سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کو اپنی فنگر ٹپس کے نیچے رکھنے والا انسان دنیا بھر کے لوگوں سے روشناسی کی خواہش میں اپنے قرابت داروں کو ناشناسائی کی کھونٹی پہ لٹکا چکا ہے۔ ہم ترقی اور روشنی کی جانب شروع ہونے والے سفر کا رخ تاریکی کی جانب موڑتے جا رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ کی ونڈو سے جھانکتے ہوئے ہم سوشل میڈیا کی دنیا کا جو منظر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ مناظر اب ہم اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھنے کے خوگر نہیں رہے۔
ہماری بقاء اپنے اسلاف کے اسلوب سے جڑے رہنے میں ہے۔ آپسی محبت اور بھائی چارے کی مدد سے برداشت اور رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ لوگ جن سے ہمارے نظریاتی۔ طبقاتی۔ لسانی۔ یا سیاسی کسی بھی قسم کے اختلافات ہیں ہمیں ان کے عقائد پر بلاوجہ تنقید اور نکتہ چینی سے صریحاً اجتناب کرنا چاہیے۔ تاکہ عالمی معاشرے میں امن کی فضاء قائم و دائم رہے۔
معاشرتی سطح پر بہترین شہری ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے دوسروں کی حق تلفی سے گریز کرنا چاہیے۔ وسعت نظر کے ساتھ اپنے کردار کو امن و استحکام کی غرض سے بہترین طریقے سے ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم نے نہ صرف اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور خلوص نیت سے ادا کرنی ہیں۔ بلکہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے انہیں بھی احساس ذمہ داری سے متعارف کروانا ہے۔ صبر۔ تحمل اور باہمی اخلاق و آداب سے اک مضبوط معاشرتی نظام کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ اور مضبوط معاشرتی نظام ہی مربوط ریاست کے قیام کی ضمانت ہوتی ہے۔


