دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو اس کا آخری سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی نامور ہستیاں ان گنہگار آنکھوں نے موت کے ہاتھوں ہارتی دیکھی ہیں۔ ہماری اپنی آنکھوں نے کیا کیا نہ غم جاناں و غم دوراں دیکھے ہوں گے مگر جتنی عزت، شہرت، عظمت اور وقار ”دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں“ والے کے حصے میں آیا ہے چشم فلک نے شاذ ہی ہمارے عصر میں دیکھا ہو گا۔ طارق عزیز ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ ایک عہد تھا۔ ہم نے خلق کو منیر نیازی ازبر ہوتے دیکھا جس کے مرنے پر چنگ چی رکشے والے کیا اور ریڑھی والے کیا، سبھی کہتے پائے گئے کہ آ ج وہ مر گیا ہے جو کہا کرتا تھا کہ” کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی“۔ طارق عزیز کی زندگی کے بہت حوالے ہیں۔۔ اس نے اپنے تئیں ہمہ جہت شخصیت ہونے کا پورا پورا حق ادا کیا ہے۔ وہ پاکستان ٹی وی چینل کا پہلا اناونسرتھا۔ ایک اچھا آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ، عمدہ شاعر، دانشور، کمپیئر اور ادبی خوبیوں کا مالک ایک رحم دل انسان بھی تھا۔

مجید امجد اور منیر نیازی کے شہر ساہیوال سے بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد حصول معاش کے لیے لاہور آنے والے کا ستارہ روشن ہی روشن ہوتا چلا گیا اور کبھی غروب نہ ہوا۔ امید واثق ہے کہ بعد از مرگ بھی وہ ا حمد ندیم قاسمی، ناصر کاظمی اور منیر نیازی کی طرح جانا پہچانا جائے گا۔ منیر نیازی کی بھی کوئی اولاد نہیں اس کے فن اور شخصیت نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے اس نسبت سے طارق عزیز بھی خوش قسمت ہے کہ وہ فن اور شخصیت کے سہارے ابدی زندگی جی سکتا ہے۔ مجھے ان کے نیلام گھر سے لے کر بزم طارق عزیز شو تک بیسیوں مرتبہ شرکت کا شرف حاصل رہا۔ مجھے جب بھی پروگرام میں شمولیت کے لیے اس کے پرو ڈیوسر کا فون آتا، میں ممنونیت سے ان کا شکریہ ادا کرتی تو پروڈیوسر صاحب مجھے ہمیشہ یہی کہتے کہ میڈم یہ دعوت نامہ میری طرف سے نہیں ہے، یہ طارق عزیز کی طرف سے آپ کو میرٹ پر بلایا گیا ہے۔ طارق عزیز کی ہمشہ کوشش رہی کہ کسی متشاعر اور متشاعرہ کو متعارف نہ کرواتے یہ ان کی دور اندیشی تھی کہ اہل ہنر کو وہ کوسوں دور سے پہچان لیتے۔

بہت سے متشاعر و متشاعرات جو (معذرت کے ساتھ) کچھ ضرورت مند سینئر شعرا کی کر م فرمائیوں سے ہمارے سروں پر بٹھائے جانے کی کوشش میں ہوتے، طارق عزیز ان غیر ہنر لوگوں کو اپنی بزم کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیتے۔ یہ معیار انہوں نے تا دم آخر قائم رکھا۔ پی ٹی وی کا، بزم طارق عزیز کے بعد دوسرا بڑا ادبی پروگرام ”رات گئے“ تھا۔ اس میں بھی کچھ شوقیہ فنکار اپنا اثر و رسوخ استعمال کر لیتے جس پر ادبی حلقوں کو تحفظات ہوتے اور وہ تلملا کر رہ جاتے مگر مجال ہے جو کوئی بزم طارق عزیز پر انگلی اٹھا سکتا۔ طارق عزیز کی یہ نیک نامی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ پاکستانی شعرا کا یہ بھی ایک ریکارڈ طارق عزیز نے قائم کیا ہے کہ انیس سو چونسٹھ سے لے کر میرے عہد تک بیت بازی سے مہمان شاعر کے طور پر سب جینوئن شاعر ادیب اس محفل میں شرکت کر چکے ہیں۔۔ گھر کے ڈرائیور سے لے کر اپنے پروڈوسر تک سب سے پیار کرتا۔ اس کے آخری دنوں کے ساتھی نوجوان پروڈیوسر آغا قیصر عباس کو ہمیشہ بیٹوں کی طرح رکھا اور کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔

طارق عزیز کی پیدائیش انیس سو چھتیس میں جالندھر شہر میں ہوئی۔ دیگر مہاجرین کی طرح انیس سو سینتالیس میں پاکستان بن جانے کے بعد ساہیوال میں آبسے۔ والد صاحب کی پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت تھی آخری دم تک وہ اپنا نام ”عبدالعزیز پاکستانی“ لکھتے رہے۔ پوچھنے پر کہتے کہ میں ازل ازل سے پاکستانی ہوں بس غلط ملک میں پیدا ہو گیا تھا۔ اب اپنے اصلی مقام میں آ گیا ہوں۔

یہ انیس سو چونسٹھ کی بات ہے جب گورنمنٹ آف پاکستا ن نے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں دو عدد ٹیلی ویژن سینٹر کھولے جائیں۔ یوں ایک پی ٹی وی چینل لاہور میں بنا اور دوسرا مشرقی پاکستان ڈھاکہ میں جلوہ افروز ہوا۔ ریڈیو پاکستان سے یوں طارق عزیز نے ٹیلی ویژن سے سفر آغاز کیا۔ اس وقت اردودان طبقے پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان پر نمایاں نظر آتے۔ انیس سو پچھتر میں نیلا م گھر شروع ہوا تو اس پروگرام سے طارق عزیز کی شہرت کے ڈنکے بجنے لگے۔ یہاں پر اس نے اپنی بارعب آواز، اعلیٰ ادائیگی اور لفظی ہنر مندی کا جادو جگایا۔ اس پلیٹ فارم سے ترقی پانے والی اسٹیج پر اس کی معاون، لڑکیاں بعد میں مختلف ٹی وی چینلز پر اینکر پرسن، اداکارہ اور تجزیہ نگار کے طور پر مشہور ہوئیں۔

سیاست سے دلچسپی بھٹو کی دوستی میں ہوئی۔ جب پیپلز پارٹی نے نظر انداز کیا تو سیاسی مجبوری کے تحت ضیا ءالحق کی جانب جھکاو ہوا۔ پھر نواز شریف کو لیڈر مانا، بعد ازاں مسلم لیگ ق سے وابستگی ہوئی۔ مگر بالاخر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے مقبول ترین بزم طارق عزیز شو تک محدود رہا۔ وہ ایک پڑھا لکھا اور روایات و اخلاقیات کا آدمی تھا۔ روائتی سیاسی منافقتوں اور جوڑ توڑ سے نباہ میں مہارت نہیں رکھتا تھا نہ ہی جھوٹے سیاسی داﺅ پیچ جانتا تھا۔ وہ ہاتھی کے دانت کھانے کو اور دکھانے کو اور کے معنی سے نابلد تھا ورنہ وہ آج پاکستان کا امیر ترین سیاستدان کہلاتا۔ اس نے سیاست کو خیر باد کہا تو پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا اور نہ ہی اپنی بیٹھک کو اس کے بعد سیاستدانوں کے لیے کھلا رکھا بس ایک میاں منیر سے ذاتی تعلقات میں تعطل نہ آیا۔ یہ عقدہ کبھی نہیں کھلا کہ شہر پر رونق کے ادبی میلوں کو طارق عزیز نے نظر انداز کر رکھا تھا یا نام نہاد ادیبوں نے اس سے صرف نظر کیا۔ وہ شاذ ہی کسی عوامی ادبی محفل میں دیکھا جاتا۔ کبھی کبھار کوئی چینل اسے اپنی ضرورت کے طور پر اپنے پروگرام کی زینت بڑھانے کے لیے بلا لیتا تو وہ نظر آ جاتا۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک اچھا فنکار تھا۔ اس نے چند فلموں میں بھی کام کیا جسے بہت سراہا گیا۔ وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کا شاعر تھا۔ اپنی شاعری کے علاوہ اسے اساتذہ کے سیکڑوں اشعار زبانی یاد تھے۔ پروگرام میں وہ پاکستان کی ساری مقامی زبانوں میں اشعارسنایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایک سینئر شاعر کے کلام پر جھوم جھوم جا رہا تھا۔ ہر ہر شعر پر دل کھول کر وارے نیارے ہو رہا تھا۔ کلام کچھ اس طرح تھا کہ

پلے ہیں پیڑوں میں اور ٹہنیوں پہ کھیلے ہیں۔

اسی لیے تو بدن سایہ دار ہے اپنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی میں دوسری محبت ہوں

پھول کاڑھے ہیں میں نے اترن میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سوچ کردرو دیوار بھی گرا ڈالے

جو تو نہیں ہے تو پھر گھر کی کیا ضرورت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے جو کہنا تھیں باتیں ان کہی کرتا رہا

عمر بھر میں زندگی کو ملتوی کرتا رہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر بدلیں تو کیوں دوست بدل لیتے ہیں اب لوگ

کیا رشتے بھی یاں نقل مکانی کی طرح ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرخ بتی کو سبز ہونے دو

مجھ کو کچھ دیر کھل کے رونے دو

جب اس شاعر نے آخری شعر پڑھا تو طارق عزیز کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ حساس دل رکھنے والے طارق عزیز اپنی بھرائی ہوئی آواز میں بولا آپ کے کلام سے دل کی دھڑکن اور نبض رک رک جاتی ہے اللہ خبر کتنا درد پالے ہوئے آدمی ہو۔

ادبی ذوق رکھنے والا یہ نابغہ روزگار ہر اچھے شعر پر دل کی گہرائیوں سے داد دیتا۔ اکثر اپنے ٹی وی پروگرام میں خود بھی شعر پڑھتا اورا گر وقت کی اٹکل آڑے نہ آتی تو سامنے والے ذوقی سے اس کی کوشش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ کلام سنے۔ بس اوقات ایسے بھی ہوتا کہ کسی کے اچھے شعر پر وہ سکتے میں آجاتا۔ پہلے اسے خامشی کی داد دیتا پھر ایک آہ بھرتا تیسرے مرحلے میں اونچی آواز میں واہ واہ کرتا اور آخر میں ہال کی جانب چہرہ کر کے دونوں ہاتھ بلند کر کے تالیاں بجاتا۔ ہال کے ناظرین و سامعین اس کے ایک اشارے کے منتظر ہوتے یوں پوراہال تالیوں سے گونج اٹھتا۔

اپنے ہر پروگرام میں، بیت بازی کے مقابے میں مہمان جج سے اپنا کلام سنانے کی فرمائش ضرور کرتا۔ ایک دفعہ جب پروگرام کے آخر میں مجھ سے فرمائش کی تو میں نے ایک غزل سنائی تو سامعین میں سے آواز آئی”یک طرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا“۔ یاد رہے کہ یہ میری ایک غزل کا مصرع ہے۔ میں نے جھینپ کر طارق عزیز کی طرف دیکھا۔ اس پر اس نے سامع کی سرزنش کرنے کی بجائے مجھے کہا کہ سنائیں سنائیں یہ آپ کے فین ہیں۔ آپ کو سننا چاہتے ہیں۔ اس پر میں نے جھجکتے ہوئے اس غزل کے تین شعر سنا کر اجازت چاہی۔ اشعار یوں تھے:

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا

یک طرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

عشاق چلے آئے ہتھیلی پہ لیے سر

وہ حسنِ طلب تھا کہ نہیں کا نہیں چھوڑا

سو روپ تھے وحدت میں بھی اس پارہ صفت کے

پر ہم کو بت ِ دل نے یقیں کا نہیں چھوڑا

اشعار سننے کے بعد اس سامع کی طرف دیکھا اوراپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر بولا”ہون سکون ای“؟۔ اس کے اس طرح کے چٹکلے اس کی بزم کو کشت زعفران بنائے رکھتے۔

اس کی پنجابی کی کتاب” ہمزاد کا دکھ“ کے سیکڑوں ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔۔ بزم طارق عزیز شو میں وہ اکثر اپنی کتاب مہمانوں کو تحفے میں دیا کرتا۔ وہ چوں کہ مجید امجد اور منیر نیازی کے عہد کا بندہ تھا اور ان کے دوستوں میں سے بھی تھا اس لیے ان دونوں کی شاعری کو بھی پسند کرتا تھا۔ ان دونوں کی پوری پوری کتابیں اس کو زبانی یاد تھیں۔ ”ہم زاد کا دکھ“ تو ساری کی ساری منیر نیازی کے اسلوب میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اگر چہ اردو شاعری کی کوئی کتاب تو نہیں چھپی مگر اس کے اردو اشعار تو بہت مقبول عام ہیں۔ مثلا مندرجہ ذیل اشعار تو بچے بچے کی زبان پر رہتے ہیں۔ :

یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

ایک اور شعر دیکھیے:

ہم وہ سیہ بخت ہیں طارق کہ شہر میں

کھولیں دکاں کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں

اس کی ایک اردو نظم دیکھیے:

چلو اس شام کوئی اور ہی قصہ سناتے ہیں۔

چلو اس شام اس کو ہم سرے سے بھول جاتے ہیں۔

چلو اس شام کوئی آنے والا خواب بنتے ہیں۔

چلو اس شام ہم کلیاں نہیں، کانٹوں کو چنتے ہیں۔

چلو اس شام جشنِ تیرگی ہنس کر منائیں ہم

چلو اس شام اس کو پھر سرے سے بھول جائیں ہم

اس کی زبان سے دوسروں کی تو کیا اپنی پنجابی شاعری بھی بہت سجتی تھی:

ہولی ہولی بھل جانواں گے

اک دوجے دیاں شکلاں وی

ہولی ہولی سکھ جانواں گے

 زندہ رہن دیاں عقلاں وی

ایک نظم جس کا عنوان بھی” ہمزاد دا دکھ“ ہے، میں وہ کہتا ہے:

پچھلی راتیں تیز ہوا

سارے شہر وچ پھردی رہی

زہری قہر دا کوئی وظیفہ

چاروں پاسے کردی ری

میں تے بوہا بند ای رکھیا

اپنے پورے زور نال

پتہ نہیں کیہ بیتی ہووے

میرے جیہے کسے ہور نال

اس کی ایک نظم جس کا نام ”اک حقیقی گل“ ہے، میں اس کی وزڈم دیکھیے:

مڈھ قدیم توں دنیا اندر

دو قبیلے آئے نیں

اک جنہاں نے زہر نیں پیتے

دوجے جنہاں پیائے نیں

نظم ”کتبہ“ میں کہتا ہے:

جزا سزا دے وہم نے

کجھ وی کرن نہیں دتا

زندہ رہن دے سہم نے

چج نال مرن نہیں دتا

اس کی ایک خوبصورت ” وعدہ معاف گواہ“ :

کدی کدی میں سوچنا واں

جے کمرے وی گلاں کردے

فیر تے میرا کمرہ وی

کنیاں گلاں کر سکدا سی

کنے ہوکے بھر سکدا سی

کنیاں موتاں مر سکدا سی

کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ شاعر کی تخلیق کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ اس بات کی شہادت طارق عزیز کی یہ نظم ”اک مرثیہ“ جو انہوں نے کئی دہائیاں پہلے لکھی تھی، لگتا ہے کہ آج کرونیائی دنوں کی تخلیق ہے :

نہ گلشناں وچ گلاب مہکن

نہ دشت اندر سراب دہکن

نہ شام ویلے شراب لبھے

نہ کوئی سوہنی کتاب لبھے

نہ میرے دل نوں ملال کوئی

نہ میرے اندر جلال کوئی

نہ اذن دیوے حضوریاں دے

نہ حکم لاوے اوہ دوریاں دے

نہ کوئی نعرہ حبیب ولوں

نہ کوئی جملہ رقیب ولوں

عجیب دن نیں عجیب راتاں

وہ پورا ایک سکول آف تھاٹ تھا۔ اس نے تین نسلوں کی ذہنی تربیت کی تھی۔ جس کی آواز نے نصف صدی تک دلوں پر حکمرانی کی ہے۔ وہ ایسا ساحر تھا کہ جس نے اپنے سامعین کو اساتذہ کی طرح شعری پڑھت سے نوازا۔ لفظی رچاﺅ اور آوازکے اتار چڑھاﺅ سے واقف کرایا۔ آواز کی ایسی کھنک کہ جیسے گلوکاروں کی طرح ساری عمر ریاض کی ہو۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کبھی کوئی شخص اس کے گھر اس کا انٹرویو کرنے چلا جاتا تو وہ انکار نہ کرتا۔ وہ پرانی نسل کا آدمی تھا، سوشل میڈیا زیادہ استعمال نہیں کرتا تھا البتہ ٹویٹ باقاعدگی سے کرتا تھا جس میں زیادہ مذہبی، اصلاحی اور اخلاقیات سے پُر باتیں ہوتیں۔ ابھی تھوڑے دن پہلے ہی اس نے ٹویٹ کیا کہ اس کی خود نوشت جس کا نام ” فٹ پاتھ سے پارلیمنٹ تک“ پبلش ہو گئی ہے اور عنقریب مارکیٹ میں آنے والی ہے۔ یہ نام اس نے اس لیے چنا کہ اس کا ظاہر باطن ایک تھا۔ وہ اکثر نجی محفلوں میں اپنی زندگی کے تلخ واقعات محنتی اور غریب لوگوں کی حو صلہ افزائی کے لیے بیان کر دیتا کہ کس طرح اس نے محنت مزدوری کی، ہوٹلوں پر کام کیا فٹ پاتھوں پر سونے تک کی نوبت آئی مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ انیس سوبانوے میں حکومت پاکستان نے اسے تمغہ حسن کار کردگی سے نوازا۔

طارق عزیز کی کوئی اولاد نہیں وہ اکثر اپنی گفتگو میں کہا کرتا تھا کہ میرے اثاثے میری قوم کی امانت ہیں۔۔ اس نے وصیت کر رکھی تھی کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں دل وغیرہ پاکستان کو عطیہ کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ تدفین سے قبل اس کی پراپرٹی اور تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپیہ حکومتی خزانے میں جمع کروا دیا گیا۔ سلام ہے پاکستان کے اصلی ہیرو اور اس کی پشتون رفیقہ حیات ڈاکٹر ہاجرہ طارق کو کہ میڈیا کی گلیمری دنیا کے باوجود انتہائی سادگی اختیار کی۔

پنتالیس برس تک اپنی آواز، لیاقت، دانائی، سُچے اور کھرے پن کا جادو جگا نے اور دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو مسحور کرنے والی آواز چوراسی سال کی عمر میں منوں مٹی میں جا سوئی۔۔۔۔ ان للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔۔۔ ہائے ہائے اے خاکِ تشنگی تیری پیاس کب بجھے گی۔۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *