عورت جذباتی طور پر مرد سے زیادہ طاقتور ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گزشتہ دنوں ڈاکٹر سارہ نقوی کا مضمون پڑھا اور پھر اسی موضوع پر ڈاکٹر سہیل کے ایک مضمون میں بھی اظہار خیال کیا گیا کہ خواتین جذباتی طور پر مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سارہ نقوی نے خواتین کی بے چارگی اور بے بسی پر کافی سیر حاصل گفتگو کی اور بتایا کہ معاشرتی تار و پود میں خواتین کو کیا درجہ حاصل ہے اور کیا ہونا چاہیے۔ دونوں مضامین پڑھ کر اس بات پر خوشی ہوئی کہ اللہ نے جذباتی طور پر عورت کو مرد سے زیادہ طاقت بخشی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بچیوں کی تربیت ان خطوط پر کی ہی نہیں جاتی کہ وہ اپنی اس طاقت کا ادراک کر سکیں۔ میرا اس موضوع پر قلم اٹھانے کا مقصد ممکنہ حد تک افراد معاشرہ کے شعور میں اضافے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

ہمارے ہاں عموماً عورت کو گھرداری تک ہی محدود رکھا جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں اگرچہ حالات کافی بہتر ہیں اور خواتین اور لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے سرکاری اور نجی اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مگر ابھی عورت کو ایک اچھی اور معیاری زندگی دینے کے معاملے میں ہمیں شاید مزید سفر اور کوشش درکار ہے۔ لیکن حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ایسے موضوعات پر تواتر سے لکھ کر ویب اور سوشل میڈیا کے باقاعدہ قارئین کی ذہن سازی کرنا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ممکن ہے۔

عموماً یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ عورت کے جذبات مرد سے زیادہ ہوتے ہیں اور یہی اس کی کمزوری ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے۔ عورت کو جذبات کی مار مارنا اور بلیک میل کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ دماغ سے نہیں دل سے سوچتی ہے۔ عورت کے جذبات میں سب سے بڑا اور اہم جذبہ یقیناً ممتا کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بچوں کی خاطر سسرال یا شوہر کے مظالم بھی سہنے پر تیار ہو جاتی ہے۔ ممتا کا یہی جذبہ وہ ہر رشتے کے لئے کسی نہ کسی صورت نچھاور کرتی ہے۔

یہی بات اسے صنف نازک بناتی ہے جو ظاہری نہیں بلکہ دلی طور پر بھی نازک ہوتی ہے۔ شادی اور رشتے کے معاملے میں وہ خاندان بالخصوص مردوں کی رضا پر راضی ہو جاتی ہے۔ اور شادی کے بعد بھی کئی معاملات میں وہ سمجھوتہ کر لیتی ہے۔ اگرچہ اب حالات بدل رہے ہیں اور خواتین علم و شعور حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مادہ پرست بھی ہوتی جا رہی ہیں لیکن ایسی عورتوں کی تعداد فی الوقت بہت کم ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت کو اس کی اس طاقت کا احساس دلایا جائے اور یہ شعور دیا جائے کہ وہ کہاں اور کیسے اس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے زندگی میں زیادہ بہتر اور مستحکم مقام حاصل کر سکتی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جذباتی طور پر طاقتور ہونے کا مطلب سنگدل اور بے رحم ہونا ہرگز نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کی بجائے دماغ سے کام لے کر اور معاملے کے ہر پہلو پر غور کر کے زیادہ بہتر فیصلے اور اقدامات کیے جائیں۔

مثلاً اگر عورت کا شوہر آوارہ اور غیر عورتوں کا رسیا ہو تو اس کے راہ راست پر آ جانے کی امید اور انتظار میں وقت ضائع نہ کرے بلکہ اسے چھوڑنے کا فیصلہ کر کے خود کو زیادہ مضبوط ثابت کرے۔ اسی طرح اگر شوہر طلاق دے دے تو بچوں کو اپنے پاس رکھنے کی بجائے ان کے باپ کے پاس چھوڑ دے تاکہ اسے احساس ذمہ داری ہو سکے۔ اگر عورت یہ سوچے کہ وہ بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتی تو طلاق ہو جانے کے بعد اسے تنہا بچوں کی پرورش کرنا ہو گی جو ناقابل بیان حد تک صبرآزما اور مشکل ہے۔ محبت کے معاملے میں بھی عورت کافی کمزوری کا مظاہرہ کرتی ہے، اسے لگتا ہے کہ وہ فلاں شخص کے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ اور اگر شادی کسی اور جگہ ہو جائے تو بھی وہ اپنی گزشتہ اور نہ مل سکنے والی محبت کا ماتم کرتی رہتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نئے ماحول کے مطابق خود کو تبدیل کر سکتی ہے۔

کئی معاملات میں عورت خود کو بے بس اور بے چارہ محسوس کرتی ہے۔ یہ منفی احساس اس کی طاقت اور سوچنے کی صلاحیت سلب کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ پریشان کن صورت حال سے نکلنے کے لئے امکانات اور ممکانات کا جائزہ لے تو اپنے حالات کو کسی نہ کسی حد تک ضرور بہتر کر سکتی ہے۔ اگر مسائل کی بجائے حل پر توجہ مرکوز کی جائے تو یقیناً معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ کہتے ہیں ناں کہ عورت جب کچھ کر گزرنے کا ارادہ کر لے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر یہ صلاحیت منفی کاموں مثلاً کسی کو نقصان پہنچانے اور ذلیل و رسوا کرنے، سازش اور سیاست کرنے، یا کسی سے انتقام لینے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے تو مثبت مقاصد اور زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کیوں نہیں؟

دوبارہ وہی کہوں گی کہ عورت کو اس کی طاقت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ وہ خود اپنی جذباتی طاقت سے کام لینا جانتی ہو۔ مگر بدقسمتی سے ہماری عورت کو آنسوؤں اور مظلومیت کی سوغات ورثے میں ملتی ہے۔ یہاں ڈرامے اور فلم کی کہانیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جہاں نام نہاد ریٹنگ کے حصول کے لئے نسوانی کردار کے آنسو دکھانا ضروری سمجھ لیا گیا ہے، خواہ وہ ماں ہو، بیوی ہو، محبوبہ، یا بیٹی اور بہن۔ ڈراموں کی گھٹیا ریٹنگ کے چکر نے عورت کے رویوں اور نفسیات کو جو نقصان پہنچایا ہے، کیا کوئی ڈراما چینل اس کی تلافی کرنے کے قابل ہے؟ غالباً نہیں۔ یہ بجا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہمیں ڈرامے کی عورت با اختیار اور مضبوط بھی نظر آئی ہے لیکن ایسی کہانیوں کی تعداد دس فیصد سے بھی کم ہے۔

عورت میں خود انحصاری کا جذبہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اسے مرد کی محتاجی سے نکالنے کی یہی واحد صورت ہے۔ عورت کو بے بسی اور بے چارگی کا احساس خود اپنے دل سے نکالنا ہو گا تاکہ مرد کی جذباتی اور کسی بھی طرح کی بلیک میلنگ اور زیادتی سے محفوظ رہ سکے۔ حالات خواہ کتنے ہی مخالف ہوں، حالات سے لڑنا ہی تو بہادری ہے نہ کہ ہتھیار ڈال دینا۔ اس کے لئے ہماری ماؤں کو مضبوط ہونا ہو گا کیونکہ بہادر ماں ہی اپنی بیٹی کو بہادر بنا سکتی ہے۔ عورت اگر جذبات پر قابو رکھنا اور ان کا درست اور ذہانت سے استعمال سیکھ لے تو مرد اور معاشرے کے استحصال سے کافی حد تک بچ سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *