بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کی کمزور ہوتی گرفت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سرپرستی کم ہونے کی خبروں نے مولانا فضل الرحمان‘ شہباز شریف‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو الگ الگ سطح پر متحرک کر دیا ہے۔ مولانا نے اختر مینگل والا محاذ سنبھالا‘بلاول نے پی ٹی ایم کے منتخب افراد سے رابطے کئے۔ شہباز شریف کورونا کی آڑ میں آرمی چیف سے صحت یابی کی دعا بذریعہ فون لے چکے ہیں۔ انہیں ایسے امکانات دکھائی دے رہے ہیں کہ سول و خاکی بیورو کریسی میں انہیں حمایت مل سکتی ہے۔

مریم نواز کی اس وقت دلچسپی دو معاملات میں ہے۔ وہ ہر وقت نظر رکھتی ہیں کہ ان کے چچا کے لئے پارٹی میں حمایت کا وزن ان سے زیادہ نہ ہو۔ ان کی توجہ کا مرکز دوسرا معاملہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور خود کو قانونی کارروائی سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ ان سب کو اپنے اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے کچھ طاقت ور حلقوں یا ان کے قریبی لوگوں سے رابطے کرنا پڑ رہے ہیں۔ بیک وقت ایسے رابطوں نے پانی کی ٹھہری سطح کو مرتعش کر دیا ہے جسے سادہ دل طوفان سمجھ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین کو ان کے تجربہ کار ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ وہ لاہور میں بیٹھ کر حکومت کی انتظامی و سیاسی کمزوریوں پر جارحانہ بیانات جاری کریں۔ساتھ ہی انہیں کہا گیا کہ وہ پنجاب میں پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے منصوبہ شروع کریں۔اس منصوبے میں بلاول بھٹو جانتے ہیں کہ آپشن صرف ق لیگ ہو سکتی ہے۔ ق لیگ بھی اس اتحاد میں دلچسپی رکھتی ہے۔

بلاول اس امکان کو یقینی موقع میں بدلنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ خاندانی وراثت میں سیاست پانے والے بلاول بھٹو کو جس کسی نے اس راہ پر لگایا ہے وہ ان کا ہرگز دوست نہیں کیونکہ جس طرح سندھ میں صرف سندھی سیاستدانوں کی جماعتیں جیت رہی ہیں پنجاب میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی وفاقی جماعت نہیں رہی۔ بے نظیر بھٹو کی جدوجہد تھی کہ 2008ء تک لاہور اور وسطی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھٹو کے نعرے لگانے والے امیدواروں کی کچھ تعداد کامیاب ہوتی رہی۔

2013ء کے بعد جتنے عام اور ضمنی انتخابات ہوئے پی پی کے امیدواروں کا ووٹ 500 سے بڑھ نہیں سکا۔ فیصل میر اور بیرسٹر عامر نے بہت محنت کی لیکن نتائج تبدیل نہیں ہوئے۔ یوں لگتا ہے بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے جیالے زرداری خاندان کو ووٹ بنک نہیں سمجھتے۔

جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نے دوبئی میں جب بے نظیر بھٹو سے رابطے شروع کئے تو ٹیم کے ایک رکن کے ذریعے کچھ معلومات مجھے ملنے لگیں۔ ان دنوں میں ایک دوسرے اخبار میں کام کر رہا تھا۔ غالباً عیدالضحیٰ آنے میں چند روز باقی تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ جیل میں بند آصف علی زرداری عید دوبئی میں اپنے خاندان کے ساتھ منائیں گے۔ میں نے یہ اطلاع اپنے کالم میں لکھ دی کہ آصف زرداری اس بار عید اپنے خاندان کے ساتھ دوبئی میں منائیں گے۔ کئی دوست اب تک اس خبر پر حیران ہیں۔بہرحال وہی ہوا۔ آصف علی زرداری نے عید اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ منائی۔

اس رہائی کے بدلے کچھ شرائط طے پائی تھیں۔معلومات چونکہ دستاویزی نہیں اس لیے ان شرائط کا یہاں مکمل ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ سنا تھا کہ جنرل مشرف کے رفقا نے بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سے الگ الگ شرائط منوائیں۔ آصف علی زرداری اگر اس وقت سیاست میں سرگرم ہو جاتے اور پنجاب پر توجہ دیتے تو بی بی کے بعد پنجاب ان سے لاتعلق نہ ہوتا۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ بلاول ہائوس کے احاطے میں چار پانچ ہزار افراد جمع ہو سکتے ہیں لیکن پارٹی سوا کروڑ کے شہر لاہور سے اتنے افراد بھی بلاول ہائوس میں جمع نہیں کر سکتی۔

احاطہ بھرنے کے لئے دوسرے اضلاع سے کارکن منگوانا پڑتے ہیں۔ آج کی پیپلز پارٹی میں ایسے چند لوگ دکھائی دے رہے ہیں جو کھل کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ انہیں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے زیادہ آصف علی زرداری کی سیاست اور شخصیت نے متاثر کیا ہے۔ اس سوچ اور خیال کو نظریہ تو بہرحال نہیں کہا جا سکتا بس شخصیت پرستی کہا جا سکتا ہے۔ آصف علی زرداری کے حوالے سے پنجاب میں لوگ ہمیشہ منفی رہے ہیں۔

اس منفی تاثر کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ آصف علی زرداری اس باپ کے بیٹے ہیں جو پنجاب کے محبوب رہنما ذوالفقار علی بھٹو کا مخالف رہا۔ بے نظیر بھٹو کی پنجاب میں شادی کی بات ہوئی تو سندھ میں قوم پرست جیالوں نے مظاہرے اور احتجاج شروع کر دیا۔ پنجابی سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری ان پنجاب مخالف جیالوں کا دولہا ہیں۔ آصف علی زرداری کے حوالے سے نواز شریف اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ایسی کہانیاں عام کیں جن سے آصف علی زرداری کی شناخت مجروح ہوئی۔

آصف علی زرداری کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں۔ریاستی کرافٹ سے آگاہ ہوش مندوں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے مخالف کو اعلیٰ ترین عہدے پر منتخب ہونے کا موقع نہیں دیتی۔ کرپشن اور اس طرح کے دیگر الزامات نے انہیں پنجاب میں غیر مقبول کیا۔ شاید یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے کہ ایسے الزامات کا ذرائع ابلاغ یا عوامی سطح پر انہوں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ دوسری طرف میاں نواز شریف نے ان کو زیرو ثابت کرنے کے لئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔

 بے نظیر بھٹو کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بیدخلی کی سب سے بڑی وجہ مفاہمت کی پالیسی تھی۔ اگرچہ یہ نعرہ خود محترمہ نے لگایا لیکن وہ اس کا مطلب سیاسی پسپائی نہیں لیتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے لئے بہت سی قوتوں سے مصالحت کرنا پڑی۔ پھر انہوں نے کسی کو ناراض نہیں ہونے دیا۔ نواز شریف کی خواہش تھی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ان کی حریف نہ رہے۔ نواز شریف کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے جن کارکنوں اور رہنمائوں نے برسہا برس تک ضیاء الحق اور پھر نواز شریف سے لڑائی کی تھی ان کے لئے مفاہمت کی نئی تشریح ناقابل قبول تھی۔

اسی زمانے میں بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد عہدیداروں کی جگہ آصف علی زرداری کے بھروسے کے لوگ پنجاب میں پارٹی عہدوں پر آ گئے۔ کہا گیا کہ یہ نئی قیادت کا حق ہے کہ وہ اپنی ٹیم منتخب کرے جیسا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد اور والدہ کی ترتیب دی گئی ٹیم کی جگہ اپنے اعتماد کے لوگوں کو اہم عہدے دیے۔ یہاں بے نظیر بھٹو‘ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے مابین ایک تقابل کا نکتہ بھی آتا ہے۔ بے نظیر بھٹو صرف اس وجہ سے لیڈر نہیں تھیں تھیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں۔

بے نظیر کی ضیاء الحق اور ان کی باقیات کے خلاف جدوجہد میدان میں لڑی گئی جنگ کے جیسی ہے۔ انہوں نے خالصتاً سیاسی انتقام کے زخم کھائے۔ آصف زرداری اور بلاول کو ایسا موقع ملا نہیں ملا۔ اگر وہ پنجاب میں نواز شریف کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپناتے تو شاید کسی حد تک ان کی سیاست کو جدوجہد کا نام دیا جا سکتا۔

بلاول کئی روز تک لاہور کے بلاول ہائوس میں بیٹھے رہے۔ پارلیمنٹ میں سنجیدہ اور اہم معاملات پر موثر انداز میں بات کر کے بلاول نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ اپنے مورچے میں بیٹھ کر گولے پھینک رہے ہیں لیکن حکمت عملی کے اعتبار سے یہ گولے غلط ہدف کا رخ کر رہے ہیں۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پیپلز پارٹی اگر اس وقت اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھاتی ہے تو حکومت اعتراض نہیں کر سکتی۔اب کوئی نواز یا شہباز شریف نہیں جو پی پی کارکنوں کو پولیس کے ذریعے پٹوائے۔

تحریک انصاف نے پنجاب میں جو جگہ لینا تھی وہ اسے مل چکی۔ اس وقت ن لیگ کمزور پوزیشن میں ہے۔ بلاول کواس میسر گنجائش کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ن لیگ اگر پی پی کا ووٹ بینک توڑ سکتی ہے تو پی پی کیوں نہیں۔انہیں اپنی ٹیم میں اضافے کی ضرورت ہے۔6کھلاڑیوں کے ساتھ آپ 11کھلاڑیوں سے مقابلہ کیسے کریں گے۔ حال ہی میں پنجاب سے پی پی کے رکن صوبائی اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے ایسی ہی ایک ملاقات پہلے ہو چکی ہے۔ پارٹی اس حد تک کمزور اور اندیشوں میں گھری ہے کہ اپنے رکن اسمبلی سے باز پرس تک نہیں کر سکتی۔

لاہور جیسے شہر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے کارکن اب بھی ہیں۔ یہ کارکن بلاول بھٹو کو مل سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک میثاق جمہوریت ایسے ناراض کارکنوں کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک تبدیلی کو تبدیل کئے جانے کا مطالبہ ہے تو حکومت تبدیل ہونے کا تاحال کوئی امکان نہیں۔

پاکستان میں قبل از وقت تبدیلی امریکہ یا آئی ایم ایف کی فرمائش پر ہوتی رہی ہے۔ حکومت نے مشکل ترین معاشی بحران میں خاطر خواہ ٹیکس جمع کر کے آئی ایم ایف کی اقساط ادا کرنے کا انتظام کر لیا ہے۔

امریکہ کورونا اور ٹرمپ کی وجہ سے داخلی مسائل کا شکار ہے۔ ہاں اگر بھارت پاکستان پر حملہ کر دے تو پاکستان میں حکومت رخصت ہو سکتی ہے لیکن اس صورت میں حکمران کوئی سیاستدان نہیں ہو گا۔ اس تاثر کو دور کرنا ضروری ہے کہ غریبوں کی ہمدرد پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے میثاق جمہوریت کر کے سرمایہ دار جمہوریت کا غلبہ تسلیم کر لیا۔ہر جماعت میں کارکن نظر انداز ہو رہے ہیں۔ بلاول کارکنوں سے میثاق جمہوریت کر کے ایک نئی عوامی سیاست کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply