کنجوس ابا میاں اور ان کی کنجوس تر اولاد: جھوٹی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑا داماد۔ صبح صبح کس منحوس نے فون کیا ہے۔
کس سے بات ہو رہی ہے۔
ہو گا کوئی تمہارے میکے سے۔ ارے بھائی بولو بھی؟
بڑی بیٹی۔ میرے ابا بیہوش ہو گئے ہیں۔ تین دن سے بخار تھا شاید کرونا ہے، رات ہسپتال لے کر گئے۔
بڑا داماد۔ اور تم کو کسی نے نہیں بتایا؟
یہ تمہارا خاندان ہے یا پاگل خانہ؟

ایک میسج ایک کال؟ ارے بھائی تمہارے بھائی جس قسم کے ہیں ہسپتال میں داخل کروا کے گھر آ کے سو گئے ہوں گے، جب صبح تک آبا مرے نہیں تو سوچا بتا ہی دیا جائے۔ جب تین دن سے بیمار تھے تو تمہیں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ میں لے جاتا ہسپتال۔
اور ہاں ابھی سے رونے اور ماتم کرنے کی ضرورت نہیں، مر جائیں تو کھل کے رو دھو لینا۔
ویسے ہیں کون سے ہسپتال میں؟
بڑی بیٹی۔ جی سینٹر سٹی ہسپتال میں۔

بڑا داماد۔ کہاں تو ڈاکٹر ادریس کے علاوہ کبھی کسی نے ابا کی نبض پہ ہاتھ نہ رکھا، کہاں سیدھا سینٹر سٹی۔ واہ واہ!
اچھا اٹھو تیار ہو جاؤ میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔

عجیب سی کیفیت تھی مایوسی اور بیزاری سخت گرمی، پھر وبا کی وجہ سے سب ہی خوفزدہ کے کہیں کسی کو لگ نہیں جائے۔ گرمی میں تھوڑی دیر بھی ماسک اور دستانے برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن یہ ساری احتیاط چند فیصد لوگ ہی کر رہے تھے، باقی سب لمبی چھٹی منا رہے ہیں۔

بڑے صاحب سرکاری ادارے سے افسر رٹائرڈ تھے بیس سال سے کبھی کسی بچے کے پاس کبھی کسی کے پاس ہوتے۔ بیٹا، بہو اور پوتے کی چاپلوسی کرتے اور بیٹی، داماد اور نواسہ نواسی ان کے ملازمین کی طرح تھے۔ جب کوئی کام ہوتا تو وہ یاد آتے ورنہ وہ کبھی عیدی بھی نہ دیتے۔

بڑے صاحب تمام عمر احساس کمتری یا احساس برتری کے جھولے جھولتے بوڑھے ہوئے، وہ تمام عمر یا تو لوگوں سے مرعوب ہوئے یا مرعوب کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ سارے بیٹے سرکاری ملازمین۔ ابا نے سب کو اپنے ادارے میں ہی فٹ کروایا، ایک گھر بنایا تھا لیکن چند برس قبل جب کافی زیادہ بیمار ہوئے تو اسے بیچ کر بیٹوں میں تقسیم کر دیا کہ کہیں میرے مرنے کے بعد بیٹیاں نا آ جائیں حصہ لینے۔

اس حرکت کے بعد سے بیٹوں نے بھی خیال چھوڑ دیا اور بیٹیوں کے گھر بھی عزت ختم ہو گئی۔ محض آنکھ کی شرم ورنہ ابا کا ہونا نا ہونا ایک برابر۔ بڑے صاحب کے بارہ بچے، پانچ لڑکیاں، اور سات لڑکے۔

بڑے میاں تین دن سے کرونا میں مبتلا تھے، تیز بخار اور کھانسی سے جیسے ان کا دم تو پہلے ہی اکھڑ گیا تھا، لیکن کل رات تو وہ اپنے کمرے میں ہی بیہوش ہو نے لگے تھے۔

جس وقت ان کے بڑے بیٹا بہو کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے، شاید باتھ روم جانا چاہ رہے تھے۔ کہ کھڑے ہو نے کی کوشش میں گر گئے۔

بڑی بہو۔ ارے بھئی ابا آپ کچھ تو اپنے ہوش سنبھالنے کی کوشش کریں۔ ایسے کیسے چھوڑ دیا ہے خود کو۔
بڑا بیٹا۔ ابا میاں، سنبھالنے کی کوشش کریں۔ خدا کی قسم بہت ہی بھاری لگ رہے ہیں۔
ارے بھائی میرے بس کے نہیں، ارے بھائی خورشید، خورشید جلدی آؤ ابا ایک دم خود کو سنبھال ہی نہیں رہے۔

خورشید۔ بھائی میاں میری کمر کی حالت تو آپ جانتے ہی ہیں میں کیسے کسی کو اٹھا سکتا ہوں؟ راشد بھائی کو بلا لاؤں؟ ارے وہ ہی کچھ جان والے ہیں۔ بلا تو لو لیکن ان کو تو آتے آتے کی آدھ گھنٹہ لگ جائے گا۔

گاڑی نکالو۔ لیکن گاڑی تک جائیں گے کیسے؟ کرائے دار کے لڑکے کو بلاؤ جلدی۔
بڑی بہو۔ آئے ہائے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوئی؟
بڑا بیٹا۔ کیا ہوا؟

بڑی بہو۔ سارے کپڑوں میں اجابت، چھی چھی۔ کیا مصیبت ہے۔ آپ کے ابا کو کوئی تمیز ہی نہیں، کہ بہو سامنے ہیں۔
بڑا بیٹا۔ میں تم سے اپنے ابا کے نام پہ معافی مانگتا ہوں میری عزیز بیگم۔
اچھا تم باہر جاؤ میں صفائی کی کوشش کرتا ہوں، اور خورشید کو بھیجو، اٹھا نہیں سکتا، صفائی تو کر ہی سکتا ہے نا؟

خورشید۔ جی بھائی میاں۔
بڑے بھائی۔ ہاں بھائی کیا ہوا، ارے وہ کرائے دار کا لڑکا ملا؟
خورشید۔ آ رہے ہیں وہ لوگ۔
اس تمام عرصے میں ابا میاں کی حالت بد سے برتر ہو چکی تھی۔ وہ اب چلنا تو دور کھڑے ہونے نے بھی قابل نہیں رہے تھے۔

بڑی بہو۔ اوہ ہو بھائی یہ تو اپنے آپ کو بالکل بھی نہیں سنبھال رہے۔ چھوڑ دیا ہے گاڑی میں بھی نہیں گھس رہے۔ ان کو اندر رکھو، ارے بھائی میں تو کہتی ہوں گھسیڑ کے رکھ دو کسی طرح سے، اب یہ کہیں دوبارہ گاڑی بھی خراب نہ کر دیں۔

خورشید۔ بھابھی کرائے دار کے لونڈوں کے سامنے تو کم بولو۔
بھابھی۔ ہاں بھائی ہم ہی برے ہیں۔
کرائے دار۔ چلیں انکل میں نے دادا کو سیٹ کر دیا ہے، ایک فرد میرے ساتھ بیٹھ جائے باقی خورشید بھائی کی گاڑی میں آ جائیں۔

اس تمام ہنگامے میں سب لوگ ہی اپنا موبائل گھر چھوڑ گئے۔ کرائے دار کے بیٹے کا نمبر کسی کے پاس نہیں تھا۔ جب گاڑی نکلنے لگی اس وقت بڑی بہو نے زور کی آواز میں کہا ”سول ہسپتال“ ، ارے سنتے ہو ”سول ہسپتال“ ۔

لیکن گاڑی کے شیشے بند ہونے کی وجہ سے میاں صاحب کو لگا سینٹر سٹی کہہ رہی ہیں۔
جلدی کرو بیٹا سینٹر سٹی ہسپتال۔
رات کے دو بجے تک بڑے صاحب ہسپتال میں داخل ہو چکے تھے۔

بڑی بہو اور خورشید کافی دیر سول ہسپتال میں انتظار کرتے رہے پھر گھر واپس آ گئے، مارے جلال کے کسی بہن بھائی کو فون تک نہ کیا بک بک کرتے گھر میں داخل ہوئے اور اپنے اپنے کمروں میں سو گئے۔

دوسری جانب کرائے دار کا لونڈا اور بڑے صاحب زادے الگ آگ بگولہ کے شہر کے سب سے مہنگے ہسپتال میں بھیج کر خود سب نو دو گیارہ۔
جب وہ گھر آئے تو سب سوتے ہوئے ملے آگ سر سے پاؤں تک لگی۔ لیکن بیگم کو جگانے اور لڑنے کی ہمت نہ تھی اس لیے خاموش سے فرج سے کھانا نکال کہ گرم کیا اور کھا کے سو گئے۔

صبح جب بیگم کی آنکھ کھلی سب سے پہلے برابر میں سوتے ہوئے شوہر کو ایک زور کی لات مار کے جگایا اور چیخ کے پوچھا کہاں چلے گئے تھے او پاگل آدمی؟
ہم دو گھنٹے سول ہسپتال میں انتظار کرتے رہے؟ بولو کہاں پھینک آئے ابا میاں کو؟
واہ بیگم واہ کیا بات ہے؟

میں تمہارے کہنے میں آ کے سینٹر سٹی ہسپتال میں ابا میاں کو بھرتی کر کے آ رہا ہوں اور تم سول ہسپتال میں انتظار کرتی رہی۔ واہ۔

بڑی بہو۔ دونوں ہاتھوں سے سے اپنے بال نوچنے لگیں۔ او اس صدی کے سب سے بڑے بہرے، پاگل گدھے، میں تیرے کنجوس باپ کو جس نے ڈر کے مارے کبھی کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر کو اپنی نبض نا دکھائی اسے اس قدر مہنگے ہسپتال کیوں بھیجنے لگی؟
اب کون دے گا پیسے؟
ارے بولو بھی خالی دماغ والے جانور بولو؟
بڑا بیٹا۔ یار ہم تو پھس گئے، اب کیا ہوگا؟ اگر ابا پانچ چھ دن رہے تو؟

بڑی بہو۔ یہ تو فنکاری کرنے سے پہلے سوچنا تھا نا۔ سنو میں تمہاری سب بہنوں اور بھائیوں کو کال کرنے لگی ہوں ابھی صرف ہسپتال بلاتی ہوں، پیسے کا وہیں رکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔
صبح کے سات بجے تھے سارے بیٹے، بہو، بیٹی، داماد، ان کے بچے ہسپتال میں جمع۔

سب کے درمیان زور زور سے آہیں بھر کے روتی ہوئی بڑی بہو، ہائے ابا میاں، بالکل ہی بے ہوش ہو گئے، ہم سب کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ کیا بتاؤں کیسی قیامت کی رات تھی ہم ساری رات ایک پاؤں پہ کھڑے رہے۔
اور تم سب تو اپنے بھائی کو جانتے ہی ہو کتنے اچھے دل کے ہیں، کہنے لگے ابا میاں کو سرکاری ہسپتال میں داخل نہیں کرواؤں گا۔ سب سے اچھے اور مہنگے ہسپتال لائے۔
اب تم سب آ گئے ہو سوائے شبانہ باجی کے وہ بھی آج شام تک کوئٹہ سے آ رہی ہیں۔ دعا کرو ابا جلدی ہسپتال سے گھر جائیں۔

اگلی صبح۔
اگلی صبح ہسپتال سے کال آئی جلدی آئیں حالت بگڑ رہی ہے۔ آئی سی یو لے جا رہے ہیں، وینٹیلیٹر لگے گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *