سکول میں بچیوں کی جنسی ہراسانی کی خبر کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کے ایک پرائیویٹ سکول میں کچھ بچیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کا گھناؤنا واقعہ سامنے آیا ہے تو پاکستانی حکومت، عام شہری اور میڈیا نے ردعمل کچھ یوں ظاہر کیا جیسے پاکستان میں بچیوں اور عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی کا یہ پہلا واقعہ ہوا ہے۔ اتنا شور کیا کہ جیسے اس معاشرے میں جنسی ہراسانی کبھی ہوئی ہی نہیں اور قوم یہ انہونی دیکھ کر دنگ رہ گئی ہے۔ یوں لگا جیسے کہ عورتوں، بچیوں اور بچوں کے خلاف جنسی ہراسانی اور دوسرے جنسی جرائم ہمارے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔

ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ہمیں علم ہونا چاہیے اور بہت حد ہے بھی لیکن ہم اس بات کو اپنے شعور میں آنے نہیں دیتے کہ پاکستان میں ہر روز لاکھوں بچیاں، بچے اور خواتین جنسی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔ جی آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا ہے لاکھوں بچیاں روزانہ اس ظلم کو برداشت کرتی ہیں۔ ویسے تو باقی تمام شعبوں کی طرح اس سلسلے میں بھی کوئی باقاعدہ تحقیق موجود نہیں ہے، لیکن 2002 میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ایک اتحاد ”آشا“ (الائنس اگینسٹ سیکسوئل ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس) نے ایک قدرے چھوٹی سی ریسرچ کی تھی۔ اس کے مطابق اسی فیصد عورتیں جو کوئی جاب کرتی ہیں انہیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ہم دیکھ بھی سکتے ہیں کہ جنسی ہراسانی ہماری سڑکوں پر، بازاروں اور دوسری عوامی جگہوں میں کتنی عام ہے۔

ان عورتوں کی تعداد جو اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کے خلاف شکایت کرتی ہیں، آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ شکایت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ عملی طور پر لڑکی کا شکایت کرنا ہی غلط سمجھا جاتا ہے اور اسی کے خلاف جاتا ہے۔ اور جنسی ہراسانی کے اتنے عام ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ شکایت کرنا تقریباً ناممکن بنایا ہوا ہے۔ اگر جنسی ہراسانی کے خلاف شکایت کو آسان اور موثر بنا دیا جائے تو یہ جنسی ہراسانی کو کم کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہو گا۔

لیکن ہم نے اس سلسلے میں کوئی منظم اور پائیدار قدم نہیں اٹھانا۔ اس کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ جنسی ہراسانی کا قانون پاس ہوئے دس سال ہو گئے ہیں۔ اس قانون کے مطابق ہر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کو ایک ضابطہ اخلاق اپنانا ہوتا ہے کہ اس ادارے میں جنسی ہراسانی کی کسی شکایت کو کیسے ڈیل کیا جاتا ہے۔ اور وہ ضابطہ اخلاق اس ادارے کے دفتر میں نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا ہوتا ہے تاکہ ہر شخص کو اس ضابطہ اخلاق کے بارے مین علم ہو۔ لیکن ابھی تک بھی بہت سے اہم اداروں نے قانون کے اس تقاضے کو پورا نہیں کیا ہے۔ اور تو اور ہماری قومی اسمبلی، جس نے کہ وہ قانون پاس کیا تھا، انہوں نے بھی چند سال پہلے تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔ شاید ابھی کر لیا ہو مجھے صحیح علم نہیں ہے۔

اس لیے پلیز اس بات کا یقین کر لیں کہ جنسی ہراسانی ہمارا ایک بہت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جو ہماری خواتین، بچیوں، بچوں اور ٹرانس جینڈر لوگوں کی زندگیوں کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔ یہ جو کچھ لاہور کے اس نجی سکول میں ہوا یہ ہمارے ہزاروں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مدرسوں، دفتروں، کارخانوں، سڑکوں، پارکوں، بسوں اور تقریباً ہر جگہ پر ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ابھی کسی حکومت نے بھی یہ ذمہ داری سنجیدگی سے نہیں لی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے دور میں ”آشا“ کی مہم کی وجہ سے بہت اچھا قانون پاس ہوا تھا۔ گو کہ سب اچھا وہاں بھی نہیں تھا۔ قانون پاس کرنے کے اس پراسیس کو ان کے اپنے ہی ایک وزیر نے روکنے کی کوشش کی تھی اور ہم سب گھبرا گئے تھے کیونکہ وہ وزیر اس بل کو ایجنڈے پر ہی نہیں آنے دے رہا تھا۔ وہ تو بھلا ہو آئی اے رحمان صاحب کا کہ انہوں نے براہ راست اوپر لیول پر کسی کو درخواست کی اور بل کو ایجنڈے پر ڈالا گیا۔

اگر ہم جنسی ہراسانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو بہت ضروری ہے کہ جنسی تفریق کو ختم کریں۔ یہ کام سکولوں کے نصاب سے شروع ہو گا۔ لڑکوں کو ذہن نشین کرایا جائے کہ لڑکیاں اور ٹرانس جینڈر بھی برابری کے انسان ہیں۔ انہیں بھی ویسے ہی زندگی جینے کا حق ہے جیسے مردوں اور لڑکوں کو ہے۔ ان کا گھروں سے باہر نکلنا، چاہے وہ پڑھائی، نوکری، خریداری یا محض سیر سپاٹے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، ان کا حق ہے اور یہ ان کی جانب سے دعوت عام نہیں ہے۔

انسانوں کی برابری پر زور دیا جائے۔ سارے سلیبس کو ایسا بنایا جائے کہ بچے انسانوں کے درمیان برابری کو سیکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسانی کے متعلق بھی پڑھایا جائے۔ جنسی ہراسانی میں قصوروار جنسی ہراسانی کرنے والا ہے نہ کہ جس کے خلاف ہو رہی ہے۔ سکولوں میں اس مسئلے پر کھل کر بات کی جائے تاکہ لڑکے اس بات کو سمجھ سکیں کہ جنسی ہراسانی ایک بھیانک جرم ہے اور لڑکیاں یا ٹرانس جینڈر اس کی دعوت دیتے ہیں نہ انجوائے کرتے ہیں۔ اس سے ان کی زندگیوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ قوانین بھی پڑھائے جائیں۔ ہر تعلیمی ادارے میں چاہے وہ جس لیول کا بھی ہو، شکایت کرنے کا بندوبست موجود ہو اور اس بندوبست کا ہر کسی کو علم ہو۔ شکایت کرنے کے اس نظام میں چیزوں کو راز میں رکھنے کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ تمام لوگوں کو، خاص طور پر لڑکیوں کو اس نظام پر بہت ٹرسٹ ہو تاکہ وہ شکایت کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کریں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنسی ہراسانی پاکستان میں ایک بہت ہی گہرا اور پھیلا ہوا مسئلہ ہے۔ ہم میں سے تقریباً ہر کوئی اس کا حصہ ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ بنیادی تبدیلیاں لانا ضروری ہے۔ اور اس کے لیے حکومت کو لمبے عرصے کے منصوبے بنانے ہوں گے۔
محض ایک دو کیسز پر دھواں دھار ایکشن لینے اور پھر چپ کر کے بیٹھ جانے سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 236 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *