ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

یشپال کا یہ ناول ہندی کے مقبول ترین جریدے ”دھرم یگ“ میں تقریباً 51 برس پہلے قسط وار شایع ہوا۔ اس کے بعد کا پہلا حصہ ”وطن اور دیش“ 1958 اور دوسرا ”وطن کا بھوشہ“ 1960 میں شایع ہوا۔ 2010 ء میں Penguin Indiaکے زیر اہتمام اس کا انگریزی ترجمہ This is not that dawn کے نام سے شایع ہوا، جس کا ترجمہ یشپال کے بیٹے آنند نے کیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ منیرہ سورتی نے کیا ہے جو کہانیاں، اور اسٹیج اور ٹی وی کے لیے ڈرامے تحریر کرتی ہیں۔

اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں منشی پریم چند نے سماجی حقیقت نگاری کے رجحان کا آغاز کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے اردو میں اس رجحان کو پوری طرح استعمال کیے بغیر نہایت عجلت میں متروک سمجھ لیا گیا۔ اس پر اکہرا اور سطحی ہونے کے الزامات لگا کر جدیدیت کے زیر اثر نت نئے رجحانات کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی۔ اس عجلت پسندی سے اردو فکشن کا خاطر خواہ نقصان ہوا۔ کیوں کہ جس علامت پسندی اور تجریدیت کو فکشن کے نئے رجحان کے طور پر قبول کر لیا گیا تھا، اس کی ضرورت ادب کے باطن سے کہیں زیادہ ادب کے خارج کو تھی۔ ہندی ادیبوں نے پریم چند اور منٹو کی روایت کو تسلسل سے آگے بڑھایا ہے، اسی وجہ سے ان کا فکشن ان کی زندگی کے ساتھ گہرائی میں جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی لیے ہندی فکشن میں بھیشم ساہنی نے ”تمس“ اور یشپال نے ”جھوٹا سچ“ جیسے ناول لکھے۔

”جھوٹا سچ“ پڑھنے کے بعد ایک بات جو حیران کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی سوچنے پر مجبور کرتی ہے، وہ یہ کہ تقسیم کے وقت موجودہ پاکستان کی سر زمین پر بسنے والے ہندوؤں اور سکھوں کے المیے کو ہمارے فکشن لکھنے والوں نے یکسر نظرانداز کیوں کیا۔ اردو میں اس موضوع پر صرف چند افسانے ہی ملیں گے۔ ان کی تعداد بھی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں کے گھروں، حویلیوں میں ہمارے مسلمان بھائی بند آکر آباد ہوئے، جن کی دکانیں لوٹ کر انہوں نے اپنے کاروبار شروع کیے، ان کی بپتا لکھنا ہمارے بجائے ہندی کے فکشن نگاروں پر ہی واجب تھا۔ سو انہوں نے یہ کام پوری تن دہی سے انجام دینے کی کوشش کی ہے۔

آج کے تین شماروں میں ”جھوٹا سچ“ کے دونوں حصے ”وطن اور دیش“ اور ”وطن کا بھؤشہ“ شامل ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ برس پہلے ہم نے اپنی آزادی کے ستر برس پورے ہونے کی تقریبات منائی ہیں۔ اردو میں یہ ناول اسی مناسبت سے شایع کیا گیا تھا تا کہ ہم آزادی کے وقت پیش آنے والے واقعات کو ان کے درست تناظر میں سمجھ کر ان سے کچھ سیکھنے کے قابل ہو سکیں۔ ہم کچھ سیکھتے ہیں کہ نہیں، بہر حال تقسیم سے پہلے کا پنجاب اور بالخصوص لاہور اس کے پہلے حصے کا محل وقوع ہے۔

برصغیر میں دو آزاد ریاستوں کے قیام کے اعلان کے ساتھ ہی فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ان کی شدت پنجاب میں سب سے زیادہ تھی کیوں کہ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ”ایک قابل اعتبار تخمینے کے مطابق خانہ جنگ کی سطح کو پہنچنے والے ان فسادات میں پنجاب میں تقریباً آٹھ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور ایک کروڑ کے لگ بھگ لوگوں نے سرحد پار کر کے اس طرف یا اس طرف پناہ لی“ ۔ ناول کا دوسرا حصہ آزادی کے بعد کے دہلی کا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ جہاں پناہ گیروں پر ٹوٹنے والی صعوبتوں کو پر اثر پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ ناول کے دونوں حصے لگ بھگ گیارہ سو صفحات پر مشتمل ہیں۔

1935 کے لاہور کا نقشہ شہر کے آباد علاقوں میں چار مختلف طرح کے مکانی رجحانات ظاہر کرتا ہے۔ یہ مختلف علاقے شہر کی مختلف اقدار، مختلف روابط اور مختلف رویوں کو بھی ظاہر کرتے تھے۔ دیواروں اور دروازوں میں گھرا قدیم شہر ایک روایتی سماج اور اس کی قدامت پسند اقدار کا منظر پیش کرتا تھا۔ سول لائنز کے علاقے کے کشادہ بنگلے اور کھلی کھلی سڑکیں، مقامی مڈل کلاس کی اقدار اور حکومت کرنے والی برطانوی اشرافیہ۔ اسی کے ساتھ ساتھ کنٹونمنٹ کا علاقہ بھی تھا، جو ایک فوج کی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔ جب کہ ماڈل ٹاؤن میں زیادہ تر ریٹائرڈ افسر اور مقامی اشرافیہ کے افراد قیام کرتے تھے۔ یہ ناول اس دور کے اسی لاہور پر تقسیم کے دوران گزرنے والے المیے کی مختلف رخوں اور جہتوں سے نہ صرف عکاسی کرتا ہے بلکہ ہمیں اس دور میں رونما ہونے والے واقعات کو بہت نزدیک سے سمجھنے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

”جھوٹا سچ“ کے ابتدائی ابواب اس زمانے کے سیاسی اور سماجی سیاق و سباق کی گہری تفاصیل مہیا کی گئی ہیں۔ یوں پورا لاہور اس ناول کے ایک اہم کردار کے طور پر نظر آتا ہے۔ ناول کے مرکزی کرداروں کے ذریعے ہم اس دور کے شہر کی بو باس اپنی سانسوں میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اس ناول کے دو مرکزی کردار جے دیو پوری اور تارا جو بھائی بہن ہیں اور شاہ عالمی، جو لاہور کے دیواری شہر کا تیرہواں دروازہ تھا، کے اندر واقع ”بھولا پاندھے کی گلی“ میں رہتے ہیں۔

اس علاقے میں ہندوؤں کی ایک بڑی آبادی رہتی تھی۔ پوری اور تارا ماسٹر رام لبھایا کی اولاد ہیں، جو ڈی اے وی کالج سے منسلک اسکول میں پڑھاتے ہیں۔ جے دیو پوری ان کی بڑی اولاد ہے، اس کے بعد تارا کا نمبر آتا ہے۔ یوں اس ناول کے دو مرکزی کردار ہیں۔ کنک اس ناول کی تیسری اہم کردار ہے۔ ان دونوں کے برعکس اس کا تعلق سماج کے نسبتاً برتر طبقے سے ہے۔ وہ اپنے والدین اور ایک چھوٹی بہن کے ہم راہ گوال منڈی میں واقع ایک جدید طرز کے مکان میں رہتی ہے۔ یہ علاقہ امیر طبقے نے نیا نیا آباد کیا ہے۔ کنک کے والد گردھاری لال ایک مال دار اردو پبلشر ہیں۔

جے دیو پوری پڑھائی میں اچھا ہے، تھوڑی بہت ذہانت بھی رکھتا ہے۔ سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ دیال سنگھ کالج میں زیر تعلیم ہے۔ اس کی بہن تارا نے بھی وہاں بی اے میں داخلہ لے رکھا ہے۔ 1943 میں جب پوری ایم اے سال اول کا طالب علم تھا، اسے ایک خفیہ قوم پرست جماعت کے لیے کام کرنے کی پاداش میں دو سال کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ تب وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی ڈگری کبھی مکمل نہیں ہوگی۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد پوری فراغت کے اوقات میں کچھ کہانیاں لکھتا ہے۔ جو ادبی پرچے میں شایع ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ادیب کے طور پر مشہور ہونے لگتا ہے۔ وہ کوشش کر کے کانگریس کے حامی ایک روزنامے پیروکار کے ادارتی عملے میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کی بہن تارا اس کے بغیر ہی کالج میں اپنی تعلیم جاری رکھتی ہے۔ تارا اپنی فیس ادا کرنے کے لیے ڈاکٹر پران ناتھ کی بھتیجی کو ٹیوشن پڑھانے جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب آکسفورڈ سے معاشیات پڑھ کر لوٹے ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ اس میں دل چسپی لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے تارا کچھ عرصے بعد ٹیوشن پڑھانا چھوڑ دیتی ہے۔

کنک کے والد گردھاری لال، پوری کی ادبی صلاحیت کے معترف ہیں۔ وہ اس سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کی بیٹی کو ہندی پرابھاکر امتحان کی تیاری کروا دے۔ گردھاری لال پرانے کانگریسی ہیں اور ایک بار خود بھی جیل جا چکے ہیں۔ پوری بخوشی پڑھانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اس دوران کنک اور وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب تر آنے لگتے ہیں۔ کنک کی تارا سے بھی دوستی ہے، اس لیے تارا ان کے تعلق کی تپش کو محسوس کر لیتی ہے۔

تارا خود کمیونسٹ سوچ رکھنے والے ایک انقلابی جس کا نام اسد ہے، کو پسند کرنے لگتی ہے۔ پوری نے صرف اپنے طبقے سے باہر قدم نکالا ہے جب کہ اس کی بہن تارا مذہب ہی کو تیاگنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ تارا کی منگنی اس کی مرضی کے برخلاف سومراج نامی لڑکے سے کردی جاتی ہے، جو ایک امیر کھتری خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ تارا کے ساتھ اس کا بھائی پوری بھی اس منگنی کا مخالف ہے۔ سومراج کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق نہیں۔ اس لیے تارا کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں۔ کالج میں نقل کرنے کے ایک معاملے کی وجہ سے مقامی اخبارات میں اس کے نام کی سرخیاں لگتی ہیں۔ جسے لوگ مذہبی رنگ دے دیتے ہیں۔ کیوں کہ سومراج نے نقل کرتے پکڑے جانے پر اپنے لیکچرر پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ اسی لیے وہ اور اس کے والدین تارا کے مزید تعلیم حاصل کرنے کے خلاف ہیں۔

محبت اور شادی کے بارے میں تارا کے خیالات کو گھر میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ پوری نے اسے یقین دہانی کروائی ہوئی تھی کہ اس کی شادی سومراج سے نہیں ہونے دے گا۔ لیکن تارا اسے اپنی محبت کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتا سکتی۔ وہ نہیں بتا سکتی کہ وہ ساتھ پڑھنے والے ایک مسلمان طالب علم اسد احمد سے محبت کرتی ہے۔ اسد کالج کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کا بھی سرگرم کارکن ہے۔ تارا جس ماحول میں رہتی ہے، وہاں ایسی محبت کرنا تو درکنار اور اس کے بارے سوچنا بھی ناممکن ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *