مبینہ طور پر سو سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا استاد سارنگ شر گرفتار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیرپور میرس کی تحصیل ٹھری میری واہ کا رہائشی ریٹائرڈ ہائی اسکول ٹیچر سارنگ کو انسپکٹر میر امداد ٹالپر کی سربراہی میں قائم کی گئی سی آئی اے کی ٹیم نے نواب شاہ (شہید بینظیر آباد) سے گرفتار کر لیا ہے۔ سارنگ شر پر انسداد دہشت گردی کی دفع کے ساتھ ایک اور 377 کی دفع کے ساتھ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دو مقدمات درج ہیں۔

سی آئی اے کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم سارنگ واردات کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد روپوش ہو گیا تھا۔ جس کے بعد خفیہ اطلاع پر کارروائی کر کے اسے نواب شاہ سے گرفتار کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم سارنگ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہے۔ مزید تفتیش کے بعد ایس ایس پی پریس کانفرنس کریں گے۔

خیرپور میرس کی تحصیل ٹھری میرواہ میں گزشتہ دنوں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹھری میرواہ شہر کے نیباہو محلے کا گریڈ سترہ کا ریٹائرڈ استاد سارنگ شر گزشتہ کئی سالوں سے ٹیوشن سینٹر کے بہانے کئی معصوم بچوں سے جنسی زیادتی کرتا اور ان سے گروپ سیکس کروا کر رکارڈنگ کرتا رہا۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ معصوم بچوں سے خود بھی سیکس کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اور انہیں آپس میں سیکس کروا کر رکارڈنگ کر کہ انہیں بلیک میل بھی کرتا رہا ہے۔ اہل محلہ کی جانب سے اس استاد کی کئی شکایات مقامی تھانے پر درج ہیں۔ لیکن با اثر ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ تاہم مکینوں نے یہ بھی شک ظاہر کیا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ کہیں یہ بندہ ڈارک ویب کے لیے تو کام نہیں کرتا تھا۔

معاملے کے نوٹس باوجود ایس ایس پی خیرپور امیر سعود مگسی نے نوٹس کے باوجود پہلے دن بڑے اسکینڈل کی معمولی ایف آئی آر درج کی گئی۔ جس سے ملزم کے با اثر ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر مچے ہنگامے کے بعد دوسرا مقدمہ درج کیا گیا، ایس ایس پی خیرپور سعود مگسی سے رابطہ کیا گیا جس پر ایس ایس پی نے کہا کہ پہلے ایک چھٹی جماعت کا بچہ جس کی عمر 11 سے 12 برس ہے اس کے والدین تھانے پہ پہنچے ہیں جس کے بعد اس کے والد زاہد سموں کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا۔ اس کے بعد دوسرا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم اس کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

پولیس کی ناقص کارکردگی اور ملزم کے با اثر کی وجہ سے بڑے اسکینڈل کو چھپانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سماجی تنظیموں کی جانب سے اس عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عورتوں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم سندھ سہائی ستھ کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے بتایا کہ یہ معاملہ بڑی نوعیت کا لگ رہا ہے یہ کرائم سین معمولی نہیں ہے۔ شک ہے کہ اس بندے کا تعلق ڈارک ویب سے ہو جو یہ ویڈیوز سیل کرتا ہو۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس بندے کی سیکڑوں شکایات ذاتی اثر رسوخ کی وجہ سے دب گئیں۔ اس وقت کوئی آدھ درجن کے قریب ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ دھاریجو نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی ایف آئی اے تحقیقات کرے۔

ملزم سارنگ شر گریڈ سترہ کا ریٹائرڈ استاد ہے۔ جو چند برس پہلے عہدے سے ریٹائرڈ ہوا۔ یہ اصل میں خیرپور میرس کی تحصیل تحصیل فیض گنج کا رہائشی تھا۔ دس پندرہ سال پہلے وہاں سے بھی اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے نقل مکانی کر کے ٹھری میرواہ میں پناہ لینی پڑی تھی۔ مقامی تھانہ کے ایس ایچ او کے مطابق ملزم گھر خالی کر کہ فرار ہو گیا تھا۔ ملزم کی سندھ کے با اثر شخصیات کے ساتھ تصاویر بھی منظر عام پر پر آئی ہیں جس میں اس کی برادری کے سردار پی ٹی آئی ایم پی اے شہریار خان شر بھی شامل ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم سارنگ شر علاقے کی بڑی سماجی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تعلیم کے لیے کوئی تحریک ہو یا پھر سماجی مسائل پر ہمیشہ سربکف نظر آتا۔ اس کے شخصی اثر کی وجہ سے بھی ماضی میں اس پر لگنے والے الزامات اپنا اثر گنوا دیتے۔ یہ سرکاری سکول کے استادہ کی تنظیم ”GSTA“ گسٹا کا مرکزی عہدیدار رہا۔ اس شخص نے ماضی میں کئی سماجی تنظیموں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس کے بیٹے اور بھائی اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے اس سے نالاں تھے۔ اور وہ اس کی ایسی سرگرمیوں کے سخت خلاف تھے اور احتجاج بھی کرتے تھے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کافی شکایات موصول ہوئیں ماضی میں لیکن عام طور پر مدعی خود ہی شکایات واپس لے لیتے تھے۔

متاثرہ بچے کے والد زاہد سموں نے بتایا کہ ہم سینئر اور معزز استاد سمجھ کر اپنے بچے ٹیوشن کے لیے بھیجتے تھے۔ ہمیں نہیں پتا تھا استاد کے روپ میں وحشی ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ کئی متاثر والدین ہیں جو عزت کی وجہ سے چپ ہیں۔ قانون اپنے حساب سے حرکت میں آئے اور اس معاملے کی تحقیقات وسیع ہونی چاہئیں۔ ایک مقامی اخبار نے دعوی کیا ہے ملزم کے ڈارک ویب کو بچوں کہ ویڈیوز بنا کر بیچنے کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ ملزم کو بڑی سیاسی سپورٹ حاصل ہے۔

ایک سو سے زائد بچوں سے زیادتی کر کے اور بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کروا کر ویڈیوز بنانے والا سارنگ شر ایک عادی مجرم بھی ہے۔

ریٹائرڈ ہائی اسکول ٹیچر سارنگ شر اس کے جرائم کی وجہ سے اسے اپنی ابائی تحصیل فیض گنج سے بے دخل کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس نے ٹھری میری واہ میں رہائش اختیار کی۔ اس کا 2 برس پہلے ایک اسکینڈل منظر عام پر آیا جس میں اس نے ”افضل سومرو“ نامی ایک بچے سے جنسی زیادتی کر کے ویڈیوز بنائی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسکینڈل اس کے اثر رسوخ کی وجہ سے دب گیا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج ہوئی۔ استاد سارنگ شر مبینہ طور پر دو سال پہلے نوشہرو فیروز سے ایک بڑا ٹرالر لوٹ کر گھر لے آیا جو بعد ازاں اس کے گھر سے برآمد ہوا جس میں یہ دو سال جیل بھی کاٹ چکا ہے۔

اس کا طریقہ کار کچھ ایسے ہے کہ یہ اپنے شہر کی اکثر ایسی کمیونٹیز کے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتا جو اثر میں کم ہوتیں۔ جن کو بعد میں یہ برادری کی طاقت اور ذاتی اثر رسوخ کے بل بوتے پر دبانے میں کامیاب ہوجاتا۔ اس کے خلاف کئی شکایات ٹھری میر واہ تھانے پر موجود ہیں۔ اس کی طاقت کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اتنے بڑے اسکینڈل میں پہلے مقدمے میں صرف 377 دفعات لگا۔ اور سوشل میڈیا سے بہت زیادہ پریشر آنے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply