شہر مدفون کی ایک گلی اور حسن کوزہ گر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک نظم میں زاہد ڈار نے … کہا تھا کہ زندگی اپنی تمام کہانیوں، یادوں، زمانوں سمیت بس لفظوں کا ایک سلسلہ ہی تو ہے۔ اس وقت وجاہت مسعود کے ایک چھوٹے سے مراسلے نے مجھے پلک جھپکتے میں پینتیس چالیس برس پہلے کی دنیا تک پہنچا دیا ، وہ بھی اس طرح کہ اس وقت کے نوجوان آصف فرخی کے ساتھ کراچی کی ایک دوپہر یاد آگئی۔ مشفق خواجہ کے بلاوے پر اس شہر خوبی میں وہ ہمارا پہلا دن تھا۔ نیپاریسٹ ہائوس میں قیام تھا۔ آصف ایک ٹیپ ریکارڈر لیے ہوئے آگئے۔ باتوں کے دوران میری زبان پر اپنی دلچسپیوں کے تذکرے میں کچھ مٹی کے کام، ظروف سازی یا Ceramic Art کا حوالہ آگیا۔ یہ میرا نیا شوق تھا جو کچھ تو میری نااہلی ، کچھ کم فرصتی کی مجبوریوں کے باعث زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکا۔ آصف سے اس روز یہ میری دوسری ملاقات تھی جس میں کسی قدر ذاتی باتیں بھی ہوئیں۔ وجاہت مسعود کو غالباًاسی ملاقات کی روداد سے میری ’’کوزہ گری‘‘ کا علم ہوا ہو گا۔

پہلی جون 2020ء کو آصف رخصت ہو گئے۔ حسن کوزہ گر کو تو ایک زمانہ ہوا۔ شہر مدفون کی ایک گلی یاد آتی ہے اور اس یاد کے ساتھ ہی مجھے اپنے بے مثال گرو یا استاد کا خیال آتا ہے جن کی مدد سے زمین کی طرح گھومتے ہوے چاک، کوزہ گری، آب و گل اور مٹی کے کھیل کی ابجد سے تعارف ہوا تھا۔ مجھے چاک پر کام کرتے ہوئے کمہار اب بھی اچھے لگتے ہیں۔

ذاکر باغ،جہاں رہتے ہوئے ایک عمر گزری، اس بستی کے ایک فلیٹ میں دیوی پرساد جی سے پہلی بار ملنا ہوا تھا، ان کی بیگم ڈاکٹر بندو پرساد جامعہ ملیہ کے ٹیچرز ٹریننگ کالج میں نفسیات کی استاد تھیں ۔ ان دونوں نے ہمارے گھر کے پاس ہی ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا۔ اس فلیٹ کے آنگن میں دیوی پرساد جی نے اپنا کوزہ گری کا سامان اور اس کے ساتھ بجلی سے چلنے والے کئی چاک نصب کر لیے تھے ۔وہ گھنٹوں کبھی ایک چاک پر ، کبھی دوسرے پر گیلی مٹی کو طرح طرح کے ظروف میں منتقل کرتے رہتے تھے۔ زمانے کی آنکھوں سے ان کی جیسی جامع الکمالات شخصیتیں کم گزری ہوں گی۔

Devi Prasad ji

1984ء میں جب دیوی پرساد جی سے میری ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے درس لینا شروع کیا۔ ان کی عمر پینسٹھ سال کے قریب تھی (سن پیدائش1921 ء) انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر وقت گاندھی جی اور ٹیگور کے ساتھ گزارا تھا، سیواگرام میں اور شانتی نکتین میں۔ ان کا نام اپنے دور کے معروف سماجی کارکنوں کے ساتھ لیا جاتا تھا۔ ہمیشہ سرگرم رہنے والے ایک پرجوش امن کے پرچارک ، بچوں کی تعلیم و تربیت کے شعبے میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والے۔ بچوں کے آرٹ اور ادب پر کئی کتابوں کے مصنف۔ اس کے علاوہ دیوی پرساد جی ایک ماہر فن فوٹوگرافر، مصور، مجسمہ ساز اور کاری گر بھی تھے۔ انہوں نے ٹیگور کی بہت سی تصویریں اپنے بلیک اینڈ وائٹ کیمرے سے اتاری تھیں۔

للت کلا اکیڈمی میں ان کی نمائش ہوئی۔ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچنے کے باوجود نہ تو ان کی آنکھیں تھکیں اور نہ دماغ۔ ان کی انگلیوں میں جادو تھا۔ گیلی مٹی کو ہاتھ لگاتے تو اس میں جان سی پڑ جاتی تھی۔ لکڑی، مختلف دھاتیں، مٹی، رنگ، دیوی پرساد جی کے یہاں میڈیم کی قید نہ تھی۔ تصویروں، مجسموں، ظروف کے علاوہ اپنی ضرورت کا فرنیچر بھی خود بنا لیتے تھے۔ اور ان کے ہر کام، فنی اور تخلیق اظہار کے ہر نمونے میں ایک خاص قسم کی مقامیت، ایک علیحدہ پہچان نمایاں تھی۔ انہوں نے اپنے فن اور صناعی کو اپنے ملک اور معاشرے کی لوک روایت، لوک کلائوں سے ملا کر اپنی بصیرت کا ایک خاص رنگ پیدا کر لیا تھا۔ کلاسیکی موسیقی کے شیدائی تھے۔ غرضیکہ ایک عجیب ہمہ رنگ ، ہمہ جہت ، قوت ایجاد سے مالامال ہستی تھی۔

وہ میلوں ٹھیلوں میں اپنے ہنر کی نمائش میں مصروف دیہاتی کاری گروں کی بڑی قدر کرتے تھے۔ اپنے لباس، عادات اور وضع قطع سے ٹھیٹ دیسی، مگر ساری دنیا کو اپنا خاندان سمجھنے والی انسان دوست اور عالمی امن کی علم بردار شخصیت کے مالک۔ شانتی نکیتن میں ان کے استاد رام کنکر باز  (Baij) تھے۔ ہمارے مصور دوست رام چندرن بھی (جنہوں نے انور سجاد کی ’خوشیوں کا باغ‘ کا ٹائٹل بنایا اور منٹو تھیمز (Manto Themes) کی تخلیق کی، مین را کے مشہور جریدے شعور کے لیے) انہی رام کنکر کے شاگرد ہیں۔ دلی کی نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ کے باہر سنتھال فیملی کا بے مثال مجسمہ جو بیک وقت ساکت بھی ہے اور متحرک بھی دکھائی دیتا ہے، یا للت کلا اکیڈمی کے باب داخلہ پر ٹیگور کا بسٹ رام کنکر کے شہ کاروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔

دیوی پرساد جی کا انتفال 2011 ء میں ہوا۔ انہوں نے تقریباً نوے برس کی عمر پائی۔ تعلیم، امن عالم، آرٹ بالخصوص ظروف سازی کے میدان میں ان کی خدمات پر مقامی اور مغربی مصنفین نے باقاعدہ کتابیں مرتب کی ہیں۔ خود دیوی پرساد جی نے تعلیم، فنون اور عالمی امن کے سلسلے میں نصف درجن کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ افسوس کہ اردو کے ایک بڑے اشاعتی ادارے نے ان میں سے دو ایک کتابوں کو اردو میں منتقل کروانے اور چھاپنے کا ارادہ کیا پھر بھلا دیا۔ اپنی مشترکہ وراثت کے ساتھ ہم نے بھی اچھا سلوک نہیں کیا!

تو یہ ہے ’’میری کوزہ گری‘‘ کا سارا قصہ ۔ شوق اب بھی باقی ہے لیکن عملاً صفر، ظہور الاخلاق سے ملاقات کے دوران لاہور میں شہرزاد نے مجھے اپنا بنایا ہوا ایک پیالہ تحفتاً دیا تھا۔ وہ اب بھی میرے پاس ہے، 1986ء سے۔ قدوس مرزا کو جے پور (راجستھان) کے سب سے مشہور بلیو سریمک آرٹسٹ کرپال سنگھ نے ایک بڑا سا واز (گلدان) پیش کیا تھا۔ وہ سفر کے دوران … اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر سے لاہور لے جانے کے بجائے میرے پاس چھوڑ گئے تھے، کوئی تیس پینتیس سال پہلے۔ میں نے اسے بھی حفاظت سے سنبھال رکھا ہے۔ برسوں پہلے، لاہور کے ایک سفر سے واپسی کے بعد، سانیال صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ سن سینتالیس سے پہلے لاہور کے کالج آف آرٹس کی فیکلٹی میں شامل تھے۔ تقریباً سو برس کی عمر پائی۔ لاہور کے ذکر پر افسردہ ہو گئے اور گئے زمانوں کو یاد کرنے لگے۔ تو یہ بے ربط تحریر بھی ہماری ماند پڑتی گم شدہ یادوں کا بس ایک ورق ہے یا آپ کے محبت آمیز مراسلے کا جواب!

Santhal family – Ram Kinkor Baiz’s monumental work
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply