گائتری کی خوشبو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مکمل طور پر گائتری تھی۔ وہی دبلا پتلا جسم وہی کتابی چہرہ، وہی چوڑی پیشانی اور وہی لمبے لمبے بالوں کی چٹیا جو کمر سے نیچے تک پہنچی ہوئی تھی اور چہرے پر دو بڑی بڑی روشن آنکھیں، میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ نہ جانے کیوں میرے دل سے زیادہ میری روح نے اس کا استقبال کیا تھا۔ ایک خاص قسم کی انسیت سی محسوس ہوئی تھی ایک شدید خواہش کے ساتھ کہ اس سے بات کروں، میں نہ چاہنے کے باوجود بار بار اس کی طرف دیکھنے پر مجبور سا تھا، میری نظر مسلسل اس کا تعاقب کر رہی تھی، کوئی بات تھی ایسی کہ میں اس کی جانب مستقل طور پر متوجہ ہو گیا تھا، میں نے محسوس کیا کہ اس نے بھی مجھ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی تھی پھر اپنے ساتھی کے ساتھ کھانے کی ٹرے لے کر میرے سامنے سے گزرتی ہوئی اپنے دوسرے ساتھیوں کی میز پر بیٹھ گئی تھی۔ یہ ہسپتال میں آنے والے نئے ڈاکٹر تھے۔ جوان، مسکراتے ہوئے طاقت سے بھرپور تھوڑا ڈرے ہوئے بھی، ذرا سہمے ہوئے بھی، خود اعتمادی کے ساتھ ہر سال آنے والے بیج کو دیکھ کر جہاں اپنے سینئر ہونے کا احساس ہوتا تھا وہاں زندگی کی مسکراہٹوں اور جوانی کے جذبوں کا بھی جیسا دوبارہ جنم ہوجاتا تھا مگر اس دفعہ بات کچھ اور تھی۔

سالوں پہلے گائتری سے میری ملاقات نیویارک میں ہوئی تھی، میں پاکستان سے آیا تھا اور وہ ہندوستانی تھی، ہم دونوں نے ساتھ ہی نیویارک کے ہسپتال میں کام شروع کیا۔ پہلے دن ہی وہ مجھے اچھی لگی تھی مگر اس کا ہندو ہونا اور ہندوستان سے آنا میرے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ لہٰذا دلکش اور خوبصورت لگنے کے باوجود میں نے کوشش کی تھی کہ اس سے دور دور ہی رہوں۔ ہندوؤں کا کیا بھروسا! بچپن سے یہی پڑھایا گیا تھا مجھے۔ اس کا تعلق یوپی کے اونچی ذات کے کسی ہندو گھرانے سے تھا۔

میرے خیالات کے برخلاف وہ ہندو ہونے کے باوجود ایک اچھی انسان تھی۔ کسی ڈاکٹر کو پہچاننا ہو تو اس کے مریضوں کے ساتھ اس کا رویہ اس بات کی نشاندہی کر دیتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ وہ مہربان تھی، ہمیشہ مسکراتی ہوئی اور مریضوں کے ساتھ بات کرنے میں کبھی بھی جلدی نہیں کرتی تھی وہ مریضوں، نرسوں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے میں بہت مقبول ہو گئی تھی۔ میں بھی کوئی برا ڈاکٹر نہیں تھا۔

پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران مجھے ڈاکٹری کی تعلیم تو دی گئی تھی مگر اچھا انسان بننے کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ مگر نہ جانے کیوں پاکستان میں اچھا خاصا کام کرنے کے باوجود مجھ میں دوسرے پاکستانی ڈاکٹروں جیسا غرور، تکبر نہیں آیا تھا۔ میں نے کبھی کسی مریض، مریض کے رشتے دار، نرس، پیرامیڈیکس یا پورٹروں کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی تھی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرا ان کے ساتھ اچھا اٹھنا بیٹھنا تھا اور کبھی کبھار میں ان کے ساتھ بیئر وغیرہ بھی پی لیتا تھا۔

گائتری کو میری یہ بات اچھی لگی تھی جب ہم دونوں کی دوستی ہو گئی اور ہم آپس میں بے تکلف ہو گئے تھے تو اس نے یہی بتایا تھا مجھے۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ شروع شروع میں مجھے گائتری سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ پرکشش ہونے کے باوجود اس کا ہندو ہونا میرے لیے ایک مسئلہ بنا رہا تھا۔

نیویارک کے جس ہسپتال میں ہم لوگ کام کر رہے تھے وہ بڑا مصروف ہسپتال تھا۔ ڈیوٹی کا وقت ایسے گزرتا تھا جیسے آپ کسی بڑی دوڑ کا حصہ ہیں اور رکنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہر وقت مریضوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا، ہسپتال میں کام کے علاوہ کرنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایسی ہی ایک چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ختم کر کے صبح کی میٹنگ میں ہم لوگ موجود تھے تو ہمارے پروگرام ڈائریکٹر نے بتایا کہ نکولس جس کی اس دن ڈیوٹی تھی کا ایک ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ نہیں آئے گا، اس سے پہلے کہ یہ مسئلہ اٹھتا کہ اس کے بدلے کون کام کرے گا، میں نے خود ہی پیشکش کردی تھی کہ میں اس کی ڈیوٹی کرلوں گا۔ سب لوگوں نے مجھے حیرت سے دیکھا کہ چوبیس گھنٹے کام کرنے کے بعد میں خود ہی دوبارہ ڈیوٹی کرنے کو تیار ہوں، یہ میرے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا کیوں کہ مجھے کام کرنے میں مزا آتا تھا، مجھے لگا جیسے گائتری مجھے غور سے دیکھ رہی ہے۔ اس کی آنکھوں کی گرمی نے جیسے میرے چہرے کے چاروں طرف ایک گرماگرم سا ہالہ بنا دیا تھا، پہلی دفعہ وہ مجھے اچھی لگی تھی۔

دوسرے دن گائتری کی ڈیوٹی تھی اور وہ صبح صبح اپنے وقت سے دو گھنٹے پہلے آ گئی تھی، مجھے یاد ہے صبح سویرے شاید ساڑھے چار بجے ہوں گے جب میں وارڈ میں سارے مریضوں کو جلدی جلدی دیکھ کر ان کے مختصر نوٹ بنا رہا تھا تاکہ صبح کے راؤنڈ میں بتا سکوں تو اس نے آ کر میری مدد شروع کردی تھی۔ جس کام میں ڈھائی تین گھنٹے لگ جاتے وہ سب کچھ ایک گھنٹے میں ہو گیا تھا۔ مجھے بہت اچھا لگا اور ہم لوگوں کو وقت بھی مل گیا تھا کہ۔ ہم دونوں جا کر اکٹھے ناشتہ کرسکیں جو اکثر و بیشتر ہمیں میسر نہیں ہوتا تھا۔

ہم دونوں تقریباً ایک گھنٹے ساتھ ساتھ بیٹھے ناشتے اور کافی کا مزا لیتے رہے میں اس کی مدد کا شکرگزار تھا، پہلی دفعہ ہم دونوں نے مریض، بیماری، علاج کے علاوہ کچھ باتیں کی تھیں۔ وہ لکھنو کی رہنے والی تھی، سات بھائی بہن تھے وہ لوگ۔ پانچ بہن اور دو بھائی میں وہ سب سے بڑی تھی۔ اس کی ماں ایک گھریلو خاتون تھیں اور والد لکھنو کے ایک کالج میں ہندی پڑھاتے تھے، اس کی باتوں سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کا تعلق متوسط درجے کے سمجھدار پڑھے لکھے گھرانے سے ہے۔

پھر ہماری دوستی ہو گئی اور جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے یہ دوستی بہت تیزی کے ساتھ محبت میں بدل گئی۔ مجھے وہ بہت اچھی لگنے لگی، اس کا کھلتا ہوا چہرہ اور اس کے لانبے سیاہ بال، اس کی گھنی سیاہ بھنویں اور ان کے سائے میں کنول جیسے خوبصورت ذہین آنکھیں مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ محبت کس طرح سے اچھے خاصے آدمی کو زیر کر لیتی ہے۔ اس کے دل میں ایسے جذبوں کا طوفان کھڑا کر دیتی ہے جو اسے پاگل بنا دیتا ہے۔ اپنی تمام تر محبتوں کے ساتھ مجھے یہ اقرار کرتے ہوئے کوئی عار نہیں ہے کہ میں جتنی شدت سے اسے چاہتا تھا جتنی محبت کرتا تھا اس سے کہیں زیادہ شدت سے وہ مجھے چاہتی اور پیار کرتی تھی۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو رنگ، نسل، مذہب، اعتقادات اور امارت کی دیواروں کو توڑ پھوڑ کر خود ہی راہ بنا لیتا ہے، میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کسی ہندو لڑکی سے محبت کرنے لگوں گا یہ کیسی انہونی سی ہونی ہو گئی تھی۔ یہ آگ ہم دونوں کے دلوں میں ایک ساتھ ہی بھڑک اٹھی تھی۔

اس قسم کا پیار بالکل بے لوث ہوتا ہے اسے اپنی فکر سے زیادہ میری فکر رہتی تھی، ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے ایسے اسیر ہو گئے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسری کی زندگیوں میں شامل ہو گئے تھے۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، ملنا جلنا، سب کچھ ساتھ ساتھ ہونے لگا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ میں بھی اپنے خاندان کا پہلا ڈاکٹر تھا جو امریکا آ گیا تھا اور وہ بھی اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو ڈاکٹر بن کر امریکا پہنچ گئی تھی۔ ہم دونوں ہی تعلیم میں اچھے تھے اور ہم دونوں نے ہی بڑی آسانی سے اس زمانے کا امریکی امتحان ای سی ایف ایم جی بڑے اچھے نمبروں سے پاس کر لیا تھا اور ہم دونوں کا کوئی بھی عزیز رشتہ دار، محب امریکا میں نہیں تھا۔

وہ بڑا اچھا زمانہ تھا، امریکا میں ڈاکٹروں کی شدید کمی تھی، ساری دنیا سے ڈاکٹروں کو بلا بلا کر نوکری دی جاتی تھی۔ آسان سا امتحان تھا جسے پاس کرنا اور اچھے نمبر لانا کوئی بڑی بات نہیں تھی اور امتحان پاس ہونے کے ساتھ ہی عام طور پر نوکریاں مل جایا کرتی تھیں۔ امریکا میں ڈاکٹروں کی بہت قدر تھی۔

دوستی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہی میں نے اپنے من میں فیصلہ کر لیا کہ زندگی گائتری کے ساتھ گزاروں گا۔ اس کا پیار اتنا شدید تھا کہ میں اس کے بغیر زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ دوسرے سال چھٹی پر میں پندرہ دن کے لیے پاکستان گیا جہاں گھر والے ماں باپ، بھائی بہن، میری شادی کی منصوبہ بندی میں لگے ہوئے تھے۔ میں تو بہت کچھ سوچ کے گیا تھا کہ سب سے کہہ دوں گا کہ میں نے ایک لڑکی پسند کرلی ہے۔ یہ ہے اس کی تصویر اور وہ مسلمان ہو جائے گی۔ مگر میں سب کچھ بالکل بھی نہیں کر سکا۔ مجھے پہلے دن ہی اپنے خاندان کے درمیان بیٹھ کر بات چیت سے اندازہ ہو گیا کہ ہندوستان کی ہندو لڑکی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوگی۔ امریکا جا کر ہندوستان کی ہندو سے شادی پاگل پنے کی بات تھی۔ کوئی گوری عیسائی یا یہودن ہوتی اور اس کو مسلمان کر لیا جاتا تو پھر ٹھیک تھا، وہ اہل کتاب ہیں اور ان سے شادی جائز ہے۔

پندرہ دن اسی سوچ بچار میں گزر گئے، بہانے بہانوں سے مجھے کئی لوگوں سے ملوایا گیا اور بہانے بہانے سے کئی ہی خوبصورت اور مالدار خاندانوں کی بیٹیاں بھی میرے سامنے آئیں۔ میرے پاس تو بہت اچھا بہانہ تھا کہ ابھی تو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ ابھی تو ریزیڈینسی شروع ہوئی ہے، ٹریننگ مکمل ہوگی تو گھر بھی ہوگا، ابھی تو نیویارک کے شہر میں شادی کے بعد رہنے تک کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ میں نے مکمل طور پر شادی کے امکانات کو مسترد کر دیا تھا۔

میں واپس آیا تو شام کو جہاز سے اتر کر سیدھا گائتری کے پاس پہنچ گیا۔ پہلی دفعہ اس سے گلے لگ کر جتنا زار و قطار میں رویا ہوں اس سے وہ بے چین ہو گئی۔ میں اسے سمجھا نہیں سکا کہ میرے دل پر کیا بیتی ہے۔ میں کیا کیا سوچ کر پاکستان گیا تھا کہ اپنی امی سے بات کروں گا، اپنی بہنوں کو سمجھا لوں گا اور سب لوگ اس کی تصویر دیکھ کر انکار نہیں کرسکیں گے مگر وہاں تو میں گائتری کا ذکر تک نہیں کر سکا تھا، نام تک نہیں لے سکا تھا۔ میں نے اس کے لیے اپنے گھر والوں کو ہار دیا، چھوڑ دیا تھا۔ وہ بے چاری میرے ساتھ ساتھ بیٹھی رہی وہ میرے اور میں اس کے ذہن میں چلنے والے طوفان کا اندازہ تک نہیں کر سکا تھا۔

ہم دونوں بہت دیر تک اپنے ملکوں کے رسم و رواج، طور طریقوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ دو دنوں کے بعد وہ اپنی چھٹیوں پر لکھنؤ چلی گئی تھی۔ میں کام میں مصروف ہو گیا۔ وہی ہسپتال، وہی مریض، وہی مسائل اور وہی زندگی۔ لیکن نہ جانے کیوں ہر وقت کراچی میں گزرے ہوئے دن آنکھوں کے سامنے آ جاتے تھے، مجھے لگتا تھا کہ میرے گھر والے خود غرض ہیں۔ یہ صحیح تھا کہ انہوں نے مجھے جنم دیا تھا، پال پوس کر بڑا کیا تھا، پڑھا لکھا کر ڈاکٹر بنایا تھا مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ میری زندگی، میرے مستقبل کا فیصلہ وہ کریں۔ زندگی میں نے گزارنی تھی انہوں نے نہیں۔ انہوں نے گائتری کو دیکھا تک نہیں تھا، ملے بھی نہیں تھے۔ اس کا ہندو ہونا اتنا بڑا جرم تھا یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی۔ میں ضرور پیدائشی مسلمان تھا مگر میرے دادا مسلمان ہونے سے پہلے تو ہندو ہی تھے، سو سال بھی نہیں گزرے تھے ہمارے خاندان کو مسلمان ہوئے، مذہبوں کا فرق اتنا بڑا فرق کہ میں اپنی محبت اپنی زندگی پر سمجھوتا کرلوں۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں گائتری کے بغیر زندگی نہیں گزاروں گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply