سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئیے آپ کو ایک اور ناول سے متعارف کروایا جائے۔ ناول کا نام ہے ”دی بیل جار“ جسے سلویا پلاتھ ؔنے لکھا۔ پہلی بار یہ ناول 1963 میں وکٹوریا لوکاس ؔکے فرضی یا قلمی نام سے چھپا۔ میرے سامنے اس کتاب کا پچاسواں اینی ورسری ایڈیشن ہے۔ سلویا پلاتھ کا تعلق نیو انگلینڈ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن ؔسے تھا اور یہ اس کا واحد اکلوتا ناول ہے۔ اس کے بعد محض اکتیس برس کی عمر میں اس نے خود کشی کر لی تھی۔ یہ ناول ایک سوانحی ناول ہے اور یہ کچھ حد تک اس کی اپنی زندگی پہ اساس کرتا ہے جب کہ اس ناول کا شمار ماڈرن کلاسکس میں ہوتا ہے۔

ناول ایک کالج سٹوڈنٹ ایستھر گرین وڈ ؔ کی زندگی کی کہانی ہے جس کے لیے لکھاری بننا اس کا سب سے اہم خواب ہے۔ ایستھر 1953 میں ایک فیشن میگزین ”لیڈیز ڈے میگزین“ نیویارک کی انٹرن شپ جیتتی ہے تو اسے بطور انٹرنی وہاں کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایستھر گرین وڈؔ حساس، ذہین اور عام روایات کی باغی ایک ایسی لڑکی ہے جس نے ابتدا سے ہی تعلیمی سٹریٹ اے گریڈ حاصل کیے اور متعدد وظیفے جیتے۔

ایستھر کو یہاں جب اپنے ساتھی انٹر نز سے ملنے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں تو اس کے خیالات، تانیثی رویے اور تضادات مزید ابھر کر سامنے آتے ہیں اور یہ 1960 کے امریکی پس منظر میں سانس لیتا ہوا بھرپور تانیثی بیانیہ لے کر ابھرتا ہوا ناول ہے۔

دراصل ایستھر کی آڑ میں سلویا ؔنے اپنے تضادات، ذہنی تناؤ اور رویوں کو زبان دی ہے۔ یہی وہ خلجان تھا جو اسے خود کشی تک لے گیا۔ جب کہ اس ناول کا کردار ایستھر بھی خود کشی کی کوشش کرتا ہے، مگر بچ جاتا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناول میں اٹھائے گئے ایسے بولڈ اور بے باک سوالات جو اس وقت کے امریکی معاشرے میں بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ہیں ان کی وجہ سے ہیروئن کو ذہنی مریض دکھایا گیا ہے یا یہ واقعی کوئی ذہنی خلجان اور لاشعوری انتخاب تھا جو اسے پاگل پن تک لے گیا تھا۔

ناول کا آغاز انٹرن شپ کے خوبصورت ایام سے ہوتا ہے۔ یہاں جے سی مدیرہ فیشن میگزین کی ایستھر کے ساتھ گفتگو ملاحظہ فرمائیے :

جے سی نے قطعی بے رحمی سے کہا ”تمہیں فرنچ اور جرمن زبان پڑھنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی دوسری زبانیں جیسا کہ سپینش اور اٹالین اور بہتر ہے کہ ابھی رشین سیکھو۔ سینکڑوں لڑکیوں کا سیلاب جون میں نیویارک یہ خواب لے کر آتا ہے کہ وہ ایڈیٹر بن جائیں گی۔ آپ کو اوسط سطح کے لوگوں سے کچھ زیادہ جاننے کی ضرورت ہے“

آپ نے معیارات ملاحظہ کیے؟ یہ ایک فیشن میگزین کی مدیرہ کی ہدایت ہے ایک انٹرنی کو۔ مجھے اپنے پرنسپل ہمایوں احسان یاد آئے وہ فرمایا کرتے تھے امریکی ترقی کے پیچھے یہ امریکی طالب علم کی محنت ہے جو اسے آگے لے کر جاتی ہے۔ آپ اس کا تقابل اپنے ہاں کے ادبی جرائد سے کیجئے تو آپ کو فرق صاف نظر آئے گا۔

سلویا پلاتھؔ نے ساٹھ کی دہائی میں بہت بہادری سے اور بولڈ ہو کر اپنے ناول میں مردانہ نفسیات کو بیان کیا ہے اور پردہ بکارت پہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ایستھر کا بوائے فرینڈ بڈی ولیرڈؔ جو خود بھی کنوارا نہیں تھا مگر پھر بھی اسے جتلاتا تھا کہ وہ جنسی طور پہ زیادہ تجربہ کار ہے جبکہ وہ ایک کنواری لڑکی ہے۔ گو کہ وہ کئی شامیں ڈیٹ کے طور پہ کئی مردوں کے ساتھ گزار چکی تھی مگر کنواری تھیں۔ یہاں ساٹھ کی دہائی کا امریکی سماج بھی سجھائی دیتا ہے کہ ڈیٹ کا مطلب ہر حد ہر حد عبور کر جانا اس وقت امریکی معاشرے کے کھلے پن کا حصہ نہیں تھا۔ اس کے بوائے فرینڈ کا یہ متکبرانہ اور دوغلا رویہ اسے خلجان میں مبتلا کرتا ہے اور وہ اسے منافق سمجھتی ہے جبکہ اس کے ساتھ اس کے تعلق اور نسائی حسیات ان جملوں سے غماز ہوتی ہے :

”میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں نے ہر وہ بات جو بڈی ولیرڈ نے مجھے کہی میں نے اسے ایک خدائی سچائی سمجھا“

اور ان حالات میں جب بڈی ولیرڈؔ اسے یہ بتاتا ہے کہ وہ کنوارا نہیں ہے بلکہ اس کا اس سے قبل افیئر تھا تو یہ ایستھر کے لیے ایک شدید دھچکا تھا وہ توقع تو یہ کر رہی تھی کہ وہ اس سے کہے گا ”نہیں میں اپنے آپ کو محفوظ رکھ رہا تھا تاکہ جب میری شادی ہو تو تب میں بھی تمھاری طرح خالص اور کنوارہ ملوں“

ایستھر یہاں ایک سوچ بچار کرنے والے ذہن کے طور پہ ابھر کر آتی ہے جسے جہاں نام نہاد معاشرتی ٹیبوز کا سامنا ہے وہیں اس کے پاس ان کے مخالف مزاحمت سے پر سوال ہیں۔ جہاں اس کی ماں نے اسے وہی روایتی تعلیم دی ہے کہ اسے کسی مرد کے قریب اسی وقت جانا ہے جب وہ محبت میں ہو یا شادی کرے۔ رات گئے کسی مرد کے کمرے میں اکیلے ہونے کا مطلب صرف ایک ہی ہے۔ ۔ ۔ ان حالات میں بڈی ولیرڈ جیسے میڈیکل سٹوڈنٹ کو شادی سے انکار یقیناً ایک ذہنی دھچکا تھا۔ ملاحظہ کیجیے یہ اقتباس :

” ہر شاخ جو موٹی موٹی جامنی انجیروں سے لدی ہوئی تھی ان سے ایک شاندار مستقبل کی جھلک تھی۔ ایک انجیر شوہر کا پیارا گھر اور بچے تھے، دوسری انجیر ایک مشہور شاعرہ ہونا تھا ایک اور انجیر ایک ذہین پروفیسر ہونا تھا اور ایک اور انجیر ایک شاندار ایڈیٹر ہونا تھا اور ایک اور انجیر یورپ، افریقہ، ساوتھ امریکہ کا ٹور کرنا تھا اور ایک اور انجیر کنسٹنٹا انؔ، سقراط، اطالیہ اور ایک اور پیک اسی طرح کے ناموں اور شعبہ حیات کا اور ایک اور انجیر ایک کیرو چمپین اولمپک لیڈی کا اور ان تمام انجیروں سے اوپر مزید بہت سی انجیریں تھیں جو میری رسائی میں نہ تھیں۔“

یہ سطریں ایستھر گرین وڈ ؔکی ذاتی نفسیات کو کھل کر بیان کرتی ہیں اس پہ مزید وہ کہتی ہے :

” میں اس فرسودہ خیال کو نہیں سمجھ سکتی کہ عورت ایک ہی پاک اور سادہ زندگی جئے جب کہ مرد دوہری زندگی جینے کے قابل ہوں“

وہ کیتھولک فرسودہ اپروچ کے سخت مخالف ہے اور ناول میں جا بجا اس کا اظہار بھی کرتی ہے وہ کہتی ہے

” اس کی بجائے دنیا کتھولک، پروٹسٹنٹ، ریپبلکن ڈیموکریٹ اور کالے اور گورے حتی کہ مرد اور عورت کے درمیان بٹی ہوئی ہے۔ بلکہ میں اس دنیا کو اس طرح دیکھتی ہوں کہ دنیا کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ وہ لوگ جو کسی کے ساتھ سوئے اور وہ جو نہیں سوئے اور یہی وہ واضح فرق ہے جو ایک شخص کا دوسرے شخص سے ہے“

یہی وہ سوچ کا ڈھب ہے جو اسے ذہنی مریض بنا دیتا ہے۔ اسے مختلف دماغی امراض کے ہسپتالوں میں لے جایا جاتا ہے آخرکار اسے ڈاکٹر نولانؔ جیسی پروگریسو اپروچ کی ڈاکٹر ملتی ہے۔ مرض کی شدت کے دوران اس کو الیکٹرک شاکس سے بھی گزرنا پڑا۔ یہی اس کی ایک اور دماغی امراض کی ساتھی مریض جونؔ جو بڈی ولیرڈ کے ساتھ ریلیشن میں رہ چکی ہے، وہ خودکشی کر لیتی ہے۔ آخر ڈاکٹر نولان کے علاج سے وہ اپنے ذہن کے بیل جار سے آزادی پا لیتی ہے۔

بیل جار یہاں ایک استعارے کے طور پہ ابھرا ہے وہ تمام ذہنی قید و تکلیف جو اس بیل جار میں بند تھی اس کا ذکر ہے۔ ناول پڑھ کر جس نتیجے پہ میں پہنچی ہوں جو ایک قاری کی اپنی بصیرت و استحقاق ہے غلو بھی ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ ’دی بیل جار‘ دراصل اسی ذہنی قید کا استعارہ نہیں ہے بلکہ عورت کی بکارت کا جھگڑا ہے۔ بیل جار دراصل اس سوچ، اس مائنڈ سیٹ سے آزادی کا استعارہ ہے کہ عورت کوئی مرتبان نہیں جس میں کچھ ڈال دینے سے اس کی حرمت و وقعت میں اضافہ ہوگا اور سوال اٹھتا ہے کہ وقت نے ایسا کیا کیا تھا کہ عورت کی پاکیزگی کے علامت کے لیے پردہ بکارت جیسا بیل جار دریافت کر لیا گیا تھا۔

ناول جہاں یہ اہم سوال چھوڑتا ہے وہیں معمولی تفصیل و جزئیات نگاری سے بھرا ہوا بھی ہے اس کے برعکس یہ ناول اپنے عہد کے سیاسی سماج سے بالکل ناآشنا ہے لیکن ساٹھ کی دہائی میں ایک مضبوط اور بھرپور تانیثی آواز اس ناول کی اہمیت کو ابھارتی ہے۔ اس ناول کو اردو میں ترجمہ ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply