باصر سلطان کاظمی: سرزمین شعر کا اجنبی مسافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشکور حسین یاد صاحب نے باصر کو اکڑفوں شاعر قرار دیا ہے۔ مجھے ان کی اس بات سے اتفاق ہے۔ اسے اپنی ذات پر اعتماد ہے اس لیے نہ وہ شعر گوئی میں اور نہ مقبولیت کے لیے مروجہ بیساکھیوں کا سہارا تلاش کرتا ہے۔ وہ روایت اور تجربے کی اہمیت اور ان کے سمبندھ کا مکمل ادراک رکھتا ہے۔ اس کی تازہ کتاب چمن کوئی بھی ہو میں اس حقیقت کے کتنے ہی شواہد موجود ہیں کہ اس نے نہ صرف نئی زمینیں دریافت کی ہیں بلکہ ان میں نئی فصلیں بھی کاشت کی ہیں۔

انگلستان آمد کے بعد اس کی غزلوں کا نیا لہجہ اور منفرد ذائقہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا تخلیقی سفر ابھی جاری ہے اور اس نے خود کو دہرانا شروع نہیں کیا۔ البتہ اسے اس بات کا احساس ہے کہ شاعری ہو یا کوئی اور فن، اس میں کمال حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے بہت کچھ قربان بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسی بات کو اس نے یوں ادا کیا ہے :

رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات

کرتی ہے آرزوئے کمال ہنر خراب

دو مزید اشعار درج کرنے کے بعد اجازت چاہوں گا کہ پریشاں خیالی کا یہ سلسلہ بہت طویل ہو گیا ہے۔ مگر غور کرنے کی بات ہے کہ اس غزل کی ردیف نے (اس مجموعے میں ایسی کتنی ہی غزلیں اور بھی ہیں ) معانی کے کتنے در وا کیے ہیں :

حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری

ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں

باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں

کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں

پس نوشت:

مندرجہ بالا تحریر سن 2008 کی ہے اور اس وقت باصر کے دوسرے شعری مجموعے۔ ”چمن کوئی بھی ہو“ کے دیباچے کے طور پر شائع ہوئی تھی۔ میرے لیے یہ بڑی خوشی کا مقام ہے کہ ان گزرے بارہ برسوں میں باصر کی شعری اور ادبی کامرانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نے اپنی شاعری کا لوہا منوایا ہے اور اب اس کا کلام سن کر ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ آپ کے کلام کا لہجہ اور انداز ناصر صاحب سے بالکل الگ ہے۔

2015 ء میں اس کا شعری اور نثری کلیات۔ ”شجر ہونے تک“ لاہور سے شائع ہو چکا ہے اور 2018 ء میں اس کا شعری کلیات ”اب وہاں رات ہو گئی ہو گی“ کے عنوان سے بھارت سے بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس کا ڈرامہ ”بساط“ برطانیہ کے اے لیول کے اردو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کی غزلوں اور نظموں کا انگریزی ترجمہ اردو متن کے ساتھ Passing Through (ہم وہاں بھی رہے ) کے ٹائٹل کے ساتھ 2014 ء میں انگلستان کے بہت معتبر اشاعتی ادارے کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔

اس کو ملنے والے اعزازات کا سلسلہ بھی کافی طویل ہے۔

اس کا شعر، ’دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو/ پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو‘ ، مع انگریزی ترجمہ، پتھر پہ کندہ کر کے ( 2008 ئ) میں لندن سے ملحق شہر سلاؤ کے میکنزی چوک میں نصب کیا گیا۔ سن 2001 ء میں باصر کی ایک غزل انگریزی ترجمے کے ساتھ برطانیہ کے ہسپتالوں اور انتظار گاہوں میں آویزاں کی گئی، جس کا مطلع ہے :

زخم تمھارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی

بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی

باصر اردو کا پہلا شاعر اور ادیب ہے جسے بحیثیت شاعر اس کی ادبی خدمات کی بنا پر ملکہ برطانیہ کی جانب سن 2013 ء میں ایم بی ای ( MBE ) کا ایوارڈ عطا کیا گیا۔ 2017 ء میں علی گڑھ الومینائی ایسوسی ایشن، ہوسٹن، نے باصر کوعلی سردار جعفری ایوارڈ اور 2018 ء میں قطر کی بزم صدف نے عالمی ایوارڈ عطا کیا۔

مضمون کا اختتام باصر کی اس غزل پر کرنا چاہتا ہوں جو اب اس کی نمائندہ غزل بن چکی ہے۔

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے

جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ

دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے

صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار

ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے

ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھی

ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے

اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں

ہم نے ہمراہ ابھی وقت گذارا کم ہے

باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس

ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے

آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ

کونسا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments