باصر سلطان کاظمی: سرزمین شعر کا اجنبی مسافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1971 کا سال تھا جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا۔ باصر سے دوستی کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک دن باصر نے پہلی بار مجھے اپنی وہ غزل سنائی جس کا مطلع ہے :

دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے

وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

غزل مجھے بہت ہی پسند آئی اور اس کا مطلع تو حواس پر اس قدر چھا گیا کہ کئی دنوں تک ہر وقت دماغ میں گردش کرتا رہتا تھا۔

اس وقت سے اب تک تقریباً چار دہائیوں پر محیط دوستی کا یہ سفر جاری ہے۔ شیخ صلاح الدین نے ناصر کاظمی: ایک دھیان میں لکھا ہے کہ ناصر سے ان کی دوستی کے ابتدائی زمانے میں بہت خوں ریز بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ میری اور باصر کی دوستی کا آغاز بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ رات گئے تک کرشن نگر کی گلیوں میں ہمارا بحث مباحثہ جاری رہتا تھا۔ ان بحثوں کا ایک خاموش سامع وحید رضا بھٹی ہوتا تھا۔ وحید میرا کلاس فیلو تھا اور اسی نے باصر سے تعارف کروایا تھا۔ میرا تعلیمی، مذہبی، ادبی اور سیاسی پس منظر چونکہ باصر سے بہت مختلف تھا اس لیے ہمارے درمیان اختلافی نکات بھی بہت ہوتے تھے۔ دو بڑے اختلافی موضوعات اسلامی تاریخ اور اقبال کی شاعری تھے۔ بعض اوقات تو بحث میں تلخی کا رنگ بھی نمایاں ہو جاتا تھا جس پر وحید کو بڑی پریشانی ہوتی تھی اور وہ شاید اس اندیشے میں گرفتار گھر جاتا تھا کہ معلوم نہیں صبح یہ آپس میں ملیں گے یا نہیں۔ مگر صبح ہمیں کالج میں اسی خلوص اور گرم جوشی سے ملتے دیکھتا تو ابتداً تو وہ حیران ہوتا مگر پھر وہ اس کاعادی ہوتا چلا گیا۔

ان مباحثوں میں تو کوئی بھی دوسرے کے نقطۂ نظر کا کبھی قائل نہ ہوا مگر دھیرے دھیرے ہمارے بھیتر میں تبدیلی آتی چلی گئی جس کے نتیجے میں غیر محسوس طور پر ہمارے خیالات اور افکار تبدیل ہوتے گئے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دنوں نے ہی اپنے ماضی کے بہت سے ترکے کو خیر باد کہہ دیا۔ باصر نے اقبال کو بطور شاعر از سر نو دریافت کیا اور اس کے اثرات اس کی شاعری میں دیکھے جا سکتے ہیں اور اب اس نے اقبال کی اسرار خودی کے ایک حصے کا ترجمہ بھی کیا ہے۔

کالج کے زمانے میں ہم چند دوستوں کا جو گروپ تھا اس میں سبھی لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے تھے مگر ہم سب میں یہ بات مشترک تھی کہ ایک دوسرے کی تحریر کو سخت سے سخت تنقیدی معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتے تھے، اس میں غلطیوں کی نشان دہی کرتے تھے، اس پر بحث کرتے تھے۔ اس طرز عمل نے ہمیں بہت فائدہ دیا اور ہم نے واقعتا ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔

ستر کی دہائی ہماری آوارہ گردیوں اور رتجگوں کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں شاعری کے علاوہ باصر کو شطرنج سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ وہ یا تو ہر وقت شطرنج کی بساط سامنے رکھے اکیلا ہی کسی گرینڈ ماسٹر کی گیم کو سمجھنے میں دماغ سوزی میں مصروف ہوتا یا پھر شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے بارے میں کتب کا مطالعہ کرتا رہتا۔ اسی زمانے کو یاد کرتے ہوئے اس نے یہ شعر کہے ہیں :

کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے ہیں

مگر شطرنج سے جو عشق مجھ کو تھا کسے تھا

یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی

بساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے

مگر ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں باصر نظام ہضم کی خرابی کا شکار ہو گیا جس کا سلسلہ کئی برس تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں اس نے اپنے طرز زیست کو بہت تبدیل کیا اور اپنی خوراک میں ازحد احتیاط اور اعتدال کی راہ اختیار کی مگراس نے شطرنج کھیلنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ تاہم کسی نہ کسی سطح پر اس کھیل میں اس کی دلچسپی برقرار رہی۔

شاعری اور شطرنج کے علاوہ باصر کو پتنگ بازی کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ بڑے اہتمام سے بسنت منانے کی تیاری کرتا، ڈور کو مانجھا بھی خود لگاتا تھا۔ بسنت کے دن سب دوست اس کے گھر کی چھت پر جمع ہوتے اور خوب ہلہ گلہ ہوتا۔ میں اور بعض دوسرے دوست تو محض باصر کی خوشی کے لیے شریک ہوتے تھے کیونکہ ہمیں پتنگ بازی کے بارے میں سرے سے کچھ معلوم نہ تھا۔

اسی زمانے کی بات ہے کہ ایک رات حسب معمول باصر کے گھر پر دوستوں کی منڈلی جمع تھی۔ نصف شب گزر چکی تھی جب اس نے یہ اعلان کرکے سب کو چونکا دیا کہ وہ ایک ڈرامہ لکھ رہا ہے۔ اور اس نے زیر تصنیف ڈرامے کے کچھ مکالمات اور سین پڑھ کر سنائے۔ ان مکالموں میں حکمت و دانش کی بہت گہری باتیں تھیں اور نثر اتنی زورد ار تھی کہ سب دوست حیران رہ گئے۔ اب اگلے کئی برس باصر ڈرامے کے مطالعے میں ہمہ تن غرق رہا۔ اس نے اردو کے سارے ہی طبع شدہ ڈرامے پڑھ ڈالے اور انگریزی زبان میں بھی بہت سے ڈرامہ نگاروں کا مطالعہ کیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب مجھے تشویش ہونے لگی کہ کہیں وہ شاعری کو ہی خیر باد نہ کہہ دے کیونکہ کچھ بیماری کے سبب اور کچھ ڈرامے میں انہماک کے باعث باصر نے 1976 سے 1979 تک چار برسوں میں صرف نو غزلیں کہی تھیں۔

باصر کی یہ عادت ہے کہ تخلیقی کام میں وہ کبھی بھی جلدی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ بڑے صبر اور بڑی استقامت کے ساتھ کھیتی کے پھلنے پھولنے کا انتظار کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ڈرامہ بساط تقریباً دس برس کے عرصے میں مکمل کیا جو ایک شاہ کار تصنیف ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کواس پر یہ اعتراض تھا کہ اس میں فلسفہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور وہ ڈرامے کی بجائے مکالمات افلاطون کی قبیل کی کوئی چیز لگتا ہے۔ جب یہ ڈرامہ کتابی صورت میں شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں اس کی بہت پذیرائی ہوئی تھی۔

نوے کی دہائی میں باصر نے مزید تعلیم کے لیے انگلستان کا سفر اختیار کیا۔ قیام انگلستان کے دوران میں اسے علمی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک وسیع میدان میسر آ گیا اور اس نے نئے علاقے فتح کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ تعلیمی ڈگریوں کے حصول کے ساتھ ساتھ اس کی ادبی سرگرمیاں زیادہ بھرپور طریقے سے جاری رہیں۔ اس نے ڈرامے بھی تصنیف کیے جو وہاں کے بہت اعلی تھیٹروں میں اسٹیج ہوئے۔ اس کے دوسری قوموں اور زبانوں کے شاعروں اور ادیبوں سے روابط استوار ہوئے۔

ان روابط کا ایک ثمر یہ ہے کہ اس نے بھارتی نژاد برطانوی شہری اور انگریزی زبان کی شاعرہ دیبجانی چیٹرجی(Debjani Chatterjee) اور انگریزشاعر سائمن فلیچر کے ساتھ مل کر منی مشاعرہ کی بنیاد رکھی۔ دیبجانی ہندو ہیں اور ان کی مادری زبان بنگالی ہے۔ وہ ہندی سے بھی بخوبی واقف ہیں اور انگریزی کی انعام یافتہ اور مشہور شاعرہ ہیں۔ سائمن بھی انگریزی کے مستند شاعر ہیں جن کی کتاب کے بارے میں Poet Laureate ٹیڈ ہیوز (Ted Hughes)نے تعریفی جملے لکھے۔ یہ تینوں شاعر برطانیہ کے متعدد شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں جا کے اپنی شاعری سناتے ہیں اور ورکشاپیں منعقد کرتے ہیں۔ ان کا مقصد فن کے ذریعے مختلف قومیّتوں، مذاہب اور نسلوں کے لوگوں میں بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4

Leave a Reply