کیا دل واقعی ٹوٹ جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ میں میری پہلی عارضی ملازمت ایک نرسنگ ہوم میں تھی جو میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا۔ اتنے معمر افراد کو ایک چھت تلے زندگی کے اختتامی سفر کو طے کرتے دیکھنا میری زندگی کے اس تجربے سے یکسر مختلف تھا جو میں نے پاکستان میں گزاری تھی۔ جہاں عموماً مشترکہ خاندانی نظام کے تحت بزرگوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گو اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے اور لوگ سینیر سینٹرز میں اپنے بزرگ داخل کرکے اکثر بھول بھی جاتے ہیں۔

گو میں نے اس نرسنگ ہوم میں صرف ڈیڑھ ماہ کام کیا تھا لیکن ایک واقعہ جو میں نہیں بھول پاتی وہ ایک معمر جوڑا میری اور جیمز کا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی ہائی اسکول ”سویٹ ہارٹ“ تھے۔ ایک ہی سن میں پیدا ہوئے اور ان کے شوق بھی مشترک تھے۔ دونوں ہی نے تعلیم کے بعد ملازمت کی اور پھر 1941 میں ان کی شادی ہوئی۔ جس کے بعد جیمز نے اپنی نئی نویلی دلہن کے محبت سے بھرپور خطوط کے سہارے دوسری جنگ عظیم میں شرکت کی۔ وہاں سے واپس آکر اپنی ازدواجی زندگی کا بھر پور انداز میں آغازکیا اور پانچ اولادیں پیدا کیں۔ انہوں نے زندگی کے سرد و گرم میں ہر موقع پہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور شادی کے ساٹھ سال بعداس نرسنگ ہوم کو اپنا دوسرا گھر بنانے کا فیصلہ کہ جہاں سے ان کی آخری سواری اٹھنی تھی۔

میری کو رحم کا سرطان تھا تو جیمز کو پارکنسن کی بیماری۔ گو کسی وجہ سے ان کے کمرے الگ تھے مگر ان دونوں کے بیچ محبت کے شجرنے انہیں مضبوطی سے جوڑے رکھا تھا۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا کہ جب ایک شام میری کی حالت بگڑنے لگی۔ جیمز جو ہر روز میری کو دیکھنے آتا تھا۔ اس شام بھی آیا مگر اسی وقت میری اپنی آخری سانسیں گن چکی تھی۔ بے چین جیمز نے اسے خدا حافظ کہنے کے لیے اپنے کانپتے ہاتھ اپنی محبوبہ کے مردہ ہاتھ پہ رکھے اور اور جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ ”میری سویٹ ہارٹ میرا انتظار کرنا“ ۔ اور اگلے دن ہم سب کو خبر ملی کہ اسی شام ایک گھنٹے کے فرق سے جیمز کا بھی انتقال ہوگیا۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق بظاہر جیمز کی صحت ٹھیک تھی اسے اس طرح مرنا نہیں چاہیے تھا۔ مگر وہ یہ صدمہ نہ جھیل پایا۔

میری اور جیمز کی طرح بہت سے معمر جوڑوں کی کہانیاں ہیں جو ایک دوسرے کے مرنے کے بعد کبھی دس منٹ، کبھی گھنٹوں کبھی دنوں میں اپنے ساتھی سے جا ملتے ہیں۔ میں نے شاید اپنے محدود تجربے کی بناء پہ مشرق میں ایسی کہانیاں نہیں سنیں۔ ہاں البتہ میری ایک دوست اور ایک مشہور شاعرہ جن کو میں نے اردو ٹائمز (ناتھ امریکہ) کے لیے انٹرویو کیا تھا، کے والدین دو دن کے فرق سے انتقال کر گئے تھے۔ بقول ہماری دوست کے، ان کی امی بہت ایکٹیو تھیں اور گھر کی تمام سرگرمیوں کا محور رہی تھیں جب کہ ابا خاموش طبع اور خانگی معاملات میں بیوی پہ انحصار کرنے والے پروفیسر تھے۔ ایک دن ا چانک مختصر سی علالت کے بعد ان کی بیوی انتقال کر گئیں۔ یہ اتنا اچانک صدمہ تھا کہ بقول ہماری دوست کہ ابھی ہم امی کے سوئم کا اہتمام کر رہے تھے کہ دوسرے دن ابا بھی خاموشی سے انتقال کر گئے۔

آج ہم میں سے اکثر یہ جانتے ہیں کہ کسی صدمے سے ”دل ٹوٹ گیا“ جیسا محاورا جسے ہم افسانہ نگاری، عام گفتگو یا شاعری میں استعمال کرتے ہیں دراصل ایک خیالی کیفیت نہیں بلکہ حقیقت ہے اور ایک میڈیکل حالت ہے جسے ہم بروکن ہارٹ سنڈروم (broken heart syndrome) کہتے ہیں۔

بروکن ہارٹ سینڈروم کیا ہے؟ اس بیماری کو سب سے پہلے 1990 کی دھائی میں جاپان میں دستاویز کیا گیا جہاں اس کا نام Tako۔ Tsubo cardiomyopathy رکھا گیا۔ کیونکہ اس بیماری میں مبتلا شخص کے دل کی شکل ٹاکو سبوکو سے ملتی ہے جو نیچے سے چوڑا اور اوپر سے تنگ منہ والے برتن کا جاپانی نام ہے اور جسے اکٹوپس پکڑنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مرض کو اسٹرس کارڈ یو مایو پیتھی بھی کہاجاتا ہے کیونکہ یہ حالت عموماً کسی شدید صدمے، خواہ جذباتی ہو یا کسی طبعی، کا نتیجہ ہے۔

جس میں کثیر مقدار میں اسٹریس ہارمونز مثلاً ایڈریلن، کورٹیسول وغیرہ کا اخراج ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں دل میں درد، سانس میں دشواری، بلڈ پریشر میں کمی، دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی اور عارضی طور دل کی نارمل پمپنگ پہ فرق پڑتا ہے۔ یعنی باقی دل تو صیحیح کام کرتا ہے مگر دل کا الٹی جانب کا نچلا خانہ یالیفٹ وینٹریکل پوری طرح سکڑ نے سے قاصر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ حصہ غبارہ کی طرح پھولا جاتا ہے اور دل تقسیم سا ہوکرٹوٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

علامات کے اعتبار سے یہ کیفیت دل کے دورے سے مشابہ ہے۔ مگر یہ دونوں کئی لحاظ سے مختلف ہیں۔

دونوں کا ای کے جی مختلف ہوتا ہے۔ بروکن ہارٹ سینڈروم میں دل کے عضلات کا نقصان نہیں ہوتا اور کورنری آرٹری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہاں البتہ دل کا نچلا حصہ غبارہ کی طرح پھولا ضرور نظر آتا ہے۔ دل کے دورے کے برعکس بروکن ہارٹ سنڈروم میں چند دنوں یا ہفتوں میں انسان صحت مند ہو جاتا ہے۔ گو اس میں دل کو سکون پہنچانے اور بلڈ پریشر کو قابو رکھنے والی کچھ وہی دوائیں دی جاتی ہیں جو دل کے مرض میں دی جاتی ہیں۔ جاپان کی تحقیق میں اس حالت سے متاثر ہونے والی اکثریت کی تھی جن کی عمریں اٹھاون سے پچھتر کے درمیان تھیں۔

طویل مدت کے ساتھی کی موت کے بعد دوسرے کی جلد مرنے پہ دنیا میں بہت تحقیق ہوئی ہے۔ چار ہزار جوڑوں پہ کی گئی گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق مرد اور عورتوں میں اپنے جیون ساتھی کے گزر جانے کے پہلے چھ ماہ بعد مرنے کے امکانات ان کے مقابلے میں تیس فی صد زیادہ ہوتے ہیں جن کے ساتھی زندہ ہیں۔ اور ایک اسٹڈی میں تو یہ تناسب پچاس فی صد تک بھی ہے۔ اس لیے اس کو وڈو ہڈ ایفکٹ widowhood effect بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم اس مرض کو صرف رومانوی ساتھی بچھڑنے اور موت کا ہی مرض ہی نہ تصور کر لیا جائے بلکہ اسٹرس ہارمونز سے لدے جذباتی طوفان کا سبب اولاد کی یا کسی بھی دل سے قریب فرد کی موت، محبوب سے تعلق منقطع ہو جانا، کسی خطرناک مرض کی تشخیص، گھریلو استحصال، طلاق، مالی مشکلات، دمہ کا حملہ، کوئی میجر سرجری، کسی بڑی لاٹری کا ہارنا اور جیتنا، پبلک اسپیکنگ، ڈیپریشن، اور دوسرے ذہنی امراض بھی ہوسکتے ہیں۔

کووڈ 19 کی وبا اور بروکن ہارٹ سنڈروم: کرونا وائرس کی وجہ سے آج کل دنیا کو جس معاشی، سماجی اور نفسیاتی بحران اور شدیداسٹرس کا سامنا ہے اس کی وجہ سے اس کیفیت میں مبتلا مریضوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اوہائیو کے ایک ہسپتال میں ہونے ویریسرچ کے مطابق عمومی طور پہ اس مرض میں مبتلا ہونے کی شرح 1.5 سے 1.8 تھی مگر کوڈ کی وبا کے دوران مارچ اور اپریل 2020 میں یہ شرح 7.8 تک پہنچ گیٔ ہی۔ اور یہ اسٹڈی چار دن پہلے ہی شائع ہوئی ہے۔

اسکے علاوہ تحقیق ذہنی امراض اور بروکن ہارٹ سنڈروم کے ناتا کو بھی واضح کرتی ہے۔ ایک اسٹڈی کے مطابق جو 1750 افراد پہ ہوئی ان میں بروکن ہارٹ کے مرض میں مبتلا 43.3 فی صد افراد نفسیاتی امراض کا شکار تھے۔

کسی بھی اسٹرس یا ذہنی دباؤ سے گزرنے والوں بالخصوص کرونا کی وبا کے زمانہ میں بطور خاص اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ اپنے ڈاکٹر سے رابطہ میں رہیں۔ ورزش، مراقبہ اور اپنے خاندان اور دوست احباب سے ملاپ رکھیں مگر جسمانی فاصلہ کا خیال رکھتے ہوئے اور اس طرح اپنی انگزائٹی کو قابو میں رکھیں۔ جو اس مرض کی جڑ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply