کارو کاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ادا۔ ۔ ۔ ادا۔ ۔ ۔ ادی زرینہ کی شادی ہو رہی ہے۔“ دس، گیارہ سالہ شاہدہ جو دوڑتی ہوئی ایک سمت سے آ رہی تھی، اسے روک کر بتانے لگی۔ شاہدہ کا سانس پھولا ہوا تھا، مراد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”تو نے کیا دیکھا؟“
”ادی زرینہ دلہن بنی ہوئی تھی۔ ادا۔ ۔ ۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ’ادی سارہ‘ سے بھی زیادہ اچھی۔“
”ہوں“ مراد نے ہنکارا بھرا۔
”اور کون کون تھا اس کے پاس۔“
”سب کے سب ادا، جیجی وسائی، ماماکرمو، ادا خیرو۔ ۔ ۔ سب وہیں پر تھے۔“
”تجھ سے کچھ کہا اس نے؟“
”نہیں تو، کچھ نہیں۔ ۔ ۔ وہ کچھ بول ہی نہیں رہی تھی۔ ادا۔ دلہن کوئی کچھ بولتی ہے۔“
شاہدہ ہاتھ چھڑا کر بھاگنے لگی ”ادھر رک۔“ مراد نے اسے کندھے سے پکڑکر اپنی طرف کھینچا۔
”یہ تیرا دوپٹہ کدھر جا رہا ہے، اچھی طرح سے ڈھک۔“ مراد کی آنکھیں غیظ و غضب سے لہو رنگ ہو گئیں۔
”جی ادا“ شاہدہ نے جلدی جلدی دوپٹہ کوسر سے لے کر چاروں طرف پھیلا لیا۔
”اب جاؤں“ شاہدہ کے لہجے میں ہلکا ہلکا خوف تھا۔

مراد نے کوئی جواب نہ دیا۔ جلدی جلدی چلتا ہوا باورچی خانے کی طرف گیا۔ چولہے میں لکڑیاں جل رہی تھیں۔ اس نے ایک جلتی ہوئی لکڑی سے اپلے کی راکھ آگے بڑھائی اور اسے کریدنے لگا۔ روٹی بناتی ہوئی ماں کی آنکھیں نم تھیں۔

”مراد! اگر تیرے لچھن کچھ سدھرے ہوئے ہوتے تو تیرے گھر شہنائی اترتی اور آج زرینہ تیری ہوتی۔“

”کیا بولا لچھن، کس کے لچھن؟ میرے لچھن برے ہیں۔ اس کمینے“ تاجل ”کے لچھن سدھرے ہوئے ہیں۔ وہ بڑا چنگا مڑس ہے۔ دو ٹکے کا ماستر٭۔ اس کی کیا اوقات ہے میرے سامنے۔ ۔ ۔ ؟ کون پوچھتا ہے اس کو۔ ۔ ۔ جب چاہوں موچڑے مار کر دماغ درست کر دوں۔ آج وڈیرے کو بولوں تو اس کے پورے خاندان کو الٹا لٹکا دے۔“

”تو بولا کیوں نہیں وڈیرے کو؟“ ماں کو اس کی ہٹ دھرمی اور شیخی پر تپ چڑھ گیا۔

”تو کیا چاہتی ہے بول۔ ۔ ! ۔ ۔ ۔ ابھی اٹھا کر لے آؤں اسے؟ بہت شوق ہے نہ تجھے، مجھے پھانسی پر دیکھنے کا۔ ۔ ۔“ مراد ماں پر چڑھ دوڑا۔

”اللہ نہ کرے۔“ ماں کا سارا طنطنہ دم توڑ گیا۔

مراد کے باپ نے مداخلت کی۔ ۔ ۔ ”مگر تو جو سارا دن مونچھوں کو تیل لگا کر چوبارے میں رعب گانٹھتا پھرتا ہے۔ شریفوں کو ذلیل کرنے کی قسم کھا رکھی ہے، اس سے میں تو کیا میرے پرکھوں کی ہڈیاں تک شرمندہ ہوں گی۔ ۔ ۔ مراد۔ ۔ ۔ بیٹا تو ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ تیرے لیے تو ہم دونوں نے بڑے خواب دیکھے تھے۔“

”اور کیا کیا ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تم دونوں نے۔ ۔ ۔ ہیں؟ زرینہ کی شادی تاجل کے ساتھ کروا دی۔ ارے یہ سب تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا میرا میرے ساتھ۔ ۔ ۔“

” ہم نے کروائی ہے زرینہ کی شادی تاجل کے ساتھ؟“

مراد کے باپ کے نتھنے پھڑکنے لگے ”تو نے کروائی ہے، بدنصیب تو نے کروائی ہے زرینہ کی شادی تاجل کے ساتھ۔ تو آج لوفر نہ ہوتا، محنت مزدوری کر رہا ہوتا تو لاکھ دفعہ زرینہ کا باپ میری بات مانتا۔ میری سفید پگڑی رلا دی تو نے۔“

مراد کچھ نہ بولا، چولہے پر دھری دیگچی کو زور سے پاؤں مارا۔ دیگچی زمین پر آ رہی۔ مراد کی ماں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اور وہ دندناتا ہوا باہر نکل گیا۔

مراد کے لیے گاؤں تنگ ہو گیا۔ تاجل اور زرینہ کی شادی کیا ہوئی، لوگوں کی آنکھوں اور زبانوں پر اس کی نامردی کے طعنے اتر آئے۔ ”اونہہ بڑا بدمعاش بنتا پھرتا تھا۔ ۔ ۔ کیا کر سکا؟“

سوچ سوچ کر اس کا تو ذہن ہی پھٹنے لگتا۔ کبھی سوچتا آدھے گاؤں کا قتل کر ڈالے۔ کبھی خیال آتا زرینہ اور تاجل کو مار گرائے اور تھانے میں پیش ہو جائے۔ گھر کا ماحول اور اس کے اندر کی آگ کو بھڑکاتا۔ افیونی، چرسی، موالی تک اس سے خوفزدہ نہیں رہے تھے۔ مونچھیں مروڑتے اس کے سامنے سے گزر جاتے تھے۔ اس سے پہلے تو کسی کی کیا مجال تھی کہ یوں چھاتی تان کے اس کے سامنے سے گزرتا۔ وڈیرے نے تو اس دن سے اس کو اوطاق پر ہی نہیں بلوایا تھا۔ کمدار چھوٹے موٹے کام کے عوض جو پیسے اسے چائے پانی کے لیے دیتا تھا، بند ہو چکے تھے۔ حلوائی نے اس کو دیکھ کر پیڑے تک پلیٹ میں نہیں لگائے الٹا پاس کھڑے چھوٹے کو گالیاں بکنے لگا۔

ابھی تک اس نے کوئی قتل نہیں کیا تھا مگر جس کسی سے بھی جھگڑا مول لیا تھا۔ کلہاڑی کے ایک ہی وار سے اس کا سر کھول دیتا تھا۔ کوئی وار اوچھا نہیں جاتا تھا۔ چوری چکاری کے لیے اس سے زیادہ وڈیرے کے پاس کوئی معتبر نہ تھا۔ اس کی صلاحیتوں کو زنگ کھا رہا تھا۔ سگریٹ کے ایک پیکٹ کے لیے اس کے پاس پیسے نہ تھے، ورنہ کیا مجال تھی کہ اس کی جیب خالی رہتی۔ ایک لے دے کے ”بچل“ نے اس کی خیر خبر رکھی تھی۔ خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہتا اور پھر اس کے کندھے تھپتھپا کر باہر نکل جاتا۔ آخرکار ایک دن پھٹ پڑا۔

”یار تیری زندگی کو دیکھ کر اپنا دل تو خودکشی کر لینے کو کرتا ہے۔ کبھی تو سوچتا ہوں کہ اس بدبخت تاجل کو مارگراؤں اور زرینہ کو اٹھا کر تیرے پاس لے آؤں۔“

”تیری یاری کا پتہ ہے مجھے بچل۔ معلوم ہے مجھے کہ تو میرے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ۔ ۔ مگر میں تجھے، اپنے جگری یار کو اس طرح پولیس کے ہاتھوں نہیں مرنے دوں گا۔“

” کچھ تو کرنا پڑے گا۔ تو ختم ہو رہا ہے میرے دوست۔ ساری محفلیں، دوست، یار سب کچھ بھلا دیا ہے تو نے۔ ۔ ۔ یوں سڑ رہا ہے ایک کونے میں۔ ۔ ۔ یا تو بھول جا اسے۔ ۔ ۔ زرینہ کو پرائی عورت سمجھ کے۔“

”کیا بھول جاؤں۔ دوست ہو کر بے غیرتی کا سبق پڑھا رہا ہے۔ تو بھی ایسا کہہ سکتا ہے مجھے بچل؟ اتنا بے غیرت نہیں ہوا ہوں کہ اپنی محبوبہ کوکسی غیر کے ساتھ رہتا دیکھ کر صبر کر لوں۔ میں تو بس راستہ دیکھ رہا ہوں کہ کسی طرح سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“

”نورل والا کیس یاد ہے۔“ بچل نے آگے کھسکتے ہوئے رازدارانہ انداز میں پوچھا۔
”ہوں۔“ پرخیال انداز میں جواب ملا۔

”نورل“ اور ”مٹھل“ دونوں ہی تین تین سال کے بعد مزے کر رہے ہیں اور پیچھے سے کمدار نے برابر دونوں کے گھر راشن خرچہ پہنچایا۔ حالانکہ بیچ والے سال بارش نے فصل بھی خراب کر دی تھی، مگر وڈیرے نے ان کے گھروں میں آٹے دال کی تنگی نہیں ہونے دی تھی۔

”ہوں۔ ۔ ۔ سمجھ رہا ہوں۔“ مراد کے ذہن میں کوئی مہم چل رہی تھی۔

وڈیرے نے تو دو، تین بار کھلے لفظوں میں بھی پوچھا ہے کہ۔ ۔ ۔ ”مراد کی غیرت کدھر سو گئی ہے۔“ میں تو ٹال جاتا ہوں کہ سائیں وہ صدمے میں ہے۔ ۔ ۔ پر وڈیرہ تو سمجھتا ہے ناں یہ سارے چھل فریب، بلکہ ایک دفعہ تو وڈیرہ سائیں نے صاف کہا کہ ”ماسٹر کی کیا مجال کہ میرے علاقے میں یوں کھلا گھومتا پھرے۔“

”اب ساری بات تجھ پہ آتی ہے اب اگر تو کہے تو سائیں کے ایک اشارے پہ ٹھکانے لگ جائے یہ تاجل، ایک بات یہ ہے اور دوسری یہ کہ زرینہ کو بھول جا اور اس کا گھر بسنے دے۔ دوسری بات میں ساری زندگی بدنام رہے گا۔ سر اٹھا کے نہ چل سکے گا۔ سب یہی کہیں گے بڑا مرد بنا پھرتا تھا۔ آنکھوں کے سامنے اس کی منگ کو اٹھا لے گیا ماسٹر، ڈھول باجے کے ساتھ اور۔ ۔ ۔ اور مراد، نامرد کچھ بھی نہ کر سکا۔“

مراد خاموش رہا۔
”اب کچھ بول بھی۔“ بچل زچ ہو کر بولا۔
”کیا؟“

”فیصلہ کر لے ایک۔ ۔ ۔ سب تیرا ساتھ چھوڑ گئے۔ پیٹھ پیچھے سب ہی تجھے بزدل کہتے ہیں، کسی دن منہ پر بھی کہہ دیں گے، پھر خارش زدہ کتے کی طرح اپنی دم کو کاٹتے پھرتے رہنا۔ اپنی لگائی ہوئی آگ میں دوسروں کو جلا، خود کیوں جلتا ہے۔“

چپ۔ خاموش۔
”زرینہ سے ملاقات ہوئی پھر؟“ آخر کار بچل کو پوچھنا پڑا۔
”نہیں۔ ۔ ۔ دیکھا تھا۔ ۔ ۔ دوبار۔ ۔ ۔“
”پھر؟“
”منہ پھیر لیا، مجھے دیکھ کر۔“
”خوش لگ رہی تھی؟“
”ہاں“
”کپڑا لتا اچھا پہن رکھا تھا۔“
”زیور بھی پہنے ہوئے تھے۔ ہنس ہنس کر ماسٹر سے باتیں کر رہی تھی۔“
”تو نے کوئی پیغام کروایا؟“

”چھوٹی بہن کو بھیجا تھا۔ وہ جواب لے کر آئی کہ اب مراد میرا بھائی ہے۔ اس کو بول کہ میرا خیال بھی دل میں نہیں لائے۔ میں اب بچل کی ہوں۔“

”اب فیصلہ تیرے اوپر ہے۔ بھائی بن جا۔ ۔ ۔“ بچل نے ہنستے ہوئے طنز کیا۔

”بناتا ہوں اس کتیا کو بہن۔ اس کو تو مل گیا وہ حرامی، کتے کا پلا ماسٹر اس لیے مجھے بھائی بنا لیا۔ اس وقت تو ایسا غصہ آیا کہ گھس جاؤں اس کے گھر اور ماسٹر کے سامنے ہی اس کی ناک اور چھوٹی دونوں کاٹ کر گلی کے کتے کے سامنے ڈال دوں۔“

”پھر گیا نہیں؟“ بچل نے جلتی پر تیل ڈالا۔

”بول تو رہا ہوں کہ بھولا کچھ نہیں ہوں، پر کچھ ایسا کرو ں گا کہ سب کو پسینے آ جائیں گے۔ ایک ایک شریک سے انتقام لوں گا کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔“

”یہ ہوئی نہ غیرت مند مردوں والی بات۔“ بچل نے مراد کا ہاتھ دبایا۔

” اب لگ رہا ہے تو ہوش میں آیا ہے مراد، یاد کر۔ سب کچھ تیرے سامنے ہے میرے یار، مٹھل تین سال جیل کاٹ کر آیا تو کیا، دیکھ آج سار ے گاؤں کا ہیرو ہے حالانکہ جب اس نے اپنے رقیب کا خون کیا تھا تو سب پریشان تھے۔ اب ہے کسی کی مجال کہ اس سے اونچی آواز میں بات کر سکے۔ زمیندار اس کو اپنے دائیں طرف بٹھاتا ہے۔ اس کے بغیر وڈیرے کی اوطاق نہیں جمتی اب تو۔ نورل نے ڈبل خون کیا تھا۔ پولیس کو سب دینا دلانا وڈیرے کا کام تھا۔ صوبے دار چار چکر لگاتا ہے تو وڈیرہ ایک دفعہ ملتا ہے۔ اب بھی جب وڈیرہ چاہتا ہے تب ہی نورل پیشی کے لیے جاتا ہے۔ پورے گاؤں سے پیسہ بٹورتا ہے۔ سب سر جھکا کر دے دیتے ہیں۔ غیرتمند مشہور ہو گیا ہے۔ اپنی ماں کو اس کے یار کے ساتھ قتل کر کے دونوں کی لاشیں میدان میں ڈال دی تھیں جوان نے۔“

”سب کچھ سوچ رکھا ہے میں نے۔ سب نے غیرت دکھائی پر سب کو زمیندار کا آسرا تھا۔ میرے باپ پر کتنے سالوں سے قرض چل رہا ہے۔ ہر فصل پر سود اور بڑھ جاتا ہے۔ مجھے کیسے بچائے گا زمیندار؟“

”ارے یار کیسی بچوں جیسی باتیں کر رہا ہے۔ تو میں کس کی ٹیک پر تجھے سمجھا رہا ہوں۔ دیکھ زمیندار کو گاؤں کی عزت ہم سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ بے غیرتی اور بے عزتی کی ذلت اس سے کب برداشت ہو سکتی ہے۔ وہ خود تیری ہی طرف دیکھ رہا ہے ورنہ ابھی تک تو سارا معاملہ ایک طرف کر دیا ہوتا۔ پورے گاؤں کو خبر ہے کہ زرینہ تیری منگ تھی اور اس کے باپ نے تیرے ساتھ وعدہ خلافی کی۔ پور ے گاؤں کی عزت پر حرف آیا ہے تو کیا زمیندار چپ چاپ تماشا دیکھتا رہے گا؟

قبر میں ہڈیاں جل رہی ہوتیں اب تک تو اس ماسٹر کی۔ بس وڈیرہ سائیں ابھی تک تیرے انتظار میں ہے۔ اب اگر تیرے اندر غیرت باقی ہے، تو کچھ کر کے دکھاتا ہے تو زمیندار کی پگڑی تو اونچی ہو گی نہ اور آس پاس کے سارے گوٹھوں میں بھی اس کی ناک اونچی ہو جائے گی کہ اب تو تقریباً سبھی گاؤں بے حیائی پر اتر آئے ہیں۔ اس لیے بڑوں کی رسموں کو زندہ رکھنے کے لیے ہم کو کچھ تو کرنا ہی پڑے گا اور رہی بات تجھے پولیس سے چھڑوانے کی تو میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف پولیس کا مسئلہ زمیندار حل کر دے گا بلکہ تیرے بابا کا قرض بھی معاف ہو جائے گا۔ اب تو خوش ہو جا میرے دوست اور یاد رکھ کہ جیل سے چھوٹتے ہی زمیندار کی اوطاق میں تیری جگہ سب سے آگے ہو گی۔“

مراد کے دماغ نے سوچنا شروع کیا۔ ساری گرہیں کھلنے لگیں۔ اتنے وقت کی سستی اور ذلت نے جو طوفان دماغ میں اٹھا رکھا تھا اس نے بچل کی باتیں سنتے ہی فیصلہ کر لیا۔ بے غیرتی کے داغ سے بچ جانا، گھر والوں کا سارا قرضہ ختم ہو جانے کا نہ پورا ہونے والا خواب جیسا وعدہ اور پھر ساری عمر وڈیرے کی اوطاق پر مزے سے ڈیرہ ڈال کر روٹیاں توڑنے کی عیاشی اور پھر اس کمینے ماسٹر سے چھٹکارہ جس نے اپنی شرافت کی اداکاری سے زرینہ کے ماں باپ کا دل موہ لیا تھا اور اسے موقع ہی نہیں دیا تھا کچھ سوچنے کا اور کرنے کا۔

۔ ۔ انتقام پورا ہونے کی لذت، وہ ڈوب سا گیا۔ قتل کروں گا تو الزام تھوڑا ہی لگے گا۔ ۔ ۔ خواری تو ان کی ہو گی جو قتل ہوں گے۔ میں تو غیرت کے نام پر قتل کر رہا ہوں۔ زرینہ میری منگ تھی۔ میرے ساتھ شادی ہونا تھی اس کی۔ کیاہوا اس کا باپ پرائمری ماسٹر تھا تو۔ ۔ ۔ میرا باپ بھی تو اسی کے خاندان میں سے تھا۔ میری زرینہ سے شادی کے نام پر میرے باپ کو ذلیل کر کے رکھ دیا۔ حرامی کہیں کے۔

یہ ساری باتیں سوچتے سوچتے، باپ کے ٹوٹے پھوٹے زخمی خراٹوں اور ماں کی پرانی کھانسی کے درمیان منہ سر لپیٹ کر سو گیا۔

اب اسے صرف وڈیرے کے حکم کا انتظار تھا جو آج کل گوٹھ سے باہر گیا ہوا تھا۔ اس واقعہ کی خبر پورے گاؤں کو تھی اور وڈیرے کو بھی۔ ۔ ۔ مگر اس نے خود سے بلا کر مراد سے کچھ بھی پوچھا نہیں تھا اب تک۔

بچل نے کہا تھا کہ وہ خود ہی ملاقات کا وقت طے کرے گا اور اس کو وڈیرے کی اوطاق پر لے جائے گا۔ آج اس نے گاؤں کے ہوٹل جانے کا سوچا۔ سارے بے غیرت لوگ جو کونوں کھدروں میں زندگیاں گزار رہے تھے۔ اسے اپنا سمجھ رہے تھے اور سارے جی دار، گاؤں میں دہشت پھیلانے والے، ہر گھر کا سراغ رکھنے والے اسے دیکھ دیکھ کر یوں اشارے کر رہے تھے، جیسے بے غیرتی اس کے ماتھے پر لکھی گئی ہو۔ وہ دلبرداشتہ ہو کر ہوٹل سے باہر نکل گیا۔ مگر ا سے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تیسرے روز ہی بچل اسے وڈیرے کی اوطاق پر لے گیا۔ نورل کے ساتھ بیٹھا وڈیرہ اس کا انتظار کر رہا تھا۔

”بھول گئے اپنی منگ کو۔“ وڈیرے نے اپنی دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ پر جماتے ہوئے کہا۔
”نہیں، وڈیرہ سائیں۔ ۔ ۔“ مراد نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سر کو جھکا دیا۔
”اور بدنامی؟“
”کیسے بھول سکتا ہوں، سرکار“
”تیری چپ تو کچھ اور بتا رہی ہے۔“
”سوچ رہا تھا سائیں بادشاہ۔“
”اچھا تو سوچنے والوں کے پاس بھی غیرت ہوتی ہے کیا؟“

” چل بھئی بچل یہ تو گیا کام سے، لے جا اسے جہاں سے لایا ہے اور اس کو بول بیٹھ جا کسی خالی کوٹھڑی میں اور سوچ سوچ کر بے غیرتی کی زندگی گزارے۔ باباہمارے پاس کیوں لایا ہے اسے۔“

”سرکار۔ ۔ ۔“ مراد زمین پر دوزانو ہو کر وڈیرے کے قدموں میں جھک گیا۔
”میں تو اس ماسٹر بدبخت کو ٹھکانے لگانے کا سوچ رہا تھا۔“
”ہوں۔ ۔ ۔ اچھا۔ ۔ ۔ پھر؟ کیا سوچا؟“ وڈیرے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
”جوآپ کی رضا سائیں۔“

”بھئی ہمارا کیا جائے۔ پر کی اس تاجل ماسٹر نے تیرے ساتھ بے واجبی ہے۔ سزا تو اس کو ضرور ملنی چاہیے۔ پر ہے یہ سراسرتیرا مسئلہ۔“

”سائیں آپ کے آسرے پر ہی توکچھ ہو سکتا ہے۔“

”دیکھ بچے۔ یہ گوٹھ۔ ۔ ۔ یہ گوٹھ والے۔ ان سب کی عزت اور غیرت مجھے بہت عزیز ہے۔ اگر آج تم بے غیرت ہو جاؤ گے تو کل کو بہت سے لوگ بے غیرتی والی زندگی گزارنا شروع کر دیں گے پھر شہروں اور گوٹھوں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ ہم بھی شہر والوں کی طرح بے حیا ہو جائیں گے۔ ہمارے بزرگوں کی روایت تو یہ نہیں ہے۔ وہ تو تڑے کھڑے وار کرتے تھے اور گردنیں دھڑ سے جدا کر دیتے تھے۔ ۔ ۔ ادھر ان کی منگ پر حرف آیا ادھر سرگردن سے دھار۔ ۔ ۔ مگر۔ ۔ اب کہاں رہے وہ جری، سورما۔ اب تو خالی سوچنے والے رہ گئے بابا۔“

بچل اور نورل دونوں کھی کھی کر کے ہنسنے لگے۔ مراد کا سراب وڈیرے کے پیروں پر تھا۔

”سائیں۔ ۔ ۔ بڑے سائیں۔ ۔ ۔ فیصلہ ہو گیا۔ ماسٹر نہیں بچے گا اب۔ مجھے بھی اپنے پرکھوں کی عزت پیاری ہے سائیں! آپ سلامت رہیں۔ آپ کی سرداری قائم رہے۔ اب مجھے صرف اپنے گاؤں کی، آپ کی عزت کی پروا ہے، اپنی جان کی نہیں۔“

”اور ماسٹر کے ساتھ کون جائے گا؟“ وڈیرے نے ذومعنی انداز میں پوچھا۔
”کتنی بہنیں ہیں تیری؟“
”ایک، سائیں۔“ مراد کا سر کچھ اور جھک گیا۔
”ہوں“
”کوئی بھابھی؟“
”نہیں سرکار۔“
”کوئی رشتہ دار یا اور کوئی سنگیتانی۔ ۔ ۔ یار وغیرہ؟“ وڈیرے نے دائیں آنکھ دباتے ہوئے پوچھا۔
”اور کوئی نہیں سائیں۔“ چاچے کے بھی صرف چار لڑکے ہی لڑکے ہیں۔
’اچھا۔ ۔ ۔ اور تیری ماں۔ ۔ ۔ کیا بہت پیاری ہے تجھے۔ ۔ ۔ ؟ ”
”سائیں آپ حکم کریں۔ ۔ ۔“ مراد کسی اشارے کا منتظر تھا۔
”تیرا باپ گند تو نہیں کرے گا؟“
”سائیں اس کی کیا مجال۔“ مراد نے فوراً جواب دیا۔

”ہاں اگر ایسا ہو جائے تو اس کوپہلے سے بتا دینا کہ سائیں بادشاہ نے اس کا سارا قرضہ معاف کر دیا ہے اور تیری جیل سے واپسی کا سارا بندوبست بھی وڈیرے سائیں کا ہو گا۔“

نورل نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے سائیں بادشاہ۔“ مراد نے زمین پر بیٹھے بیٹھے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔
بچل نے مداخلت کی۔

”سائیں! سائیں ماں اس بدنصیب کی بڈھڑی (بڈھی) ہے پیٹ میں آنت نہ منہ میں دانت۔ بہن اتنی چھوٹی نہیں ہے اب اس کی۔ ۔ ۔“

”تو بابا اب تو تم سوچو۔ تمہارے دوست کو ویسے بھی سوچنے کا بہت شوق ہے نہ بچل، تو اب کے اس کو یہ موقع میں دے دیتا ہوں۔“ وڈیرے نے بات کو ختم کر دیا۔

مراد کے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ہر وقت کسی گہری سوچ میں غرق۔ بچل کے علاوہ کسی سے نہیں ملتا تھا۔ باپ کے پاس فصل پہ جانا چھوڑ دیا تھا۔ ماں کی شکل دیکھنے کا روادار نہ رہا تھا۔

اس خاموش گھر میں صرف ایک شاہدہ ہی ایسی تھی جس کی الہڑ ہنسی دبے دبے انداز میں پھیل جاتی تھی اور چہرے پر گلال پھیلا رہتا تھا۔ یہ اور بات کہ بھائی کی خون آلود آنکھیں دیکھ کر دہشت زدہ ہوکر ماں کی گود میں جا چھپا کرتی تھی۔

آج گھر میں شاہدہ کے گڈے کی شادی تھی۔ بچیاں کپڑے کے بنے ہوئے گڈے کو سجا سنوار کر بٹھا رہی تھیں۔ گڑیا کے رہنے کے لیے بانس کی تیلیوں سے بنا ہوا گھر تیار ہو چکا تھا۔ پلیٹوں میں بسکٹ، ٹافیاں، چھالیہ، بتاشے اور چھوہارے رکھے ہوئے تھے۔ ڈھولک گیت بجانے کے لیے ٹین کا ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ آٹھ دس لڑکیاں آنگن میں نیم کے درخت کے نیچے بارات آنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ شاہدہ بہت فخر سے گڈے کے پاس بیٹھی تھی۔ گڑیا اسی کے گھر میں آنی تھی۔ گڑیا اور گڈے کے لیے تیارکردہ گھر کی چھت بھی سرکنڈوں سے بنا رکھی تھی۔ چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کا میلہ سا لگا ہوا تھا۔ برابر والے گھر سے دلہن کی رخصتی کے گیت گانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

”چلو چلو۔ ۔ دلہن لینے چلیں۔“ شاہدہ اور اس کی سہیلیوں نے خوشی سے بے قابو ہوتے ہوئے کہا۔

شاہدہ لپک کر اٹھی اور دوڑتی ہوئی باورچی خانے تک گئی۔ وہ پلیٹ میں مٹھائی رکھے واپس آ رہی تھی۔ ۔ ۔ مگر اٹھتے ہوئے اس کی قمیص بہت اونچی ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ اتنی اونچی کہ۔ ۔ ۔ کچھ فاصلے پہ بیٹھے ہوئے مراد کی آنکھیں چمکنے لگیں۔

اس نے وہ دیکھ لیا تھا جس کے لیے اسے سالوں کا انتظار کرنا پڑا تھا۔ شاہدہ کی سفید اور زرد پھولدار شلوار پر۔ ۔ ۔ تازہ خون کے بڑے بڑے دھبے۔

مہینوں کا انتظار آج رنگ لایا تھا۔ اب انتظار کون کافر کر سکتا تھا۔ اس کے ہاتھ کپکپانے لگے۔ مونچھیں پھڑکنے لگیں، وہ باہر کی طرف لپکا۔

سہرا گاتی ہوئی لڑکیاں ہنستی مسکراتی ایک دوسرے کے آگے پیچھے باہر نکلنے لگیں کہ سب کے ہونٹ لرز گئے اور آنکھیں پتھرا سی گئیں۔ باہر سے دو، تین، چار یکے بعد دیگرے فائروں کی آوازیں انہیں دہلانے کے لیے کافی تھیں۔ ابھی وہ خوف سے گنگ کھڑی تھیں کہ ریوالور ہاتھ میں لیے خوں آشام درندہ بنا مراد گھر میں داخل ہوا اور سب لڑکیوں کے درمیان کھڑی شاہدہ کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا۔ تھوڑے فاصلے پر دہشت زدہ سی کھڑی ماں کی نظروں میں کئی خوفناک مناظر پھرنے لگے۔ وہ وہیں سے چیخی مگر راستے میں ہی ڈھے پڑی۔ مراد کے ریوالور نے شاہدہ کے جسم میں پے در پے کئی گولیاں اتار دی تھیں۔ لڑکیاں بالیاں چیختی ہوئی باہر کو بھاگیں، پرندے خوفزدہ ہو کر بے ترتیبی سے اڑانیں بھرنے لگے۔

مراد نے لہو سے سرخ، شاہدہ کی لاش گھسیٹتے ہوئے گھر سے کچھ دور ایک اونچے لمبے شخص کی لاش کے قریب پٹخ دی۔

منٹوں میں مجمع جمع ہو گیا۔ ”تاجل ماسٹر کا قتل۔ ۔ ۔ بے غیرتی کے شبہ میں۔ ۔ ۔ مراد کے ہاتھوں۔“

”واہ سائیں واہ۔ ۔ ۔ بڑا غیرتمند، جری مرد تھا۔ دوہرا قتل۔ غیرت کا اعزاز، ایسے شیر مرد کو تو دس دفعہ سلام ہے سائیں۔“

پولیس آ گئی۔ دونوں لاشوں کے گرد دائرہ بنا دیا گیا۔

تھانے دار نے لوگوں پہ ایک اچٹتی نظر ڈالی۔ ۔ ۔ لاشوں کے گرد بنے دائرے کے گرد نگاہیں گھماتے ہوئے مراد کی طرف گھورا۔

”ہوں۔ ۔ ۔ مراد علی ولد حاکم علی۔ ۔ ۔ کوئی پرانی دشمنی تو نہیں تھی مقتول سے تمہاری۔“
”نہیں صاحب۔ ۔ ۔ یہ صرف غیرت کے جوش میں قتل کیے ہیں مائی باپ۔“
اور یہ کون ہے تمہاری؟
”بہن“
”یہ تو نابالغ لگتی ہے۔“
”بالغ تھی صاحب۔“ مراد حلق کی پوری قوت سے چلایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply