سجاد ظہیر: ترقی پسندوں کا بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بقول قاضی عبد الستار، ”سامو گڑھ کے سینے میں وہ میزان نصب ہوئی، جس کے ایک پلڑے میں روایت تھی اور دوسرے میں دِل، ایک طرف سیاست تھی دوسری طرف محبت، ایک طرف فلسفہ حکمت تو دوسری طرف شعر و ادب اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طرف تلوار تھی اور دوسری طرف قلم۔“

جنگ میں بادشاہ کو شکست بھی ہوتی ہے۔ بادشاہ فاتح بھی ہوتا ہے۔ جنگ بادشاہ کے اشاروں پر لڑی جاتی ہے۔ وہ لندن اور پیرس کی خاک چھان رہا تھا۔ ہندوستان بد ترین غلامی سے دوچار تھا۔ وہ اکثر جہازوں پر گھومتا، ہندوستان کی خبریں پڑھتا اور رنجیدہ ہوتا کہ اسے ہندوستان میں ہونا چاہیے تھا۔ وہ گاندھی نہیں تھا مگر اس کا اپروچ گاندھی سے کم نہیں تھی۔ گاندھی عدم تشدد کو ہتھیار بنا کر انگریزوں کو شکست دینا چاہتے تھے۔ اور وہ اس جنگ میں ہر زبان کے ادیب، کسانوں، مزدوروں، غریبوں کو شامل کرنا چاہتا تھا۔

گاندھی نے آزادی کا نقشہ ساؤتھ افریقہ میں تیار کیا۔ اس نے لندن اور پیرس کی گلیوں میں۔ اس وقت تک وہ خود کو ادبی جنگ کے لئے تیار کر چکا تھا۔ اس کے خزانے میں لندن کی ایک رات جیسا ناول ہے۔ اور بھی بہت کچھ ہے۔ ہمارے نقاد اسی بحث میں الجھے رہے کہ یہ ناول ہے یا ناولٹ۔ ہیمنگوے اگر ہندوستان میں ہوتا اور ساٹھ صفحات پر مشتمل ادب پارہ تخلیق کرتا تو نقاد اس کا جینا مشکل کر دیتے۔ بوڑھے آدمی اور سمندر کی اس قدر پذیرایی ہوئی کہ نوبل انعام سے بھی ہیمنگوے کو نوازا گیا۔ سجاد ظہیر کا ناول اب لوگوں کو یاد بھی نہیں۔ مگر اسے اس جنگ کے لئے، اور اپنی تحریک کی پہلی جنگ کے لئے مضبوط صدر کی ضرورت تھی۔ اور یہاں بھی اسے ایک گاندھی مل گیا۔

کون؟
اس کے جوتے پھٹے ہیں۔ وہ کوئی پیسا نہیں لے گا۔ اپنے خرچ سے آئے گا اور۔
اور کیا؟
وہ ادب میں حسن کی معنویت کو تبدیل کر دے گا۔
یہ پریم چند تھے۔

سکندر اعظم کے تعلق سے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ فیلیس ایک شاندار گھوڑا تھا۔ یہ خالص ”تھیسلی“ (قدیم یونان کا مرکزی علاقہ) نسل کاگھوڑا تھا۔ یہ گھوڑا کسی کے قابو میں نہیں آتا تھا۔ سکندر اعظم کو اس گھوڑے میں دلچسپی تھی۔ اس نے شرط لگائی کہ میں اس گھوڑے پر چڑھنے میں کامیاب ہو جاؤں تو یہ گھوڑا مجھے دے دیا جائے۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ اس نے بہت جلد گھوڑے کو اپنے قابو کر لیا تھا۔ سکندر اعظم نے صرف یہ کیا کہ گھوڑے کا رخ سورج کی طرف کر دیا تا کہ وہ اپنا سایہ بھی نہ دیکھ سکے۔ اور یہی وہ ادا تھی کہ وہ اچک کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ ہندوستان غلام تھا۔ ادب کا شیرازہ بکھرا ہوا تھا۔ سجاد ظہیر نے آفتاب کی روشنی کو پہچانا اور تمام زبانوں میں لکھنے والوں کا رخ ترقی پسند ادب کی طرف کر دیا۔

روم کے فلسفی بوئیتھیس کو تیھوڈارک دے گریٹ نے غداری کے الزامات لگاتے ہوئے جیل میں ڈال دیا تھا۔ سزائے موت سے پہلے بوئیتھیس نے پانچ کتابوں پر مشتمل ’کونسلیشن آف فلاسفی‘ جیسا عظیم ادب تخلیق کیا، جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ مارکو پولو کی جیل کی یادیں بھی مشہور کتاب ہے جو اس کے قیدی ساتھ نے لکھی۔ جان بنیان نے اپنی سوانح عمری قید کے دوران ہی لکھی۔ آسکر وائلڈ نے بھی دو سال جیل میں گزارے۔ اس دوران انہوں نے ’ڈی پروفنڈی‘ لکھا، جو اس کا شاہکار ہے۔ سجاد ظہیر نے جیل میں رہتے ہوئے روشنائی جیسا نادر ادب پارہ ہمیں تحفے میں دیا۔

سجاد ظہیر کی کتاب روشنائی در اصل ترقی پسند تحریک و ادب کا تاثراتی جائزہ ہے۔ یہ کتاب سجاد ظہیر نے قریب قریب حافظے سے لکھی ہے۔ کیونکہ سجاد ظہیر کو جیل میں انجمن کی دستاویزیں میسر نہیں تھیں۔ اور نہ حوالے کے لئے کتابیں ان کے پاس تھیں۔ مخالف حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کا بھی جواب انہیں نے دیانتداری سے قلمبند کیا۔ 1974ء تک یہ تحریک جس نشیب وفراز سے گزری، اس کی مکمل تفصیل اس کتاب سے مل جاتی ہے۔ راول پنڈی سازش کیس میں ماخوذ ہونے پر یہ کتاب پاکستان کی جیلوں میں تحریر کی گئی۔

1931ء میں سجاد ظہیر نے اپنے اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ لندن میں اس تحریک کی بنیاد ڈالی۔ اس تحریک کے ذریعے وہ ہندوستان کے لاکھوں کروڑوں پس ماندہ انسانوں میں ایسا شعور پیدا کرنا چاہتے تھے جو انہیں ہر طرح کی غلامی سے نجات دلانے میں معاون اور مدد گار ثابت ہوں۔ سجاد ظہیر کو یقین تھا کہ ادب کا تعلق عوام اور عوام کی زندگی سے ہونا چاہیے۔ رضیہ سجاد ظہیر ان کی اہلیہ نے اس تحریک میں اپنی زندگی کا بہترین حصہ صرف کیا۔

اس عہد کی مکمل واقفیت کے بغیر سجاد ظہیر کو سمجھنا مشکل ہے۔ سیاست ادب کا بنیادی منتر ہے، جس کے بغیر بلند پایہ ادب کا تصور نہیں جا سکتا۔ اس پہلو سے اگر ترقی پسند تحریک کا جائزہ لیتے ہیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہو جاتا ہے کہ یہ تحریک محض سماجی و معاشرتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لئے نہیں تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں عالمی سطح پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ ایک بارودی دھند تھی جو ہر طرف دیکھنے میں آ رہی تھی۔ ہندوستان پر حکومت برطانیہ مسلط تھی جس کے ظلم و جبر کے پنجوں سے آزاد ہونا ہی ایک راستہ رہ گیا تھا۔ ترقی پسند تحریک نے حساس اور بیدار ادیبوں کا نا صرف قافلہ تیار کیا، بلکہ اردو افسانے کو وہ روشن لکیر دی، جس پر چلتے ہوئے سو برس بعد ہم تجربوں اور رجحانات کی شکل میں کافی دور نکل آئے ہیں۔

سجاد ظہیر ناول لندن کی ایک رات کے آغاز میں لکھتے ہیں۔ اس کا بیشتر حصہ لندن، پیرس اور ہندوستان واپس آتے ہوئے جہاز پر لکھا گیا۔ سجاد ظہیر، وزیر منزل، لکھنؤ، 15 ستمبر 1938ء۔ مارکس نے اشتراکی فلسفہ ونظریات میں ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھاتھا، جہاں امیر اورغریب کے درمیان کوئی فرق نہ ہو۔ جہاں ایک آسمان، ایک چھت کے نیچے انسانی محبت اور اخوت کی تاریخ کومساوات کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سجاد ظہیر کے ناول لندن کی ایک رات میں اس خواب کے کچھ اشارے مل جاتے ہیں۔

اسی ناول میں ترقی پسندی کی وہ زیریں لہریں بھی نظر آتی ہیں، جس کا تعاقب سجاد ظہیر کر رہے تھے۔ مارکس کے فلسفہ حیات اور روسی انقلاب کا اثر ہندوستانی فکر اور ہندوستانی فلموں پر بھی پڑا تھا۔ کچھ زمانہ آگے جائیے تو مشہور فلم اداکار راج کپور کی اس زمانےکی بیشتر بلیک اینڈ وائٹ فلمیں اسی نظریات کے زیر اثر وجود میں آئی تھیں۔

1932ء میں انگارے شایع ہوا۔ اس میں ایک ڈراما اور نو کہانیاں شامل کی گئی تھیں۔ لکھنے والوں کے نام تھے: سجاد ظہیر، محمود ظفر، احمد علی اور رشید جہاں۔ نئے افسانے کے رجحانات کو انگارے نے راستہ دکھایا تھا۔ ا نگارے کے افسانے ضرور کمزور تھے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انگارے وقت کی ضرورت بن کر نازل ہوا تھا۔ انگارے میں سجاد ظہیر کی پانچ کہانیاں شامل تھیں جو اس بات کی شاہد تھیں کہ کہانیوں کے معیار حسن میں تبدیلی آ چکی ہے۔

وقت کا تقاضا کچھ اور ہے۔ یہ ان قلمکاروں کی آواز تھی جنہوں نے پہلی بار یہ احساس کرایا کہ شعر و ادب کے معنی کیا ہیں۔ ادیبوں کی ذمہ داری کیاہے۔ حالات سے فرار کانام ادب نہیں ہے۔ ادب کا تقاضا ہے کہ عالمی سطح پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس پر بھی غور و خوض کیا جائے۔ ظلم، انسانی نفسیات سے سیکس تک ہر موضوع پر کھلے عام باتیں کرنا اس عہد میں ممکن نہیں تھا۔ لیکن بیدار معاشرے نے رسم و رواج کے کہنہ بتوں کو توڑ نے کا اردہ کر لیا تھا۔ عصمت چغتائی نے ان کہانیوں کے بارے میں لکھا۔ آپ نہیں جانتے۔ مگر آپ نے کچھ دروازے کھولے ہیں، کچھ کھڑکیاں توڑی ہیں۔ راستے دکھائے ہیں۔ کیا یہ تخلیق نہیں ہے؟

سجاد ظہیر نہ ہوتے تو ترقی پسند تحریک کی اہمیت اور ضرورت سامنے نہ آتی۔ لندن میں بیٹھے کچھ دوستوں کو بدلتی ہوئی دنیا کا خیال آیا اور ان دوستوں نے کارل مارکس کے فلسفوں کو پڑھ لیا تو ایک ایسی تنظیم بنانے کا خیال آیا، جہاں ترقی پسند خیالات والے مصنفین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا سکے۔ ۔ ہندوستان کے بیشتر دانشوروں اور ادیبوں سے اس وقت سجاد ظہیر کی کوئی ملاقات بھی نہیں تھی، لیکن ان کی تحریک کے مسودے پر اس وقت ہر زبان کے ماہرین اور ادبیوں نے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ حلقہ بڑا ہوتا گیا تو ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس کا خیال آیا۔ اس دور میں جو ذرہ جس جگہ تھا، وہیں آفتاب تھا۔ عبد السلام ندوی، ڈاکٹر محی الدین زور، رشید جہاں، محمود الظفر، فراق، فیض، حسرت موہانی۔ تحریک شروع ہوئی تو جوش و خروش کے ساتھ ادیبوں کا ساتھ بھی ملتا گیا۔ سجاد ظہیر کی کوشش تھی کہ ادیب حضرات ایک دوسرے سے ملیں۔ ایک دوسرے کو جانیں۔ گفتگو کریں۔ مل بیٹھ کر باتیں کرنے سے زندگی کے کئی نقوش ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

ر وس کا عظیم انقلاب 1917ء میں آیا اور وہاں کمیونسٹوں کی حکومت قائم ہوئی۔ روس کی خواہش تھی کہ مارکسی نظام پوری دنیا میں قائم ہو۔ ترقی پسند تحریک اس نظام ہی کی ادبی شکل تھی۔ سجاد ظہیر انقلاب کے پیروکار تھے۔ کمیونسٹ پارٹی ہندوستان میں قائم ہو چکی تھی۔ 1921ء میں کمیونسٹ پارٹی کا جو علانیہ سامنے آیا تھا اس میں کانگریس اور مزدوروں کی باتیں بڑھ چڑھ کی گئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ کانگریس کو کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ مل کر آواز بلند کرنی چاہیے۔ 1933ء میں ہٹلر کی تانا شاہی عروج پر تھی۔ سجاد ظہیر سے اس عہد میں ایسے لوگ روزانہ ملنے لگے جو انہیں فاشزم کے ظلم و ستم کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ممکن ہے ترقی پسند تحریک کی بنیاد اسی دور میں پڑ گئی ہو۔

وہ دور ہندوستانی کی غلامی کادور تھا۔ سلطنت انگلیشیا نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔ ترقی پسند تحریک اس لئے کامیاب رہی کہ اس وقت کے تمام بڑے دانشور اور ادیب ایسے کسی پلیٹ فارم کی اہمیت و افادیت پر غور کر رہے تھے۔ ادیبوں اور دانشوروں کا ایک ہی مذہب ہوتا ہے، حق لکھنا۔ ظلم و ستم کے خلاف لکھنا۔ خوفزدہ نہ ہونا۔ اپنی بات بیباکی سے کہنا۔ لیکن ان حالات میں سچ لکھنا بھی جرم ہو گیا تھا۔ انگریز اپنے خلاف کوئی بھی بات سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ سچ بولنے کے جرم میں بڑے بڑے لیڈر اور صحافی، ادیب جیلوں میں بھیجے جا رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود احتجاج اور بغاوت کی صدائیں چاروں طرف سے بلند ہو رہی تھیں۔

سید سجاد ظہیر 1905ء میں پیدا ہوئے۔ وہ لکھنو یوپی کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور سر وزیر حسن چیف جسٹس کے صاحب زادے تھے۔ انھوں نے آکسفورڈ میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی اور پیرس کے ادیبوں میں سرخوں کے درمیان خاصا وقت گزارا۔ اس طرح وہ سوشلزم اور کمیونزم کی طرف مائل ہو گئے اور مزدوروں کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ اس طرح 1936ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد پڑی اور جلد ہی اس تحریک نے مقبولیت حاصل کر لی۔ سجاد ظہیر اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ اس انجمن کو آگے بڑھانے کے لیے دن رات محنت کرتے رہے، ان کی اہلیہ رضیہ سجاد ظہیر بھی جو افسانہ نگار اور مترجم تھیں اپنے شوہر کے ساتھ سرگرم رہیں۔ انھوں نے گورکی کے مشہور ناول ”ماں“ کا ترجمہ کیا تھا۔

ترقی پسند تحریک نے حسن کے معیار کو تبدیل کیا۔ جاگیردارانہ نظام کے خلاف یک مشت آواز بلند ہوئی۔ ادب کو مقصدیت اور اشتراکی نظریے کے حوالے کیا گیا۔ ادیبوں میں قوت حرارت پیدا ہوئی۔ مشکلات پر فتح پانے کا جذبہ پیدا ہوا۔ ایک ایسا ادب جس میں تفکر اور آزادی اور جس کی روح میں تعمیر کا جذبہ ہو۔ اور جہاں زندگی حقیقتوں کی روشنی سے گلزار ہو۔ اور اسی لئے ترقی پسند تحریک کے مینی فیسٹو میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ اب وہ وقت آ چکا ہے جب ادیبوں کو ایسا ادب قلمبند کرناچاہیے جو سامراجی اقتدار کے خلاف ہو۔ جو غلامی کے ساتھ ہر طرح کے استحصال اور جبر کے خلاف آواز اٹھا سکے۔ جہاں جذبہء آزادی میں انسان دوستی اور حق پرستی کی آواز کی گونج ہو۔

انگارے، پگھلا نیلم، لندن کی ایک رات کا شمار سجاد ظہیر کی اہم کتابوں میں ہوتا ہے۔ پگھلا نیلم کے ذریعے انھیں خاص کیفیت کا اظہر مقصود تھا۔ وہ نئے شعری پیکر کی تخلیق کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں بھی ہیں۔ تراجم بھی ہیں۔ سجاد ظہیر نے اردو ادب کے فروغ میں کار ہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔ ۔ پگھلانیلم شعری مجموعہ ہے۔ ذکر حافظ، فارسی شاعر کو خراج عقیدت ہے۔ اس کے علاوہ اوتھیلو، کینڈیڈ، گورا، (ٹیگور) ، خلیل جبران کے ناول پیغمبر کا اردو میں ترجمہ کیا۔

بقول عصمت۔ کچھ کھڑکیاں توڑیں، کچھ دروازے کھولے۔ اس نے بتایا کہ نئی تحریک شروع کرنے سے پہلے کچھ دروازے توڑنے بھی ہوتے ہیں۔ جدیدیت نے بھی برسوں بعد کچھ کھڑکیاں توڑیں کچھ نئے دروازے پیدا کیے۔ سجاد ظہیر کو آپ بڑا تصور نہ کریں، مگر وہ اپنے وقت کی ضرورت تھا۔

کچھ کھڑکیاں ابھی بھی ٹوٹ رہی ہیں۔ 2020ء میں۔ جنگ وہی ہے۔ 1932ء اور 36ء والی بلکہ زیادہ بھیانک جنگ ہے۔ کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ فسطائیت عروج پر ہے۔ وہ ہوتا تو مزید کھڑکیاں توڑتا، پریم چند اور دیگر زبان کے ادیب دانشوروں کو ساتھ لیتا پھر ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کے شیشے لے کر مجاز سے کہتا۔ ایک پرچم بناؤ۔

اس پر آشوب موسم میں ترقی پسندوں کے بادشاہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply