سعودیوں کو ہماری ضرورت ہے اور رہے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان نے سعودی ایک ارب ڈالر دے کر اور چینی ایک ارب ڈالر لے کر پورے دو فیصد سود بچایا ہے۔ مہنگا قرض واپس کیا ہے اور سستا لے لیا ہے۔ ایک رخ تو اس کہانی کا یہ بھی ہے۔ ادھار تیل کی جو ہمیں سہولت ملی ہوئی تھی اس کی مالیت تین ارب بیس کروڑ ڈالر تھی۔ جو ہم اس سال استعمال کر سکے وہ اسی کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اب یہ سہولت ختم ہو چکی ہے۔ دو سال کے لئے مزید حاصل کی جا سکتی ہے۔

عرب میڈیا پر اس ایشو پر کوئی سٹوری نہیں دکھائی دی۔ ترک میڈیا نے کور کیا ہے، انڈین میڈیا کی بھی ابھی اس طرف خاص توجہ نہیں گئی۔ انڈین نیوز ایجنسی اور ایکسپریس ٹریبیون کو لے کر شنگھائی نیوز نیٹ نے ضرور اک نیم گرم سے سٹوری کی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے جس طرح سعودیوں کو کشمیر پر بہت ادب سے کہتا ہوں کہہ کر سنائی ہیں۔ اس کا ایک ممکنہ فائدہ بھی ہوا۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کا بہت مثبت پیغام گیا ہے کہ دیکھو ہمارے لیے پاکستان سعودیوں تک پر تپ گیا ہے۔

نئے نقشہ پر جس طرح ٹام حسین نے ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ میں سٹوری کی ہے اس کے بعد انڈیا سے بھی اک دکا آوازیں اٹھی ہیں کہ ہم دو طرفہ گھیرے میں آئے لو، اور بچ جاؤ۔

یہ سب ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب افغانستان میں امن کے امکانات بہت ہی روشن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ٹی ٹی پی بہت تیزی کے ساتھ منظم ہوئی ہے پچھلے کچھ دنوں میں کئی گروپ اس میں شامل ہوئے ہیں۔ داعش نے جلال آباد جیل بریک کی ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ تو امکانات ہیں تو خدشات بھی ابھر ڈوب رہے ہیں۔

یورپی امریکی سفارتی پریکٹس ہے کہ وہ مقامی رابطے بہت اچھے بناتے اور رکھتے ہیں۔ جس دن پاکستان میں نیا نقشہ جاری ہوا۔ یورپ میں پہلے امریکہ میں بعد دفاتر کھلے تو پاکستانی سیل فون پر گھنٹیاں بجتی رہیں یہ جاننے کے لیے یہ کیا ہوا کیوں ہوا مقصد کیا ہے۔

یہ سب ظاہر ہے انہیں معلوم ہو گا لیکن وہ لوکل فیل لینا چاہ رہے ہوں گے ۔ فارن آفس سے رٹائر عہدیدار بزرگوں نے فون اٹھانے سے دوڑ ہی لگائی رکھی۔ ہمارے استاد محترم کا تبصرہ یہ تھا ان کم بختوں کو اپنی نوکریوں کی پڑی ہوئی ہے کہ اب پھر انہیں کسی کنٹریکٹ پر کہیں لگایا جائے۔ اس لیے کھل کر نہیں بول رہے کہ ایسا نہ ہو کوئی چانس باقی ہو اور مس ہو جائے۔

بہت ہی اچھا ہوتا اگر یہ سب کرتے ہوئے، ایک بڑی ایکسرسائز کی جاتی اس موقف کا دفاع کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آن بورڈ لے لیا جاتا۔ پالیسی شفٹ آتا دکھائی دے رہا ہے، یہ بتا بتا کر سب کو سب ہی یرکاتے رہتے۔ اس کا دفاع کرنے کے لیے منطق دلیل فراہم کرنے کی کوشش بڑے پیمانے پر نہیں کی گئی، یہ ہو جاتا تو اچھا ہوتا۔

ہمیں دستیاب سفارتی امور کے اک کھوجی کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ میں وہ ماہرین جو ہمارے ریجن پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے جا رہا ہے۔ یہ حل بھی پاکستانی امیدوں مطابق نہیں ہے۔ مان لیا ایسا ہے تو ایسا کوئی حل منوایا کیسے جائے گا پاکستانیوں سے؟

ایسا لگتا نہیں ہے۔ انڈیا نے ابھی ابھی تو چینی چپیڑیں کھائی ہیں۔ ایسے میں کوئی فوری معاہدہ چین یا پاکستان سے ممکن تو دکھائی نہیں دیتا۔

پاکستان سعودی اثر سے کسی حد تک نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ مڈل ایسٹ سے خاص طور پر سعودیہ سے غیر ملکی لیبر کو بڑے پیمانے پر نکالے جانے کا امکان ہے۔ کچھ ملکوں میں یہ ستر فیصد تک کم کی جائے گی۔ ایسے میں ہماری ضرورت اور فوکس بھی تبدیل ہو گا۔ پاکستان نے سعودیہ کے کہنے پر ملائشیا میں کپتان کے کہنے پر بلائی گئی کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ جہاں ہمارا بھولا بھالا کپتان یہ سمجھتا تھا کہ اس نے سعودیوں کی مان کر ان کی بات رکھ کر تعلقات بہترین کر کے ٹچ بٹنوں کی جوڑی بنانے والا کام کیا ہے، وہیں سعودیوں کا خیال تھا کہ اس سائیں لوک کپتان نے انہیں چکر دیا ہے۔

سعودیہ نے کشمیر پر ہمارا ساتھ ویسے نہیں دیا جیسے ہم چاہتے تھے۔ وہیں مہاتیر محمد بھی ہیں جنہوں نے ایسے ساتھ دیا جیسے ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ہمارے حق میں بولے اور پام آئل کے سودوں کی منسوخی کی صورت اس کی قیمت بھی ادا کی۔ ان کا یہ بولنا بھی کپتان کے ہی کھاتے میں گیا۔ جس نے تعریف کی اس کی کی جسے برا لگا وہی لگا۔

اپنے وزیر اعظم کی قدر تو ہم خود نہیں کرتے، باہر کوئی کیا کرے گا لیکن پاکستان سجنوں بیلیوں والا ملک ہے، اک بڑی فوج کا مالک جسے کوئی اگنور کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ جس فوج کو لڑائی کا میدان میں لڑنے کا دہائی سے زیادہ تجربہ ہے۔ یہ تجربہ ویسے تو زیادہ تر ہم نے اپنی ہی سرزمین پر حاصل کیا ہے، اپنے لوگ پھنٹر کیے ہیں، پر چلو کوئی نہیں ہاتھ تو سیدھا ہو گیا، پشتو میں کہتے ہیں کہ پہ جنگ کے مڑی کی گی، جنگ ہو گی تو لوگ مریں گے اور اس میں کیا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں اس سب کے ٹھیک غلط کی بات نہیں ہو رہی۔

اس لمبی لڑائی نے ہمیں دفاعی حوالوں سے بہت خود کفیل کر دیا ہے۔ ہم بہت اپ ڈیٹ ٹیکنالوجی کے مالک ہیں۔ ہمیں اگر مڈل ایسٹ سے امداد ملی تھی تو وہ بھی مالکوں کے کہنے یا چاہنے پر ہی ملی تھی۔

جنگی مہارت کے علاوہ ہماری لچ تلنے کی صلاحیت بھی بے مثال ہے۔ اس لیے ہمیں اگنور کرے کوئی یہ سوچنا بھی نہ۔ امریکہ میں جو بائیڈن صدر بن گیا تو نئی قسم کی رونق لگے گی۔ جو بائیڈن سابق سعودی ولی عہد، سعودی صحافی کے بارے میں اپنے خیالات نہیں چھپاتا نہ ارادے۔ پھر ہماری ضرورت پڑے گی۔ پھر سچا پیار ہو گا۔
تب بدلے بدلے سرکار ہم بھی نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 387 posts and counting.See all posts by wisi