کووڈ انیس سے جیت کر بھی زندگی کی بازی ہارنے والا شیر خوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلپائن میں کووڈ انیس کا شکار ہو کر بچ جانے والا کم عمر ترین شیر خوار اپنے والدین کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوئے ایک اور مرض میں مبتلا ہو کر دم توڑ گیا۔

فلپائن میں کورونا کی وبا کے سبب در بدر ہونے والے ایک جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اپنی پیدائش کے فوری بعد کووڈ انیس میں مبتلا ہوا تھا لیکن اسے بچا لیا گیا تھا۔ اس بچے کے والدین اسے باسکٹ بال کھلاڑی بنانا چاہتے تھے۔ تاہم ایک اور بیماری اس شیر خوار کی موت اور والدین کے خوابوں کے بکھرنے کا سبب بنی۔

نوشی اپنے بیٹے کو اس کے باپ کی طرح باسکٹ بال کا کھلاڑی بنانا چاہتی تھی۔ اس جوڑے نے اپنے بیٹے کا نام امریکا کے مشہور باسکٹ بال کھلاڑی کوبی برائنٹ کے نام پر رکھا تھا۔ اس امریکی کھلاڑی کو باسکٹ بال کی دنیا میں ایک لیجنڈ کی حیثیت حاصل تھی۔

برائنٹ رواں برس جنوری میں لاس اینجلس کے نزدیک ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ تب فلپائن کے اس جوڑے نے سوچا تھا کہ ان کے ہاں اگر لڑکا پیدا ہوا تو اس کا نام کوبی رکھیں گے۔

فلپائن سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بیٹے کی پیدائش کے منتظر، لیکن کورونا وبا کے سبب پریشان حال نوشی اور اس کے شوہر منجارس کو کورونا وبا کے پھیلاؤ نے در بدر کر دیا۔ 19 سالہ نوشی اور 26 سالہ منجارس کو ایک طرف بیٹے کی پیدائش کی انتہا سے زیادہ خوشی تھی تو دوسری جانب منیلا میں ایک تعمیراتی پروجیکٹ کے لیے روزانہ مزدوری کر کے دیہاڑی کمانے والے منجارس کو کورونا کی وبا کے سبب اپنی نوکری سے اس وقت ہاتھ دھونا پڑا جب مارچ کے مہینے میں فلپائن میں ملک گیر سطح پر سخت لاک ڈاؤن نافذ ہوا۔ یہ جوڑا چاہتا تھا کہ بچے کی پیدائش ان کے آبائی گھر میں ہو مگر وہ لاک ڈاؤن کے سبب سفر نہیں کر سکتے تھے۔ اس جوڑے کو طبی مشورہ بھی یہی دیا گیا کہ وہ زچگی کے لیے ہسپتال نہ جائیں بلکہ گھر میں ہی روایتی طور پر بچے کی پیدائش کا بندوبست کریں۔ 12 اپریل کو ایک تعمیراتی علاقے کی ایک کٹیا میں یہ بچہ پیدا ہوا، جس کی 15 ماہ کی ایک چھوٹی سی بہن کرسٹل اپنے بھائی سے کھیلنے کی منتظر تھی۔

منجارس کے مطابق اس بچے کی پیدائش بغیر کسی پیچیدگی کے بہت سہل طریقے سے ہو گئی تھی۔ کوبی کی پیدائش کے بعد چند روز اس فیملی نے اکٹھے اسی کٹیا میں گزارے۔

نو مولود کوبی کے والدین نے محسوس کیا کہ اس کا پیٹ پھولتا جا رہا ہے اور شاید اسے سخت قبض ہے اور اسے بخار بھی تھا۔ بچے کا باپ منجارس اسے فوری طور سے بچوں کے ہسپتال لے کر گیا جہاں اس کا وائرس ٹیسٹ ہوا اور کوبی کے کووڈ انیس ٹیسٹ کا نتیجہ پوزیٹیو آیا۔ کوبی کے والدین کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ ان کے نومولود بچے کو کورونا وائرس کہاں سے لگا۔ دونوں والدین، ان کی بیٹی کرسٹل اور پیدائش کے وقت موجود دائی سب کے ٹیسٹ کے نتائج نیگیٹیو آئے۔ تاہم جب دو ہفتوں کے بعد کوبی کا دوبارہ ٹیسٹ ہوا تو اس کا رزلٹ نیگیٹیو یا منفی تھا اور ڈاکٹروں نے اسے کووڈ انیس فری قرار دیا۔ ساتھ ہی اس کا قبض اور اس کے پیٹ کی سوجن بھی ٹھیک ہو گئی۔

28 اپریل کو کوبی کو نیشنل چلڈرنز ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس روز کی ویڈیو فوٹیج میں کوبی کو اس کے والد کی بانہوں میں دیکھا گیا اور اس کے ارد گرد ہیلتھ ورکرز جمع ہو کر خوشیاں مناتے دکھائی دیے۔ ان کے ہاتھوں میں پوسٹرز تھے، جن پر درج تھا، ”میں نے کووڈ انیس کو مات دے دی“ ۔

کوبی اور اس کے والد کو 14 روز قرنطینہ میں رہنا تھا تاہم منجارس کی خوشیاں اسے 14 روز بعد کی راحت کی طرف کھنچے لیے جا رہی تھیں۔ اس کے بقول، ”تب میں بہت خوش تھا کہ ہم گھر جائیں گے، میری فیملی آخر کار میرے بیٹے کو دیکھے گی، میری سب سے چھوٹی اولاد کو۔“

بڑی مشکلوں سے یہاں تک پہنچنے والے اس خاندان کی خوشیاں بہت تھوڑے وقت کے لیے تھیں۔ قرنطینہ کے خاتمے کے تین روز بعد ہی کوبی کو نیشل ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس کا پیٹ سوجا ہوا تھا، اس کی ماں اس بار اپنے بچے کے ساتھ ہسپتال میں تھی کیونکہ وہ اسے اپنا دودھ پلانا چاہتی تھی۔ منجارس دوبارہ سے قرنطینہ میں چلا گیا اور اس نے اپنے ایک پڑوسی سے موبائل فون ادھار لیا تاکہ اپنے بیٹے اور اس کی ماں کو ویڈیو کال پر دیکھ سکے۔

کوبی کی پائیوپسی رپورٹ سے پتا چلا کہ وہ ایک انتہائی نایاب مرض میں مبتلا ہے جسے ’ہراشپرنگ ڈیزیز‘ کہتے ہیں۔ اس مرض میں بڑی آنتوں میں انتہائی خطرناک انفیکشن ہوجاتا ہے جس کے سبب آنتوں سے ’فضلہ‘ گزر نہیں پاتا اور اس رکاوٹ کے سبب پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔ عموماً اس کا علاج سرجری یا جراحی سے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کوبی کو سرجری کے قابل بنانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم اس کی حالت بگڑتی گئی اور آخر کار وہ 4 جون کو دم توڑ گیا۔ تب وہ دو ماہ کا بھی نہیں تھا۔

نیشنل چلڈرن ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق کوبی کی موت کا سبب ’سیپسس‘ یعنی مدافعتی نظام کی اوور ایکٹیویٹی بنی جو کہ ایک انفیکشن کی وجہ سے جنم لینے والا عمل ہے۔

یہ امر ہنوز واضح نہیں کہ آیا کووڈ انیس اس نوزائیدہ بچے میں پائی جانے والی بیماری کو بڑھاوا دینے کا سبب بنا یا نہیں؟ فلپائن کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 23 جولائی سے اب تک ملک میں نوزائیدہ بچوں میں کووڈ انیس کے 272 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں سے 12 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے سبب منجارس اپنے بیٹے اور اس کی ماں سے ملنے ہسپتال نہ جا سکا۔ کوبی کی موت کو کووڈ انیس سے منسوب نہیں کیا گیا اس لیے اس کی موت کے بعد منجارس اور اس کی بیوی کو دو روز اپنے گھر پر اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ گزارنے کی اجازت دی گئی۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 42 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa