پاکستان کی پہلی سپر سٹار ہیروئین: صبیحہ خانم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اداکارہ اقبال بیگم المعروف بالو اسٹیج ڈراموں میں کام کرتی تھیں اور غیر منقسم ہندوستان کی فلم ”سسی پنوں“ اور بہت سی فلموں میں بھی کام کر چکی تھیں۔ ان کے والدین کا تعلق گجرات ( پاکستان ) کے کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے تھا۔ شومیٔ قسمت کہ ان کی شادی معاشی طور پر ایک کمزور شخص محمد علی ماہیا سے ہو گئی ’بد قسمتی‘ جس کے تعاقب میں تھی۔ یہ اپنی بیگم کے روپے پیسے کے ہوتے ہوئے کام کاج سے انکاری ہو گیا۔

ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام مختار بیگم رکھا گیا۔ بچی نے آگے چل کر پھر صبیحہ خانم کے نام سے اپنی پہچان کروائی۔ صبیحہ خانم پاکستانی فلمی دنیا کی ان اولین اداکاراؤں میں سے ہیں جو پاکستان ہی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے تذکروں میں پیدائش کا سال 16 اکتوبر 1935 اور 1936 بھی ملتا ہے۔ یہ ابھی پانچ چھ سال کی ہی ہوئی ہو گی کہ اس کی ماں کا شوہر اور حالات کی پریشانی کی وجہ سے جوانی میں انتقال ہو گیا۔ کچھ عرصہ بچی کا باپ مرحومہ کے بچے کھچے پیسے سے گزارا کرتا رہا پھر جب مختار بیگم تیرہ سال کی ہوئی تو اس کا باپ اسے بھی اسٹیج اورفلم میں اداکارہ بنوانے کے لئے لاہور کے پھیرے لگانے لگا۔

قدرت دیکھئے کہ مختار بیگم کا قد آڑے آتا رہا۔ ان کے تذکرے میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ محمد علی ماہیا اپنی بیٹی کو صداکار و اداکار سلطان کھوسٹ کی معرفت ریڈیو پاکستان لاہور لے گیا جہاں اس بچی نے مولانا الطاف حسین حالیؔ کی لازوال نظم۔ ”اے ماؤ! بہنو! بیٹیو! دنیا کی عزت تم سے ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ سنائی۔ اور یوں یہ بچی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے سلطان کھوسٹ کی نظروں میں آ گئی۔ فلم تو خیر کوئی نہ ملی البتہ اداکار سلطان کھوسٹ نے اسٹیج ڈراموں کے ہدایتکار نفیس خلیلی سے کہہ سن کر 1949 میں ڈرامہ۔ ”بت شکن“ میں اس کم سن بچی کو کام دلوا دیا۔ نفیس خلیلی نے ہی مختار بیگم کو نیا نام ”صبیحہ خانم“ دیا۔ دکھوں اور پریشانی کے دن رات بسر کرنے والی بچی کے لئے یہ ڈرامہ بہت مبارک ثابت ہوا۔ مختار بیگم سے صبیحہ خانم بننے کے لئے اس بچی نے بہت کٹھن وقت دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے ہی نام نہیں کما لیا۔

روایت کی جاتی ہے کہ اس ڈرامے کو دیکھنے حکیم احمد شجاع اور ان کے بیٹے انور کمال پاشا، سبطین فاضلی اور نامور ا دبی شخصیت سعادت حسن منٹو کے بھانجے مسعود پرویز بھی آئے ہوئے تھے۔ یہ اس زمانے میں نامور اداکار، گلوکار اور موسیقار رفیق غزنوی کی بیٹی شاہینہ غزنوی اور سنتوش کمار کو لے کر فلم ”بیلی“ بنانے کی تیاری میں تھے۔ صبیحہ خانم کے تذکر ہ نگار کہتے ہیں کہ ان کو اپنی فلم میں ایک ثانوی کردار کے لئے لڑکی کی ضرورت تھی یوں یہ قرعہ صبیحہ خانم کے نام نکلا۔

اسی زمانے میں اسٹار پکچرز کے فلمساز آغاغلام محمد اور ہدایتکار شکور قادری نے اپنی فلم ”ہماری بستی“ ( 1950 ) میں صبیحہ خانم کو ایک ثانوی کردار دیا۔ دونوں فلموں کی عکس بندی ایک ہی زمانے میں ہوئی لیکن کیمرے کے سامنے صبیحہ خانم نے پہلی مرتبہ اداکاری فلم ”ہماری بستی“ میں کی۔ مذکورہ فلم میں انہوں نے کورس میں گلوکاری بھی کی۔ فلم کے موسیقار فیروز نظامی تھے۔ لیکن اس فلم کی نمائش سے پہلے صبیحہ کی دوسری فلم ”بیلی“ ( 1950 ) ریلیز ہو گئی۔

اللہ کی قدرت! یہ دونوں فلمیں ناکام ہوئیں لیکن صبیحہ خانم کامیاب رہیں۔ بعد میں ایسی ایک مثال ہمیں اداکارہ شمیم آراء کی بھی ملتی ہے۔ ان کی اولین فلم ”کنواری بیوہ۔“ ( 1956 ) ناکام ہوئی لیکن شمیم آراء نہیں! اس بات کے شاہد آج بھی موجود ہیں کہ شمیم آرا تو بد دل ہو کر فلمی دنیا ہی سے رخصت ہوا چاہتی تھیں وہ تو نگار ویکلی کے الیاس رشیدی صاحب تھے جنہوں نے نہ صرف ان کا حوصلہ بڑھایا بلکہ فلمی دنیا میں قدم جمانے میں بہت مدد بھی کی۔ شمیم آراء نے بھی ساری زندگی یہ بات یاد رکھی اور اپنے چھوٹے بڑے مسئلوں میں الیاس رشیدی صاحب کا مشورہ مانا۔

بہرحال ان ابتدائی دو فلموں کی نمائش کے کچھ ہی ہفتوں بعد فلمساز شیخ لطیف، ہدایتکارانور کمال پاشا اور شریک ہدایتکار مرتضے ٰ جیلانی کی پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم ”دو آنسو“ ( 1950 ) نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ یہ ہی وہ فلم ہے جس سے صبیحہ خانم کا بخت چمکا۔ انہوں نے اس فلم میں اداکار سنتوش کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا۔

پھر تو ان کی آنے والی فلموں نے تلے اوپر کافی کامیابیاں حاصل کیں۔ جیسے فلمساز آغا جی اے گل اور ہدایتکار انور کمال پاشا کی سلور جوبلی فلم ”گمنام“ ( 1954 ) ۔ اس فلم میں سیف الدین سیفؔ کا لکھا ہوا ایک گیت پاکستانی سرحد عبور کرتے ہوئے بھارت میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ آیا: ’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے، تو لاکھ چلی رے گوری تھم تھم کے‘ ۔ اس کے موسیقار ماسٹر عنایت حسین تھے۔ یہ گیت صبیحہ خانم پر فلمایا گیا تھا۔

اس فلم میں صبیحہ خانم نے ایک پگلی کے کردار کو جان لڑا کر ادا کیا۔ پگلی کی مخصوص ہنسی میں حقیقت کا رنگ کیسے بھرا؟ یہ وہ لوگ بتاتے ہیں جو ان کے قریب تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک دو گھٹے اور ایک دو دن کی مشق نہیں بلکہ گھنٹوں اور دنوں پر محیط تھی۔ اکثر وہ نجی محفلوں میں اس فلم کا گیت ”پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ سنایا کرتی تھیں۔ پچا س کی دہائی کے شروع میں یہ اپنے وقت کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ ہو گئیں لیکن بتانے والے بتاتے ہیں کہ غرور اور تکبر ان کو چھو کر بھی نہیں گزرا۔

اس کے بعد ایور ریڈی پکچرز کے فلمساز جے سی آنند اور ہدایتکار داؤود چاند کی پاکستان کی اولین گولڈن جوبلی فلم ”سسی“ ( 1954 ) میں سسی کا مرکزی کردار صبیحہ خانم کے حصے میں آیا۔

اسی طرح ایور نیو پکچرز کے فلمساز آغا جی اے گل اور ہدایتکار ایم ایس ڈار کی ”دلا بھٹی“ پاکستان کی پہلی کھڑکی توڑ فلم ہے۔ اس میں اداکار سدھیر کے مقابل انہوں نے ہیروئن کا رول کیا۔

بے شک اس وقت چند ہی ہیروئنیں تھیں لیکن یہ صبیحہ خانم کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے ملک کی اولین سلور جوبلی، گولڈن جوبلی اور پہلی کھڑکی توڑ فلموں میں وہ ہیروئن تھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صبیحہ خانم کی جان دار اداکاری کے ساتھ ان کی کامیابیوں میں اور بھی عوامل ہیں جیسے : فلمساز کا ضرورت کے وقت پیسہ فراہم کرنا، ہدایتکار کا صحیح ہدایات دینا، دیگر معاون اداکاروں کی محنت، مضبوط کہانی، جان دار مکالمے ا ور منظر نامہ، بہترین گیت اور موسیقی، گلوکاروں کی محنت، اسٹوڈیو اور بیرونی مناظر کی حقیقت سے قریب عکاسی، بہترین سیٹ، ساؤنڈ ریکارڈنگ اور ڈبنگ، اور فلم ایڈیٹنگ وغیرہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً یہ سب مل کر ہی ایک بہترین فلم بناتے ہیں۔

صبیحہ خانم کے فلمی سفر میں ایور ریڈی پکچرز کے فلمساز جے سی آنند اور ہدایتکار منشی دل کی سپر ہٹ میوزیکل فلم ”عشق لیلیٰ“ ( 1957 ) بہت اہم ہے کیوں کہ اس فلم کے گیت اس وقت بھی اور اب بھی تر و تازہ ہیں : ”چاند تکے چھپ چھپ کے اونچی کھجور سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ سلیم رضا اور زبیدہ خانم کی آواز میں صبیحہ اور سنتوش پر فلمایا گیا، ”اک ہلکی ہلکی آہٹ ہے اک ہلکا ہلکا سایہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ اقبال بانو کی آواز میں صبیحہ خانم پر فلمایا گیا، ”لیلیٰ لیلیٰ لیلیٰ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ زبیدہ خانم کی آواز میں صبیحہ پر فلمایا گیا، ”پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ اقبال بانو کی آواز میں صبیحہ پر فلمایا گیا۔ یہ گیت قتیلؔ شفائی نے لکھے اور موسیقار صفدر حسین تھے۔

کریسنٹ فلمز کے فلمساز و ہدایتکار وحید الدین ظہیر الدین احمد المعروف ڈبلو زیڈ احمد کی سپر ہٹ سلور جوبلی فلم ”وعدہ“ ( 1957 ) کے گیت آج بھی مقبول ہیں جیسے : ”بار بار ترسیں مورے نین مورے نیناں۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ شرافت علی خان اور کوثر پروین کی آوازوں میں صبیحہ اور سنتوش پر فلمایا گیا، فلم کے گیت سیف الدین سیفؔ اور طفیل ہوشیارپوری نے لکھے اور موسیقار رشید عطرے تھے۔ روایت کی جاتی ہے کہ مذکورہ فلم کے فلمساز و ہدایتکار ڈبلو زیڈ احمد اپنی یہ فلم صبیحہ اور سنتوش کے ہمراہ نمائش کے لئے جب لندن لے کر گئے تو وہاں بھارتی فلمساز و ہدایتکار محبوب سے بھی ملاقات ہوئی۔ محبوب صاحب نے صبیحہ خانم کو ا یک بھارتی فلم کی پیشکش کی لیکن صبیحہ خانم نے احسن طریقے سے معذرت کر لی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں!

ساؤنڈ اینڈ شیڈ پروڈکشنز کے فلمساز اور موسیقار رشید عطرے اور ہدایتکار قدیر غوری کی سپر ہٹ سلور جوبلی میوزیکل فلم ”موسیقار“ ( 1962 ) کے صبیحہ خانم پر فلمائے گیت اب بھی مقبول ہیں : ”گائے گی دنیا گیت میرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ، ”جا جا میں تو سے نہیں بولوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ، ”رسیلے مورے رسیا نجریا ملا۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ، ”تم جگ جگ جیو مہاراج رے، ہم تیری نگریا میں آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ”یاد کروں تجھے شام سویرے، میرے لبوں پہ گیت ہیں تیرے“ یہ تمام گیت حضرت تنویرؔ نقوی نے لکھے اور آواز میڈم نورجہاں کی تھی۔

سنتوش پروڈکشنز کے فلمساز سنتوش کمار اور ہدایتکار قدیر غوری کی گولڈن جوبلی فلم ”دامن“ ( 1963 ) اپنے وقت کی بہترین فلم مانی گئی۔ اس کی کامیابی میں موسیقار خلیل احمد اور شاعر حمایتؔ علی شاعر کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ اداکار سدھیر کے ساتھ بھی ان کی جوڑی کو فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ جیسے ”سسی“ ( 1954 ) ، کامیاب فلم ”طوفان“ ( 1955 ) ، گولڈن جوبلی ”چھوٹی بیگم“ ( 1956 ) ، ”دلا بھٹی“ ( 1956 ) وغیرہ۔ اداکار یوسف خان کے ساتھ بھی انہوں نے کام کیا جیسے : ”پرواز“ ( 1954 ) وغیرہ۔ اداکار اسلم پرویز کے ساتھ ”آس پاس“ ( 1957 ) وغیرہ۔
صبیحہ خانم نے شروع ہی سے ایک رومانی ہیروئن کے ساتھ ساتھ ہمہ گیر کردار بھی بہت خوبصورتی سے ادا کیے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی کیریکٹر ایکٹنگ بھی بے مثال ہے، جیسے : ”شکوہ“ ، ”کنیز“ ، ”دیور بھابھی“ ، ”انجمن“ وغیرہ

یہ بات کہ سید موسیٰ رضا المعروف سنتوش کمار سے صبیحہ خانم کی شادی ہوئی اور پھر وہ ہنسی خوشی رہنے لگے اتنی سادا بھی نہیں! سنتوش کمار تو پہلے ہی سے شادی شدہ تھے البتہ ان کے چھوٹے بھائی سید عشرت عباس المعروف درپن صبیحہ خانم سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ بڑے بھائی نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم شریفوں کے ہاں کوئی فلمی دنیا سے آئے۔ وہی گیت نگار تسلیمؔ ؔفاضلی والی کہانی ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہرحال کہاں تو درپن کو اس شادی سے منع کیا جا رہا تھا کہاں پھر خود ہی صبیحہ سے 1958 میں شادی کر لی۔ صبیحہ اور سنتوش دونوں نے شادی کے بعد ایک ساتھ اور علیحدہ بھی فلموں میں کام جاری رکھا۔ جون 1982 میں سنتوش کمار انتقال کر گئے۔ صبیحہ خانم نے اداکاری کا سفر جاری رکھا۔

جس طرح وحید مراد کے بال بنانے کا اسٹائل ہر خاص و عام میں مقبول ہو گیا تھا اسی طرح صبیحہ خانم کے بالوں کا انداز بھی قبول عام پا گیا۔ خود میری پھو پھی ( ماشاء اللہ 100 سال کی ہو چکیں ) کہتی ہیں کہ 1950 اور اس کے بعد بھی اس دور کی خواتین صبیحہ خانم کے طرز کے بال بنواتی تھیں۔

انہیں پانچ مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل ہوئے۔ صدر پاکستان نے صبیحہ خانم کو 1986 میں صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا۔ یہ میڈم نورجہاں کے بعد دوسری اداکارہ ہیں جنہیں یہ تمغہ حاصل ہوا۔

ہفت روزہ نگار کے بانی جناب الیاس رشیدی نے 1957 میں نگار ایوارڈ کا اجرا ء کیا۔ جی اے فلمز کے فلمساز، کہانی نویس اور گیت نگار سیف الدین سیف ؔ اور ہدایت کار جعفر ملک کی سلور جوبلی فلم ”سات لاکھ“ ( 1957 ) کو پہلے نگار ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا۔ صبیحہ خانم کو اس سال کی بہترین اداکارہ کا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔ گویا یہ پاکستانی فلمی تاریخ کی پہلی نگار ایوارڈ یافتہ اداکارہ ہوئیں۔ اس فلم میں ان پر فلمائے ہوئے گیت آج بھی تر و تازہ ہیں : جیسے ”گھونگٹ اٹھا لوں کہ گھونگٹ نکالوں، سیاں جی کا کہنا میں مانوں کہ ٹالوں“ ، آواز زبیدہ خانم اور موسیقی رشید عطرے کی۔

کیو آرٹس پروڈکشنز کے فلمساز و ہدایتکار این ای اختر کی فلم ”مسکراہٹ“ ( 1959 ) وہ پہلی پاکستانی فلم ہے جس میں کسی اداکارہ نے ڈبل رول کیا۔ یہ اعزاز بھی صبیحہ خانم کے حصہ میں ہی آیا۔

اسی طرح انہوں نے عزت کارپوریشن لمیٹڈ کے فلمساز و ہدایتکار حسن طارق کی فلم ”شکوہ“ ( 1963 ) اور فلم کمپنی، فلمساز کے پلیٹ فارم سے مشترکہ فلمساز علی سفیان آفاقی ؔ اور حسن طارق، اور ہدایتکار حسن طارق کی گولڈن جوبلی ” کنیز“ ( 1965 ) میں ’ینگ ٹو اولڈ‘ کا کردار کیا۔
وہ گولڈن جوبلی فلم ”دیور بھابھی“ ( 1967 ) کی فلمساز بھی ہیں۔ ان کے شوہر اداکار سنتوش کمار نے بھی دو فلموں کی فلمسازی کی: سلور جوبلی ”مکھڑا“ ( 1958 ) اور گولڈن جوبلی ”دامن“ ( 1963 ) ۔ صبیحہ خانم کی رہلیز شدہ فلموں کی تعداد کم و بیش 200 ہے۔ ان میں 60 پنجابی فلمیں بھی شامل ہیں۔
نجی پروڈکشن کے تحت تیار کردہ ٹی وی ڈرامے ”احساس“ اور ”دشت“ پاکستان ٹیلی وژن سے نشر ہوئے۔ ان میں صبیحہ خانم نے اداکاری کی تھی۔ بڑی اسکرین کے بعد عوام نے انہیں چھوٹی اسکرین پر بھی بہت پسند کیا۔ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ انہیں گلوکاری کا بے حد شوق تھا۔ اس کا اظہار وہ کرتی رہتی تھیں۔ مختلف موقعوں پر مسرورؔ بھائی ہی کا لکھا قومی نغمہ ”سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے“ بھی سنایا۔ اس کے علاوہ مسرورؔ بھائی نے ایک ملی نغمہ خاص طور پر صبیحہ خانم کے لئے بھی لکھا: ”جگ جگ جئیے میرا پیارا وطن۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ ۔

پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے اسی کی دہائی میں ایک پروگرام ”سلور جوبلی“ نشر ہوتا تھا۔ یہ پروگرام پروڈیوسر محسن علی (م) کرتے تھے۔ اس میں صبیحہ خانم بھی آئی تھیں۔ مجھے صبیحہ خانم صاحبہ سے کوئی زیادہ بات چیت کا تو موقع نہیں ملا لیکن اس مختصر لمحات میں ہی، میں ان کی دل پذیر شخصیت کو جان گیا۔ یہ ٹیلی وژن اسٹوڈیو تیار ہو کر آئی تھیں پھر بھی سینئیر میک اپ آرٹسٹ جناب ایم وائی مرزا (م) نے ان کی ’ٹچنگ‘ کی۔ اس وقت وہاں میک اپ آرٹسٹ للی جمیل (م) ، ثمینہ قیصر، ممتاز احمد، عبد الوحید اور شاکر احمد خان بھی موجود تھے۔ میں نے ا س وقت کی یاد تازہ کرتے ہوئے شاکر صاحب سے کل فون پر بات کی۔ ان کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ صبیحہ خانم نہایت حلیم طبع، چھوٹوں سے پیار کرنے والی نہایت ملنسار خاتون تھیں۔

فلمساز، اداکار، ہدایتکار اور تقسیم کار فیروز بھائی ایک عرصے لاہور میں رہے۔ ان کی بیگم، باجی محسنہ میری عزیزہ بھی ہیں۔ صبیحہ خانم سے متعلق ان کا کہنا ہے : ”میں جب بھی ان کے ہاں گئی مجھے وہ ہمیشہ ’گھر‘ لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا گھر جہاں کی مالکن ایک سگھڑ عورت ہو۔ وہ اچھی اداکارہ تو تھیں ہی لیکن اس کے ساتھ ایک کفایت شعار بیوی، بہترین ماں اور گھر بار اور خاندان کو مربوط رکھنے والا مرکزی ستون بھی تھیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ نیا ملنے والا ان کی انکساری سے ضرور متاثر ہوتا تھا۔ جب پہلی مرتبہ میں فیروز کے ساتھ ان کے ہاں گئی تو فیروز نے کہا کہ یہ آپ کی بہت بڑی پرستار ہیں تو وہ بہت خوش ہوئیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد بھی ہمیشہ گرم جوشی سے ملتیں۔ میں نے صبیحہ سنتوش کی جوڑی کو مثالی پایا۔ یوں لگتا تھا گویا یہ ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں“ ۔

صبیحہ خانم نے ایک بھر پور اور خوشگوار زندگی بسر کی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ آمین!

صبیحہ خانم کی کچھ سپر ہٹ فلمیں :

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •