راگ شنکرا اور جنم دن
کل شام بلاوا آیا۔ وہی عجلت، ویسا ہی اصرار۔ ملازم نے کھانا میز پر لاکر رکھا ہی تھا۔ ان کی ضد تھی کہ دیر نہ ہو۔ کھانا چھوڑ دیں۔ پتہ بتاتی تھیں کہ اب کہیں فیز فور میں ادھر ادھر گھومتی گلیوں میں قیام ہے۔ ہم نے پوچھا اتنا اتاولا پن کاہے کو ہے۔ کہنے لگیں میاں کاحکم ہے کہ بڑوں کا پیغام ہے، فوری دینا ہے، بڑی رات ہے۔ باقر خانی بھی خاص طور سے کسی مجلس سے منگوائی ہے۔
ہم نے کہا یہ آپ کا گھر ہمارا ڈرائیور نہیں ڈھونڈ پائے گا۔ اس کم بخت سے دن میں ہماری گلی نہیں تلاش کی جاتی تھی تو رات میں یہ معشوقوں کے آستانے کہاں کھوجے گا۔ یہ Mentally Blind ہے۔
مصر ہوئیں کہ میں خود اس امام بارگاہ کے ساتھ والی گلی کے باہر نکڑ پر دروازے کے ساتھ کیسری (پیلا) کھڑی ہوں گی۔ ایسا ہی ہوا۔
سر سبز و شاداب گھر۔ پرندے اور پام کے درخت کے پتے بتاتے تھے کہ گویا بالی کے جزیرہ میں کسی گرم مصالحے کے تاجر کا گھر ہے۔ لان میں ایک چارپائی، کھیس، ساتھ میں عصا، پائینتی کی طرف جلتی انگاروں سے دہکتی انگیٹھی۔ میز، پستہ خنداں، نمکین بادام۔ ڈبل ایپل بشمول پودینے کے تمباکو والا شیشہ۔ لوبان دان میں سلگنے کو بے تاب بخور۔ بہت سجل، کومل اور دنیا دار ہیں۔ دھواں دھواں سا آنچ دیتا ہوا حسن۔ تبو کی طرح سوچ سوچ کر بولنے کی عادت جو اکثر غلط فیصلے کرنے والوں کی علامت ہے۔ دونوں کی طرف جائزہ مشن والی نگاہ کی تو لگا کہ اداکارہ سوناکشی سنہا کے ساتھ کسی ناہنجار ڈائیریکٹر نے فلم اسٹار راج کمار کو ہیرو کاسٹ کرلیا ہے۔ یہ عورتیں کیا کرتی ہیں۔ کچھ دیر اسی سوچ میں رہے۔ حامد تو بہت باوقار اور عمدہ انسان تھے۔
تعارف میں بتایا گیا کہ بی بی کے میاں ہیں۔ دیکھا تو لگا کہ شکل اور کپڑے لالو کھیت کے مستریوں والے ہیں۔ مصافحے میں جو توانائی اور جھٹکا تھا اس سے ہمارا دھیان خاتون کے حوالے سے کہیں اور چلا گیا۔ آواز اور الفاظ کا شائستہ پن البتہ بالکل افتخار عارف کے جیسا۔ چمٹے سے خود ہی ہمارے لیے شیشے پر انگارے سجائے۔ بخور بھی جلایا۔ بیگم کی جانب سے فرمائش ہوئی کہ وہی ولایت خان صاحب کی راگ شنکرا والی فون کی رنگ ٹون سنائیں
ہم نے کہا وہ سال بھر پرانا روگ تھا۔ اب ہم نے نئے دکھ پال لیے ہیں۔ چھیڑنے کے لیے فلم اومکارا کی بیڑی والے گانے کی رنگ ٹون ہم نے انہیں ڈھولک پر تھاپ سنائی۔ بیگم نے جتایا کہ فلمیں اور ڈرامے بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ دھن سنی تو ارشاد فرمایا کہ مزاج پر جنسیت کا غلبہ ہے۔
بیگم نے وضاحت کی کہ سب سے پہلے آئی ڈی (اقبال دیوان) نے ہی مجھے کہا تھا بپاشا گوری ہوتی تو میرے جیسی لگتی۔
اسی قاتلانہ ٹہرائو سے گویا ہوئے کہ لوگ اور دکھ آپ کے پاس آنکھ مٹکوں کے لیے آتے ہیں۔ آپ کی کج ادائی سے منھ بسور کے چلے جاتے ہیں۔ آج پرواز ہوئی تھی۔ حکم ہوا دے دو۔ اس کا فیض کیوں اپنے پاس رکھا ہے۔
بیگم نے شرما کے سر جھکا دیا تو کہنے لگے‘’ارے جانم تمہیں تھوڑی کہہ رہے ہیں’’’
‘’لو پرواز آرہی ہے۔ ’’
جاؤ اپنے نازک ہاتھوں سے وہ جو تم برطانیہ سے ٹی سیٹ لائی ہو اس میں چائے اور ہاں وہ اخروٹ والا کیک بھی ضرور بنا لانا۔ ملازم سے کوئلے لاتا رہے اور وہ سعودیہ والا بخور تھوڑا اور بھیج دو۔ ہماری میز پر وہ تسبیح ہے وہ بھی لانا۔ اصفہان کا عقیق ہے۔ اس دوران حضرت نے ایک مٹھی بھر کوئی سفوف بھی انگیٹھی میں اچھال دیا۔ رنگین خوشبو دیتا شعلہ بلند ہوا۔
ہم سے پوچھنے لگے کہ ــ’’سیدنا انگشتری نہیں پہنتے؟‘‘
ہم نے کہا بٹوہ، انگوٹھی، فون، گھڑی، کریڈٹ کارڈ اور معشوقائیں ہم سے نہیں سنبھالے جاتے۔
چائے اور دیگر لوازمات آئے تو بتانے لگیں۔ ’’اوپر والوں سے بہت رابطے ہیں، ڈائیریکٹ لنک ہے۔ زمان و مکان کی تو کوئی پابندی ہی نہیں۔ Travels in time , sees beyond matter
ہم نے جسارت کر کے پوچھ لیا کہ’’ آپ دونوں کہاں ملے تھے؟
بیگم نے پیر دباتے ہوئے وضاحت کی کہ میرے سرتاج مجھے بھی کسی مزار پر ملے تھے۔ ملتان کے کسی مزار کا نام لیا مگر ہم احتراماً نہیں بتاتے۔ مزید گویا ہوئیں کہ ایسے پیارے لگے کہ اپنے میاں انجینئر حامد کو میں نے اور شہلا نقوی کو انہوں نے چھوڑا اور ان کی اوڑھنی اوڑھ لی۔
ہم نے چھیڑا۔ حامد بھی مانیکا فیملی کے تھے کیا۔ ہنسنے لگیں ہائو مین۔ ہم نے تنگ کیا کہ آپ نے ہمارا وقت بلاوجہ دوبئی کے مال آف امارات میں ضائع کیا۔ مزاروں پر ہی مل جاتیں
بہت ہنسے۔ فرمانے لگے یہ مذاق کے چھوٹے طوطے خوب پال رکھے ہیں۔ خوشنما چھوٹی چٹکی بھرنے والے۔
منھ دوسر ی طرف کرکے سواری سے بات کرنے لگے۔ مسلسل کپکپاہٹ اور دورے کی کیفیت رہی۔ عربی میں کہا انتظر (توقف)
مہمان کا کہنا ہے کہ صاحب کو حکم دیں کہ اس مزار، اس زیارت پر جائیں۔ کوئی نزدیک دور کے دس مقامات کے نام لے دیے جس میں پارہ چنار کا بھی کوئی مزار شامل تھا۔
ہمارے رخ آئینہ نما کی طرف ان کی نگاہ ناز زمزمہ پیرا ہوئی۔ اس پر غیر آمادگی کے تاثرات کی جھل جھل دیکھی تو کہنے لگیں
آئی ڈی ان کی بات سنیں۔ سواری کے ارشادات کو ہلکا نہ لیں۔ He is psychic. That’s why I am with him.
ہم نے صرف چائے پی۔
ادھر ادھر کی کچھ باتیں کیں۔ سواری سے دوبارہ گفتگو ہوئی تو کہنے لگے رخصت ہونے کو ہیں۔ آپ کے لیے اربیل عراق سے آئے تھے۔ خود تھوڑی آتے ہیں۔ کہہ رہے ہیں ہماری بات نہیں مانتے، اب شام سے کسی کو بھیجیں گے۔ وہ جلالی ہیں۔ خود ہی سیدھا کردیں گے۔ ہم نے کہا حلب، شام میں ہماری دوست کندہ جمیل جزائری رہتی ہے۔ اسے ساتھ ضرور لائیں۔ اس کی کوئی بات ہم نہیں ٹالتے۔
ہم کھڑے ہو کر رخصت ہونے لگے تو کہنے لگے، "کمال ٹائمنگ ہے آپ کی۔ پرواز رخصت ہونے کو ہے۔ دہرایا کہ آپ کے لیے خاص اربیل عراق سے آئے تھے۔ آپ کی جانب سے کچھ مسرور دکھائی نہیں دیتے۔ اگلا وزٹ سخت ہوگا۔ تیار رہیے گا۔”
ہم نے دروازے کے باہر بہت آہستگی سے یہ دیکھ کر کہ ڈرائیور فقیر محمد آف کالا باغ کار اسٹارٹ کر کے دروازہ کھول چکا ہے۔ فقیر محمد آف کالا باغ کا نام اس کے باپ نے نواب امیر محمد آف کالا باغ کی تذلیل کی خاطر رکھا تھا۔ ان سے اس کے خاندان کو نفرت ہے۔ علاقہ ایک ہی ہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسا ساحر لدھیانوی کے باپ نے ان کا نام عبدالحئی اپنے دشمن کو گالیاں دینے کے لیے رکھا تھا۔ عجب لوگ تھے۔ اولاد کا استعمال برائے دشنام دشمناں۔
دونوں میاں بیوی کو بیک وقت گلے لگایا۔ بتایا کہ ہم تو وہابی تکفیری دیوبندی ہیں۔ اپنے فرقے کے علاوہ سب کو گم کردہ راہ سمجھتے ہیں۔ شک میں رہتے ہیں کہ جنت کے دروازے ہمارے سوا ہر دوسرے فرقے پر بند ہیں چاہے کلمہ گو اور توحید کا پرستار کیوں نہ ہو۔
حضرت نے جواب سنا تو کہنے لگے، "کمال ہے ایک لمحے کے لئے ہمیں یا اہل پرواز کو احساس تک نہیں ہوا کہ آپ بھی لائق تعزیر ہیں۔ راندہ درگاہ اور فیض سے کامل محروم ۔ ہمارے معاملات سے قطعی اور مکمل طور لاتعلق۔
ہم نے گاڑی میں بیٹھ کر کہا، "اسے بیگم سے تعلقات کا کمال سمجھیں۔”








