راگ شنکرا اور جنم دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضابطوں سے جدا ہوکر دل توڑنا اور دل جوڑنا ہمارے ایڈیٹر وجاہت مسعود کو ہم سے زیادہ آتا ہے اور ہمیں بہت تھوڑا۔ ہم دونوں سے زیادہ استاد ولایت خان کو آتا تھا۔ دنیائے موسیقی میں تو میر کا درجہ آپ روی شنکر جی کو دیں اور غالب کا استاد ولایت کو۔ ولایت حسین خان کی مینڈھ بہت اچھی ہوتی تھی۔ شعلہ سا لپک جائے والی مگر راگ بہاگ، باگیشری، پیلو، دیش، کیدارا، جے جے ونتی جو ٹھمری انگ کے راگ تھے وہ بہت اچھا بجاتے تھے۔ ہمیں ان کا راگ شنکرا بہت پسند تھا اور وجاہت میاں، جو ہر دوسرے جملے میں ہم سے عمر میں چھوٹے ہونے پر اصرار ہوتے ہیں، انہیں بھیم پلاسی۔

ہم یہ معاملہ یہ بیان کر کے لپیٹ دیتے ہیں کہ پطرس کے بھائی زیڈ اے بخاری اور زرداری صاحب کے سوتیلے نانا زیڈ اے بخاری نے مشہور صوفی عنایت خان صاحب کے صاحبزادے ولایت خان کو کسی دھن کی تیاری کے لیے ایک ماہ کا عرصہ اور دہلی کیندر کے پیچھے علی پور روڈ پر ایک گیراج دے دیا تھا کہ بس ریاض کرنا ہے اور کچھ نہیں۔ اتنا اہتمام ضرور ہوا تھا کہ دیواروں کو سفید چونا لگا دیا گیا تھا۔ ایک ماہ بعد ایسا لگتا تھا کہ گیراج میں مرغیاں ذبح کی گئی ہیں۔ دیواروں پر چار سو خون کے چھینٹے تھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ اٹھائیس برس کے جواں سال ولایت خان کی خون چکاں انگلیوں کے نشان تھے جو ریاض کے دوراں مضروب ہوئی تھیں۔ ولایت خان کی اس ریاض سے لگن کا یہ عالم تھا کہ اندرا گاندھی نے جب انہیں غالباً سنہ 1977 میں فون کیا تو یہ وقت ریاض کا تھا۔ ان کی بیٹی ظلہ نے فون پر جواب دیا کہ بابا ریاض کرتے ہیں کسی اور وقت فون کیجئے گا۔ کسی انٹرویو میں جب یہ معاملہ اٹھا تو حضرت فرمانے لگے ستار سے یارانہ ایک عمر کا ہے وزیر اعظم آتے جاتے رہتے ہیں۔

پدم بھوشن اور پدم شری ایوارڈ اس لیے قبول نہیں کہ ان کا خیال تھا کہ جن لوگوں نے انہیں اس کے لیے چنا وہ موسیقی کا گیان رکھنے والے لوگ نہیں۔ صرف ایک دفعہ جب بھارت کے صدر فخرالدین علی احمد نے انہیں آفتاب ستار کا لقب دیا تو قبول کیا۔

 ہمارے فون میں یوں تو ایک سو کے قریب رنگ ٹونز ہیں مگر ڈی فالٹ رنگ ٹون استاد ولایت خان کے راگ شنکرا کا جھالا ہے۔ جھالا آپ کو بتاتے چلیں شاستری سنگیت میں ستار کے آخری تیز تیز نوٹس ہوتے ہیں۔ سرمستی اور مہارت سے بھرپور۔

کل ہمارا پنُّر (ہندی میں مقدس)جنم دن تھا۔ سال گرہ اس لیے نہیں کہتے کہ گرہیں تو سال ہی میں نہیں ہماری زندگی کے ہر دن میں ہر نئی واردات سے لگتی ہی چلی جاتی ہیں۔

اُن کا مبارک باد کا فون باعث حیرت تھا۔ ہمارا خیال تھا وہ اپنے نئے میاں کی تحویل میں کینیڈا ہیں۔ پتہ چلا آئی ہوئی ہیں۔ کہتی تھیں آؤ۔ بہن کی گاڑی اور ڈرائیور صبح سے آن کر فالتو باہر بیٹھا ہے۔ پتہ ٹیکسٹ کرو، بھیج دیتی ہوں۔ تھوڑی دیر میں خیابان غیر مسلم کے ایک تاریک سے کوچے میں ان کی بھیجی ہوئی کالی پراڈو جھمجھما رہی تھی۔

فون کا سنا تو بیگم کو حیرت ہوئی۔ پوچھنے لگیں کس کا تھا۔ بہانہ بنا کر اپنے ایک پرانے دوست کا نام لے دیا۔ اس دوست کی ہماری طرف شہرت اچھی ہے۔ وہ پاکستان بھر کے مولاناؤں کی ڈارلنگ ہیں۔ رمضان میں مولانا طارق جمیل ٹی وی پر جو رقت آمیز دعائیں مانگتے ہیں تو یہ ایسے بلک بلک کر روتے ہیں جیسے کاروبار میں بڑا نقصان ہوگیا ہو۔ ان کا بیٹا چاند رات سے شراب پینا بند کرتا ہے تو دوستوں کے عشرت کدوں پر عید والی چاند رات پر ساری بوتل گھٹکا جاتا ہے۔ گویا شراب بری نہیں، بلکہ رمضان میں شراب پینا برا ہے۔

 بیرون شہر والے مولوی ہوں تو شہر کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں سال بھر کے لئے مقام کی میزبانی کے مزے لوٹتے ہیں۔ Courtesy Stay کے لیے یہ کمرے مختص رہتے ہیں۔ تجارتی ادارے سیلز پروموشن کی مد میں بڑے قحبہ خانے کھول کر بیٹھے رہتے ہیں۔ مقام زنا کو حرام یعنی برائی کا راستہ سمجھتے ہیں۔ سود جسے اللہ اپنے خلاف جنگ قرار دیتا ہے۔ اسے ہرگز برا نہیں سمجھتے۔ دھڑلے سے کھاتے ہیں۔ وعدے کی پاسداری کا ان کے ہاں ہمیشہ سے فقدان ہے۔ جب تک بینک مارا ماری پر نہ اتر آئے قرضہ نہیں لوٹائیں گے۔ کئی دفعہ تو اپنے ایک مولوی کرم فرما جو ہر وقت حکومت کے دامن سے لپٹے رہتے ہیں ان کی تیس فیصد شراکت داری سے قرضے معاف بھی کرائے ہیں۔

آپ انہیں ناشتے پر مدعو کریں گے تو بمشکل ڈنر کے آخری مہمان بن کر پہنچیں گے۔ اپنی اس عادت تاخیر کا الزام وہ اپنی والدہ محترمہ کو دیتے ہیں جو انہیں وقت پر پیدا نہ کر پائیں۔ بتاتے نہیں کہ حضرت پیٹ میں بھی ٹارزن بن کر چھلانگیں مارتے تھے۔ Umbilical Cord اس وجہ سے گلے میں لپٹ گئی۔ آکسیجن کی کمی سے نیلے پڑ گئے تھے۔ دائی ماہر تھی مگر پھر بھی بہت مشکل ہوئی۔ کم بخت خود ذرا ڈھیٹ تھے، بچ گئے۔ خود ہی بتاتے ہیں کہ نانی نے ابا کی سفارش پر دائی کو اس کارنامے پر ایک عدد سونے کی اشرفی دان کی تھی۔

سونا اس زمانے میں ساٹھ روپے تولہ تھا یعنی سن سنتالیس کے تین سال ادھر ادھر کے ایام میں۔ ہم نے کہا تمہارے ابا کا اس ہندو دائی سے معاشقہ بھی تو چل رہا تھا۔ اپنی تاریخ خاندانی کے درخشاں باب تو چوراہے پر کھڑے رہ کر سناتے ہو۔ فیملی ہسٹری کے کچھ حرام پورشن بھی سنا دیا کرو۔ کہنے لگے ارے نہیں حیدرآباد سندھ میں سامنے محلے میں نیچے کولیوں کی آبادی میں رہتی تھی۔ ابا کو راکھی بھی باندھ رکھی تھی۔ ہم نے کہا جیسا تم دین کے احکامات کا سود کھا کر اور بنکوں کے قرضے گھٹکا کر پاس کرتے ہو۔ ویسے ہی ابا اس مائی مستانی کی راکھی کا وچن نبھاتے ہوں گے۔ کہنے لگے ہم چھوٹے تھے، ابا کے افئیرز کا ہمیں کیا پتہ۔ اپنی آمد کی اس تاخیر کا بدلہ وہ اب دنیا سے لیتے ہیں، بے مروت ایسے کہ وعدے پر نہ پہنچ پانے کے باوجود آپ کو فون یا میسج سے تاخیر کی اطلاع تک نہ دیں گے۔

فیز ٹو کے اس بے لطف علاقے میں پہنچے تو وہ موجود تھیں۔ ہمارے لیے خاص طور پر ڈبل کا مٹھا اور کھڑے مصالحے کا گوشت بنایا۔ دیدہ زیب ہمیشہ سے ہیں۔ لباس میں کوئی خاص اہتمام نہ تھا مگر پھر بھی کالا ململ کا بغیر شمیص بغیر آستین کا کرتا اور ٹیلوپ شلوار میں اچھی لگی تھیں۔ آن کر بیٹھے ہی تھے کہ زمینوں سے کمدار کا فون آگیا ہے۔ ہماری رنگ ٹون پر ستار پر ولائت علی خان کا راگ شنکرا کا الاپ سیٹ ہے۔ بجتا ہے تو وہ بہت تسکین بخش لگتا ہے۔ ہم نے فون کاٹنا چاہا تو کہنے لگیں اٹھاؤ مت۔ بجنے دو بلکہ میرے فون سے اپنے فون پر بار بار فون کرو۔ ہم نے ایسا کیا تو کھڑی ہوئیں اور جنم دن کی خوشی میں فلم دہلی۔ چھ کے مسک علی والے دھیمے دھیمے Steps کیے۔

بہت مدت کے بعد اپنے پیدا ہونے پر پیار آیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 52 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan