دو پاٹن کے بیچ


وہائٹ مارش شاپنگ مال میں ہمارے سٹور کو چلتے اب بہت سے سال بیت گئے ہیں۔ ہم معاشی طور پر کافی مستحکم ہو چکے ہیں۔ علی بھی تعلیم کے میدان میں منزلیں مارتا ماشا اللہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہاہے اور اب تو اس نے سکول کے ایف ایم ریڈیو سٹیشن پر بطور کمپیئر کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اسے میوزک پلے کرتے اور اعتماد سے گفتگو کرتے سن کر ہم بہت خوش ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ امریکہ میں ہر طرح سے اپنی تخلیقی اور تعلیمی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے مواقع حاصل کر رہا ہے اور اسے کسی بھی طرح سے پیچھے نہیں رہنا پڑتا۔ اس کا جو جی چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے اور ماں باپ کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات بھلا کیا ہو سکتی ہے؟

سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ حال ہی میں ایک واقعہ وقوع پزیر ہوا۔ پوری دنیا یہ خبر سن کر دنگ رہ گئی کہ امریکی فوجیوں نے رات کی خاموشی میں چپکے سے ایک خفیہ آپریشن کیا اور ایبٹ آباد میں مقیم اسامہ بن لادن اور اس کے اہلِ خانہ کو ٹارگٹ کر کے مار دیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی میڈیا نے اسامہ، اس کے بیوی بچوں، ملازمین وغیرہ کسی کو بھی ٹی وی پر دکھایا نہ ان کے بیانات سنوائے۔ آج کے میڈیاawareness  دور میں یہ بڑی اچنبھے کی بات ہے۔ آج تو دنیا کے کسی کونے میں کوئی مکھی یا مچھر بھی مر جائے تو کیمرے کی آنکھ اسے فوراً محفوظ کر لیتی ہے اور میڈیا پر نشر کر دیتی ہے۔ امریکہ کا دشمنِ جان مارا جائے اور کیمرہ کچھ بھی نہ دکھائے؟ اس سے شکوک و شبہات اور ابہام تو ضرور پیدا ہوتے ہیں مگر امریکیوں کو تو جاب ویلڈن ہونے کا اطمینان اور سکون چاہئے تھا، لہٰذا وہ اسامہ کی ہلاکت اور سمندر بوس ہونے کی خبر سنتے ہی خوشی سے جھوم اٹھے اور ناچتے ناچتے سڑکوں پر نکل آئے۔ اسامہ کے خاتمے کا رقص مناتے، وہ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے اور جئے امریکہ کی ٹی شرٹس پہنے خوب اِترا رہے تھے۔

علی بھی بہت خوش تھا۔ بار بار کہہ رہا تھا:

’’دیکھا مام ڈیڈ۔۔۔! آخر امریکہ نے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کا خاتمہ کر ہی دیا ناں؟ واٹ اے گریٹ کنٹری۔ امریکہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اب ساری دنیا میں امن چین ہو جائے گا۔ شکر ہے آپ لوگ امریکہ چلے آئے اور میں یہاں پیدا ہوا۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور ٹی وی پہ سی این این کی خبریں دیکھنے لگے۔

اگلا روز امریکیوں کے لئے کرسمس سے بڑھ کر خوشی کا دن تھا۔ ہر طرف سیلی بریشن جاری تھی۔ آفٹر سکول ایکٹی ویٹیز میں اس روز علی کا ایف ایم ریڈیو پروگرام بھی تھا جس پہ علی نے تازہ ترین صورتحال اور خبروں کو موضوع بنایا اور بار بار خوش ہو کر اعلان کیا:

’’we got him‘‘ (ہم نے اسے پکڑ لیا۔ )۔ ایکسائٹمنٹ کے مارے اس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔ اس نے کتنے ہی خوشیوں کے نغمے پلے کئے اور جوکس سنائے۔ پروگرام بہت خوشگوار ماحول میں چلتا رہا ۔ اتنی کالز آئیں کہ ٹیلی فون کی لائنیں جام ہو کر رہ گئیں۔

کوئی امریکی فوجیوں کی شجاعت، کوئی ملٹری سٹریٹیجی، کوئی پاکستانی حکومت کی نالائقی بیان کر رہا تھا اور کوئی کہہ رہا تھا کہ پاکستان ایک جھوٹا ملک ہے، اتنے بڑے دہشت گرد کو چھپا رکھا تھا اور ہم سے امداد بھی بٹور ے جا رہا تھا۔

رات کے کھانے کی میز پر علی ہمیں یہ سب بتا رہا تھا مگر میں اور علی کے ابو کچھ چپ چپ سے تھے۔ ہمیں اس روز پہلی بار احساس ہوا کہ ہمارے گھر میں ایک امریکن رہتا ہے۔ ایسا جس کی سوچ ہماری سوچ سے جدا ہے اور جس کے نظریات انہی حقائق پر مبنی ہیں جنہیں امریکی میڈیا اپنے عوام کو سپون فیڈ کرتا ہے۔ ہم تیسری دنیا کے تارکینِ وطن، ہماری کیا مجال کہ ہم آقائوں کی پالیسیوں، ترجیحات اور حتمی فیصلوں کے آگے کچھ کہہ سکیں۔ ہم دونوں میاں بیوی اپنے آلو گوشت اور چپاتی کو سامنے رکھے اجنبی نظروں سے علی کی طرف دیکھتے رہے اور علی اپنی سٹیک اور بیک پوٹیٹو کی پلیٹ ہاتھ میں لئے خبریں دیکھنے میں مصروف رہا۔

فاکس چینل پہ مشہور ٹاک شو اینکر Greta Van اپنا ٹیڑھا منہ گول گول گھما کر ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کو لعن طعن اور گوروں کو دنیا کی مہذب ترین قوم قرار دے کر اپنے دلائل پیش کر رہی تھی۔ بار بار بُش کی وہ نیوزclipping  بھی دکھائی جا رہی تھیں جس میں اس نے کہا تھا :

’’ہم پاکستان کو پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے وغیرہ وغیرہ‘‘ عجب سرکس لگا ہوا تھا۔

’’مگر امریکہ تو خود دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ تیل اور طاقت کے لئے پوری دنیا پر قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ یہ آج کے دور کی کالونائزیشن ہے۔‘‘ علی کے ابو رہ نہ سکے اور بے قابو ہو کر بولے۔

نوجوان امریکی کے پاس اپنے دلائل تھے۔ میں نے گھبرا کر چینل ہی بدل دیا۔ کسی انڈین چینل پہ ’’مائی نیم از خان‘‘ چل رہی تھی۔

’’توبہ ۔۔۔ اب انٹرٹینمنٹ کی دنیا کے بھی یہی موضوعات ہو گئے ہیں؟‘‘ میں نے اپنے شوہر کی طرف دیکھ کر کہا اور کھانے کی میز سے برتن سمیٹنے لگی۔

’’دنیا بدل چکی ہے۔ اب عشق و محبت کی بجائے دہشت گردی اور عالمی صورتحال کو موضوع بنائے بغیر انٹرٹینمنٹ کی دنیا بھی کامیابی حاصل نہیں کر پاتی۔‘‘ انہوں نے سمجھانے کے انداز میں مجھے جواب دیا۔

اگلے روز میں شاپنگ مال میں اپنے سٹور پہ کام کر رہی تھی کہ حسبِ معمول تین بجے علی مجھے دروازے سے آتا دکھائی دیا۔ وہ خلافِ معمول تیز تیز قدم اٹھاتا چل رہا تھا مگر میں نے اس بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ آتے ہی اس نے حسبِ معمول بیگ ایک کونے میں رکھا مگر نہیں اسے رکھنا نہیں، پھینکا ہی لکھنا زیادہ مناسب ہو گا اور منہ بسور کے بیٹھ گیا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ تم ٹھیک تو ہو بیٹا؟ موڈ کیوں اتنا خراب ہے؟ کھانا کھا لیا تھا؟‘‘ میں نے حسبِ معمول اس سے مائوں والے سوالات شروع کر دیئے۔

’’آپ کو پتہ ہے آج سکول میں کیا ہوا؟‘‘ علی نے نمناک آنکھوں سے روہانسی آواز میں کہا

’’کیا؟‘‘ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسے پوچھا

’’میں جیسے ہی سکول پہنچا۔ سکول کے ساتھیوں نے مجھے کہا، ہمیں مبارکباد دو۔‘‘

’’اچھا؟ وہ کس بات پر؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا

’’کہنے لگے۔۔۔ ہم نے تمہارا باپ پکڑ لیا، اسے مار دیا اور پھر سمندر میں دفنا دیا۔ تم کچھ بھی نہ کر سکے۔ وہ مجھ پر ہنس رہے تھے۔‘‘ وہ غصے سے بولا

’’اوہ۔۔۔‘‘ موقع کی نزاکت سمجھ کر میں خاموش ہو گئی۔ دل پر جیسے ایک گھونسہ پڑا ۔ ’’ہائے میرا بچہ۔۔۔‘‘ میرے لبوں سے نکلا اور میرا دل ڈوبنے لگا۔ مجھے اپنا بچہ بہت معصوم، بے خبر اور بے ضرر سا لگا۔ اسے تو خبر ہی نہیں تھی کہ وہ ان میں سے نہیں ہے جن میں وہ خود کو سمجھتا ہے ۔ اسے تلخ حقیقتوں کا ادراک ہو رہا تھا اور میرا دل ٹوٹ کر پارہ پارہ ہوا جا رہا تھا۔

’’بس بیٹا۔۔۔! اب احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ہم یہاں رہتے ہیں۔ یہ ہماری چوائس تھی کہ ہم یہاں آئیں، رہیں، ان کے نظام اور برتر معیشت میں سے اپنا حصہ ڈھونڈیں۔ ایسے حالات میں ہمیں برداشت کرنا اور خاموش رہنا ہو گا۔‘‘ میں نے ا س کو آغوش میں لیتے ہوئے پیار سے کہا

’’مگر مام۔۔۔! میں تو امریکن بارن ہوں۔ مجھ میں اور ان میں کیا فرق ہے؟‘‘ علی اب بھی لاجک کی بات کرتا چلا جا رہا تھا۔

’’مام۔۔۔! یہ ڈیم امریکن اتنے متعصب، تنگ نظر اور تھڑڈلے ہیں۔ اتنی محدود سوچ ہے ان کی۔ انہیں تو دنیا کی سیاسی، معاشی، جغرافیائی سچوئیشن کا کچھ بھی نہیں پتہ۔ یہ لوگ صرف اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں۔ آخر سب مسلمان تو دہشت گرد نہیں ہوتے۔ ہم امن پسند ہیں۔ کیا امریکہ میرا ملک نہیں ہے؟ مام۔۔۔! آپ لوگوں نے مجھے یہاں کیوں پیدا کیا؟Where do I belong Mom‘‘

علی کے سوالوں نے مجھے ہمیشہ کی طرح لاجواب کر دیا تھا۔

’’نہ میرا رنگ گوروں کی طرح سفید ہے نہ کالوں کی طرح سیاہ۔‘‘ وہ اٹھا اور اپنے چہرے کو سامنے لگے شیشے میں بغور دیکھنے لگا۔

’’میں جا رہا ہوں مام۔‘‘ وہ یکایک اٹھا اور اپنی جیکٹ پہننے لگا۔

’’کہاں؟‘‘ میں نے تجسس سے پوچھا

’’آج میں شاپنگ مال کے سب سٹور والوں کو جو، اب تک میری دوستی کا دم بھرتے تھے، جا کے سنا دوں گا کہ تم امریکن کس قدر متعصب اور مطلب پرست ہو۔ تم لوگ تنگ نظر ہو۔ یہاں میرا کوئی نہیں، میرا کوئی دوست نہیں، و ہ گرینڈ پا بھی جھوٹ موٹ کا نانا دادا بنا ہوا ہے۔ یہ سب لوگ ہم کو تعصب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دشمن سمجھتے ہیں۔ میں آ ج ان کو خوب سنائوں گا مام۔‘‘

’’علی۔۔۔ رکو بیٹا۔۔۔ ایسا مت کرو۔۔۔ علی ۔۔۔ ۔ علی۔۔۔‘‘ میں چیختی رہ گئی مگر میرے آوازیں دینے کے باوجود وہ پیر پٹختا ہوا تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔ امریکن بھلا کہاں کسی کی سنتے ہیں؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2