دو پاٹن کے بیچ


میرے بیٹے علی نے ہمیشہ کی طرح اپنا سکول بیگ شاپ کے ایک کونے میں پٹخا اور سٹول کھینچ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے بھی اپنا معمول کا سوال دہرایا۔

 ’’کھانا کھا لیا تھا؟‘‘

حقیقت یہی ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے کھانے پینے کے بارے میں ہمیشہ متجسس اور فکرمند رہتی ہے۔ چاہے بچہ جتنا مرضی صحت مند اور ہٹا کٹا ہی کیوں نہ ہو؟ اب بچہ رہا بھی نہ ہو مگر اسے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ اس کے بچے نے ٹھیک سے کھایا نہیں ہو گا، بھوکا ہی ہو گا۔

’’ڈونٹ وری مام۔۔۔! میں نے سکول میں لنچ کر لیا تھا اور اچھی طرح خوب پیٹ بھر کے کھایا تھا۔‘‘

علی روز مجھے مسکرا کر یہی جواب دیتا تو میں مطمئن ہو کر اپنی شاپ کے کسٹمرز کو اٹینڈ کرنے میں مصروف ہو جاتی۔ جب تک میں شاپ میں رہتی، علی اس بڑے سے وہائٹ مارش شاپنگ مال میں ہی گھومتا پھرتا رہتا۔ کبھی کبھار اپنا سکول کا ہوم ورک بھی کسی بینچ پر بیٹھ کر ہی مکمل کر لیتا۔ کبھی اس سٹور کبھی اس سٹور گھومتا، سکیورٹی گارڈز سے ہیلو ہائے کرتا، سٹور مالکان اور ملازمین سے گپیں لڑاتا، وقت گزار لیتا تھا۔ سب اس سے بہت مانوس ہو گئے تھے اور اس کی موجودگی کے عادی بھی۔ اگر کبھی ایک آدھ دن وہ ان کی طرف نہ جا پاتا تو سب مجھ سے پوچھنے چلے آتے کہ ’’علی کہا ہے؟ وہ ٹھیک تو ہے؟ نظر کیوں نہیں آ رہا؟‘‘

کوئی کہتا ’’میں نے اس کے لئے چاکلیٹ کیک کا ایک پیس بچایا ہوا ہے۔‘‘

کوئی کہتا:’’ اسے کہنا آ کر فریش لیمونیڈ پی لے۔‘‘ تو کوئی اس کے لئے یونہی کوئی گفٹ چھوڑ جاتا۔

شاپنگ مال سٹورز والے گورے، کالے، چینی، انڈین، پاکستانی، امریکن اب کتنے ہی برسوں سے ہماری فیملی کی طرح بن گئے تھے اور علی سے تو خاص طور پر بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔ علی سکول میں بہت اچھے گریڈز لیتا تھا، جس کی وجہ سے سب بہت خوش ہوتے، اسے تھپکی دیتے اور اس کی کارکردگی کو سراہتے رہتے تھے۔

گوڈائیو چاکلیٹ سٹور پر کام کرنے والا بوڑھا نیلسن تو خاص طور پر علی سے بہت پیار کرتا تھا۔ کبھی کبھی میں اور علی کے ابو اسے ہنس کر کہتے:

’’تم تو علی کے نانا اور دادا کی جگہ لے رہے ہو۔‘‘ تو وہ بڑا خوش ہوتا۔ علی بھی اسے گرینڈ پا کہہ کر بلاتا ۔ مجھے البتہ اپنے دل کی گہرائی میں افسوس کی ایک لہر کروٹ لیتی محسوس ہوتی کہ علی کے نانا اور دادا اس سے اتنی دور تھے۔ وہ اسے یوں بڑھتے، پھلتے پھولتے، زندگی میں آگے کی طرف بڑھتے ہوئے نہ دیکھ سکتے تھے۔ وطن سے دور رہتے والوں کے ساتھ ایسا تو ہوتا ہے۔

ہم لوگ قریباً پندرہ سال سے امریکہ میں رہائش پذیر اور ہر لحاظ سے سیٹ ہیں۔ یہاں کے اچھے نظام اور سکھ چین دیکھ کر کئی بار دل میں حسرت جاگتی ہے کہ کاش ہمارے اپنے پیارے پاکستان میں بھی سب اسی طرف سے زندگی بسر کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ہمارا وطن بھی اتنا ہی پرابلم فری ہو جائے مگر ہمارے حکمران تو ایک کے بعد ایک آتے ہیں، ملک کے وسائل اور دولت، اختیارات کو لوٹے ہیں تو ان سے کسی بہتر نتیجے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

امریکہ میں رہنے والے بچوں کا ایک مسئلہ ہوتا ہے، وہ جھوٹ اور منافقت کے گر سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ ہمارا علی بھی ایسا ہی ہے۔ میں اور اس کے ابو دو تین سال بعد وطن عزیز کا ایک چکر لگاتے ہیں تو وہ بھی ہمراہ ہوتا ہے مگر پاکستان کو زوال پذیر دیکھ کر حیران پریشان ہو جاتا ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ملک آخر ایسا کیوں ہے اور امریکہ کی طرح کیوں نہیں ہے؟ علی سچ کہنے سے بالکل بھی نہیں ڈرتا اور جہاں موقع ملے تنقید شروع کر دیتا ہے۔

ابھی دو سال پہلے ہی کی تو بات ہے۔ ہم لوگ پاکستان گئے ہوئے تھے، رشتہ داروں، دوستوں سے میل ملاقات میں مصروف تھے۔ بڑے بھیا نے جن کا تعقل ایک پرانی سیاسی پارٹی سے ہے، ہمیں اپنے ایک جلسے میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ پارٹی ایک زمانے میں اپنے انقلابی منشور اور متحرک قائدین کی وجہ سے بہت مقبول تھی مگر گزرتے وقت کے ساتھ اس کے لالچی، خود غرض عہدیداروں نے ایسی خباثت بھری کرپشن کی کہ عوام کا ان پر سے اعتماد جاتا رہا۔ الیکشن کے قریب آتے ہی پارٹی پھر برسرِاقتدار رہنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی تھی اور یہ جلسہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ہم سب تو اس پارٹی کی نیک نیتی کے بارے میں کافی مشکوک تھے مگر بھیا کو شاید اب بھی امید تھی جو مسلسل ان بجھے ہوئے چراغوں کے دھوئیں کو روشنی کی پرچھائیں سمجھنے کی خوش فہمی میں گرفتار تھے۔

ان کے جلسے میں خوب زوروشور سے تقریریں ہو رہی تھی۔ پاکستان کو ایک بہتر ملک بنانے کے لئے منصوبے بنائے جا رہے تھے کہ یکدم کسی نے کہا:

’’ینگ بلڈ کو آگے آنا چاہئے۔ نئی جنریشن کی رائے معلوم کرنی چاہئے کہ وہ اس ملک کے لئے کیا اور کیسا سوچتے ہیں؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

چند نوجوان لڑکے سٹیج پر آئے اور پر جوش تقریروں اور جذباتی نعروں سے پنڈال کو گرما دیا۔ یکایک بھیا کو کچھ خیال آیا۔ انہوں نے علی کی طرف دیکھ کر اعلان کیا:

’’اتفاق سے میرا نوجوان اور فیورٹ بھانجاعلی اس وقت یہاں موجود ہے۔ یہ امریکہ میں رہتا ہے مگر آج کل پاکستان کا مہمان ہے اور آخر کیوں نہ ہو بھئی پاکستان میں اس کے باپ دادا کی جڑیں ہیں۔ میں علی کو اظہارِ خیال کی دعوت دیتا ہوں۔ وہ آئے اور ہمیں بتائے کہ آج ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے اور ہمیں کس سمت جانا چاہئے؟‘‘ یہ سنتے ہی علی نے فوراً میری طرف دیکھا، مثبت اشارہ دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور سٹیج پہ جا کے مائیک تھام لیا۔ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے گھاگ سیاستدان اس میدان کے پرانے کھلاڑی مزید چوڑے ہو کر کرسیوں پر پھیلنے لگے۔

’’ہیلو اینڈ السلام علیکم۔۔۔!‘‘ علی نے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے چاروں طرف دیکھا۔

’’ میں ایک امریکن پاکستانی ہوں اور ایری زونا سٹیٹ میں ایک سرکاری سکول میں زیرِ تعلیم ہوں۔ اس کے علاوہ میں اپنی پاکستانی کمیونٹی کی پاکستان ایسوسی ایشن کا بھی اہم رکن ہوں۔ میں نے آپ سب کی تقریریں سنی ہیں اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ آپ سب لوگ منافق اور جھوٹے ہیں۔ آپ صرف اپنے فائدے کی ہی بات کر رہے ہیں۔ ملک کی وسیع تر مفاد سے آپ کو قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

علی کے منہ سے یہ باتیں سنتے ہی مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔ چاروں طرف ایک سناٹا ساچھا گیا۔ ایک لحظے کو تومیں بھی دل ہی دل میں کانپ کے رہ گئی۔

’’یا الٰہی خیر۔۔۔! یہ امریکن بچہ کہیں مزید اول فول نہ بک دے۔‘‘ میں نے گھبرا کر سوچا۔ علی مکمل اعتماد سے بولتا چلا گیا۔

’’ہم امریکہ میں رہتے ہیں، جہاں معاشرے کی بنیاد ہی دیانتداری اور نظم و ضبط پر ہے۔ لوگ اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں جبکہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہاں حکمرانوں کو محض اپنی جھولیاں بھرنے کی پڑی رہتی ہے اور لوگ بھوکے، ننگے، کام چور اور آسانیاں تلاش کرتے والی قوم بن چکے ہیں۔ یہاں قانون کی بالادستی نہیں اور ہر ادارہ زمین بوس ہو چکا ہے۔ آئی ایم سوری مگر آپ لوگوں کو پہلے اصول پرستی، فراخدلی اور تعمیری سوچ اپنانا ہو گی۔ وہاں ہر ایک کو اس کا حق ملتا ہے۔ کوئی کسی کا حق نہیں مارتا۔ فیصلے سفارشوں پہ نہیں، میرٹ پہ ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کو پہلے اپنا ذاتی اور قومی کردار ٹھیک کرنا ہو گا۔ یہ ملک تبھی ترقی کر ے گا اور دنیا کی مہذب قوموں کو شانہ بشانہ چل سکے گا۔ ان خالی خولی تقریروں کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ لوگ تکلیف نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔‘‘

یہ سب کہہ کر علی چپکے سے نپے تلے قدم اٹھاتا سٹیج سے نیچے اتر آیا اور مجمع میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا، میں خوش تھی یا شرمندہ؟ پھر چند ہی لمحوں بعد بھیا نے صورتحال کو سنبھال لیا۔ علی کی کمر تھپتھپاتے ہوئے بولے:

’’یہ نوجوان بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ میں خوش ہوں کہ میرا امریکہ سے آیا ہوا نوجوان بھانجا سچ بولنے کی صلاحیت اور جرأت رکھتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرے ملک کا ہر نوجوان ایسی سوچ اپنائے، تبھی اس ملک کے مقدر کا ستارہ چمکے گا۔‘‘

بھائی جان کی یہ بات سن کر میں نے سکھ کا سانس لیا اور ہولے سے مسکرا دی۔ میں جانتی تھی کہ میرا بیٹا کہتا تو سچ ہے مگر پھر سچ سننے کا حوصلہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں یا حکمرانوں میں ہوتا ہی کہاں ہے؟

’’ڈیئر کزن۔۔۔! شکر کر تجھے ابو کی باتوں نے بچا لیا ورنہ یہاں کوئی ایسی بات کرے تو اسے جوتے اور ٹماٹر پڑتے ہیں۔‘‘

بھائی جان کے ٹین ایج بیٹے ارسلان نے علی کے کندھے کو ہولے سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ میں اور علی کھلکھلا کر ہنس دیئے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2