چین میں شادیاں اور بڑھاپے میں طلاقیں
چین کے پرانے جاگیرداری معاشرہ میں والدین اپنے بچوں کی شادیاں طے کرتے تھے اور اگر کوئی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود کنواری رہتی تھی تو والدین خاص طور پر ماں احساس جرم میں مبتلا ہو جاتی تھی اور جب تک اپنی لڑکی کے لئے بر نہیں ڈھونڈ لیتی تھی، اس کا کھانا پینا حرام ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی اپنے بچوں کی شادیوں کا فیصلہ کرنا والدین کا نا قابل تنسیخ حق سمجھا جاتا تھا اور اکثر وہ اولاد کی مرضی معلوم کیے بغیر من مانے فیصلے بھی کیا کرتے تھے۔
اگر اولاد اپنی من مانی کرتی تھی تو اسے ناخلف قرار دیا جاتا تھا۔ بہر حال آزادی کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور نئے عائلی قوانین میں فریقین کواپنے شریک حیات کے براہ راست انتخاب کی آزادی حاصل ہے اور اب والدین کو اپنے بچوں کی شادی کے فیصلے کا مکمل اختیار نہیں رہا۔ والدین کی اکثریت مشاورتی کردار ادا کرتی ہے گو کہ کچھ دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں ابھی بھی ایسا نہیں ہوتا۔
تا ہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ والدین نے تو نوجوان دلوں کے معاملات میں مداخلت کرنا چھوڑ دی ہے لیکن تین عشرے سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب نوجوان بوڑھوں کی دوسری شادی کی راہ میں روڑے اٹکانے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک خاتون جو چونتیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں، انہوں نے تنہا اپنے پانچ بچوں کو پال پوس کر بڑا کیا اور ان کی شادیاں کیں لیکن جب انہوں نے اپنے بچوں سے کہا کہ اب تپ اپنے اپنے گھر کے ہو گئے ہواور اب مجھے اپنے لئے ایک بوڑھے ساتھی کی تلاش ہے تا کہ ہم زندگی کا آخری راستہ ایک دوسرے کی مددکے ساتھ طے کر سکیں تو ان کا بڑا بیٹا انہیں لعن طعن کرنے لگا کہ انہیں یہ خیال آیا ہی کیسے اور باقی بچوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
اسی طرح ایک رنڈوے صاحب نے جو پچاس کے پیٹے میں تھے جب اپنے بچوں سے کہا کہ وہ دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے بچے ماں کی تصویر کے سامنے دو زانو ہو کر رونے لگے اور کہنے لگے ”پاپا نے بیچاری ماما کو بھلا دیا“ ۔ سب بطوں نے دھمکی دی کہ اگرر نئی ماں گھر میں آئی تو وہ ا س کا بائیکاٹ کریں گے۔ پریشان ہو کر باپ نے دوسری شادی کا خیال چھوڑ دیا۔
بیجنگ میں شادی بیاہ کرانے والی ایک ایجنسی کے مطابق تین عشرے قبل اس کے پاس آنے والے چھ سو سے زیادہ تنہا بوڑھے افراد نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے جوان بچے اس بات کو پسند نہیں کریں گے۔ بچے اپنے رنڈوے والد یا بیوہ ماں کی دوسری شادی پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ کچھ اب تک پرانے جاگیرداری تصورات کا شکار ہیں۔ ان میں سے اکثر کے لئے والدین خاص طور پر ماں کی دوسری شادی باعث بے عزتی اور بے شرمی ہے۔
کچھ جذباتی اسباب کی بنا پر رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ کچھ مادی اسباب کی بنا پر مخالفت کرتے ہیں کہ والدین کی شادی کے بعد انہیں جائیداد میں کم حصہ ملے گا۔ یا گھر میں ایک فرد کے اضافے کے بعد خود ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے لیکن یہ بچے بھول جاتے ہیں کہ جہاں عائلی قانون خود انہیں اپنی مرضی سے شادی کی اجازت دیتا ہے، وہیں یہ آزادی ان کے بزرگوں کو بھی دیتا ہے۔ کیونکہ دونوں چین کے شہری ہونے کے لحاظ سے یکساں حقوق رکھتے ہیں۔ اگر والدین انہیں اپنی مرضی سے شادی کرنے سے نہیں روک سکتے تو وہ اپنے والدین کو کیسے روک سکتے ہیں۔ یہ جذباتی مسائل تو طے ہوتے ہوتے ہی ہوں گے مگر سرکاری طور پر چین میں بوڑھوں کی دوسری شادی کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے۔
جیسے نوجوانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سات سال بعد اپنی ملازمت یا شادی سے بور ہو جاتے ہیں، اسے seven year itch کہا جاتا ہے۔ اسی طرح چین میں بوڑھے لوگ Retirement Itch کا شکار ہونے لگے ہیں۔ پیپلز ڈیلی کے اوورسیز ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد کے دس سال بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ اس عرصے میں بہت سے جوڑوں کی طلاق ہو جاتی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بیجنگ میں طلاق کے جتنے مقدمات چل رہے ہیں، ان میں سے پنتالیس فی صد ساٹھ تا ستر سال کی عمر کے لوگوں کے ہیں۔
اسی طرح شنگھائی میں طلاق کے ایسے مقدمات جن میں ساٹھ سال سے زائد عمر کے لوگ ملوث ہیں، ریٹائرمنٹ کے دس سالوں کے اندر دائر کیے گئے ہیں۔ یہانتک کہ بیجنگ میں دوسری شادی کرنے والے لوگوں میں بھی ریٹائرمنٹ کے بعد طلاق کی شرح زیادہ ہے کیونکہ ان کے درمیان جذباتی بندھن اتنا مضبوط نہیں ہوتا، مالی جھگڑے بھی ہوتے ہیں اور ان کی اولاد بھی ان کی دوسری شادی کے حق میں نہیں ہوتی۔
2014 ء میں بیجنگ میں دوبارہ شادی کرنے والے جوڑوں میں طلاق کی شرح مجموعی کیسز کا ساٹھ فی صدتھی۔ اخباری سروے سے پتا چلا ہے کہ زیادہ تر عورتیں طلاق کے حصول کے لئے عدالتوں میں آتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مالی طور پر خوشحال ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بوڑھے جوڑوں کو ایک دوسرے کی رفاقت کی قدر کرنی چاہیے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد والی زندگی میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کریں اور محبت اور شفقت کے ساتھ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اب دونوں مل کے اپنے وہ شوق پورے کر سکتے ہیں جن کے لئے پہلے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ کمیونٹی اور حکومت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بوڑھوں کی دیکھ بھال کے ادارے بنائے اور ان کے لئے صحتمند سرگرمیوں کا انتظام کرے۔
2019 ء میں جب چینی قانون سازوں نے شادی کی عمر میں کمی کی تجویز پیش کی تو ملک بھر میں اس حوالے سے کنفیوژن بھی پیدا ہوا اور لوگوں کو یہ تجویز مضحکہ خیز بھی لگی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق قومی عوامی کانگرس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کچھ ارکان نے تجویز پیش کی تھی کہ مردوں کی شادی کے لئے بائیس سال اور لڑکیوں کی بیس سال کی عمر کو اٹھارہ سال کر دیا جائے۔ نوجوانوں کا رد عمل تھا کہ اٹھارہ سال کی عمر شادی کے لئے بہت کم ہے۔ اس عمر کے نوجوان کچھ کما بھی نہیں رہے ہوتے تو بیوی بچوں کی ذمہ داری کیسے اٹھائیں گے۔
کرونا کی وبا بھی شادی اور طلاق کی شرح پر اثر انداز ہوئی ہے۔ جنوبی کوانگ دونگ صوبے میں ایک خاتون نے کوئی دو مہینے کرونا کی وبا کی وجہ سے اپنے بے روزگار شوہر کے ساتھ تنہائی میں گزارے۔ دونوں کا روز جھگڑا ہوتا تھا۔ پیسے کی کمی کے علاوہ خاتون کو یہ بھی شکایت تھی کہ شوہر ہر وقت ٹی وی دیکھتا رہتا تھا، گھر کے کاموں اور بچوں کی دیکھ بھال میں ہاتھ نہیں بٹاتا تھا۔ چنانچہ دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں طلاق لے لینی چاہیے۔ حکومت کے سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے عورتوں پر تشدد میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے شہروں میں متعلقہ دفاتر میں طلاق کی درخواستوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ ویسے بھی 2003 ء سے چین میں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ تین عشروں سے چین میں سول مقدمات میں سب سے زیادہ مقدمے طلاق کے لئے دائر کیے گئے ہیں۔ ”تیس تا چالیس فی صد صورتوں میں آغاز معمولی سے جھگڑے سے ہوتا ہے جس کا انجام ذہنی ہم آہنگی کے مکمل فقدان کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان جھگڑوں میں سے پچاس فی صد کا تعلق پیسے سے یا کسی دوسرے شخص کی مداخلت سے یا گھر میں مردانہ یا زنانہ شاونزم سے ہوتا ہے“ ۔ دیگر اسباب میں باہمی ہم آہنگی کا فقدان، بچے کی دیکھ بھال، والدین کی مداخلت، مختلف دلچسپیاں، شکوک، حسد اور ناخوشگوار عائلی تعلقات شامل ہیں۔


