جامعات میں استاد نما گدھ


گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کی پی۔ ایچ۔ ڈی کی ایک طالبہ نے خود کشی کرلی۔ اس خبر پر کئی طرح کی آرا سامنے آئیں۔ کسی نے کہا طالبہ شیزوفرینیا بیماری کے مرض میں مبتلا تھی تو کسی نے بتایاکہ وہ سپروائزر کے رویے سے نالاں تھی۔ طالبہ کی موت کی وجہ جو بھی ہو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے سماج کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں گدھوں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے جو گاہے بہ گاہے اپنے عمل سے اپنے ہونے کا ناقابل تردید ثبوت مہیا کرتے رہتے ہیں۔

اس خبر کو پڑھ کر گہرا رنج وملال بھی ہوا اور اپنا ایک ذاتی تجربہ بھی یاد آیا جس کے اثرات کانٹے کی طرح اپنا اثر دکھاتے رہتے ہیں۔ مجھے یہاں اردو کے ایک اہم ناول نگار عبداللہ حسین کے انٹرویو کی بات یاد آ رہی ہے، جس میں وہ ہمارے معاشرے کی بے حسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں باقی مسائل کو تو چھوڑیں اگرکوئی قتل بھی ہوجاتا ہے یا بے موت مارا جاتا ہے، تو بھی ہمارے سماج میں نہ تو ایسی اموات کے محرکات مع جزیات جاننے کی کوششش کی جاتی ہے اور نہ ہی اگلے دن تک ایسا واقعہ یاد رکھا جاتا ہے۔

میں یہ سوچ کے لکھ رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے میری یہ آپ بیتی نما تحریر پڑھ کر کچھ طلبہ اور طالبات مستقبل میں خود سوزی کے اس دہشت ناک عمل سے نہ صرف بچ جائیں بلکہ آئندہ (کسی حد تک ہی سہی) طلبہ کے والدین ایسے اندوہ ناک حادثات کی کرب ناک اذیت سے محفوظ رہیں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ سن 2011 ءمیں، میں نے لاہور کی ایک نامی گرامی گورنمنٹ سیکٹر کی یونیورسٹی میں، ایم فل اردو میں داخلہ لیا۔ جب میں نے کورس ورک مکمل کر کے اپنا تھیسزڈیپارٹمنٹ میں جمع کروا دیا تو چھ ماہ گزر گئے لیکن میرے زبانی امتحان کے لیے مجھے نہیں بلایا گیا۔ میں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ میرا زبانی امتحان شعبہ اردو کے چئیرمین صاحب نے روکا ہوا ہے۔ موصوف چئیرمین شعبہ بننے سے قبل ہماری کلاس کے تحقیق کے پرچہ کے استاد بھی تھے۔

جو بعد میں پہلے چئیرمین شعبہ کو جنسی ہراسانی کے کیس کی بنا پر اچانک نکالے جانے کی وجہ سے حادثاتی طور صدر شعبہ بن گئے۔ موصوف کی چئیرمین شعبہ بننے کی واحد قابلیت اپنے شعبہ کا سروس کے لحاظ سے سینئرترین استاد ہونے کا اعزاز تھا۔ اضافی قابلیت جو موصوف نے ہمیں کلاس کے دوران (لیکچرکم گپ شپ زیادہ) میں اکثر بتایاکہ وہ پڑھ کر نہیں بلکہ اپنی خصوصی مہارت (خوشامد، تحفے تحائف، سفارش اور رشوت) سے یہاں تک پہنچے ہیں اور مزید ترقی کے زینے بھی اسی طرح طے کرنے کے خواہاں ہیں۔

میرا قصور یہ تھا کہ موصوف جب حادثاتی طور پر صدرشعبہ بن گئے تو میں خوشامد کے لیے نہ تو مبارک باد دینے بر وقت پہنچا اور نہ ہی کوئی تحفہ لے کر ان کے اس کارہائے نمایاں پر انھیں سراہنے کے لیے حاضر ہوا۔ اس بات سے بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے کیسے بونے کیسی کیسی کرسیوں پر براجمان ہیں اور بزعم خود وہ اپنے کو قدآور شخصیات تصور کرتے ہیں۔ بہ قول فیض ”سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد“۔ اس کے علاوہ موصوف کے ذہن میں میرا نام اس لیے بھی اٹکا ہوا تھا کہ میں شعبہ اردو کے دوسرے قابل اساتذہ کے پاس اکثر دیرتک ان کے علم سے استفادہ کرنے کی غرض سے بیٹھا رہتا تھا۔

صدر شعبہ کے نزدیک ان سے قابل تو کوئی نہیں تھا جس سے استفادہ کیا جاتا۔ بہرحال مجھے اپنے طور اس جرم پہ ناز تھا اور میں اس جرم کے حوالے سے مستقبل کے پیش آمدہ خطرات سے بے بہرہ تھا۔ جب مجھے اپنے جرم کا علم ہوا تب تک میں چھے ماہ کا قیمتی وقت گنوا چکا تھا۔ میں نے اپنے شعبے کے بزرگ اساتذہ سے صدر شعبہ کو سفارش کروائی کہ میرا زبانی امتحان، جو چھے ماہ سے تاخیر کا شکار ہے، منعقد کروا کر ڈگری حاصل کرنے دی جائے جس پر موصوف نے یہ جملہ کہتے ہوئے اجازت مرحمت فرمائی کہ ”ہے تو یہ بد تمیز پر چلو معاف کر دیتے ہیں“ ۔

اس طرح میرا زبانی امتحان تو لے لیا گیا لیکن جب مجھے ڈگری ملی تو مجھ پر یہ راز منکشف ہوا کہ مجھے معاف نہیں کیا گیا تھا بلکہ مجھے مزید ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ یہ اذیت مجھے زبانی امتحان میں آدھا نمبر کم دے کر میرا مجموعی گریڈ خراب کر کے دی گئی۔ جب میں اپنا رزلٹ کارڈ لے کر موصوف کے پاس گیا اورمیں نے بہ صد ادب عرض کی کہ ”جناب یہ میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس طرح تو ہائرایجوکیشن کے قوانین کے مطابق پاکستان کی کسی یونیوورسٹی میں مجھے پی۔ایچ۔ ڈی میں داخلہ نہیں مل سکے گا“ تو موصوف کے الفاظ تھے ”میرے دفتر سے دفع ہو جاؤ، تم جیسے بد تمیزطالب علم پر پی۔ ایچ۔ ڈی کے دروازے بند کرنے کے لیے ہی ایسا کیا گیا ہے“ ۔ آپ سوچیں، ایک ایساطالب علم جو ٹاٹ سکول کا پڑھا ہواور جس نے پہلی جماعت سے لے کر ایم فل تک اپنے سان گمان میں بھی استاد کے ساتھ بدتمیزی کا کبھی سوچابھی نہ ہو، اس کی نفسیات پر اس گھٹیا بہتان کا کیا اثر ہوا ہو گا۔ چلیں آپ نہ سوچیں میں آپ کو اس واقعہ کے اپنے ذہن پر اثرات بد کی ایک جھلک دکھا دیتا ہوں کہ اس وقت موصوف گدھ کے دفتر سے نکل کر میں یونیورسٹی کے بینچ پر جا کے بیٹھ گیا۔

میرے اندر غصہ، کرب، پچھتاوے اور اپنی بدقسمتی کے احساس نے ایسا ذہنی دباؤ پیدا کرنا شروع کیاجس سے مجھے لگا کہ میں ایک تاریک غار میں زبردستی دھکیل دیا گیا ہوں۔ مجھے یاد آنے لگا کہ کیسے میں نے اپنے دوستوں سے ادھار لے کر ایم فل کی فیسیں اس امید پر ادا کی تھیں کہ ایک دن میری اچھی نوکری ہو جائے گی اور میں پی ایچ ڈی بھی کرلوں گا۔ مجھے یاد آنے لگا کہ میں نے اس نامی گرامی یونیورسٹی سے سند اعزاز لے کر جینے کے کیسے کیسے سہانے خواب دیکھے تھے جواب مجھے ریزہ ریزہ ہوتے نظر آنے لگے۔

نہ جانے خیالات کی تاریکی میں گم بیٹھے بیٹھے حسرت و یاس کے کتنے جگ بیت گئے اور شام کا دھندلکا چھانے لگا۔ میں کافکا کے افسانوں کے کرداروں کی طرح اپنے دھیان میں گم گزرے زمانوں میں اپنا جرم تلاش کرنے لگا۔ تلاش بسیارکے باوجود جب میں یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ میراجرم کیا ہے جس کی مجھے یہ سزا دی گئی ہے تو مجھے وہ لوگ یاد آنے لگے جن کے بارے میں میں نے پڑھ سن رکھا تھا جو اسی سے ملتی جلتی صورت حال میں انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اس طرح کے گدھوں کو قتل کر کے خودکشی کر لیتے ہیں یا جیل میں پڑے سڑتے رہتے ہیں۔

مجھے ایسے لوگوں کی کم عقلی پر افسوس ہوا۔ میں نے یہاں ایک مہم جویانہ فیصلہ کرتے ہوئے سوچا کہ کیوں نہ اپنے اوپر لگے اس الزام کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ زندگی میں اگر ہم تعین قدر کا معیار حاصل اور لاحاصل کو ترک کرکے کوشش کو بنا لیں تو زندگی کتنی مہم جویانہ اور انسان کتنا ناقابل شکست محسوس ہونے لگتا ہے۔ میں نے اس روز یونیورسٹی کی دھند میں لپٹی شام کو اپنے اندر ایک نیا عہد کر کے خیر باد کہا۔

مجھے 2014 ء میں ایم فل کی ڈگری ملی اور 2015ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میں نے اللہ کے فضل سے آٹھویں پوزیشن کے ساتھ لیکچرار کی نوکری حاصل کر لی۔ اس کے بعد 2017ء میں مجھے پی۔ ایچ ڈی میں بھی داخلہ تو مل گیا لیکن اس کے لیے مجھے لاہور سے بارہا اسلام آباد جانا پڑتا ہے۔ اور کئی بارسفر کی صعوبتوں اور رہائش کی عقوبتوں میں خیال آتا ہے کی اگر یونیورسٹیوں میں گدھ نہ ہوں تو طلبہ اور والدین کے لیے کتنے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن وطن عزیز میں ابھی تک ایساکوئی نظام نہیں جس سے گدھ جاتی کی افزائش کے عمل کو روکا جا سکے۔

Facebook Comments HS