محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


[نومبر 1981 میں جاوید احمد (غامدی) ، ابو شعیب صفدر علی (مرحوم) اور راقم نے الاعلام کے نام سے ایک سلسلہ منشورات کا آغاز کیا۔ ستمبر 1982 کے پانچویں شمارے میں میرا یہ مضمون شائع ہوا جو اس وقت بوجوہ خاصا ہنگامہ آفریں ثابت ہوا۔ اس مضمون کی تصنیف کے محرکات پر بہت رائے زنی ہوئی تھی لیکن حقیقت بس اتنی تھی کہ رسالے کا پیٹ بھرنا مقصود تھا۔ کچھ دوستوں کی فرمائش پر وجاہت مسعود صاحب کی عنایت سے اس کی دوبارہ اشاعت کی جا رہی ہے۔ ان گزرے اڑتیس برسوں میں میرے اپنے افکار و خیالات میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے لیکن تصوف اور وحدت الوجود کے بارے میں میری رائے آج بھی وہی ہے۔ ]

**** ****

محمد حسن عسکری صاحب کی فکر میں جن الفاظ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، وہ ہیں روایت، مابعدالطبیعیات، معرفت، عقل کلی، وغیر ہ۔ عسکری صاحب اگر اپنی دریافتوں کو شعروادب کی تفہیم تک محدود رکھتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا کیونکہ ان کا اصل میدان یہی تھا۔ مگر انہوں نے اپنی حدود کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ایک ایسے دائرے میں قدم رکھا جو ان کا اصل میدان نہ تھا، اور مذہب، تصوف، فلسفہ اور سائنس کے مہمات مسائل پر کچھ اس انداز میں رائے زنی کی ہے کہ ان کے علم، بصیرت، ذہانت اورفہم سب پر شبہ سا ہونے لگتا ہے۔

عسکری صاحب نے چو نکہ دین حق کی صحیح تعبیر و تفسیر کا دعو یٰ کیا ہے اور کچھ لوگ ان کے اس دعویٰ پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے اس دعویٰ کو علم اور دلیل کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھاجائے اور یہ معلوم کیاجائے کہ اس میں حق کتنا ہے اور باطل کتنا۔

عسکری صاحب کے کلیدی تصورات کے تفصیلی دلائل معلوم کرنے کے لیے، جب ان کی کتابوں وقت کی راگنی، اور جدیدیت کی طر ف رجوع کیا جاتا ہے تو بڑی افسوس ناک صورت سامنے آتی ہے۔ ان کی تحریر میں یا دعاوی اور فتاویٰ ہیں یا پھر طعن و تشنیع، طنز، تمسخر اور استہزا۔ اس مضمون میں ہمارا ارادہ ہے کہ ان کے بنیادی تصورات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ بطور خاص ’روایت اور‘ مابعد الطبیعیات ’کا۔

اپنے تصور روایت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”مشرق کی حد تک تو مسئلہ بالکل واضح ہے، مسلمان ہوں یا ہندو، یا بدھ، سب کا اتفاق دو چیزوں پر تو ہے : پہلی بات یہ ہے کہ معاشرتی روایت، ادبی روایت، دینی روایت، یہ الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک بڑی اور واحد روایت ہے جو سب کی بنیاد ہے۔ اور باقی سب چھوٹی روایتیں اسی کا حصہ ہیں اور اسی سے نکلی ہیں۔ اسلامی اصطلاح کے مطابق اس بنیادی روایت کا نام ’دین‘ ہے۔ ثانوی روایتوں میں شامل ہونے کے لیے اس بنیادی روایت میں شامل ہونا لازمی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ بنیادی روایت نکلتی ہے کسی آسمانی یا مقدس کتاب سے۔ پھر اس کی وضاحت کرتے ہیں اس کے مستند نمائندے اور صرف انہیں مستند نمائندوں کا قول قابل استناد ہوتاہے۔ پھر ایک تیسری بات ہے جو ہر زبان میں خود لفظ روایت کے مفہوم کا لازمی جزو ہے۔ یعنی روایت وہ چیز ہے جو ایک آدمی سے دوسرے آدمی تک پہنچائی جائے“ ۔ (1)

اس اقتباس میں چار باتیں قابل غور ہیں :
1۔ اسلام، ہندو مت اور بدھ مت میں بنیادی روایت مشترک ہے۔
2۔ روایت کا سرچشمہ آسمانی یا مقدس کتاب ہے۔
3۔ کتاب کی تفسیر و تشریح کا حق صرف مستند نمائندوں کو ہے۔ انہی کے قول کو سند مانا جاسکتاہے۔
4۔ روایت وہ چیز ہے جوایک آ دمی سے دوسرے آدمی تک پہنچائی جائے۔

میں اس آخری قضیے کا تجزیہ سب سے پہلے کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ عسکری صاحب کے نزدیک زبانی روایت ہی اصلی روایت ہے۔ ’جدیدیت‘ میں لکھتے ہیں :

”صرف اسلام ہی نہیں، مشرق کے سارے ادیان کا انحصار زیادہ تر زبانی روایت پر ہے، لکھی ہوئی کتابوں پر نہیں۔ ہمارے نزدیک کسی دین کے زندہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ روایت شروع سے لے کر آج تک کلی حیثیت سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی چلی آ رہی ہو“ (2)

مشرق میں جو بڑے بڑے مذاہب پیدا ہوئے ہیں، وہ اسلام، یہودیت، عیسائیت، ہندو مت، بدھ مت، تاؤ مذہب، اور زرتشتی مذہب ہیں۔ اب جہاں تک یہودیت کا تعلق ہے عسکری صاحب کو یہ بات معلوم ہی ہو گی کہ حضرت موسیٰؑ کو وحی تحریری صورت میں بھی ملی تھی۔ دین ابراہیمی میں جتنے انبیاء ہوئے ہیں، ان کی وحی کو قرآن نے ’کتاب‘ کا نام دیا ہے۔ اور کتاب تحریری چیز ہی کو کہتے ہیں۔ جہاں تک موجودہ تورات کی تحریری اور زبانی روایت کا تعلق ہے۔

وہ دونوں منقطع ہیں اور کسی روایت کی سند حضرت موسیٰؑ تک نہیں پہنچتی۔ حضرت موسیٰؑ نے اپنی زندگی میں تورات کی بارہ نقلیں کرواکر بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے سپرد کی تھیں اور بنی لادی کو بطور خاص تورات کی حفاظت پر مامور کیا تھا۔ بعد میں بنی لاوی ہی مذہبی پیشوا ئی کے منصب پر فائز ہوئے۔ تورات مٹی کی تختیوں پر لکھی ہوئی ایک مقدس صندوق میں بند تھی۔ حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ تورات سے اس حد تک غافل ہوگئے تھے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس نام کی کوئی کتاب ان کے پاس موجود بھی ہے۔

یہودیہ کے بادشاہ یوسیاہ کے عہد میں جب ہیکل کی مرمت ہوئی تو اتفاق سے سردار کاہن کو ایک جگہ تورات رکھی ہوئی مل گئی اور اسے بادشاہ کے سامنے یوں پیش کیا گیا جیسے ایک عجیب انکشاف ہوا ہو۔ 597 قبل مسیح میں جب بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کر کے ہیکل میں آگ لگا دی تو بقیہ چیزوں کے ساتھ وہ مقدس صندوق بھی جل گیا۔ اس تباہی کے دو اڑھائی سو برس بعد حضرت عزیر نے بنی اسرائیل کے کاہنوں اور لاویوں کے ساتھ مل کر تورات کو دوبارہ مرتب کیا۔

یہاں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہود میں تورات کے حافظ موجود تھے۔ جو لوگ تورات سے اس حد تک غافل ہوں ان کا حفظ کرنا بعید ازقیاس ہے۔ پھر زبانی روایت کا عالم یہ تھا کہ یہود کے یہاں خدا کے لیے جو لفظ تھا وہ اس کے تلفظ سے بھی واقف نہ تھے۔ اور اس طرح انہوں نے خدا کے نام کو ضائع کر دیا تھا۔ آج دنیا میں وہ عبرانی نسخہ بھی موجود نہیں ہے جسے حضرت عزیر نے مرتب کیا تھا بلکہ صرف اس کا یونانی ترجمہ موجود ہے۔ اس اعتبار سے یہود کے یہاں روایت کے تسلسل کا حال بخوبی معلوم ہوجاتا ہے ۔

عیسائیت کا دار و مدار اناجیل اربعہ اور رسولوں کے خطوط اور اعمال پر ہے۔ ان چاروں انجیلوں کے مصنف نہ تو حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں میں سے ہیں اور نہ واقعات کے عینی شاہد۔ ان انجیلوں کازمانہ تصنیف حضرت عیسیٰؑ کے بعد ستر سے ایک سو چالیس سال کا ہے۔ ان میں سے یوحنا کی انجیل تو بطور خاص پال کے زیراثر لکھی گئی ہے۔ خود پال حضرت مسیح ؑ کا حواری نہ تھا۔ بلکہ ان کی زندگی میں ان کا سخت مخالف رہا تھا۔ بعد میں اس نے یہ کہا کہ اسے مسیح ؑ کی تعلیمات کو ان کے ان پڑھ شاگردوں سے معلوم کرنے کی ضرورت نہیں۔

چنانچہ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ اس نے اسے براہ راست مسیح ؑ سے بطریق مکاشفہ اخذ کیا ہے۔ اسی لیے حضرت مسیحؑ کے سچے حواریوں نے پال کو مبتدع اور گمراہ قرار دیا تھا۔ ابتدا میں انجیلوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔ 327 عیسوی میں ایتھاناسیوس ATHANASIUS کے ایک خط کے ذریعے معتبر و مسلم کتابوں کے مجموعہ کا اعلان کیا گیا۔ پھر اس کی توثیق 382 میں پوپ ڈیمیسیس DEMESIUS کی زیر صدارت منعقد ہونے والی ایک مجلس نے کی۔ موجودہ عہد نامہ جدید کا پہلا مستند متن قرطاجنا کی کونسل میں منظور کیا گیا جو 397 ء میں منعقد ہوئی تھی اور یہ تمام تر فیصلے پولوسی عقائد کی بنا پر کیے گئے کیونکہ اس وقت تک تثلیت کو مسیحیت کا سرکاری عقیدہ قرار دیاجاچکا تھا۔ (3)

زرتشتی مذہب کے ماننے والے اوستاتیر کو اپنی مقدس کتاب قرار دیتے ہیں محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ایک جعلی کتاب ہے اوراس کا زرتشت سے کوئی تعلق نہیں۔ (4)

چین میں تاؤمذہب کے ماننے والے بھی ایک مذہبی صحیفہ تاؤتی چنگ کو لاؤتزے سے منسوب کرتے ہیں۔ اول تو لاؤتزے کی شخصیت ہی مشتبہ ہے کہ آیا کہ وہ کوئی تاریخی شخص تھا یا محض ایک اساطیری کردار۔ اگر اس کی شخصیت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو چینی مذہب کے ماہرین اس با ت پر متفق ہیں کہ مذکورہ بالا صحیفہ اس کے بہت بعد کی تصنیف ہے۔ (5)

جہاں تک ہندو مت کا تعلق ہے تو اس کی قدیم ترین کتابیں وید ہیں۔ ویدوں کے زمانہ تصنیف کے بارے میں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ پھر ان کے مصنفین کے نام بھی کسی کو معلوم نہیں۔ ویاس کہ جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس نے ویدوں کو مرتب کیا، خود ایک اساطیری شخصیت ہے جس کا شاید کوئی وجود نہیں تھا۔ یہی حال اپنشدوں اور براہمنوں کا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بیان کرنا ممکن ہی نہیں کہ ان کے مصنف کون لوگ تھے، ان کا زمانہ کون سا تھا، اگر یہ کتابیں الہامی ہیں تو وہ کون سے پیغمبر تھے جن پر نازل ہوئیں۔

یہی حال بدھ مذہب کا ہے۔ بدھ مذہب کے جتنے بھی گروہ ہیں وہ سب اپنی روایت کو مہاتما بدھ تک پہنچانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی روایت کا بدھ پہنچنا بالکل مشکوک ہے۔ فی الاصل آج یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ بدھ کی اصل تعلیمات فی الواقع کیا تھیں اور بعد میں ان میں کیا تغیرو تبدل ہوا ہے۔

مسلمانوں نے حدیث میں اسماء الرجال جیسا عظیم الشان علم تخلیق کیا، جس پر وہ بجا طور پر فخرکر سکتے ہیں۔ ایسا کوئی علم کسی دوسرے مذہب کے پاس موجود نہیں ہے جس میں روایت کا سلسلہ متصلاً زمانۂ نزول تک پہنچتا ہو۔ نراد سی چودھری نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اسلام کے علاوہ دنیامیں جتنے بھی مذاہب موجود ہیں وہ اپنی اصل اور ابتدائی صورت سے بہت مختلف ہیں۔ (6)

اب اگر عسکری صاحب کی اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ دین کے زندہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ روایت شروع سے لے کر آج تک سینہ بہ سینہ کلی حیثیت سے منتقل ہوتی چلی آ رہی ہو تو اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب زندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس طرح عسکری صاحب کا وحدت ادیان کا تمام فلسفہ ان کے اپنے بتائے ہوئے اصول کی بنیاد پر ہی رد ہوجاتا ہے ۔

جہاں تک اسلام کے بارے میں ان کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ اس کا انحصار زبانی روایت پر ہے تو یہ دعویٰ عجیب ہی نہیں مضحکہ خیز بھی ہے۔ اس بات پر ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین ہے۔ جس کے لیے اس نے حضرت محمد ﷺ کو اپنا رسول اور نبی مقرر کیا۔ وحی الٰہی من وعن قرآن کے ’بین الدفتین‘ محفوظ ہے اور ہر قسم کے تغیر سے مامون ومصؤن ہے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ رب العزت نے لیا ہے۔

قرآن حکیم عہد رسالت مآب سے مسلمانوں کے پاس تحریری صورت میں موجود ہے۔ خود عسکری صاحب نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ مگر زبانی روایت کی فوقیت ثابت کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ سند قرات کے راویوں سے لی جاتی ہے۔ (7) اب یہ بات صحیح ہے امت مسلمہ نے قرآن کو زبانی طور پر بھی محفوظ رکھا ہے۔ مگر کوئی ایسی قرات خواہ وہ کتنے ہی بلند سلسلہ ٔ سند سے کیوں نہ روایت ہوئی ہو، اس وقت تک قبول نہیں کی جائے گی جب تک (1) وہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق نہ ہو۔

(2) اور مصحف عثمانی کے رسم الخط اور تحریر کے مطابق نہ ہو۔ اب زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام نے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے دوہرا طریقہ اختیار کیا ہے۔ زبانی روایت اور تحریر سے اس کی تصدیق؛ تحریر اور زبانی روایت سے اس کی تصدیق۔ تحریری اور زبانی روایت سے قطع نظر قرآن کے ہر قسم کی تحریف سے محفوظ رہنے کا اصل سبب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کی ہے۔ زمانۂ نزول میں قرآن کی کتابت اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنے اس احسان کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ اس نے انسان کو قلم کے ذریعے تعلیم دی۔ اور اس قلم کو جس سے قرآن حکیم لکھا جا رہا تھا قرآن کی حقانیت پر گواہ ٹھہرایا ہے۔

ان معروضات سے عسکری صاحب کی زبانی روایت کی فوقیت کے نظریے کی حقیقت بخوبی معلوم ہوجاتی ہے۔ عسکری صاحب نے مذہب کے تین اجزاء گنوائے ہیں۔ عقائد، عبادات، اخلاقیات (8) ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کون سا جز زبانی روایت پر منحصر ہے۔ عقائد اپنی پوری شرح و بسط کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ لوگوں کو کسی ایسی بات کے تسلیم کرنے کا مکلف قرار دے جس پر ایما ن لانے کا حکم قرآن نے نہ دیا ہو۔

عبادات بھی مشروع ہیں، اصولی طور پر ان کا ذکر بھی قرآن حکیم میں موجود ہے۔ جہاں تک ہیٔت کا تعلق ہے وہ رسول ﷺ نے اپنے عمل سے متعین فرما دی ہے۔ یوں عبادات اپنی ہیٔت کے پہلو سے زبانی روایت پر نہیں بلکہ امت کے عملی تواتر پر مبنی ہیں۔ اخلاقیات کے دوحصے ہیں ایک وہ اصول جو خد ا اور بندے کے تعلق کو بیان کرتے ہیں، جنہیں تزکیۂ نفس کے اصول بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ اصول جو افراد کے باہمی معاملات سے متعلق ہیں، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ یہ دونوں ہی قرآن حکیم میں پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ یوں عقائد، عبادات اور اخلاقیات میں سے کوئی جز بھی زبانی روایت پر منحصر نہیں۔ البتہ بعض اصولوں کی توضیحات احادیث میں ضرور ملتی ہیں۔

عسکری صاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ تصوف کے نظریات اور اشغال کو زبانی روایت کی بنا پر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں تصوف دین کی حقیقی روح کا حامل ہے اگر ان کے اس دعویٰ کو تسلیم کر لی جائے تو خود صوفیاء کا زبانی روایت کے بارے میں نقطۂ نظر، علم حدیث کی روایت میں ان کا مقام اور محدثین کی صوفیوں پر جرح و نقد اس مفروضے کی تغلیط کے لیے کافی ہیں۔

صوفی کے علم کی بنیاد زبانی روایت پر نہیں بلکہ کشف اور وجدان پر ہے، اس لیے صوفیاء نے علم روایت کو اپنے علم لدنی کے مقابلے پر ہمیشہ حقیر خیال کیا ہے۔ شیخ ابواسماعیل ہروی نے اپنی مشہور کتاب منازل السائرین میں علم کے تین درجے گنوائے ہیں : علم بدیہی، علم خفی، علم لدنی۔ ان کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں :

(1) ”بدیہی علم وہ ہے جو انسان کے حس و مشاہدہ میں آتا ہو، یا جس کی بنیاد قابل اعتماد نقل و روایت پر ہو، یا جو سابق تجربات کی صحت پر مبنی ہو۔“

(2) ”علم خفی وہ ہے جو پاکیزہ جسموں کی پاکیزہ روحوں کے اندر نشوونما پاتا ہے، جو بے ریا ریاضت کے پانی سے سیرابی حاصل کرتا ہے، جو بلند ہمت اشخاص کے انفاس صادقہ کے اندر خلوت کے اوقات اور دنیا کے ہنگاموں سے نا آشنا کانوں میں ظاہر ہوتا ہے، یہ علم غیب کو حاضر اور حاضر کو غیب کردیتا ہے اور مقام جمع کی طرف رہبری کرتا ہے۔“

(3) ”علم لدنی وہ علم ہے جس کا وجود ہی اس کی سند ہے، جس کا ادراک ہی اس کا مشاہدہ ہے، جس کا حکم ہی اس کی تعریف ہے۔ اس کے اور غیب کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں۔“ (9)

اس سے یہ ثابت ہو جاتی ہے کہ صوفیاء کے نزدیک اس علم کی کیاحیثیت ہے جو قابل اعتماد نقل وروایت پر مبنی ہو۔ خود ابن عربی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اس ماخذ سے لیتا ہے جہاں سے رسول علیہ السلام حاصل کیاکرتے تھے۔ (10) کسی صوفی نے ترنگ میں آکر یہ کہا تھا کہ فلاں شخص محمد ﷺ کے طفیل اس مرتبہ پر پہنچا اور میں نے بلاواسطہ سب کچھ پایا۔ ”(11) ملا شاہ سے منسوب یہ شعر اکثر لوگوں کی نظر سے گزراہوگا اور میں اسے نقل کفر کفر نہ باشد، سمجھ کرہی لکھ رہا ہوں

پنجہ در پنجۂ خدا دارم
من چہ پروائے مصطفے ٰ دارم

اپنے کشف اور وجدان کو برتر اور معتبر جاننے کی وجہ سے صوفیاء نے علم حدیث کے پڑھنے پڑھانے سے بیزاری کا اظہارکیا ہے۔ ایک مجلس میں بایزید بسطامی سے کہا گیا کہ فلاں شخص فلاں کو ملا، اس سے علم حاصل کیا اور بہت کچھ تحریر کیا، تو بایزید بسطامی نے فرمایا ”ان بے چاروں نے مردہ علم مردوں سے حاصل کیا ہے۔ ہم نے اس ذات سے تحصیل علم کی جو زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔“ ایک صوفی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ عبدالرزاق سے حدیث سننے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا ”جو خدا سے براہ راست استفادہ کرتا ہو وہ عبدالرزاق کو کیا کرے گا۔“ ایک اور صوفی کا قول ہے ”جب کسی صوفی کو حدثنا اخبرنا، میں مشغول دیکھو تو اسے خیر باد کہہ دو۔“ شبلی کا ایک شعر ہے :

اذا خاطبونی بعلم الورق
برزت علیھم بعلم الخرق
ٌ ﷺ ”جب مجھے ورقہ کے علم سے خطاب کرتے ہیں تو میں ان پر خرقہ کا علم پیش کرتا ہوں۔“ (12)

صوفیاء نے اپنے موقف کوثابت کرنے کے لیے اگرچہ احادیث کا سہارا بھی لیا ہے، مگر ان کی بیان کردہ احادیث زیادہ تر ضعیف اور موضوع ہیں۔ محدثین نے جرح ونقد کے بعد ان احادیث کو قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ مگر تصوف کی امہات کتب ایسی ضعیف اور موضوع روایات سے بھری پڑی ہیں۔ ایسی ہی ایک روایت ہے جس سے صوفیاء نے اپنے علم باطن کے حق میں استشہاد کیا ہے، حضور ﷺ کا قول حضرت علیؓ کی روایت سے نقل کرتے ہیں۔ ”علم باطن خدا کے اسرار میں سے ایک سر ہے، اور اس کے احکام میں سے ایک حکم ہے۔ جسے اولیاء میں سے جس کے دل میں چاہتے ہیں ڈالتے ہیں۔“ محدث ابن جوزی اس حدیث پر نقد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ قطعی بے بنیاد ہے اور اس کی سند میں چند مجہول راوی ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کون ہیں۔ (13) صوفیاء و صالحین کی علم حدیث میں اس کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمے میں لکھا ہے کہ:

عن محمد ابن یحییٰ بن سعید القطان عن ابیہ قال لم نر الصالحین فی شییءٍ اکذب منھم فی الحدیث، قال ابن عتاب فلقیت انا محمد بن یحییٰ فسالتہ عنہ فقال عن ابیہ لم نراہل الخیر فی شییءٍ اکذب منھم فی الحدیث قال مسلم یقول : یجری الکذب علی لسانھم ولا یتعمدون الکذب۔

(محمد ابن یحییٰ سعید القطان اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔ کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے صالحین یعنی صوفیاء کو سب سے بڑھ کر حدیث کے معاملہ میں جھوٹا پایا ہے۔ ابن عتاب کہتے ہیں کہ میں محمد بن یحییٰ سے ملا تو میں نے ان سے اسی مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اپنے والد محترم کا یہ قول بیان کیا کہ ہم نے اہل خیر یعنی صوفیاء کو حدیث کے معاملہ سے بڑھ کر کسی معاملہ میں جھوٹا نہیں دیکھا۔ امام مسلم کہتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ جھوٹ ان کی زبانوں پر بے تکلف جاری رہتا ہے۔)

اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تحریری اور زبانی روایت میں سے کسی کو فوقیت حاصل ہے۔ روایت تحریری ہویا زبانی اسے قرآن پر لو ٹایا جائے گا۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور تمام علم اولین و آخرین کے لیے کسوٹی ہے۔ وہ ہر شے پر حاکم ہے مگر کوئی شے اس پر حاکم نہیں۔ کسی بڑے سے بڑے امام کا قول، کسی صوفی کا وجد اور کشف اس وقت تک نا قابل قبول ہیں جب تک ان کی تائید میں قرآن سے ثبوت پیش نہ کیا جائے۔ ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

” علم باطنی ہو یا ظاہری، شریعت ہو یا طریقت، ان کو کتاب و سنت کی کسوٹی پر رکھا جائے گا۔ مشائخ وفقراء، ملوک وامراء، اور قضاۃ وعلماء علوم کے لیے معیار نہیں ہیں، بلکہ جملہ مخلوقات پر خدا اور رسول کی اطاعت فرض ہے۔“ (14)

یہ تمام تر شواہد محض اس مقصد سے پیش کیے گئے ہیں تاکہ عسکری صاحب کے اس دعوے کی حقیقت معلوم ہو سکے کہ اسلام کا انحصار زبانی روایت پر ہے۔

اس کے ساتھ میں عسکری صاحب کی اس بات کو لیتا ہوں کہ روایت کا سرچشمہ آسمانی یا مقدس کتاب ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ زبانی روایت پر اتنا اصرار کرنے کے بعد انہوں نے کتاب کو روایت کاماخذ کیوں قرار دیا۔ اور اس طرح اپنے ہی دعویٰ کو باطل کر دیا۔ مگر مجھے ان کی اس بات سے اتفاق ہے۔ اگرچہ معلوم ہوتا ہے کہ عسکری صاحب مقدس اور آسمانی کتاب کو مترادف خیال کرتے ہیں۔ آسمانی کتاب تو وہی کہلائے گی جو منزل من اللہ ہوگی اور محفوظ طور پر موجود بھی ہو گی۔

آج کے دور میں قرآن کے علاوہ دوسری موجود کتب کو آسمانی کتاب قرار دینا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ہر مذہب کے ماننے والے البتہ اپنی کتابوں کو مقدس قرار دے سکتے ہیں۔ ہندوؤں کے نزدیک تو گیتا، اور تلسی داس کی رامائن، بھی تقدس کا درجہ رکھ سکتی ہیں مگر انہیں آسمانی کتابوں کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس کے بعد عسکری صاحب فرماتے ہیں کہ کتاب کی تشریح کا حق صرف اور صرف اس کے مستند نمائندوں کو ہے اور انہیں کا قول قابل استناد ہوتاہے۔ ایک لحاظ سے یہ بات صحیح ہے اور اس میں دین کا کوئی اختصاص نہیں ہے۔ کوئی بھی علم ہو یا فن، دینی علم ہو یا دنیوی، اس پر کلام کرنے کا حق انہی کو ہوگا جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں گے یہ اصول تمام علوم و فنون پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ جو آدمی بھی اہلیت پیدا کیے بغیر کسی علم یا فن پر کلام کرے گا، یقینی بات ہے کہ وہ یاتو اس کو سمجھ نہ پائے گا یا پھر مضحکہ خیز نتائج اخذ کرے گا۔

ان نتائج کا مشاہدہ کرنا ہو تو عسکری صاحب کی کتاب جدیدیت کا خصوصاً ان تین صفحات کا مطالعہ کافی ہوگا جو انہوں نے یونانی دور پر لکھے ہیں۔ یونان کے فلسفے اور مذہب پر جتنا اور جیسا عالمانہ اور تحقیقی کام ہو ا ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے عسکری صاحب کی جرات اور سادگی پر حیرت ہی کا اظہار کیاجا سکتا ہے۔ عسکری صاحب نے ابن عربی اور کیرکے گور کا تقابل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ علم کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ ایک اور جگہ تقلید کی فضیلت بیان کرتے ہوئے یہ بھی لکھاہے کہ ”ہمارے ہاں بے استادا گالی کے مترادف ہے۔“

عسکری صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی علم ہو یافن، اس کا علم کبھی بھی محض کتابوں سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے باقاعدہ طور پر اس کی تحصیل کرنا پڑتی ہے۔ جو آدمی کسی موضوع پر مثلاً فلسفہ، طبیعیات پر چند کتابیں پڑھ لے تو اسے فلسفہ اور طبیعیات کے مہمات مسائل پر رائے زنی کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ اور اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ ماہرین فن کو خندہ استہزاء کا موقع فراہم کرے گا۔ مغرب میں کسی شخص کا علمی پس منظر بیان کرتے ہوئے یہ بات آج بھی بطور خاص لکھی جاتی ہے کہ وہ کن جامعات کا تربیت یافتہ ہے۔

مگر عسکری صاحب کا سند کا مفہوم مہارت فن کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ یہ بات عام طور پر معلوم ہے کہ ہندوؤں کے یہاں مذہبی علم پر برہمنوں کی اجارہ داری ہے۔ اور برہمن ایک نسلی گروہ کا نام ہے۔ بنی اسرائیل میں تورات کا علم صرف بنی لاوی کے لیے مخصوص تھا۔ یہ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا جو مذہبی پیشوائی کے منصب پر فائز تھا۔ عیسائیوں میں انجیل کی شرح و تفسیر کا حق صرف پوپ کو حاصل ہے، اور پوپ ایک منصب ہے۔

اسلام نے کتاب کی تفسیر کا حق نہ تو کسی نسل کے لیے خاص کیا ہے، نہ اس کے لیے کوئی منصب وضع کیا ہے، اور نہ ہی اس کے اصول میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ مگر عسکری صاحب رومن کیتھولک مذہب پر اتنے فریفتہ ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ اسلام میں بھی کوئی ایسا منصب یا گروہ ہو، جس کو آخری سند مانا جائے اور بلاچو ن وچرا، اس کی اطاعت کی جائے۔ جدیدیت میں استناد کے مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

”یورپ میں اصلاح دین کی تحریک کے بانی مارٹن لوتھر نے پوپ کو سند ماننے ہی سے انکار کیا تھا۔ اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہر دینی معاملے میں پہلی اور آخری سند انجیل ہے۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود انجیل پڑھے اور خود سمجھے۔ یہ اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ تجدد پسند لوگ کسی امام کی سند تسلیم نہیں کرتے بلکہ قرآن شریف سے ثبوت مانگتے ہیں۔“ (15)

یہ عبارت پڑھ کر امام شافعی کی یہ بات ذہن میں گونجنے لگی کہ ”جو شخص چالیس روزتک صوفیاء کی صحبت میں رہے اس کی عقل کبھی اس کی جانب لوٹ کر نہیں آ سکتی۔“ (16) عسکری صاحب کے نزدیک جو امام کو سند تسلیم نہ کرے اور قرآن سے ثبوت طلب کرے، وہ گمراہ ہے، اور اس گمراہی کا بانی مارٹن لوتھر ہے۔ اب اگر یہ گمراہی ہے تو یہ مسلمانوں میں زمانۂ نزول اسلام ہی سے موجود ہے۔ بلکہ ابتدائی تین چار صدیوں میں تو پوری شدت سے موجود تھی۔

مسلمان علماء نے کبھی بھی قرآن و سنت کے مقابلے پررجال کو سند تسلیم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ صحابۂ کرام کو بھی۔ حضرت عبداللہؓ بن عباس کا ارشاد ہے۔ ”کچھ بعید نہیں کہ آسمان سے تم پر سنگ باری ہونے لگے، میں کہتا ہوں آنحضور ﷺ نے یہ فرمایا۔ اور تم کہتے ہو کہ ابوبکر ؓ اور عمرؓ نے یہ کہا۔“ (17) اب ہمیں نہیں معلوم کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ سے بڑا کون سا امام ہے، جس کو عسکری صاحب سند کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ حدیث نبوی کے ہوتے ہوئے حضرت عمرؓ کا قول ترک کر دیتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول ہے : ”وہ شخص احمق ہے جو دینی احکام میں اشخاص کی پیروی کرتا ہو۔“ (18) یہ تو تھا صحابۂ کرام کا طرز عمل۔ جہاں تک آئمۂ اربعہ کا تعلق ہے، جن کے بارے میں عسکری صاحب کا خیال ہے کہ ان میں سے کسی نہ کسی کی تقلید دین میں لازم ہے، ان کا رویہ بھی یہی تھا۔ امام ابوحنیفہ اور ابویوسف کا قول ہے کہ ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ ہمارے قول سے احتجاج کرے، جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو کہ ہمارا قول کس دلیل پر مبنی ہے۔

“ امام مالک فرماتے ہیں ”میں ایک انسان ہوں، میری بات صحیح بھی ہوتی ہے اور غلط بھی، لہٰذا غور وفکر کے بعد میرے جس قول کو کتاب وسنت سے ہم آہنگ پاؤ، اسے لے لو اور جو موافق نہ ہو اسے چھوڑ دو۔“ احمد بن حنبل کا ارشاد ہے : ”دین میں کسی کی تقلید نہ کیجیئے۔“ امام شافعی کا کہنا ہے : ”جو شخص بلا دلیل علم کی تلاش کرتا ہے وہ اس لکڑہارے کی طرح ہے جو رات کو لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے ہو اور اس کے گٹھے میں سانپ ہو جو اسے ڈس جائے اور اسے پتہ بھی نہ ہو۔“ (19)

عسکری صاحب کو مارٹن لوتھر پر جو اعتراض ہے ہمیں اس سے تو بحث نہیں، مگر اسلام میں دین کا علم حاصل کرنا، قرآن کو پڑھنا اور سمجھنا ہر آدمی کا حق ہے بلکہ دنیا و آخرت کی فلاح کے لیے ایک حد تک فرض ہے۔ جہاں تک تفسیر اور تعبیر کا تعلق ہے، اس کا حقدار ہر وہ شخص ہو سکتا ہے، جو اس کی استعداد بہم پہنچا لے۔ اس کے لیے نہ برہمن ہونا ضروری ہے نہ پوپ۔ عسکری صاحب سند کے جس تصور کو پیش کر رہے ہیں، وہ مسلمانوں میں دور انحطاط کی پیداوار ہے جس کے اسباب بیشمار ہیں۔

ابتدائی تین چار صدیوں کے بعد علوم کا رابطہ قرآن و سنت سے ایک حد تک منقطع ہو گیا، فقہی اختلافات نے مستقل مذاہب کی شکل اختیار کر لی، اور پیروکاروں میں اس حد تک تعصب پیدا ہو گیا کہ انہوں نے دلیل کو ترک کرکے محض اپنے اصحاب کی پیروی شروع کر دی۔ یہاں تک کہ قرآن و سنت کے مقابلے پر بھی اپنے اصحاب کے اقوال کو ترجیح دی جانے لگی۔ ابوالحسن عبیداللہ الکرخی کہتے ہیں :

” قرآن کی جو آیت یا حدیث ہمارے اصحاب کے اقوال کے خلاف ہو اس کی تاویل کی جائے گی یا اسے منسوخ سمجھا جائے گا۔“ (20)

یہ تھی متاخر دور میں علم فقہ کی حالت۔ اسلاف کے قول اور نصوص میں تعارض کے وقت نصوص کی یاتو تاویل کی جاتی تھی یا انہیں رد کر دیا جاتا تھا۔ دوسری طرف صوفیاء نے علم اور عقل کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ذوق اور کشف کو تمام دینی معاملات میں حکم بنانا شروع کر دیا۔ ظاہر اور باطن کی تفریق پیدا کرکے قرآن میں تحریف کا دروازہ واکر دیا تھا۔ متکلمین اپنے عقلی مزعومات کو قرآن کی صریح آیات پر فوقیت دینے میں مشغول تھے۔ اس کی تفصیل معلوم کرنا ہو تو معتزلہ اور اشاعرہ کے مناقشات کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ دونوں فریقوں نے کس بے دردی کے ساتھ قرآن کی آیات کو اپنے مزعومات کی تائید کے لیے استعمال کیا اور جو آیت اپنے موقف کے خلاف نظر آئی، اس کو متشابہات کی فہرست میں شامل کر دیا۔

اب صدیاں گزرنے کے بعد قرآن کا صرف یہ مصرف رہ گیا ہے کہ اس سے نزع کی سختیاں دور کی جائیں یا حصول برکت کا ذریعہ بنالیا جائے، یا پھر عملیات اور تعویذ گنڈوں کی آماجگاہ بنا لیا جائے۔ قرآن سے بے پروائی کا جو نتیجہ نکلا اس کے اثرات اب صاف اور نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن سے ثبوت طلب کرنا بھی گمراہی بن گیا ہے۔

عسکری صاحب کی امام کو سند ماننے والی بات کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے جو نتائج پیدا ہوسکتے ہیں، حافظ شیرازی کا یہ شعر ان کی بہترین ترجمانی کرتاہے

بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود ز راہ و رسم منزلہا

یعنی پیر طریقت کی پیروی میں شریعت کی صریح خلاف ورزی بھی روا ہے۔ اگر کسی کو شعر سے احتجاج پر اعتراض ہو تو میں عوارف المعارف کی ایک روایت پیش کرتا ہوں اور یہ کتاب تصوف کے مستند ترین مجموعوں میں شمار ہوتی ہے۔ شہاب الدین سہروردی لکھتے ہیں۔ :

”میں نے سنا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادرنے ایک شخص کے پاس پیغام بھیجا تمہارے پاس فلاں آدمی کا غلہ اور سونا ہے۔ اس میں سے اس قدر غلہ اور سونا مجھے پہنچا دو۔ اس شخص نے کہا، میں کسی کی امانت میں تصرف کیسے کر سکتا ہوں، اگر آپ سے فتویٰ لوں تو آپ اس تصرف کے حق میں فتویٰ نہیں دیں گے۔ اس قدر کہنے کے باوجود شیخ موصوف نے اسے ضروری قراردیا تو اس نے شیخ موصوف سے حسن ظن کی بنا پر مطلوبہ اشیاء پیش کر دیں۔ اس کے بعد صاحب امانت کے پاس سے اسے ایک خط موصول ہوا۔

وہ عراق کے گرد و نواح میں گیا ہوا تھا۔ اس نے لکھا تھا ’حضرت شیخ عبدالقادر کے پاس اتنی مقدار بھجوا دو‘ ۔ یہ اتنی ہی مقدار تھی جو حضرت شیخ عبدالقادر نے متعین فرمائی تھی، اس پر آپ نے اس کے توقف کرنے پر ملامت کی اور فرمایا ’کیا تم درویشوں کے بارے میں یہ خیال کرتے ہو کہ ان کے اشارے غلط اور ناواقفیت پر مبنی ہوتے ہیں۔“ (21)

اس روایت پر کچھ سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں :

کیا کسی مرشد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مرید کو شریعت کی خلاف ورزی کا حکم دے۔ امانت میں تصرف کرنا قرآن کی نص قطعی سے گناہ ہے۔

کیا شریعت کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی پیر یا مرشد کی اطاعت کرنا واجب ہے؟ اگرچہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا صریح ارشاد موجود ہے۔ ”لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق“ اب اطاعت صرف خدا اور رسول کی ہے۔ کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مطلق سمع و طاعت کا مطالبہ کرے اور شریعت کے قرارداد ہ حلال وحرام کو بدلنے کی کوشش کرے اور اس کے جواز میں اپنے کشف والہام کو پیش کرے۔ صوفیاء نے شریعت سے متناقض مکاشفات کو ثابت کرنے کے لیے واقعۂ خضر سے بھی استدلال کیا ہے جو سراسر غلط اور ناروا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعلیم حکمت کے لیے خضر کے پاس بھیجا تھا۔ دوسری طرف خضر بھی صاحب وحی تھے، انھوں نے جو کام بھی کیے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو اسی لیے گوارا کیا تھا کہ انہیں وحی نے حکم دیا تھا۔ اور خود خضر نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ انھوں نے یہ کام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت کیے ہیں۔ حق وباطل کو جانچنے کا معیار صرف وحی الٰہی ہے، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منقطع ہو چکی ہے۔ اب ہر شخص کے قول و فعل کو اسی وحی کی کسوٹی پر رکھا جائے گا۔ اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ شریعت کی خلاف ورزی پر اپنے الہام سے سند لائے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے لکھاہے :

خدا کی مرضیات و احکام معلوم کرنے کا واحد ذریعہ کتاب و سنت ہے اس وجہ سے کوئی قطب وابدال تو درکنار اگرچہ خضر بھی آ جائیں اور اگر کسی کو قتل کرکے یہ صفائی پیش کریں کہ انہوں نے خدا کے حکم کی تعمیل میں کیا ہے تو ہم ان کے عذر کو رد کرکے ان کے قتل کا فتویٰ دے دیں گے۔ اس لیے کہ ہمارے پاس ’النفس بالنفس‘ کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ لیکن خواجہ خضر کے کسی قتل کا خدا کی طرف سے مجاز ہونے کا ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ ”(22)

ان باتوں سے اس امر میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ کتاب و سنت سے بالا تر کسی شخص کو سند تسلیم کرنے کا خیال وحی کو معیار حق و باطل ماننے سے گریز کی صورت ہے۔

اب ہم عسکری صاحب کے اس قضیے کو لیتے ہیں کہ اسلام، بدھ اور ہندومت میں بنیادی روایت مشترک ہے۔

یہ بات ایک پہلو سے صحیح ہے۔ قرآن حکیم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قو م کی طرف اپنے رسول اور ہادی بھیجے۔

و قد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدو اللہ و اجتنبوا ا لطاغوت (النخل: 36)

ترجمہ: ”اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔“

تمام رسولوں نے ایک خدائے واحد کی بندگی کی دعوت دی اور شرک کی ہر ہر صورت کی نفی کی۔ لیکن انبیاء کی دعوت کو بہت کم لوگوں نے قبول کیا۔ اکثریت نے اس سے گریز اور مخالفت کی راہ اختیار کی۔ جنہوں نے تسلیم بھی کیا انہی کی آئندہ نسلوں نے ابنیاء کی تعلیمات میں اس بری طرح تحریف کی کہ حق کو باطل سے ممیز کرناممکن نہ رہا۔ ایک دور فترت کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی، آپ نے بنی نوع انسان کو خدا کا آخری پیغام سنایا اور پچھلے تمام ادیان کو منسوخ قرار دیا۔

اسلام کے علاوہ دنیا میں اب جتنے بھی مذاہب موجود ہیں، وہ اصل مذاہب کی تحریف شدہ شکلیں ہیں۔ بعض میں تو تحریف اس بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہوگیا ہے کہ ان کے اندر کون سی ایسی بات باقی ہے، جو دین حق کا حصہ تھی۔ اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف رسول اور ہادی بھیجے ہیں، اس سے استدلال کرنا کہ دنیا میں جو مذاہب موجود ہیں وہ سب ایک ہی حقیقت کا اظہار کرتے ہیں اور ایک ہی منزل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، خود قرآن کی نص کے خلاف ہے۔

خود عسکری صاحب یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوؤں اور چینیوں کے ہاں ان معنوں میں مذہب کا وجود نہیں، جن معنوں میں اسلام مذہب ہے اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تینوں ایک ہی روایت کے ظہور کی مختلف شکلیں ہیں جس کا نام دین ہے۔ اب دینی روایت، غیر دینی روایت کی صورت میں کیسے ظہور کر سکتی ہے۔ اور غیردینی ظہور دین کی روایت کا حصہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ یہ عسکری صاحب کے حسن نظر کا کرشمہ ہے۔ رینے گنوں کا تو کہنا ہے کہ اسلام میں مابعدالطبیعیاتی روایت EXTRA۔ RELIGIOUSہے۔ یعنی الٰہیات کے چھوٹے دائرے کے اوپر ایک بڑا دائرہ ہے، جس کا نام روایت اور مابعدالطبیعیات ہے (23) کہنا عسکری صاحب بھی یہی چاہتے ہیں مگر انہوں نے بنیادی روایت کو دین کا نام دے کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

روایت کے اسی تصور کو بنیاد بنا کر عسکری صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مشرق کی تمام روایتی تہذیبوں میں مابعد الطبیعیاتی حقیقت کا تصور مشترک ہے۔

لکھتے ہیں :

انسانی تاریخ کی عظیم ترین اور مکمل ترین روایتی تہذیبیں تین ہیں :چینی، ہندو اور اسلامی۔ ۔ ۔ یونانی، یہودی اور ازمنۂ وسطیٰ کی عیسوی تہذیبیں اپنی اپنی جگہ قابل قدر ہیں لیکن کسی نہ کسی اعتبار سے نامکمل ہیں۔ بہر حال ان تینوں بڑی بڑی تہذیبوں میں طرح طرح کے اختلافات کے باوجود ایک چیز مشترک ہے۔ توحید کا نظریہ، یعنی مابعد الطبیعیاتی عنصر جس پر ان تہذیبوں کی بنیاد ہے۔ ”(24)

اس اقتباس میں دوباتیں قابل غور ہیں :
(1) ہندو، اسلامی اورچینی تہذیب میں ثانوی اختلافات سے قطع نظر توحید کا تصور مشترک ہے۔
(2) یونانی، یہودی اور ازمنۂ وسطیٰ کی عیسوی تہذیبیں نامکمل ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ عسکری صاحب کو ہندوؤں اور چینیوں کے یہاں تو توحید کا تصور مل گیا مگر یہودیوں اور عیسائیوں کے یہاں نہ مل سکا۔ یہودیت اور عیسائیت تو دین ابراہیمی ہی کی شکلیں ہیں، دونوں مذاہب توحید کے مدعی بھی ہیں، اور قرآن نے یہود و نصاریٰ کو دعوت ایمان دیتے ہوئے ان کی توجہ اس جانب مبذول بھی کروائی ہے۔ اگر عسکری صاحب کے نزدیک یہودونصاریٰ کا توحید کا تصور خام تھا تو ہندوؤ ں اور چینیوں کا تصور توحید کن دلائل کی بنا پر مکمل ہے۔ یہ امر ناقابل فہم ہے۔

جہاں تک عسکری صاحب کی پہلی بات کا تعلق ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔ انہوں نے حسب عادت اس کے دلائل بھی بیان نہیں کیے۔ ان کے اس دعوے کو پرکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تینوں تہذیبوں کے بنیادی تصورات کا جائزہ لیاجائے تاکہ فیصلہ کرنے میں آسانی رہے۔

ہندو تہذیب کے بارے میں عسکری صاحب نے یہ تصریح نہیں کی کہ وہ اس کا کوئی خاص دور لے رہے ہیں۔ یاویدوں سے لے کر تلسی داس تک کا تمام دور مراد لے رہے ہیں۔ ہندومذہب کے بارے میں عمومی گفتگو کرنا علمی اعتبار سے خطرناک ہے۔ اس کے اندر عقائد و نظریات کی اتنی رنگا رنگی ہے اور اس قدر تنوع اور اختلاف ہے کہ علی الاطلاق کچھ کہنا ممکن ہی نہیں کہ ہندومت فی الواقع ہے کیا۔ ہندوؤں کی مذہبی تاریخ کا آغاز ویدوں سے ہوتا ہے۔

ویدوں کی قدامت کتنی ہے یہ طے کرنا محض ظن و تخمین کا معاملہ ہے۔ اب تک کوئی ایسی شہادت سامنے نہیں آسکی جس کی بنا پر کوئی حتمی فیصلہ ممکن ہو۔ ویدوں کے اندر تینتیس (33) خداؤں کا ذکر ملتا ہے۔ مظاہر فطرت کو دیوی دیوتاؤں کی صورت دے دی گئی ہے۔ مثلاً چاند، سورج، آگ، ہوا اور پانی، بارش اور طوفان وغیرہ۔ ان دیوتاؤں میں سب سے اہم اندر ہے جو مون سون اور جنگ کا دیوتا ہے۔ بعد کے ادوار میں یہ تعداد تینتیس (33) سے بڑھتے بڑھتے تینتیس کروڑ تک جا پہنچی اور ہندوستان کا ذرہ ذرہ دیوتا بن گیا۔

کوئی قابل ذکر اور ناقابل ذکر چیز ایسی نہیں کہ جس کی یہاں پوجا نہ ہوتی ہو۔ بعد کے خداؤں میں برہما، شو، اور ویشنو، زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے برہما کی پوجا سب سے کم ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ خالق ہے اور اپنے کام کو مکمل کرچکنے کے بعد زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہا۔ شو کو ہندوؤں میں مہا دیو بھی کہا جاتا ہے اس کے اندر تعمیر اور تخریب کی دونوں قوتیں جمع ہیں۔ اصلاً اس کا کام مارنا اور جلانا ہے۔ زندگی کے نوع بنوع صورتوں میں جلوہ گر ہونے کے لیے موت ایک لازمی امر ہے۔

شو زندگی کی تمام صورتوں کی علامت ہے جنسی اعضاء کی پوجا بھی اسی کے حوالے سے ہوتی ہے۔ وشنو محافظ ہے جو سراسر الوہی محبت کا مظہر ہے۔ جب کسی زمین پر نیکی کی قدر کو خطرے میں دیکھتا ہے تو اوتاروں کی صورت میں آ کر نیکی کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے دس اوتار ہیں۔ جن میں سے نو اوتاروں کا ظہور ہو چکا ہے اور دسویں اوتار نے مستقبل میں ظہور کرنا ہے۔ رام اور کرشن دو مشہور اوتار ہیں جنہیں خود بھی خدائی کے منصب پر فائز کیا جاچکا ہے۔ ہندوؤں نے محض دیوی دیوتاؤں کی کثیر تعداد ہی بیان نہیں کی بلکہ ان کے پورے خاندان ہیں، بیوی بچے ہیں، ان سے ایسی ایسی داستانیں اور واقعات منسوب ہیں کہ اگر ان کا عشر عشیر بھی عسکری صاحب سے منسوب کر دیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیتے۔

البتہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں اپنشدوں میں وحدت الوجود کا تصور ضرور ملتا ہے، خصوصاً ایش اور چھندوگی اپنشد میں۔ اپنشدوں کا کہنا ہے کہ برہما اور آتما کے درمیان عینیت اور وحدت ہے اس کائنات کی ہر صورت میں برہما ہی اپنا ظہور کرتا ہے۔ چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، کیڑے مکوڑے ہوں، یا مظاہر کی بیشمار صورتوں میں سے کوئی صورت ہو۔ حقیقت کے نقطۂ نظر سے کثرت محض فریب ہے، اصل حقیقت ایک، انسانی آتما اور پرماتما ایک ہے۔

اس کو اپنشدوں نے یوں بیان کیا ہے : تت توم اسی۔ یعنی ’تم وہ ہو، یا‘ وہ تم ہو ’۔ پروفیسر حبیب الرحمان شاشتری کے الفاظ میں روح اور خدا کو ایک ہی محسوس کرنے کا نام وحدت الوجود ہے۔ کائنات ایک واہمہ، فریب، لیلا اور بھان متی کا تماشا ہے، جسے خدا نے اپنی اعتباری طاقت سے تخلیق کیا ہے۔ حبیب اللہ شاشتری نے خدا اور کائنات کا تعلق شوتیا شوتراپنشند کے حوالے سے یوں بیان کیا ہے :

(1) خدا کچھ کا کچھ دکھا دینے کی نمائشی طاقت رکھتا ہے، یعنی اپنے فرضی اعتبارات سے اصلی جیسی دنیا پیدا کرکے اس پر حکومت کرتا ہے۔

(2) وہ اکیلا ہی مخلوق کی پیدائش کا سبب ہے۔
(3) روح اور خدا حقیقی نقطہ ء نظر کے لحاظ سے دراصل ایک ہی ہستی ہیں۔

(4) خدا کی وہ اعتباری طاقت جس سے دنیا فرض کی گئی ہے، اس کی ہستی سے الگ نہیں ہے، یعنی خدا کی عین ہے نہ غیر۔ ”(25)

اس ساری گفتگو سے دو نتائج بدیہی طور پر سامنے آتے ہیں، ہندؤوں کے ہاں (1) توحید الہٰ کا کوئی تصور نہیں۔ (2) اپنشدوں میں وحدت الوجود کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہی وحدت الوجود کا تصور ہندوؤں اور مسلمان صوفیوں میں مشترک ہے، مگر قرآن کا تصور توحید اور وحدت الوجود ایک نہیں ہو سکتے۔ اس کی تشریح آئندہ آئے گی۔

جہاں تک چین کا تعلق ہے تو ان کے قدیمی مذہب میں توحید کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ قدیم چینی مذہب مختلف اور متضاد عناصر کا مجموعہ ہے۔ اس کے اہم اجزا دھرتی پوجا آسمان کی پوجا، ارواح پرستی اور آباء پرستی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل آباء پرستی ہے۔ آبا ؤ اجدادکی روحوں کو خوش رکھنے کی سب سے زیادہ کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے نام کی نذریں دی جاتی ہیں۔ خاندان کی خوشی غمی میں انہیں برابر کا شریک سمجھا جاتا ہے، گرمیوں سردیوں میں آباواجداد کی قبروں کی زیارت کے لیے سفر کیا جاتا ہے۔

جہاں تک قدیم تاؤ تصور کا تعلق ہے اس کے مطابق تاؤ کو خدا قرار دینا مشکل کام ہے۔ تاؤ کے اصل معنی راستے کے ہیں۔ البتہ اس تاؤ کو وہ ازلی اور قدیم ضرور مانتے تھے۔ یہ تاؤ کائنات کی تخلیق سے پہلے موجود تھا اور کائنات اس راستے پر سفر کر رہی ہے۔ جس چیز کو تاؤ مت کا نام دیا جاتا ہے وہ مذہب کی حیثیت سے اتنا پرانا نہیں بلکہ اس نے کنفیوشش مذہب کے کئی صدیوں بعد مذہب کی صورت اختیار کی۔ البتہ تاؤ مت کے اند ر بھی توحید کا کوئی تصور موجود نہیں۔ (26)

ہندوؤں اور چینیوں کے ہاں زیادہ سے زیادہ تنزیہی خدا کا تصور قائم کیا جاسکتا ہے۔ مگر خدا کی تنزیہہ کو اگر حد سے بڑھا دیا جائے اور اس کو صفات کمال سے معطل قرار دے دیا جائے تو یہ بات بجائے خود شرک کا ایک منبع بن جائے گی۔

عسکری صاحب نے توحید کو مشترک اساس قرار دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ طے کیا جائے کہ توحید کیا ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق قرآن مجید کو ہے۔ ہم اسی کی بناپر توحید کا صحیح تصور قائم کر سکتے ہیں۔ جب قرآن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ تو بالکل مختلف صورت حال سامنے آتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک فقط ایک خدائے بزرگ و برتر ہے۔ کائنات اور اس کے تمام موجودات کو اس نے عدم محض سے اپنی قدرت اور مشیت سے تخلیق کیاہے۔

وہ اپنی ذاتی حیثیت میں تمام موجودات سے منزہ ہے وہ ان تمام تصورات سے پاک ہے۔ جو ہم اپنے ذہن میں خدا کے بارے میں قائم کر سکتے ہیں۔ قرآن کے تصور توحید کے دو پہلو ہیں : ایک تنزیہہ، دوسرے اثبات۔ تنزیہہ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ واحد و یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ حقوق میں۔ اس اعتبار سے تنزیہہ توحید کا منفی پہلو ہے، جسے اگر حد سے بڑھا دیا جائے تو خدا محض ایک ذہنی تصور رہ جاتا ہے۔

یا پھر گوشہ نشین علت العلل، کہ جو ایک بار کائنات کو پیدا کر کے اب اس کے انتظام و انصرام سے لاتعلق ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے تنزیہہ کے ساتھ اثبات پربھی زور دیا ہے۔ اثبات کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تمام صفات کمال سے متصف ہے اور ازل سے ان تمام صفات کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن حکیم میں اس کی بہترین مثال آیت کرسی اور سورہ حشر کی آیات ہیں۔

ھو اللٰہ الذی لا الٰہ الا ہو، عالم الغیب و الشھادۃ ہو الرحمٰن الرحیم۔ ہو اللٰہ الذی لا الٰہ الا ہو الملک القدوس السلام المؤمن المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔ سبحٰن اللٰہ عمایشرکون۔ ہو اللٰہ الخالق البارئی المصور لہ الاسماء الحسنیٰ یسبح لہ ما فی السمٰوات و اللارض و ہو العزیز الحکیم۔

(”وہ اللہ ہے نہیں کوئی معبود مگروہی۔ ڈھکے اور کھلے کا جاننے والا، وہ رحمٰن الرحیم ہے۔ وہی اللہ ہے، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ بادشاہ، پاک، سکھ امن دینے والا، معتمد، غالب، عالی جناب، غیور، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہی اللہ ہے خلق کرنے والا، وجود بخشنے والا، صورت گری کرنے والا، اسی کے لیے ہیں ساری اچھی صفتیں، اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اور وہ غالب حکمت والاہے۔“)

اب غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں تنزیہہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو صفات کمال سے بھی متصف کیا گیا ہے۔ تنزیہی پہلو، سورۂ اخلاص میں پوری شدت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ دوسری طرف قرآن نے سب سے زیادہ مذمت شرک کی ہے اس لیے توحید کامکمل فہم حاصل کرنے کے لیے شرک کو سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے شرک کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ : خدا کی ذات یا اس کی صفات میں جس مفہوم میں وہ خدا کے لیے مستعمل ہیں، یا اس کے حقوق میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔ ”(27) اس تعریف کی رو سے شرک کی تین صورتیں ہیں : شرک فی الذات، شرک فی الصفات اور شرک فی الحقوق۔

خدا کی ذات میں شرک کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو خدا سے یا خدا کو کسی سے قرار دینا۔ جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ یہ باتیں خدا کے ازلی وابدی اور قدیم ہونے کے منافی ہیں۔ صفات میں شرک کا مفہوم یہ ہے کہ وہ صفات کمال جو خداوند قدوس کے لیے مخصوص ہیں ان کو بعینہٖ اسی مفہوم میں انسانوں کے لیے استعمال کرنا۔ مثلاً علم اور حکمت کی صفت انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

مگر انسانوں پر ان کا اطلاق مختلف مفہوم میں ہوتا ہے اگر ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا جائے تو صفات میں شرک لازم آ جاتا ہے۔ حقوق میں شریک ٹھہرانے کا مفہوم یہ ہے کہ خدا جب اس کائنات کا خالق اور مالک ہے تو یہ لازم ہے کہ عبادت اور استعانت کا مرجع بھی اسی کو قرار دیاجائے، حاکمیت بھی اسی کی تسلیم کی جائے۔ عبادت، استعانت اور حاکمیت میں کسی اور کو شامل کرنا، کسی کو مستقل بالذات نافع وضار خیال کرنا، حقوق میں شرک ہے۔

شرک کی یہ وہ مختلف صورتیں ہیں جن کی بنا پر قرآن نے اپنے او لین مخاطبین بنی اسماعیل، یہود اور نصاریٰ کو شرک کے مجرم قرار دیا۔ ان میں سے بنی اسماعیل کے لیے تو بطور خاص ’مشرک‘ کے لفظ کو بطور علم استعمال کیاہے۔ اب بنی اسماعیل خدا کے منکر نہ تھے، وہ زندگی دینے والا، اور روزی دینے والا اسی کو خیال کرتے تھے۔ قرآن نے بنی اسماعیل کے جن اعمال و افعال کو مشرکانہ قرار دیا وہ یہ ہیں : ملائکہ پرستی، جنات پرستی، کواکب پرستی، بت پرستی اور آبا پرستی۔

ملائکہ پرستی کی صورت یہ تھی کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قراردے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس عبادت کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ مال و اولاد اور دنیا کی خوشحالی کو ان کی برکت کا ثمرہ خیال کرتے تھے۔ خد ا کی بارگاہ میں ان کو سفارشی اور عالم الغیب گردانتے تھے۔ جنات پرستی یہ تھی کہ جنات کو خدائی میں شریک خیال کرتے تھے۔ ان کو مستقل بالذات، نافع وضارسمجھتے تھے۔ مصیبت کے وقت ان کی دہائی دیتے تھے، ان کی رضاجوئی کے لیے قتل اولاد کے مرتکب ہوتے تھے۔

ملاء اعلیٰ تک ان کی رسائی سمجھتے تھے اور ان سے الہام حاصل کرنے کے لیے مراقبہ کرتے تھے۔ کواکب پرستی یہ تھی کہ تدبیر عالم میں ستاروں کے اثرات کے قائل تھے۔ بارش کو نکھتروں کا فیض سمجھتے تھے اور کاروباری رونق کو شعریٰ کی برکت خیال کرتے تھے۔ بت پرستی یہ تھی کہ انھوں نے دیوتاؤں کی ایک مجلس بنا کر خدا کو اس میں مہا دیو کا درجہ دے رکھا تھا۔ جس کا تعلق صرف آسمان کی سلطنت سے تھا۔ زمین کا انتظام دوسرے دیوی دیوتاؤں کے سپرد تھا۔

Medina 1913

ان دیوتاؤں کی عبادت ہوتی، ان کے حج و زیارت کے لیے سفر کیا جاتا، قربانیاں اور نذریں ان کے نام سے دی جاتیں اور انہی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں۔ آبا و اجداد کی قبروں کو معبد بنا لیا تھا، اسلاف کے طور طریقوں کو دین و شریعت کی جگہ دے دی تھی اور انہی کے نقش قدم کی پیروی کو ذریعہ نجات خیال کرتے تھے۔ یہ ہے بنی اسماعیل کے عقائدو اعمال کی ایک جھلک جس کے ایک ایک جزیے کو قرآن نے شرک قرادیا ہے۔

قرآن حکیم کے دوسرے مخاطب یہودو نصاریٰ تھے جو دونوں توحید کے مدعی تھے۔ اور قرآن نے اسی اشتراک کو اپنی دعوت کی اساس بنایا۔ یہ دونوں گروہ توحید کو تسلیم کرنے کے باوجود ایسے عقائد بھی رکھتے تھے، جنہیں قرآن نے شرک قرار دیا ہے۔ یہود و نصاریٰ دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حق تشریع میں اپنے احبارو رہبان کو شریک کر رکھا تھا۔ یہودی حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت مسیحؑ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ یہود و نصاریٰ کی احبار و رہبان پرستی کو بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم کا ارشاد ہے :

اتخذوا احبارہم و رہبانم ارباباً من دون اللٰہ و المسیح ابن مریم و ما امروا الا لیعبدوا الٰھاً واحداً۔ لا الٰہ الا ہوسبحٰنہ ’عما یشرکون۔ (توبہ: 31)

(انہوں نے اپنے عالموں اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب ٹھہرالیا ہے اور مسیحؑ ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو نہیں حکم دیا گیا مگر اس بات کا کہ ایک ہی خدا کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ خداکا شریک ٹھہراتے ہیں۔)

اس آیت کے بارے میں عدیؓ بن حاتم کا ایک سوال منقول ہے۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کہ یہود و نصاریٰ اپنے عالموں اور راہبوں کو رب تو قرار نہیں دیتے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ان کے حلال کیے ہوئے کو حلال سمجھتے ہیں اور ان کے حرام کیے ہوئے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ یہی ان کی عبادت ہے۔ یہود کے ہاں اس احبار پرستی کے رواج پانے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کی شریعت میں پیش آمدہ مسائل پر خدا اور رسول کی مرضی معلوم کرنے کے لیے اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

یہود خدا کی مرضی معلوم کرنے کا ذریعہ کاہن اعظم کو خیال کرتے تھے۔ جب کاہن اعظم کے سامنے کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تو وہ خیمہ ء عبادت میں قدس الاقداس کے اندر جاتا، جہاں تابوت ایک پردے کے پیچھے رکھا ہوتا۔ اس مقام کو وہ الہام ربانی کا مرکز خیال کرتے تھے۔ وہاں پہنچ کر اس پر یہوداہ کے احکام الہام ہوتے۔ وہ ان احکام سے لوگوں کو مطلع کرتا، جن پر ان احکام کی تعمیل واجب ہوتی تھی۔

عیسائیوں میں پال نے تورات کی شریعت کو منسوخ کرکے غیر بنی اسرائیل کو شریعت کی پابندی سے آزاد کر دیا۔ اس کا دعوے ٰ تھا کہ تورات کی شریعت صرف بنی اسرائیل کے لیے ہے۔ اس نے جب غیر بنی اسرائیل کو عیسائی بنایا تو ان کے لیے شراب اور سؤر کو حلال کر دیا اور ختنے کی پابندی کو ختم کر دیا۔ شریعت کو منسوخ قرار دینے سے ہی عیسائیت میں پوپ کے اقتدار کا راستہ ہموار ہوا اور رفتہ رفتہ یہ اختیار یہاں تک بڑھ گیا کہ پوپ کی زبان خدا کی ترجمان بن گئی، جو یہ زمین پر باندھتے وہ آسمان پر بھی باندھا جاتا۔ جو یہ زمین پر کھولتے وہ آسمان پر بھی کھولا جاتا۔ یوں خدا بھی پوپ کا تابع فرما ن ہو گیا۔ قرآن حکیم کے ارشادات کے مطابق یہود و نصاریٰ کی یہ احبار و رہبان پرستی خدا کے حق تشریع میں شرک ہے۔

نصاریٰ کے جس دوسرے شرک کی خدا نے سب سے زیادہ تردید کی ہے، وہ ان کا عقیدہ تثلیت ہے۔ اس عقیدے کا بانی بھی پال تھا۔ پال عبرانی زبان سے واقف نہ تھا، یونانی فلسفے اور تصوف کا ذوق رکھتا تھا۔ انجیل میں حضرت مسیحؑ کے لیے ’ابن‘ اور اللہ کے لیے ’اب‘ کا لفظ استعمال ہو ا تھا۔ عبرانی زبان میں یہ لفظ مشترک المعنیٰ تھے۔ ’ابن‘ کا لفظ عبد اور بیٹے دونوں پر بولا جاتا تھا، ’اب‘ کا لفظ خدا اور باپ کے لیے مستعمل تھا۔

پال نے اس اشتراک کا فائدہ اٹھا یا اور اس پر اپنے عقیدۂ تثلیت کی عمارت استوار کی۔ پال نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مسیحؑ کی پیدائش سے پہلے، مسیح کا عین موجود تھا۔ اس عین کو اس نے ’لوگوس‘ کانام دیا۔ ابتدائی تین صدیوں میں عیسائیوں کے درمیان توحید اور تثلیث پر بہت بحث مباحثے ہوئے۔ تیسری صدی میں آریوس نے تثلیث کا انکار کرتے ہوئے، اس نظریے کی تبلیغ کی کہ مسیحؑ کلمہ ہونے کے باوجود مخلوق ہے۔ دوسری مخلوقات کی طرح اسے بھی عدم سے وجود میں لایا گیا ہے۔

مسیحؑ نہ قدیم ہے نہ ازلی اور نہ خدا کے جوہر سے۔ بیٹے کا آغاز ہے جبکہ خدا کا کوئی آغاز نہیں ہے۔ کلیسا نے ان عقائد میں اپنے لیے شدید خطرہ محسوس کیا۔ 325 ء میں نیسیہ کے مقام پر قسطنطین کی زیر صدارت ایک کونسل منعقد ہوئی۔ اس کونسل نے آریو سی عقائد کو رد کر کے تثلیت کو مسیحیت کا سرکاری عقیدہ قرار دیا۔ اس کونسل کا اعلان نامہ ’NICENE CREED‘ کہلاتا ہے اور رومن کیتھولک چرچ کی اساس اسی عقیدے پر ہے۔ کونسل کا اعلان نامہ یہ ہے۔

”ہم ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں، جو باپ ہے اور قادر مطلق، تمام چیزوں کا خالق، تمام حاضر و غائب کا، اور ایک خداوند یسوع مسیحؑ پر ایمان لاتے ہیں، خداکا بیٹا، خدا کا جنا ہوا اکلوتا، باپ ہی کے جوہر سے، خدا سے خدا، نور سے نور، عین خدا سے عین خدا، جنا ہوا، بنایا ہوا نہیں، باپ ہی کے جوہر سے، جس کے ذریعے سے زمین و آسمان کی تمام اشیاء پیدا کی گئیں، جو ہم انسانوں کے لیے اور ہماری نجات کے لیے انسانی شکل و صورت میں نازل ہوا اس نے دکھ اٹھایا، تیسرے دن دوبارہ جی اٹھا، اور آسمان پر صعود کر گیا، مردوں اور زندوں کی عدالت کے لیے پھر نازل ہوگا اور ہم روح القدس پر ایمان لاتے ہیں۔“

اس اعلان نامے کے ساتھ ہی ایک دوسرا اعلان جاری کیا گیا۔ جس میں تثلیت کا انکار کرنے والوں کو مردود قرار دیا گیا۔ ”وہ جو کہتے ہیں کہ وہ پہلے نہ تھا اور جنے جانے سے پہلے وہ معدوم تھا، اور وہ عدم سے وجود میں آیا، یا وہ کہتے ہیں کہ خدا کا بیٹا دوسری شے ہے، یا دوسرے جوہرسے ہے، یا مخلوق ہے، یا بشر ہے، وہ کیتھولک اور رسولی چرچ کی طرف سے مردود ہیں“ ۔ (28)

قرآن نے اس عقیدے کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ یہ ان کی من گھٹرت باتیں ہیں، جن کے لیے خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی، اور یہ بغیر سوچے سمجھے دوسرے کافروں کی باتوں کو نقل کر رہے ہیں۔ قرآن کی سب آیات نقل کرنے کا تو موقع نہیں، البتہ سورۂ اخلاص کو اگر اس عقیدے کے بالمقابل رکھ کر پڑھا جائے، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کس شدت کے ساتھ اس کے ایک ایک جزیے کی تردید کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے میں عیسائیوں کو اس سورۃ سے اتنی چڑتھی کہ وہ جس کسی کو عیسائی بناتے، اس سے نعوذباللہ اس خدا پر لعنت کرواتے جس کی صفت اس سورۃ میں بیان کی گئی ہے۔ (29)

ان تمام تفصیلات کو بیان کرنے کامقصد یہ ہے کہ قرآن کے تصور توحید کی وضاحت ہو سکے اور یہ معلوم ہوکہ وہ کن عقائداور اعمال کو شرک قرار دیتا ہے، قرآن ایک خدا کے محض زبانی اقرار کو تسلیم نہیں کرتا جب تک عبادت، استعانت اور حاکمیت و تشریح کو بھی اسی کے لیے خاص نہ کیاجائے۔

اب قرآن ہمیں وہ کسوٹی فراہم کرتا ہے جس پر ہم عسکری صاحب کے اس دعوے ٰ کو پرکھ سکتے ہیں کہ اسلامی، ہندو، اور چینی تہذیب میں توحید کا تصور مشترک ہے۔ ہماری پچھلی تصریحات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ دعویٰ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ اسلام کے تصور توحید اور ان دونوں تہذیبوں کے تصور میں بعد المشرقین ہے۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ محل کے بدل جانے سے شے کی حقیقت نہیں بدل جاتی۔ قرآن اگربنی اسماعیل کی ملائکہ پرستی، جنات پرستی، بت پرستی، آباء پرستی، یہود و نصاریٰ کی احبار و رہبان پرستی اور تثلیث کو شرک اور توحید کا انکار قرار دیتا ہے توہندوؤں کی بت پرستی، مظاہر پرستی، 33 کروڑ خداؤں کو تسلیم کرنا، چینیوں کی ارواح پرستی، ارض پرستی اور آباء پرستی کو توحید کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔ عسکری صاحب جن اختلافات کو ثانوی قراردیتے ہیں۔ وہ درحقیقت بنیادی اور اصولی ہیں۔ اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان توحید ہی نقطہ امتیاز ہے۔ ایسی توحید جو شرک کے ہر شائبے سے پاک ہو۔

عسکری صاحب فرماتے ہیں، ”التوحید واحد“ یعنی توحید کے بارے میں دورائیں نہیں ہوسکتیں۔ اس بات میں منطقی مغالطہ پوشیدہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی ہو سکتی ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ توحید کا تصور جس انداز میں دوسرے مذاہب میں موجود ہے وہ بھی ایک ہی ہے۔ ہمارے اطمینان کے لیے تنہا یہی بات کافی ہے کہ قرآن حکیم خوداس کی تردید کر رہا ہے۔

عسکری صاحب کو یہ بڑا زعم ہے کہ وہ الفاظ خوب سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور ان کے حقیقی مفہوم کو جاننے کے لیے بڑی کدوکاوش سے کام لیتے ہیں۔ دوسری طرف ان کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ توحید اور وحدت الوجود کو مترادف خیال کرتے ہیں۔ عسکری صاحب کی یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ ابن عربی اور شنکر اچاریہ ایک ہی خیال کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر نہ قرآن اور گیتا ایک ہو سکتے ہیں، اور نہ قرآن اور فصوص الحکم۔

وحد ت الوجود کے قائل کے لیے خدا کا انکار یا اقرار فی الواقع کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتا۔ وحدت الوجود میں اصل مرکز خدا نہیں، بلکہ انسان ہے، اس کی تمام تر کاوشوں کا مقصود انسان کو عبد کے بجائے الہٰ بنانا ہے۔ علامہ اقبال کی مثنوی ’اسرار خودی‘ جب شائع ہوئی تو خواجہ حسن نظامی نے اس پر بہت اعتراضات کیے۔ اسی ضمن میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ عنقریب وحدت الوجود کو قرآن سے ثابت کریں گے۔ اس پر اکبر الہٰ آبادی نے انہیں ایک خط لکھا تھا جس کے چند فقرے میں نقل کیے دیتا ہوں اور یہ بات واضح رہے کہ اکبر الہٰ آبادی خود وحدت الوجودی تھے۔ :

” میں آپ کو مناسب اور محفوظ جگہ میں نہ پاؤں گا، اگر آپ قرآن سے مسئلہ وحدت الوجود کو ثابت کرنے کے لیے قلم اٹھائیں گے۔ علمائے شریعت نے غالباً فرما دیا ہے کہ یہ مسئلہ جزو اسلام نہیں۔ اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہمہ اوست کہنے سے پہلے ’او‘ کو ثابت کرو پھر ’ہست‘ کی توضیح کرو یعنی ہستی کیا چیز ہے اور ’او‘ کسے کہتے ہیں۔ ہمہ اوست تک پہنچنے ہی نہ پاؤ گے کہ حواس تشریف لے جائیں گے۔ (30)

مسلمانوں میں پہلی بار ابن عربی نے وحدت الوجود کا تصور پیش کیا۔ بعد میں صدرالدین قونوی، ابن سبعین اور عفیف الدین تلمسانی وغیرہ نے اسے آگے بڑھا یا۔ ابن عربی سے پہلے حلاج اور بایزید بسطامی کے ہاں اس قسم کے خیالات ملتے ہیں مگر وہ ان کے فلسفیانہ اصولوں پر مبنی نہ تھے بلکہ ان کے سکر کا نتیجہ تھے۔ حلاج اور بسطامی کے ہاں دوئی کا تصور موجود ہے، کیونکہ دونوں حلول کے قائل تھے۔ حلاج نے مسیحی علم کلام کو مسلمانوں میں متعارف کروایا اور لاہوت کے ناسوت میں سرایت کرجانے کا پرچار کیا۔ حلاج کے ’انا الحق‘ اور بسطامی کے ’سبحانی ما اعظم شانی‘ کی توجیہ تو شاید کی جا سکے۔ مگر بسطامی کے اس جملے کی توجیہ کرنا ممکن نہیں کہ ’مافی جبتی الا اللٰہ۔‘ حلاج کے یہ اشعار حلول پر صاف دلالت کرتے ہیں :

سبحان من اظھر ناسوتۃ
سرسنا لاھوتہ الثاقب
ثم بدا مستترا ظاھراً
فی صورۃ الآکل و الشارب
حتیٰ لقد عاینۃ خلقہ
کلحظۃ الحاجب بالحاجب

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے ناسوت کو اپنے چمکدار لاہوت کا روشن بھید بنا کر ظاہر کیا۔ پھر وہ کھانے پینے والے شخص کی صورت میں چھپا کھلا ظاہر ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی مخلوق نے صاف طور پر رو در رو اس کا معائنہ کر لیا۔ (31)

ان اشعار میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ بعینہٖ مسیحی عقیدہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہم نیسیہ عقیدہ پیچھے نقل کر آئے ہیں، یہ اشعار اسی کی صدائے باز گشت ہیں۔ ابن عربی نے حلول کے برعکس وحدت الوجود کا تصور پیش کیا ہے۔ اس کے نزدیک خدا اور مخلوقات کا وجود ایک ہی ہے، مخلوقات خدا کے وجود کا مظہر ہیں اور خدا ان مخلوقات کا مسمیٰ ہے۔ یوں ابن عربی نے حلاج کے دوئی کے تصور کے برعکس اتحاد وجود کا تصور دیا۔

اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حلاج حلول مقید کا قائل تھا جبکہ ابن عربی کا تصور حلول عام کا ہے۔ حلول مقید سے مراد ہے کہ خدا بعض انسانوں میں حلول کر آتا ہے۔ جیسے عیسائیوں کا حضرت مسیحؑ کے بارے میں خیال ہے۔ مسلمانوں میں کچھ فرقوں نے بعض شخصیات کے بارے میں اس قسم کے دعوے کیے ہیں۔ ابن عربی کے نزدیک حلول مقید کفر ہے۔ کیونکہ اس کے قائلین خداکو ایک خاص شکل وصورت میں محدود کردیتے ہیں۔ ابن عربی کے نزدیک یہ کہنا غلط ہے کہ خدا عیسیٰ بن مریم ہے۔ کیونکہ کائنات کی ہر چیز خدا ہے۔ بت پرستوں کا کفر بھی یہی تھا کہ وہ چند مظاہر کو خدا سمجھتے تھے اور باقیوں کا انکار کرتے تھے۔ ابن عربی کے نزدیک کائنات کی ہر چیز خداکی تجلیات کا مرکز ہے۔

فالحق خلق ”بھٰذا الوجہ فاعتبروا
و لیس خلقاً بذاک الوجہ فادکروا
من یدر ما قلت لم تخذل بصیرتہ
و لیس یدریہ الا من لہ بصر ’
جمع و فرق فان العین واحدۃ
و ہی الکثیرۃ لاتبقیٰ و لا تذر ’(32)

”پس حق صور اعیان میں اپنے ظہور اور ان کے احکام کی قبولیت کے اعتبار سے خلق ہے۔ اسے ملحوظ رکھو اور اپنی احدیت ذاتی کے اعتبار سے حق ہے۔ اسے بھی ذہن نشین کرو جس نے میری بات سمجھ لی، اس کی بصیرت کبھی ٹھوکر نہیں کھائے گی اور میری بات تو وہی سمجھے گا جسے بصیرت حاصل ہو گی۔ حق اور خلق کے مابین جمع کرو اور کہو کہ حق ہی خلق کا عین ہے اور ان میں فرق بھی کرواور کہو کہ حق خلق نہیں ہے۔ پس حقیقت وحدت بھی ہے اور کثرت بھی، کیونکہ یہ جمع اور تفریق دونوں کو قبول کرلیتی ہے۔ تم جمع کے بعد اسے جمع ہی میں باقی نہیں رکھو گے بلکہ تفریق کروگے اور جمع کو تفریق میں نہیں چھوڑو گے بلکہ جمع کی طرف لوٹاؤ گے۔ حق عین جمع میں تفریق اور تفریق میں جمع ہی کا تقاضا کرتا ہے۔“

ان اشعار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وجود درحقیقت ایک ہی ہے۔ ایک اعتبار سے اسے خلق کہتے ہیں۔ دوسرے پہلو سے اس کا نام حق ہے۔ وجود کی حقیقت متحد ہے یہ سب عالم ارضی خداکا ظل ہے ابن عربی کے ہاں یہ لے اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ یہ تک کہتے ہیں لاتقع العین الا علیہیعنی آنکھ جس چیز کو بھی دیکھتی ہے خدا ہے۔ ابن تیمیہ نے فلسفہ وحدت الوجود کی یوں وضاحت کی ہے :

” وہ اصل جس پر انہوں نے اپنے مسلک کی بنیاد قائم کی ہے یہ ہے کہ تمام مخلوقات اور مصنوعات کا وجود یہاں تک کہ جن، شیطان، کافر، فاسق، کتا، سؤر، نجاست، کفر، فسق، اور گناہ یہ سب خدا کا عین وجود ہیں۔ نہ یہ خدا کی ذات سے ممیز ہیں اور نہ متصل۔ انہیں نہ تو ذات خداوندی سے الگ جا سکتا ہے اور نہ خدا کی ذات میں اور ان میں کسی قسم کا فرق کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ یہ سب چیزیں مخلوق ہیں، موجوب ہیں، مصنوع ہیں۔ لیکن ذات خداوندی کے ساتھ پیوستہ اور قائم ہیں۔ اور کائنات میں یہ تفریق اور کثرت جو نظر آتی ہے یہ حس اور عقل کا ظاہری پہلو ہے۔“ (33)

اس بیان کو محض اس لیے رد نہیں کیا جا سکتا کہ ابن تیمیہ وحدت الوجود کے خلاف ہیں۔ اس اتحاد وجود کو ابن عربی نے علی الاعلان تسلیم کیا ہے۔ ’فصوص الحکم‘ کی عبارتیں اس کی شاہد ہیں۔ بہا الدین آملی نے وحدت الوجود کی تشریح کرتے ہوئے تجلی الٰہی کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے اور قیامت کے دن کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :

”اگر خدائے بزرگ و برتر کی تجلی کسی شخصیت کی صورت میں جائز ہو سکتی ہے تو پھر اس میں کیا مانع ہے کہ صور ارضیہ وسماویہ، اس کی تجلیاتی صورتیں، شؤن ظہور ذات مان لی جائیں۔ اگر یہ اعتراض کیاجائے کہ مذکورہ صورتوں میں تو اللہ کی تجلی صورت حسنہ میں ہوئی، لیکن یہ تصور کیسے کیا جاسکتا ہے کہ جو صورتیں حسن سے محروم، نور سے خالی، نجس اور ناپاک ہوں، انہیں بھی اس پر قیاس کیا جائے۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اشیاء کی نجاست اور ناپاکی بجائے خود کوئی وصف ثابت نہیں ہے۔

نفرت اور رغبت، اچھائی اور برائی ایک نسبتی چیز ہے۔ طبیعت پر جس چیز کا غلبہ ہوگا اسی تناست سے اس کے ضد اور مخالف سے، نفرت اور رغبت کا ظہور ہو گا بعض اشیاء میں نجاست کا جو پہلو نظر آتا ہے یہ حقیقت اس کے مقابل کی نسبت کے اعتبار سے ہے۔ لہٰذا کسی شے کی نجاست اور ناپاکی اپنے مقابل کی نسبت سے مانی جائے گی، نہ کہ مطلق طور پر۔ اسی طرح نظافت اور پاکیزگی کا اظہار بھی نسبت ہی کے لحاظ سے ہو گا۔“ (34)

اب جو شخص بھی غور و تامل سے کام لے گا، اسے یہ بہت واضح طور پر نظر آئے گا کہ قرآنی تصور توحید اور وحدت الوجود میں کتنا عظیم بعد ہے۔ عسکری صاحب کا المیہ یہ ہے کہ وہ قرآن سے وحشت زدہ ہیں۔ ابن عربی کے سحر میں اتنے گرفتار ہیں کہ فصوص الحکم کے بارے میں ان کا گمان ہے کہ یہ قرآن کے رموز پرعمر بھر کے غور و فکر کا نتیجہ ہے۔ اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ قرآن کے رموز پر غور و فکر کے چند نمونے بھی پیش کر دوں۔

سورۃ بقرہ کی آیت ان الذین کفرو سواء علیھم ء انذرت ہم ام لم تنذر ہم لایؤ منون ہ ختم اللہ علیٰ قلوبھم وعلیٰ سمعھم وعلیٰ ابصارہم غشاوۃٌ کی تفسیر یوں فرماتے ہیں :

”جنہوں نے اللہ کا ایمان اپنے دلوں میں چھپا لیا، ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان نہ لائیں گے۔ کیونکہ وہ میرے سوا کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان بھر کر ان پر مہر لگادی ہے۔ اب اس میں کسی اور کی سمائی باقی نہیں رہی ہے۔ (35)

جن لوگوں کو قرآن سب سے زیادہ مردود قرار دیتا ہے، ابن عربی ان کو سب سے بڑا موحد قرار دے رہے ہیں، شاید اپنا شمار بھی اسی گروہ میں کرتے ہوں۔ یہ عبارت فتوحات کی ہے اور بعض لوگوں نے اس کو الحاقی قرار دیا ہے۔ میرے نزدیک اس کو الحاقی قراردینے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ ان کے اصول پر مبنی ہے۔ اور اگر بالفرض یہ عبارت الحاقی بھی ہو تو فصوص الحکمکی ایسی ہی بے شما ر عبارتوں کا کیا کیا جائے جو قرآن کے صریح خلاف ہیں، بلکہ ایک جگہ تو لفظی تحریف سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔

(36) فص موسوی میں یہ فرماتے ہیں کہ فرعون کا دعویٰ اناربکم الاعلیٰ صحیح تھا۔ اس کی موت حالت ایمان میں ہوئی اور وہ موحد تھا۔ بلکہ قاشانی کے نزدیک تو وہ غالی موحد تھا۔ (37) فص نوحی میں فرماتے ہیں حضرت نوحؑ کی قوم صنم پرست نہیں تھی۔ وہ درحقیقت خدا ہی کی عبادت کرتے تھے۔ کیونکہ اصنام کا وجود خدا ہی کا وجود ہے۔ حضرت نوحؑ کی قوم نے ان کا انکار اس بنا پر کیا تھا کہ ان کی دعوت نامکمل تھی (شاید اسی بنا پر عسکری صاحب کو ہندوؤں کی بت پرستی کے پیچھے مابعدالطبیعیات نظر آتی ہے) ’فص ہارونی‘ میں فرماتے ہیں یہودیوں نے دراصل بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی بلکہ وہ بھی خدا ہی کی عبادت کرتے تھے، حضرت موسیٰؑ نے حضرت ہارونؑ کو جو تنبیہ کی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت ہارون کی نظر چونکہ وسیع نہیں تھی اس لیے وہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا سے منع کرتے تھے۔

حضرت موسیٰؑ چونکہ بڑے عارف تھے اور ان کی نظر وسیع تھی اس لیے وہ بچھڑے کی پوجا میں بھی خدا ہی کی عبادت دیکھتے تھے۔ ان افکار عالیہ کی موجودگی میں ابن عربی کو قرآن کا شارح قرار دینا قرآن کے ساتھ ظلم عظیم ہے۔ فصوص الحکم کے مطالعے کے بعد ابن تیمیہ نے اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ ”خداہی جانتا ہے کہ اس شخص کی موت کس عقیدے پر ہوئی ہے“ ۔ (38) ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ”فصوص الحکم اور ابن عربی کی دیگرتصانیف میں جو باتیں مذکور ہیں۔ وہ ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے کفر ہیں۔ اور ان کا باطنی پہلو تو اپنے اندر اور بھی قباحت رکھتا ہے۔“ (39)

اپنی اصل کے اعتبار سے وحدت الوجود مذہبی نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ اصطلاح میں اس کو ’ربط الحادث بالقدیم‘ کہتے ہیں۔ اس کی بنیاد ان تین اصولوں پر ہے :

(1) وحدت سے صرف وحدت جنم لے سکتی ہے۔ وحدت سے کثرت کا صدور محال ہے۔
(2) عدم سے کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی۔
(3) غیر مادی سے غیرمادی اور صرف مادی سے ہی مادی چیز جنم لے سکتی ہے۔

ان تین اصولوں کی اساس پر فلسفہ نے خدا اور کائنات کا تعلق دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کائنات کی کثرت کو فریب نظر قرار دیا۔ ان کے نزدیک کائنات اپنی حقیقت کے اعتبار سے وحدت کی حامل ہے۔ اس مسئلے کی ابتداء افلاطون سے ہوئی۔ افلاطون کی فکر میں یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ خدا اور اعیان کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ کبھی تو وہ کہتا ہے اعیان خارج میں وجود رکھتے ہیں اور وجود خارجی کی دوصورتیں ہیں، یا تو وہ غیر مخلوق اور خدا کے ساتھ ازلی ہوں گے یا پھر مخلوق۔

دوسری طرف وہ اعیان کو خدا کے خیالات بھی قرار دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اعیان کا وجود صرف خدا کے ذہن میں ثابت سے بعد میں فیلو یہودی نے افلاطونی فلسفے کو بنیاد بنا کر عہد نامۂ عتیق کی تفسیر کی۔ اس نے خدا اور اعیان کی درمیانی کڑی کے طور پر لوگوس کا تصورپیش کیا۔ لوگوس کے اندر تمام اعیان بالقوہ موجود تھے۔ عیسائیوں نے اس لوگوس کو مسیح کا عین قرار دے دیا اور مسلمان صوفیوں نے تنزلات ستہ میں مرتبہ واحدیت کو حقیقت محمدی کا نام دے دیا۔

فارابی اور ابن سینا وغیرہ نے عقول عشرہ کا تصور پیش کیا۔ اگر بنظر غیر دیکھا جائے تو فیلو کا ’لوگوس‘ فلاطینوس کا ’نفس‘ (nous) عیسائیوں کا حقیقت مسیحؑ کا تصور، مسلمان صوفیوں کا حقیقت محمدی کا تصور، اورفلاسفہ کا عقل اول، درحقیقت ایک ہی ہیں۔ ان کی تفصیلات بیان کرنے کا محل نہیں۔ اس کے برعکس قرآن یہ تصور پیش کرتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اور ان میں موجود تمام اشیاء کو عدم محض سے تخلیق کیا۔ اب اگر کوئی شخص یہ اعتراض اٹھاتا ہے۔ کہ خدا نے عدم محض سے کیسے تخلیق کیا۔ تو یہ سمجھنا انسانی عقل کے بس کا روگ نہیں۔ خدا اپنی ذات، صفات اور افعال کے اعتبار سے لا محدود ہے۔ کسی ایک معاملے میں یہ متعین کرنے کی کوشش کرنا کہ خدا

کا فعل کس طرح ظہور پذیر ہوا، درحقیقت اس ایک پہلو میں خدا کی ذات کو متعین کرنا ہے۔ کیونکہ فعل ذات ہی کا حصہ ہے۔ اور یہ عقلاً محال ہے۔

اب عسکری صاحب کے نزدیک یہی حقیقی مابعد الطبیعیات ہے جو تمام مشرقی تہذیبوں کامشترک اثاثہ ہے۔ اس مابعدالطبیعیات کی تقریر یوں کرتے ہیں :

”مشرق کی بڑی بڑی تہذیبوں میں ہر قسم کے ثانوی اختلافات کے باوجود بنیادی طور سے حقیقت کا ایک واحد تصور ملتا ہے۔ یہاں حقیقت کے کئی درجے ہیں، لیکن یہ سب درجے ایک بنیادی حقیقت کے اندر سے نکلے ہیں۔ اور اس کی بدولت وجود رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بنیادی حقیقت ہر قسم کے تعینات سے ماورا ہے۔ ظہور کے دائرے سے بھی اوپر ہے۔ اس لیے الفاظ میں اس کا بیان نہیں ہو سکتا ۔ اگر ہم حقیقت کی تفسیر پیش کرنے پر مجبورہی ہوں تو بس اتنا ہو سکتا ہے کہ تعینات کے بارے میں ہم جو کچھ کہہ سکتے ہیں، اس میں ’نہیں‘ لگاتے جائیں، حقیقتوں کے درجات کے لحاظ سے اسلامی اصطلاح میں اسے عالم لاہوت کہتے ہیں۔“

یہ حقیقت عظمیٰ ظہور بھی کرتی ہے۔ اس لیے حقیقت کے کئی درجے ہو جاتے ہیں۔ ظہور کا پہلا درجہ وہ ہے جس میں ہیئت یا شکل کوئی نہیں ہوتی، لیکن ہم تعنیات کے قریب آنے لگتے ہیں یہ عالم جبروت ہوا۔ اس کے بعد ہیئت کا نمبر آتا ہے، یہاں بھی دودرجے بنتے ہیں، پہلے تو ظہور لطیف ہوتاہے، یعنی عالم ملکوت، پھر ظہور کثیف، یعنی عالم ناسوت۔ ”(40)

اس اقتباس میں یہ بات قابل غور ہے کہ عسکری صاحب کے نزدیک لاہوت اور ناسوت اسلامی اصطلاحات ہیں۔ کیا عسکری صاحب اور ان کے مرید ین قرآن، احادیث اور اقوال صحابہ وتابعین سے اس کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔ اصلاً یہ مسیحی اصطلاحات ہیں۔ لاہوت کی اصطلاح مسیح کی الوہی فطرت اور ناسوت اس کی بشری فطرت کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ یہ اصطلاحیں حلاج وغیرہ کے حوالے سے حلول کا عقیدہ رکھنے والے صوفیوں نے اپنا لیں۔ شہاب الدین سہروردی نے ان کے استعمال پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے گمراہ فرقوں کی اختراع قرار دیا۔ (41) اب عسکری صاحب جس اصطلاح کو اسلامی قرار دے دیں وہ محض ان کے فتویٰ کی بنا پر اسلامی نہیں ہو جائے گی۔ بلکہ ان کو اس کا ثبوت بھی پیش کرنا ہو گا۔

عسکری صاحب جس درجۂ لا تعین کی بات کرتے ہیں اور اسے تمام مثبت صفات سے معطل کرکے تنزیہ کا حقیقی تصور قراردیتے ہیں، کیا وہ وجود کی صفت سے بھی عاری ہے؟ کیا درجہ لاتعین میں وہ تمام صفات کمال سے عاری ہے جو قرآن نے خدا کے لیے بیان کی ہیں۔ اگر عاری ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اس نے یہ صفات بعد میں حاصل کی ہیں، یا حاصل کی ہی نہیں۔ دونوں صورتوں میں خدا کی ذات میں نقص لازم آئے گا۔ اگر وہ درجۂ لاتعین میں صفات سے بھی متصف ہے تو کیاتنزیہ کے منافی ہوگا؟

عسکری صاحب نے اس مابعد اطبیعیات کی تشریح کے لیے شاہ وہاج الدین کا یہ قول نقل کیا ہے :

”جب آپ وجود مطلق کو بلا لحاظ تعینات یاد کریں گے تو یہ وجود باری ہے اور جب بلحاظ تعینات محسوس کریں گے تو یہ روحانیات ہے۔ جب بلحاظ اعراض دیکھیں گے تو یہ مادیت ہے، وجود انسانی سے مراد وجود مطلق ہے۔ روح انسانی سے مراد روح ہے جو مجموعۂ تعینات نفسی و آفاقی ہے۔ جسم انسانی سے مراد خلاصۂ مادیات انفس و آفاق ہے۔“ (42)

اس اقتباس سے ابن عربی کے متعلق جو کچھ لکھا تھا اس کی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ وجود کو ایک متحد حقیقت قرار دیتے ہیں، یہاں تک کہ واجب الوجود اورممکن الوجود میں بھی امتیاز نہیں کرتے۔ وجود صرف ایک ہے اگر تعینات اور اعراض سے معریٰ ہو تو خدا ہے اگر تعینات قبول کرے تو روح کل ہے اگر اعراض لاحق ہوں تو انسان ہے۔ یہ عینیت کی انتہا ہے۔ جہاں انسان کا وجود عین خدا کا وجود بن جاتا ہے۔ شاہ وہاج الدین جسے وجود مطلق قرار دیتے ہیں اس کی حیثیت الجبرے کے ’لا‘ سے زیادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو وجود مطلق قرار دینا یوں بھی غلط ہے کہ مطلق منطق کی اصطلاح ہے جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ وہ مجرد ذہنی تصور ہوتا ہے۔ مثلاً انسان مطلق، دنیا میں زید بکر کا تو وجود ہے، مگر انسان مطلق محض ایک کلی ذہنی تصور ہے۔

تنزیہ کو اس حد تک بڑھانے کا نتیجہ یہی ہو سکتا تھا کہ خدا محض ایک ریاضیاتی اکائی بن کر رہ جائے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ابن عربی نے تنزیہ فی التشبیہ اورتشبیہ فی التنزیہ کا تصور پیش کیا۔ عسکری صاحب کو اس پر بڑا اصرار ہے کہ اس کے بغیر توحید مکمل نہیں ہوتی، تشبیہ اصلاً علم کلام کی اصطلاح ہے۔ یہ ان فرقوں کے لیے استعمال ہوتی تھی جو خدا کی صفات کو مخلوق کی صفات سے مشابہت دیتے تھے۔ اسی بنا پر انہیں مجسمہ و مشبہ کہا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خدا چونکہ دیکھتا ہے، سنتا ہے، اس لیے اس کی آنکھیں ہیں اور اس کے ہاتھ پاؤں ہیں، وغیرہ۔ ابن عربی نے حسب عادت اس اصطلاح کے مفہوم کو بھی متغیر کیا ہے۔ اس کے نزدیک تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں میں جو دیکھتی، سنتی، اور ہاتھ رکھتی ہیں رچا بسا ہے۔ ابن عربی کے نزدیک تشبیہ ’IMMANENT‘ کے مترادف ہے۔ گویا تشبیہ یہ ہے کہ وہ ہر اس موجود سے جو سنتا اور دیکھتا ہے سنتا اور دیکھتا ہے۔

دوسری طرف اس کی ذات کسی ایک موجود شے یا گروہ موجودات تک محدود نہیں جو دیکھتے اور سنتے ہیں، بلکہ ایسے تمام موجودات اور دوسرے تمام موجودات میں جلوہ گر ہے۔ خدا اس معنی میں منزہ ہے کہ وہ تمام حدود اور تشخصات سے بالا تر ہے۔ جوہر کل کی حیثیت سے وہ ہر اس چیز کا جو ہر (ذات) ہے، جو موجود ہے۔ اس طرح ابن عربی نے تنزیہہ وتشبیہ کو اطلاق و تقید میں بدل دیا ہے۔ (43) اس کے برعکس قرآن تنزیہ کے ساتھ تشبیہ کا تصور نہیں بلکہ اثبات صفات کا تصور دیتا ہے۔ یعنی خدا تمام کائنات سے منزہ ہونے کے ساتھ ساتھ تمام صفات کمال سے بھی متصف ہے۔ خدا کی ذات مع صفات کے قدیم ہے۔

اب اس بات پر تو بحث کرنے کا موقع نہیں کہ ایک فلسفیانہ تصور کی حیثیت سے وحدت الوجود کی قدر وقیمت اور افادیت کیاہے۔ ، مگر قرآن حکیم کے موجود ہوتے ہوئے اس کو حقیقی اسلامی مابعد الطبیعیات قرار دینا شدید قسم کی گمراہی ہے۔ خدا اور انسان کو متحد ماننے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام شرائع باطل ہو جاتے ہیں، مذہبی قیود کی پابندی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی بہترین بلکہ شاید بدترین مثال عفیف الدین تلمسانی کے خیالات ہیں۔ ابن تیمیہ نے شیخ کمال الدین المراغی سے روایت کیا ہے کہ شیخ کمال الدین عفیف الدین تلمسانی

سے ’فصوص الحکم‘ کا درس لیتے تھے۔ اثنائے درس میں کمال الدین نے فصوص کی قابل اعتراض باتوں پر گرفت کی اور کہا یہ قرآن وحدیث کے صریح ارشادات کے خلاف ہیں۔ تو تلمسانی کو سخت غصہ آ گیا اور کہا باربار قرآن و حدیث کا کیاحوالہ دیتے ہو۔ انہیں اٹھا کر دروازے سے باہر پھینکو اور یہاں صاف دل ہو کر آؤ تاکہ تمہیں ’فصوص الحکم‘ میں خالص توحید ملے۔ شیخ کمال الدین ہی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ تلمسانی نے کہا کہ قرآن میں توحید کہاں ہے وہ تو پورے کا پورا شرک سے بھرا پڑا ہے۔

(اس لیے کہ وہ عبد اوررب میں تفریق کرتا ہے۔) جو شخص بھی قرآن کا اتباع کرے گا وہ کبھی توحید کے بلند مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ شیخ کمال الدین نے ایک مرتبہ تلمسانی سے کہا، اگر عالم کی تمام چیزیں ایک ہیں جیسا کہ تمہارا عقیدہ ہے، تو پھر تمہارے نزدیک بیوی بیٹی اور ایک اجنبی عورت میں کیا فرق ہے؟ تلمسانی نے جواب دیا کہ ہمارے نزدیک تو کوئی فرق نہیں۔ چونکہ ان محجوبوں نے ان کو حرام قرار دے دیا ہے، اس لیے ہم نے بھی کہا ہے کہ یہ چیزیں تم پر حرام ہیں۔ ہم پر تو کوئی چیز بھی حرام نہیں ہے۔

ان باتوں کو نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وحدت الوجود کو ماننے کے منطقی نتائج سامنے آجائیں۔ یہ کسی مجذوب یا معمولی آدمی کی ہفوات نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے شیخ تصوف کے خیالات ہیں۔ مجھے ان کی صداقت پر یوں بھی شبہ نہیں کہ میں اپنے ایک عزیز و مکرم دوست کے والد محترم کی زبان سے یہ سب باتیں سن چکا ہوں۔ میرے دوست کے والد قادریہ سلسلے میں صاحب اجازت صوفی ہیں۔ ان باتوں میں کوئی عقلی استحالہ بھی نہیں کہ یہ وحدت الوجود کے لازمی نتائج ہیں۔ البتہ عفیف الدین تلمسانی کی جرات قابل داد ہے کہ اس نے ڈنکے کی چوٹ انہیں بیان کر دیاہے۔

یہاں کچھ لوگوں کو اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس میں فرق مراتب کے اصول کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ ہمارے نزدیک یہ اصول ہی باطل ہے۔ فرق مراتب سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ کائنات کی ہر چیز اپنی اپنی سطح پر خدا ہے، مگر اسے خدا کہا نہیں جائے گا۔ جب خالق اور مخلوقات کا وجود ایک دوسرے کا عین ہے، وہ نہ منفصل ہیں، نہ ممیز، تو فرق صرف درجے کا رہ جاتا ہے، نوعیت کا نہیں۔ حالانکہ قرآن کی رو سے خدا اور کائنات میں فرق درجے کا نہیں نوعیت کا ہے۔ کائنات کا تعلق ذات خداوندی سے ذاتی اور جوہری نوعیت کا نہیں بلکہ تعلق ہے صانع اور مصنوع کا، خالق اور مخلوق کا، آمر اور مامور کا۔ عسکری صاحب فرق مراتب کے جس اصول پر اتنا اصرار کرتے ہیں، شریعت کی رو سے باطل اور بیکار ہے۔

ہماری ان معروضات سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ عسکری صاحب کے روایت اور مابعد الطبیعیات کے تصور کی حقیقت اور منبع کیا ہے۔ عسکری صاحب جسے نجات اور عرفان کا راستہ بتاتے ہیں، وہ درحقیقت قرآن سے انحراف، گریز اور تجاوز کا راستہ ہے۔ میں عسکری صاحب سے اپنے اختلافی نکات کو نقطہ وار پھر پیش کردیتا ہوں۔

(1) عسکری صاحب کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے اور بے بنیاد ہے کہ تمام ادیان خصوصاً اسلام کا انحصار زبانی روایت پر ہے۔

(2) قرآن سے بالا تر کسی شخص کو دین میں سند قرار دینا شدید قسم کا فتنہ ہے۔

(3) عسکری صاحب اسلام، بدھ مت، ہندو، چینی تہذیبوں کی جس مشترک مابعد الطبیعیات کا ذکر کر رہے ہیں، وہ اصلاً وحدت ادیان کا فلسفہ ہے۔ یہ تصور مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں کی پیداوار ہے۔ ہندوستان میں دارا شکوہ سے لے کر ابوالکلام آزاد تک اس کے بہت سے چیمپئن ہوئے ہیں۔ اسلام کا دوسرے مذاہب سے تعلق الفت و مٔودت کا نہیں، برات کا ہے۔ قرآن میں اس کی سب سے بڑی سند سورۂ ’کافرون‘ ہے۔

(4) وحدت الوجود کا فلسفہ قرآن کے تصور توحید سے متصادم ہے، اپنی اصل کے اعتبار سے یہ فلسفیانہ ہے، مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

اگر عسکری صاحب کے مریدین ان کے افکار وتصورات کو عین اسلام قرار دیتے ہیں، اور انہیں دین حق کا مستند مفسر سمجھتے ہیں تو ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ کہ اپنی تمام باتوں کا ثبوت قرآن حکیم سے پیش کریں جو حق و باطل کے لیے فرقان ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے۔ وہ عربی مبین میں فصیح ترین اسلوب پر نازل ہوا ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قرآن سے استشہاد کرے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جو مفہوم مراد لے رہا ہے کیا قرآن کے الفاظ ”اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے اس پر دلالت کرتے ہیں؟

کیا اس کے جملوں کی ترکیب کا نحوی تقاضا یہی ہے جو آپ بیان فرمارہے ہیں؟ کیا جملوں کے سیاق و سباق کی دلالت سے آپ نے یہ معنی اخذ کیے ہیں؟ کیا یہ متکلم کی عادت مستمرہ ہے کہ وہ اس طرح کے الفاظ جہاں کہیں بھی استعمال کرتا ہے اس سے وہی کچھ مراد لیتا ہے جو آپ نے فرمایا ہے؟ (45) جب تک قرآن سے استشہاد کرتے وقت ان میں سے کوئی دلیل نہ دی جائے، وہ استشہاد نامکمل ہو گا۔ محض فلاں اور فلاں کے ترجموں کا حوالہ دینا کافی نہیں ہوگا۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بعد کی صدیوں میں مروجہ عربی قرآن کی زبان سے بہت مختلف ہے۔ دوسرے ترجموں میں مخصوص فقہی مذاہب، نحوی مسالک، اور متکلمانہ رجحانات کے واضح اثرات موجود ہیں۔ صوفیاء نے ظاہری اور باطنی معنوں کی تفریق کرکے قرآن کو منسوخ کرنے کا ایک بڑا نازک سا طریقہ ایجاد کیاہے۔ ہر وہ باطنی مفہوم باطل ہوگا جس کی تائید ظواہر الفاظ سے نہ ہوتی ہو۔ ابن عربی نے قرآن کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، وہ اتنا بھیانک ہے کہ فصوص الحکم پڑھتے وقت انسان کانپ کانپ جاتا ہے۔

اس امر پر حیرت ہوتی ہے کہ کوئی شخص قرآن کو اپنی خواہشات کے تابع کرنے کے لیے اس حد تک دیدہ دلیر بھی ہو سکتا ہے۔ الفاظ کو معروف معنوں سے ہٹا کر انہیں خود ساختہ معنی پہنائے ہیں۔ جملوں کی نحوی ترکیب کو مسخ کیا ہے، آیتوں کے خطاب اور مفہوم کے مقتضاء تک کو بدل ڈالا ہے۔ وعید کی آیات کو وعدے کی آیات میں بدل دیا ہے۔ تصوف اور وحدت الوجود کا تمام تر انحصار ایسے ہی حربوں پر ہے۔ نراد سی چودھری نے شنکر اچاریہ کے بارے میں لکھا ہے“ سنسکرت لغت اور گرامر میں تحریف کرنا اس کی عام عادت تھی ”۔

(46) اقبال نے امت مسلمہ کے زوال کے تین اسباب بیان کیے ہیں : ملوکیت، ملائیت اور تصوف، مجھے ان پر کوئی شبہ نہیں۔ اسباب یقیناً اور بھی ہیں، مگر ان تینوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ملوکیت کے استبداد نے عامۃ المسلمین کی شخصیتوں کی آزادانہ نشوونما میں رکاوٹ پیدا کی، انہیں پست اخلاقی اور پست ہمتی کی طرف مائل کیا۔ دور متاخر کے فقہاء نے تقلید جامد پر اصرار کر کے اور اجتہاد کے دروازے کو بند کر کے اسلاف پرستی کی راہ ہموار کی۔ مزید ستم یہ کیا کہ حیلوں کی ایجاد سے شریعت کا حلیہ بالکل ہی مسخ کرکے رکھ دیا۔ تصوف نے علم اور عقل کی مذمت کی۔ جبر کی اخلاقیات کا پرچار کیا۔ شریعت کی جگہ اپنے ذوق اور کشف کو دے دی۔

صدیوں کے انحطاط سے آج مسلمان جس مقام پر کھڑے ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم نے قوم نوح سے لے کر بہت سی گمراہ امتوں کی سرگزشت بیان کی ہے اور ان کی فرد جرم گنوائی ہے جس کی بنا پر وہ خدا کے غضب کا شکار ہوئیں۔ آج مسلمانوں کے احوال پر نظر ڈالی جائے تو وہ کون سا جرم ہے جس کے ہم مرتکب نہیں۔ وہ کون سی پرستی ہے جو اس قوم میں نہیں پائی جاتی۔ آبا پرستی، قبر پرستی، نفس پرستی، طاغوت پرستی وغیرہ۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ان تمام افعال کو عین اسلام بھی قرار دیتے ہیں۔

ابن تیمیہ نے شیخ نصر المنبجی کے نام اپنے مکتوب میں لکھا تھا۔ : میں اکثر خیال کرتا ہوں کہ تارتاریوں کے ظہور اور غلبہ شریعت اسلام کے مٹنے کا ایک بہت بڑا سبب اس قسم کے لوگوں کی (ابن عربی اور اس کے متبعین) پیدائش ہے۔ ”(47)

آج جب عسکری صاحب وحدت الوجود کو حقیقی اسلام قرار دیتے ہیں اور قرآن سے ثبوت طلب کرنے کو گمراہی کہتے ہیں۔ تو یقین ہوجاتا ہے کہ اس امت کے برے دن ابھی باقی ہیں

حوالہ جات
1۔ محمد حسن عسکری: وقت کی راگنی، ص 113۔
2۔ جدیدیت، ص 18۔

3۔ عہد نامہ عتیق کے بارے میں مندرجہ بالا معلومات سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سیرت سرور عالم جلد اول، ص۔ 628۔ 29 اور عہد نامہ جدید کے بارے میں مذکورہ کتاب کے علاوہ ملاحظہ ہو: WILL DURANT: CAESAR AND CHRIST

4۔ مجموعۂ تفاسیر فراہی۔ ترجمہ امین احسن اصلاحی
(5) JOHN B. NOSS: MAN ’S RELIGIONS, P. 313
(6) ہندومت سے متعلق معلومات ان کتابوں سے ماخوذ ہیں : K۔ M۔ SEN: HINDUISM
NIRAD C. CHAUDHURY: HINDUISM
JOHN B. NOSS: MAN ’S RELIGIONS
7۔ وقت کی راگنی، ص 135۔
8۔ ایضاً، ص 9۔
10۔ منازل السائرین، باب العلم، اردو ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی۔ تزکیہ نفس، ص 58۔

10۔ فصوص الحکم، مرتبہ ابوالعلاعفیفی۔ فص شیشی، ص 63 (فانہ اخذ من المعدن الذی یاخذ منہ الملک الذی یوحی بہ الی الرسول)

11۔ عبدالعظیم عبدالسلام شرف الدین، حیات ابن قیم۔ ترجمہ غلام احمد حریری، ص 613۔
12۔ حیات ابن قیم، ص 605، 620۔ 21
13۔ ایضاً، ص، 607۔
14۔ ایضاً، ص، 612۔
15۔ جدیدیت، ص، 126۔
حیات ابن قیم، ص 607۔
17۔ ایضاً، ص 165۔
18۔ ایضاً، ص 163۔
19۔ ایضاً، ص 163۔ 65۔
20۔ ایضاً، ص 155۔
21۔ شہاب الدین سہروردی۔ عوارف المعارف، ترجمہ حافظ رشیداحمد ارشد، ص 206۔ 07۔
22۔ امین احسن، اصلاحی، تدبر قرآن، جلد چہارم، ص 67۔
23۔ RENE GUENON:AN INTRODUCTION TO THE STUDY OF HINDU DOCTRINE، P۔ 121
24۔ وقت کی راگنی، ص 93۔
25۔ ہندومت پر مذکورہ کتابوں کے علاوہ حبیب الرحمٰن شاستری کی کتاب ’آئینۂ حقیقت‘ ص 20۔ 21۔
26۔ JOHN B۔ NOSS: MAN ’S RELIGIONS، Chap 9
27۔ امین احسن اصلاحی، ’حقیقت دین‘ ص 17۔ شرک کی تمام بحث مولانا کی اسی کتاب سے ماخوذ ہے۔

28۔ نیسیہ عقیدے کا ترجمہ مولانا اصلاحی کی کتاب ہی سے لیا گیا ہے۔ البتہ انگریزی متن سے تقابل کے بعد کچھ لفظی ترمیمات کی ہیں۔ انگریزی متن کے لیے ملاحظہ ہو: JOHN B۔ NOSS: MAN ’S RELIGIONS

مجموعۂ تفاسیر فراہی، ص 525۔
30۔ مجلۂ اقبال، اکتوبر 1953 ء، ص 80۔
31۔ محمد یوسف کوکن عمری۔ امام ابن تیمیہ ص 61۔ 62۔
32۔ فصوص الحکم، فص ادریسی، ص 79۔
33۔ محمد ابوزہرہ: حیات ابن تیمیہ رئیس احمد جعفری، ص 515۔
34۔ ایضا، ص 308۔ 09۔
35۔ امین احسن اصلاحی: ’مبادی تدبر قرآن‘ ص 71۔

36۔ فصوص الحکم، فص موسوی، ص 209۔ یہاں آیت کے لفظ ’مسجونین‘ کی ’س‘ کو زائدہ قرار دے کر لفظی اور معنوی تحریف کی گئی ہے۔

37۔ تعلیقات عفیفی، ص 311۔
38۔ ابن تیمیہ مکتوب بنام نصر المبنحی۔ واللہ عالم بما مات الرجل علیہ
39۔ حیات ابن قیم، ص 582۔
40۔ وقت کی راگنی، ص 11۔
41۔ عوارف المعارف، ص 120۔
42۔ وقت کی راگنی، ص 109۔

43۔ متصوفانہ فلسفۂ ابن عربی، ازعفیفی، ترجمہ ابوالقاسم محمد انصاری۔ سہ ماہی رسالہ اردو، جلد 58۔ شمارہ نمبر 2، ص 22۔ 23۔

44۔ محمد یوسف کوکن عمری۔ امام ابن تیمیہ۔ ص 313۔
45۔ جاوید احمد: رجم کی سزا۔ چند مباحث، سلسلۂ منشورات۔ الاعلام، مئی 1982 ء، ص 24۔
46۔ NIRAD C۔ DHAUDHURY: HINDUISM، P۔ 87
47۔ کوکن عمری۔ امام ابن تیمیہ ص 327۔
ؓ
[الاعلام۔ ستمبر 1982 ]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •