نوشابہ کی ڈائری: جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے



12 اکتوبر 1991

اب یقین آیا کہ دنیا بہت چھوٹی ہے۔ صدام حسین نے قبضہ کیا ہے کویت پر، لڑ رہے ہیں سعودی حکم راں اور صدام حسین، حملہ کیا امریکا نے عراق پر، اور نام بدل گیا ہمارے ننھے منے فہد کا۔ میرے منہ پر اب تک اس کا نیا نام نہیں چڑھا ہے، اکثر اسے ”صدام“ کی جگہ ”فہد“ کہہ جاتی ہوں، اور تو اور خود بھائی جان جنھوں نے نام تبدیل کیا انھیں بھی اب تک اپنے بیٹے کا نام یاد نہیں ہوا۔ ان دنوں آل سعود سے نفرت اور صدام حسین سے محبت کی جو ہوا چلی ہے اس نے بھائی جان کو بھی متاثر کیا ہے، اسی وجہ سے فہد کا نام تبدیل ہوگیا، شاید ایسا نہ ہوتا اگر اس دن نکڑ والے اعظم قادری صاحب کی والدہ، جنھیں سارا محلہ بی بی کہتا ہے، بھائی جان کو جھاڑ پلانے کے ساتھ عالمی سیاست پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار نہ فرماتیں۔

بی بی کسی بھی بات پر کسی کو بھی کھری کھری سنا دیتی ہیں، اس لیے سب ان سے بچنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ وہ جس طرح دروازہ کھٹکھٹائے بغیر کسی بھی گھر میں گھستی چلی آتی ہیں، اسی طرح محلے والوں کے خالص نجی معاملات میں بھی بلاتکلف داخل ہوجاتی ہیں۔ اس دن بی بی ہمارے ہاں بیٹھی تھیں کہ بھائی جان نے گھر میں قدم رکھتے ہی انھیں سلام کیا اور فہد کو پکارا۔ بس پھر کیا تھا، بی بی شروع ہوگئیں، ”ائے تم نے یہ کس بدماس کے نام پر بچے کا نام رکھ دیا۔

دیکھو حرامی کیسا امریکا سے مل کر صدام کے پیچھے پڑا ہے۔ کرلو جو کرنا ہے، صدام پر بجرگ کا سایہ ہے، اسے پیران پیر کا پھیج حاصل ہے۔ دیکھنا کیسے اس موئے بس اور ساہ پھہد کی ایسی کی تیسی کرے گا۔ میرا اعجم کہوے ہے صدام سعودی عرب پر بھی کبجہ کرکے یہ ے ے ے بڑا ملک بنائے گا مسلمانوں کا پھر امریکا اسرائیل سب کو گرک کردے گا۔“ بھائی جان تو پہلے ہی آل سعود پر برہم اور صدام حسین پر فدا تھے، جھٹ فہد کا نام بدل کر صدام رکھ دیا۔

بی بی ہی کیا ان دنوں تو سب ہی صدام، جارج بش، اور شاہ فہد کا ذکر ایسے کرتے تھے جیسے یہ سارے پچھلی گلی میں رہتے ہوں۔ یہ صرف بی بی کے اعظم ہی کا خیال اور خواب نہیں تھا، بہت سے لوگ یہ سوچ کر خوش تھے کہ مسلمانوں کو ایک نجات دہندہ مل گیا ہے، جو امریکا اور اسرائیل کو ملیامیٹ کردے گا۔ زہرہ باجی سے فون پر بات ہوئی، وہ بھی عراق کے حق میں یوں بول رہی تھیں کہ لگتا تھا بس نہیں چل رہا ورنہ جاکر عراق کی فوج میں بھرتی ہوجائیں۔

مجھے کچھ یاد آ گیا۔ پوچھا ”زہرہ باجی! آپ تو صدام حسین کے بہت خلاف تھیں۔“ کہنے لگیں ”اب بھی ہوں، لیکن اس کی حمایت اس لیے کرنی چاہیے کیوں کہ امریکا اور آل سعود کے خلاف میدان میں نکلا ہے۔“ ان دنوں صدام حسین کی حمایت میں جلوس نکلتے تھے، جلسے ہوتے تھے، جس دن زہرہ باجی سے بات ہوئی جمعہ تھا، ادھر زہرہ باجی صدام کے حق میں بول رہی تھیں، ادھر کچھ دور انجمن سپاہ صحابہ کی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے کانوں میں اترتی تقریر میں صدام کو مرد مجاہد کہا جا رہا تھا۔

میں نے سوچا چلو کہیں تو اتفاق ہوا۔ بھائی جان صدام کی ایک تصویر لے کر آئے اور کمرے میں لگا دی، جس میں وہ جائے نماز پر بیٹھا نماز پڑھ رہا ہے۔ ہمارے ہاں اب ”قومی اخبار“ تقریباً ہر روز آتا ہے، کبھی ابو لے آتے ہیں کبھی بھائی جان، دوپہر کو چھپ جاتا ہے لیکن کہلاتا ہے شام کا اخبار۔ قومی اخبار سے تازہ واقعات کا علم ہوجاتا ہے۔ قومی اخبار صدام کی اس طرح حمایت کرتا ہے جیسے کراچی نہیں بغداد سے شایع ہورہا ہو۔ ایک دن اس کی سرخی تھی ”بش․․․․ہش“ لوگوں نے پڑھ کر بہت مزے لیے۔

عجیب ماحول تھا، حکومت سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ، عوام صدام حسین پر نثار اور فوج کا سربراہ جنرل اسلم بیگ عوامی نمائندہ بنا صدام کی حمایت کر رہا تھا۔ مولانا نورانی تو صدام سے ملنے بھی گئے تھے، وہ بڑے جوش سے عراق کی حمایت کرتے رہے۔ حیرت ہے، وہ پاکستان کے آمر ضیا الحق کے جتنے بڑے مخالف تھے عراقی آمر کے اتنے ہی بڑے حامی بن گئے۔ آل سعود سے نفرت اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگوں نے سعودآباد کا نام بدل کر صدام آباد رکھ دیا ہے، لیکن سب کی زبانوں پر سعودآباد ہی چڑھا ہوا ہے۔

سنا ہے یہ علاقہ سعودی عرب کے بادشاہ کے پیسے سے بسا تھا اس لیے اسے سعودآباد کا نام دیا گیا۔ آل سعود کے خلاف نفرت کی لہر کے باوجود کسی نے شاہ فیصل کالونی کا نام بدلنے کا مطالبہ نہیں کیا، حالاں کہ شاہ فیصل بھی تو اسی خاندان کے تھے۔ آخر شہروں، بستیوں، مقامات، اداروں کے نام بدلنے کی ضرورت کیا ہے؟ شاید اس لیے کہ ہر نام کے ساتھ بہت سی یادیں جڑی ہوتی ہیں، نظریے، مذہب، تاریخ، قوم، شخصیت کی صورت میں، ہم ان یادوں کو مٹانا چاہتے ہیں۔ جنگ ختم ہوئی تو صدام سے آس لگائے مسلمان پہلے سے زیادہ مایوس ہوگئے۔

امتحان کے دن قریب آرہے ہیں، یہ دن ایک اور دن بھی قریب لارہے ہیں، جب میں ذیشان کی ہو جاؤں گی۔ ذیشان کے گھر والوں کا اصرار ہے کہ جلد از جلد شادی کر دیں کیوں کہ حالات کا کچھ پتا نہیں۔ حالات واقعی بہت پرسرار ہیں۔ ایم کیوایم سے بدراقبال، آفاق احمد اور عامر خان کو نکالنے کے بعد الطاف حسین الزام لگارہے ہیں کہ ان کے قتل اور ایم کیوایم کو کچلنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پہلے بدراقبال کے امریکا جانے کی خبر آئی، پھر پتا چلا آفاق اور عامر امریکا چلے گئے ہیں۔

اچانک ایک دن اعلان ہوا کہ ان تینوں کو تنظیم سے نکال دیا گیا ہے۔ ان پر بدعنوانیوں، کروڑوں روپے خوردبرد کرنے اور قائد تحریک الطاف حسین کو قتل کرنے کی سازش کے الزامات لگائے گئے۔ کتنے ہی دن الطاف حسین عباسی شہید اسپتال میں رہے، ایم کیوایم والے کہتے تھے کہ بدراقبال، آفاق اور عامر کی غداری کے صدمے سے بیمار ہو گئے ہیں۔ الطاف حسین نے خود بھی کہا کہ میری بیماری کا اصل سبب غداروں کی بے وفائی ہے۔ ایم کیوایم نے ”تجدید عہد وفا“ کی مہم چلائی، ہر علاقے میں جلسے ہوئے۔ میں بھی اے پی ایم ایس او کے تجدید عہد وفا کے جلسے میں گئی تھی۔ ہمیں کالج سے بس میں بھر کر لے جایا گیا تھا۔ میری کلاس میں بینا، آسیہ، مہر اور نگار اے پی ایم ایس او کی کارکن ہیں، اور شہنیلا تو یونٹ انچارج ہے، کہنے لگی چل رہی ہو، میں نے کہا ٹھیک ہے چلو۔ جلسہ عزیزآباد کے جناح گراؤنڈ میں تھا، ہم سب کو قطار میں ایک کے پیچھے ایک بٹھا دیا گیا۔ سب کو سرخ رنگ کی ایک ایک پٹی دے کر بازو پر باندھنے کو کہا گیا۔

میں نے شہنیلا سے اس پٹی کا مطلب پوچھا تو کہنے لگی، یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ ہم اپنے قائد کے لیے اپنا خون بھی دے دیں گے۔ جلسے میں نعرے لگ رہے تھے ”جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے“، ”قائد کے فرمان پر جان بھی قربان ہے“، ”مرا پیر بچ الے اے مولیٰ، بدر کو اٹھالے اے مولیٰ، آفاق کو اٹھا لے اے مولیٰ، عامر کو اٹھا لے اے مولیٰ۔“ عظیم احمد طارق نے تقریر کی۔ بہت اچھا بولتے ہیں۔ ابو تو الطاف حسین سے زیادہ عظیم احمد طارق کی تقریر پسند کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایم کیوایم کا اصل دماغ وہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دانش ور اختررضوی ایم کیوایم کا دماغ تھے، ایم کیوایم کو پانچویں قومیت کے فلسفے کا فکری مواد انھوں نے ہی فراہم کیا۔

جلسے سے آکر امی کو بتایا تو بولیں ”ان چکروں میں مت پڑ جانا۔ بہت جلد تم اپنے گھر کی ہونے والی ہو۔“ میں کسی چکر میں نہیں پڑ رہی، لیکن کوئی چکر چل ضرور رہا ہے۔ آفاق اور عامر کو تو الطاف حسین اپنا شیر کہتے تھے، انھیں ایم کیوایم کا جرنیل سمجھا جاتا تھا، آفاق کی لانڈھی میں قائم ”مہاجر خیل“ اور عامر کی لیاقت آباد میں ”پیلی کوٹھی“ کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایم کیوایم کے ٹارچرسیل اور قیدخانے ہیں جہاں لوگوں کو قید رکھا اور ان پر تشدد کیا جاتا رہا ہے۔

پھر یکایک کیا ہوا کہ الطاف حسین کے یہ بازو ان ہی کا گلا دبانے پر تل گئے؟ اخبارات میں صرف ایم کیو ایم کا موقف چھپ رہا ہے، جہاں کچھ اور چھپ رہا ہے ان اخبارات اور رسالوں سے ایم کیوایم ناراض ہے۔ بی بی سی کے نمائندے ظفرعباس پر حملہ کر کے انھیں زخمی کر دیا گیا، الطاف حسین نے ڈان، ہیرالڈ، اسٹار اور تکبیر کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا، جس کے بعد ان اخبارات اور رسائل کے ساتھ جسارت کی کاپیاں بھی تقسیم کرنے والوں سے چھین کر جلا دی گئیں، تکبیر کے دفتر میں آگ لگادی گئی۔

ڈان نے تو کراچی اور اندرون سندھ اپنی اشاعت معطل کر دی تھی۔ آخر ان اخبارات میں ایسا کیا چھپ رہا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ابو کے دوست نسیم بیگ صاحب کے گھر سے کبھی کبھی جسارت لے آتی ہوں، دوپٹے میں چھپا کر۔ وہ جسارت میں ملازمت کرتے ہیں اس لیے انھیں اخبار مل ہی جاتا ہے۔ جسارت میں پڑھا کہ عامرخان نے امریکا سے ٹیلی فون پر اپنے حامی کارکنوں سے خطاب کیا اور کہا، ”ہم نے ایم کیو ایم سے کنارہ کشی کی درخواست کی تو ہمیں بیرون ملک بھجوا دیا گیا اور ہمارے پیچھے ہمارے خلاف طرح طرح کا پروپیگنڈا کیا جانے لگا۔ ہم نے الطاف حسین کو مافوق الفطرت بنایا ہوا تھا۔ تیزی سے بدلتی ہوئی اور نہ سمجھ میں آنے والی حرکتوں پر جب ہم نے کنارہ کشی کی درخواست کی تو ایم کیو ایم کی قیادت نے ہمیں ملک سے باہر رہنے کا مشورہ دیا اور یہ بھی طے کیا کہ ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ یہ لوگ بیرون ملک تحریکی کام کرنے گئے ہیں اور اس طرح مہاجر عوام کو مطمئن کر دیا جائے گا۔ لیکن ہمارے خلاف بغاوت، غداری سمیت دیگر سنگین الزامات لگائے گئے۔ ہم عید کے بعد کسی بھی مناسب وقت پر وطن واپس آکر لوگوں کے سامنے حقیقت بیان کریں گے۔

جسارت میں یہ خبر بھی چھپی تھی کہ ”ایم کیو ایم کے خلاف ایک مضبوط اور متبادل گروہ کی تشکیل کا منصوبہ ترتیب دے دیا گیا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق اس گروہ کی قیادت آفاق احمد اور عامر خان کریں گے، جو ان دنوں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزام سے بچنے کے لیے امریکا جاچکے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ کا باقاعدہ اعلان صرف اسی وقت کیا جائے گا جب ایم کیو ایم کے قائد اپنی تحریک کو قومی سطح پر وسعت دینے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے قیام کا اعلان کریں گے۔ ذرائع کے مطابق آفاق احمد، عامر خان اور زبیر احمد کے علاوہ ان کے دیگر ساتھی جو ان دنوں امریکا میں مقیم ہیں ایم کیو ایم کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کرنے کے سخت مخالف ہیں۔“

خبر میں یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ یہ منصوبہ کس نے ترتیب دیا ہے؟

ایم کیوایم کو متحدہ قومی موومنٹ بنانے کی مخالفت تو کی جارہی ہے۔ شہاب بھائی بھی اس کے مخالف لگتے ہیں۔ جب میں نے اس بارے میں بات کی تو انھوں نے بس اتنا کہا ”دیکھو کیا ہوتا ہے“ لیکن ان کے چہرے کے تاثرات سب کہہ گئے۔

لگتا ہی نہیں تھا کہ ایم کیوایم میں کوئی الطاف حسین کا مخالف بھی ہو سکتا ہے۔ سب کی زبان پر ہر وقت ”پیر صاحب، پیر صاحب“ رہتا تھا۔ پچھلے مہینے ہی تو الطاف حسین کی سال گرہ کس شان سے منائی گئی، دو ہزار پونڈ کا کیک کاٹا گیا وہ بھی چمکتی ہوئی تلوار سے، انھیں سونے کا تاج پہنایا گیا۔ کیسا جوش وخروش تھا لوگوں میں۔ لگ رہا تھا کسی بادشاہ کا جشن ولادت ہے۔ دوسری طرف خود ان کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم ہی میں ایسے لوگ ہیں جو ان کی جان لینا چاہتے ہیں۔

ان کی جان کوئی کیسے لے سکتا ہے، پورے شہر پر تو ایم کیوایم کا کنٹرول ہے۔ جب الطاف حسین نے پریس کانفرنس کرکے سگریٹیں توڑیں اور سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی تو کراچی کے سگریٹ پینے والوں کا جینا محال ہوگیا تھا، کہیں سگریٹ نہیں مل رہی تھی۔ ذیشان کتنا پریشان تھے سگریٹ نہ ملنے پر۔ کہہ رہے تھے ان کا ایک دوست کسی ٹوبیکو کمپنی میں ہے اس نے بتایا کہ سب بھتے کا چکر ہے۔ بات تو سچ لگتی ہے، یہ بیٹھے بٹھائے سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلانے کی کیا سوجھی؟

خدا جانے تمباکو نوشی کے خلاف مہم کے پیچھے کیا حقیقت ہے، لیکن الطاف حسین نے جب جہیز کے خلاف بات کی تھی تو مجھے بہت خوشی ہوئی تھی۔ میں اس جلسے میں نہیں جاسکی تھی، باجی گئی تھیں۔ بتارہی تھیں جلسے میں ہزاروں عورتیں تھیں، کیوں نہ ہوتیں پہلی بار کسی جماعت نے خالصتاً عورتوں کا جلسہ کیا تھا۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کی شادی نہ ہونے اور شادی کی عمر نکل جانے کا تذکرہ اس طرح کیا کہ کتنی ہی عورتیں رو پڑی تھیں۔ الطاف حسین نے جب یہ کہا کہ نوجوان اعلان کردیں کہ وہ جہیز نہیں لیں گے تو خوب تالیاں بجیں اور ان کے نعرے لگے۔ طارق عزیز نے ”نیلام گھر“ میں الطاف حسین کا نام لے کر جہیز کے خلاف ان کے خیالات کی تعریف کی تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں نے کسی ٹی وی پروگرام میں الطاف حسین کا نام سنا۔

جسارت میں یہ بھی پڑھا کہ ایم کیوایم کے باغی کارکنوں کو پولیس گرفتار کر رہی ہے۔ ان لوگوں کو اخبارات باغی اور منحرف لکھتے ہیں، ایم کیوایم والے انھیں غدار کہتے ہیں، وہ لوگ خود کو اینٹی گروپ کہتے ہیں، باجی بتا رہی تھیں لانڈھی میں دیواروں پر اینٹی گروپ کی چاکنگ بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب جرائم پیشہ ہیں، انھیں نکال کر تنظیم کو صاف ستھرا کرنا ضروری تھا۔ بے اعتباری کا یہ عالم ہے کہ ایم کیوایم کی طرف سے اپنے تمام اراکین اسمبلی سے استعفے لے کر جمع کرلیے گئے ہیں۔

جن علاقوں میں عامر اور آفاق کا اثر تھا جیسے لانڈھی، کورنگی، لیاقت آباد، شاہ فیصل کالونی، ملیر وہاں کے کارکنوں پر شک کیا جا رہا ہے اور ان کو ایم کیوایم کے مرکز اور الطاف حسین سے دور رکھا جا رہا ہے۔ الطاف حسین سے وفاداری کے اظہار کے لیے کارکنوں نے کفن پوش ریلی بھی نکالی جس سے الطاف حسین نے عباسی شہید اسپتال میں خطاب کیا۔ شکر ہے طبیعت اتنی تو بہتر ہے کہ خطاب کر سکتے ہیں! ان کے دشمن بھی ان کی زندگی کی دعا کر رہے ہیں، کیوں کہ الطاف حسین نے کہا ہے ”میں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے قتل کا بدلہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

اگر مجھے قتل کیا گیا وہ قتل کرنے والا چاہے کوئی گروہ ہو، کوئی سرکاری ایجنسی ہو یا ملک کی کوئی طاقت ور شخصیت ہو اور وہ کتنے بھی پہرے میں کیوں نہ ہو میرے ساتھی جو سر سے کفن باندھے ہوئے ہیں کچھ اور بھی سر سے باندھ کر اپنے ساتھ اسے بھی اڑا دیں گے۔“ یعنی اپنے ہدف کو مارنے کے لیے خود کو بھی مار لیں گے۔ نہیں بھیا! اللہ الطاف حسین کو محفوظ رکھے، اگر پاکستان میں اس طرح کے حملے شروع ہو گئے تو کیا ہو گا!

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری: ایم کیوایم والے کہہ رہے ہیں، ”فائنل راؤنڈ“ ہونا ہےنوشابہ کی ڈائری قسط 16-کراچی پر ایم کیوایم حقیقی کا راج قائم ہو چکا ہے

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).