دو بار یتیم ہونے والا بچہ اور نفرت کی مار
اس وقت راشد سولہ سال کا تھا، باپ کے جانے کے بعد میرے بچوں کو انیس نے وہ سب کچھ دیا جو باپ اپنے بچوں کو دیتے ہیں۔ اس دن وہ انیس اور راشد شام کے وقت زمینوں سے اکٹھے واپس آرہے تھے۔ مخالف سمت سے آنے والی اسکوٹر ان کی پک اپ کے سامنے آ کر رکی تھی اور پیچھے سے آنے والی اسکوٹر نے ڈرائیو کرتے ہوئے انیس کے سر پر گولی مار کر انہیں بھی شہید کر دیا تھا اور اسرار کے قاتلوں کی طرح غائب ہو گئے تھے۔ اس نے نم آلود آنکھوں کے ساتھ کہا تھا۔
میں ہکابکا اسے دیکھ رہا تھا۔ ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اپنے عبادت خانوں میں اپنی مسجد کے جھروکوں میں مدرسوں کے کمروں میں اپنے خفیہ اجلاس میں تعلیمی اداروں کی چھتوں کے نیچے اور دفتروں کی دیواروں کے اندر فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی کی جان لے لی جائے، اپنے شاگردوں کو بلا کر انہیں نام اور پتہ دیتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کون اسکوٹر چلائے گا، کون موبائل فون پر رابطہ کرے گا، کون گاڑی کو سامنے سے روکے گا، کون پیچھے سے آ کر ایک بچے کے سامنے اس کے باپ کے سر کے پرخچے اڑا دے گا، کون ان قاتلوں کو چھپائے گا اور کون کمشنر ڈپٹی کمشنر اور پولیس والوں کو فون کرے گا کہ اس قتل کی پرچی بھی نہ کٹے۔
کون ہیں یہ لوگ میں سوچ رہا ہا اور جیسے میرے دل کے ٹکڑے ہو رہے تھے۔ کاش یہ مارنے والے، قتل کرنے والے، ریوالور کی گولی چلانے والے اس باپ بیٹے سے مل تو لیتے۔ اس سے پوچھ تو لیتے، ان کی زندگی کے بارے میں ان کے رشتوں کے بارے میں، اس ماں کے بارے میں جو پہلے ہی اپنے شوہر کو گنوا بیٹھی ہے، اس باپ کے بارے میں جس کے دوسرے بیٹے کو قتل کر رہے ہیں۔ میں صرف سوچتا ہی رہ گیا تھا اور نہ جانے کب تک سوچتا رہوں گا۔ ہمارے جیسے لوگ تو صرف سوچتے ہی رہتے ہیں۔ کاش! سوچنے سے دنیا بدل سکتی، پھول کھل سکتے، امن ہو سکتا، جانیں بچ سکتیں۔ کچھ بھی تو نہیں ہوتا ہے سوچ سے۔
دو مہینے تک راشد سکتے میں رہا تھا۔ ہر وقت ڈرا ہوا، ہر آواز سے خائف، ہر اسکوٹر کو دیکھ کر پریشان ہوجاتا۔ پھر میرے سسر نے زمین اونے پونے بیچ دی تھی اور میں ان کے ساتھ اپنے بچوں کو لے کر کینٹکی آ گئی تھی۔ بچوں کو اسکول میں داخل کیا تھا خود امریکی امتحان دے کر اس قابل ہوئی کہ ڈاکٹری کر سکوں۔ اب وہیں کینٹکی کے ایک ہسپتال میں کام کرتی ہوں۔ اس نے اپنی بات مکمل کرلی تھی۔
راشد کیسا ہے۔ میرے ذہن میں فوری طور پر یہی سوال آیا تھا۔
راشد بہت برے وقت سے گزرا۔ امریکا آنے کے بعد تینوں ہی بچے اسکول میں داخل ہو گئے تھے۔ دونوں بچیاں اس وقت میڈیکل کالج میں ہیں لیکن راشد کو بڑی مشکل ہوئی تھی۔ کچھ خوف، کبھی غصہ، کبھی نفرت، کبھی اداسی۔ وہ مستقل طور پر ایک چکر سے دوسرے چکر میں مبتلا ہوجاتا تھا مگر میرے سسر نے سب کچھ سنبھال لیا۔ وہ اپنے آنسو نہیں روک سکی تھی۔ موٹے موٹے موتی اس کی آنکھوں سے ابل پڑے تھے۔ اس نے اپنے آنچل سے آنسوؤں کو پونچھا، پھر آہستہ سے بولی تھی۔
ان کے دو جوان بیٹوں کو قتل کر دیا گیا تھا، ان کی بیوی، میری ساس، برسوں پہلے دنیا سے جا چکی تھیں، ان کے تو آرام کے دن تھے مگر وہ سب کچھ بیچ کر اپنے بیٹوں کی اولاد کے لیے امریکا آ گئے۔ انہوں نے مجھے سہارا دیا تو میں امتحان پاس کر کے ڈاکٹر بن گئی۔ وہ بچوں کے ساتھ لگے رہے اور انہوں نے سب سے بڑا کام یہ کیا کہ راشد کے دل میں نفرت نہیں پلنے دی۔ وہ انیس کی طرح سے ہی کمپیوٹر انجینئر بن گیا ہے ۔ یہیں نیویارک میں بہت اچھا کام کر رہا ہے، بہت اچھے عہدے پر بالکل نارمل انسانوں کی طرح۔ میں صرف دو دن کے لیے آئی ہوں اس کی شادی کی بات چیت پکی کرنے کے لیے۔ آپ اسے دیکھیں گے، ملیں گے تو خوش ہوں گے۔ اس کا ڈر، خوف، یاسیت سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے باپ کے قاتلوں سے نفرت نہیں کرتا ہے سر۔
اس کی آنکھوں میں پھر آنسو آ گئے۔ وہ رک گئی تھی، وہ کہتے تھے کچھ بھی ہو بیٹا اس کے دل میں نفرت نہیں ہونی چاہیے، نفرت سے یہ مرے گا نہیں مگر تباہ ہو جائے گا پھر یہ دوسروں کو مارنا شروع کردے گا، ویسے ہی جیسے انہوں نے اس کے باپ کو مار دیا تھا اور مارنے کا سلسلہ نہ ختم ہونے والا ہے۔ نفرت اور جہالت دو ایسی چیزیں ہیں جن کو ہوا دو تو وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہیں۔
احمد اور راشد تقریباً ساتھ ساتھ ہی آ گئے تھے۔ راشد ایک وجیہہ اور خوبصورت نوجوان تھا بالکل اپنے باپ جیسا۔ مجھ سے بڑے خلوص کے ساتھ ملا، بغیر کسی جعلی انداز کے، مجھے اس دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ پندرہ سال کا وہ بچہ بڑا ہو گیا تھا، مجھے سوچ کر تکلیف ہوئی تھی کہ دو دفعہ بیوہ ہونے والی ماں کا بیٹا دو دفعہ یتیم ہوا تھا۔
چلیں نا سر کھانا کھائیں ہمارے ساتھ، اس نے اپنی ماں کے اصرار کے ساتھ اپنا اصرار بھی شامل کر دیا تھا۔
میں نے احمد سے کہا تھا کہ یار بیئر کل پی لیں گے، آج ان کی باتیں سنتے ہیں۔ ہم سب ترکش ریسٹورنٹ کی طرف چل نکلے تھے۔

