افسانہ: چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا۔

اس دن موسم کافی خوشگوار تھا۔ اس بات کا احساس اسے ریتلی زمین پر ڈھیر ہوتے وقت ہوا۔ ریت کا سینک قابل برداشت تھا ورنہ اس پہر تک زمین تپ کر تنور ہو جایا کرتی تھی۔ بدلیوں کے باعث آسمان پر نگاہ ٹکانا ممکن تھا۔ ایسے میں اذیت کا واحد سبب وہ گولیاں تھی جو آڑی ٹیڑھی، کچھ اس کے بدن کے پار اور کچھ ابھی بھی اس کے سینے میں پیوست تھیں۔ وہ اپنے دھڑ کے بیچوں بیچ ایک خلا محسوس کر رہا تھا، چھاتی کے پار ہوئے ان چھیدوں کی انفرادیت کا ادرک مشکل تھا، بس ایک خلا تھا جو اس کے پورے وجود کو اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔

اس کے گرد لوگوں کے دو دائرے بن چکے تھے۔ ایک قریبی دائرہ اتنا قریب کے اس کے تن سے لپٹ کر دہائی دی جا سکے اور ایک باہری دائرہ، اتنے فاصلے پر جہاں سے فوٹو اتارا جا سکے۔ فوٹو لینے والے رپورٹر نہیں تھے، بس علاقے کے عام سے لوگ تھے۔ شاید اسی لئے اس کی تصاویر اتنی جلدی بے دھڑک پھیلا دی گئیں۔ اس کی روح ابھی بھانپ کی مانند جسم سے اٹھ رہی تھی اور اس کی تصاویر برقی سرنگوں سے ہوتی لوگوں کی ہتھیلیوں پر منعکس ہو چکی تھیں۔ ان پر آرا کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا۔ پہلے پہل کچھ بین، تعزیتیں اور مغفرت کی دعائیں درج ہوئیں مگر پھر ایک منچلے نے وہ الفاظ تحریر کر دیے۔ ”یہ سب ڈرامہ ہے۔ سازش۔“ اس کا ارتفاع ایک دم روک دیا گیا، اس کی روح ساتویں آسمان سے کھینچ کر واپس اس کے جسم میں سمو دی گئی۔

”کٹ۔ بہترین شاٹ“ ، دور سے کوئی چلایا۔ یکایک اس کے نزدیک دو نو عمر لڑکے آ گئے۔ ایک تولیے سے اس کے بال جھاڑ رہا تھا جب کہ دوسرا اس کی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا۔ شرٹ کے نیچے دو چھوٹی چھوٹی تھیلیاں چسپاں تھیں جن میں لال روغن بھرا تھا۔

”ڈائریکٹر صاحب جلدی سے وینٹی وین کھلوائیے گرمی سے برا حال ہو رہا تھا“ اس کے قریب بیٹھی معمر عورت بولی جو کچھ دیر پہلے اس کا سر اپنی آغوش میں لئے بیٹھی تھی۔

”جی ضرور“ ، ڈائریکٹر نے کہا اور پھر سپاٹ بوائے کو آواز دی ”میڈم کے لیے جوس“ ۔
وہ شدید الجھن کا شکار تھا۔ اس نے ”ڈائریکٹر کہلائے جانے والے شخص سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
”کیا مطلب؟ پھر سے بھول گئے؟ یہ ہر مرتبہ مرنے کے بعد تمہاری یادداشت reset کیوں ہوجاتی ہے؟“

”شاید کردار میں اس قدر ڈوب جاتا ہے کہ یہی بھول جاتا ہے کہ ہم بس اداکار ہیں“ ، اس کے باپ کا رول کرنے والے شخص نے مسکراتے ہوئے کہا۔

وہ بے یقینی کی صورتحال سے دو چار تھا۔ وہ بار بار پوچھتا رہا، اسے کئی بار بتایا گیا۔ اس کی یادیں، اس کا ماضی، وہ بچپن، لڑکپن، جوانی، ماں باپ، وہ زندگی جو اسے واضح طور پر یاد تھی۔

”کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں“ ، ڈائریکٹر نے کہا۔

اسے بتایا گیا کہ اس عکس بندی کے عمل کے باہر اس کی کوئی شناخت نہ تھی۔ وہ بس ایک ایجنٹ تھا اور اس کا یہ مرنا فقط اس کے قاتل کی بدنامی کے لئے تھا۔

اسے کچھ کچھ یاد آ رہا تھا، اور دھیرے دھیرے یقین بھی۔ پیک اپ ہو گیا پھر سب گاڑیوں میں سوار ہو کر وہاں سے چل دیے۔

##
اس کی آنکھوں پرپٹی بندھی تھی اور ہاتھ پیچھے کی جانب ہتھکڑیوں میں مقفل۔ بھاگنے کا حکم ہوا، وہ بھاگا۔
”اتنا سیدھا نہیں۔“

وہ دائیں بائیں ڈولنے لگا، اور پھر اوپر نیچے ہچکولے کھانے لگا جیسے خود کو کسی عقاب کی گرفت سے بچا رہا ہو۔ مگر اس سب میں ایک بے دلی تھی، جیسے وہ اپنے انجام سے واقف ہو۔ پہلے کی طرح اس پر پورا میگزین خالی نہیں کیا گیا بس ایک گولی داغی گئی۔ پہلے کی طرح اس کی تصویر اتارنے کو ایک مجمع موجود نہ تھا، بس ایک شخص، جو اتنا دلیر تھا کہ اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا رہا تھا اور کچھ اتنا خوفزدہ بھی کہ یہ سب ایک بڑے سے پتھر کی آڑ میں سے کر رہا تھا۔ پہلے کی طرح اس کی ہلاکت پر تعزیتوں اور تہمتوں میں تصادم نہ ہوا۔ اب کی بار توجہ کا مرکز نشانہ باز بنا۔

اتنی دور سے اتنا ٹھیک نشانہ، وہ بھی اس تاریکی میں۔ ارے ٹارگٹ ایک جگہ ساکت نہیں اس کی داد بھی تو دو۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ ذرا نم ہو یہ۔

ہلاک ہونے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ نشانہ باز کو اولمپک ایسوسی ایشن نے ٹریننگ سنٹر بلایا یا نہیں، وہ اس سب سے بے نیاز تھا۔ اس کے لئے سب کچھ روٹین کے مطابق تھا۔ وہی وینٹی وین، وہی میڈم کے لئے جوس لاؤ، روغن کی تھیلیاں، سپاٹ بوائے وغیرہ وغیرہ۔

##

اب کی بار اسے معلم بننا تھا۔ معلم بن کر مرنا تھا۔ یہ کئی دنوں کی محنت پر مشتمل کھیل تھا تاہم اس کا آخری ایکٹ آ چکا تھا۔ اس کا شکار، اس کا قاتل، تقریباً تیار تھا۔

”اس کے بستے میں چاقو ہے“ ، سیکیورٹی گارڈ کا کردار نبھانے والے اداکار نے اسے وائرلیس سے اطلاع دی۔
اب اس کا کام آسان تھا۔

”زمین گول ہے“ ، اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور رد عمل دیکھنے کے لئے توقف کیا۔ یہ ایک عام سا جملہ تھا مگر مسکراہٹ، ایک شیطانی مسکراہٹ تھی جس میں طنز تضحیک اور ہر وہ برا تاثر موجود تھا جو کسی بھی شخص کو قتل پر اکسا سکتا تھا۔ متعلقہ طالب علم کی بھنویں تن چکی تھیں۔

”یہ اپنے محور کے گرد گھومتی ہے۔“

طالب علم مٹھیاں کس کر دانت بھینچ کر اپنے ڈیسک کو دیکھنے لگا جیسے خود کو اس کام سے روک رہا ہو جس کی منصوبہ بندی وہ ایک ہفتے سے کر رہا تھا۔

”اور اسی عمل سے دن و رات کا تغیر ہوتا ہے۔“
اسی لمحے وہ پھدک کر اس کی جانب بڑھا اور چاقو اس کی گردن کی دائیں جانب بھونک دیا۔

چیخ و پکار، پکڑو پکڑو، بھاگو بھاگو۔ چاقو اس مہارت سے اس کی گردن میں اتارا گیا تھا کہ دستہ بالکل کھال کے ساتھ لگا تھا اور چاقو کی نوک دوسری طرف سے باہر نکلی ہوئی تھی۔ اس کی سانس پھل کی دھار سے کٹ کر دو شاخی ہو کر آ رہی تھی۔ وہ بائیں رخ گرا تھا۔ کچھ دیر میں ہنگامہ تھم گیا۔ سب کچھ جیسے ساکن ہو گیا، بس وہ اور زمین متحرک تھے۔

##
”یہ ہر بار میں ہی کیوں مرتا ہوں۔“
’تم مرتے بہت اچھا ہوں نہ اس لئے۔ جیسے واقعی اذیت سے دوچار ہو۔‘
تخیل اور احساس کی یہ یکجائیت اس کا خاصہ تھی یا شراپ وہ نہیں جانتا تھا۔
”یہ وگ بہت بری لگ رہی ہے۔“
’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
”اور یہ لپ اسٹک اس سے بھی زیادہ بھونڈی۔“
’اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

شاٹ تیار تھا۔ وہ پل پر کھڑا تھا اور اس کے غیرت مند باپ اور چچا کا رول کرنے والے اداکار کچھ پیچھے کھیتوں میں۔

”دریا کا پانی بہت ٹھنڈا ہے“ ، اس نے ایک بار پھر احتجاج کیا۔

’تمہارے گرنے کے چند سیکنڈ بعد ہی سین کٹ ہو جائے گا۔ اتنا تو برداشت کر ہی لو گے‘ ، ہدایت کار نے خندہ پیشانی سے جواب دیا۔ ہدایت کاروں کو اداکاروں کے ایسے نخرے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

”اور اس کے بعد؟“
’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
ایکشن!

وہ پل پر بھاگنے لگی، جیسے پل پار کرتے ہی اس کی تمام مشکات ختم ہوجائیں گی۔ جیسے پل کے کنارے پر کوئی طلسمی پھندا تھا جس میں اس کا پیچھا کرتے دیو پھنس جائیں گے۔ یا پھر پل پار کوئی مسیحا کھڑا تھا جو اسے اپنی حفاظت میں لے لے گا۔ پھر بھی وہ بھاگے چلے جا رہی تھی۔ دیوانہ وار، پیچھے سے پکارتی سب آوازوں کو نظر انداز کر کے، آوازیں جن میں احکام تھے، انتباہ تھا، التجا تھی، واسطے تھے، یاددہانی تھی کہ وہ کون ہے اور پھر، ایک آواز سب سے بلند، جس میں خبر تھی، اس کی موت کی۔

وہ لڑکھڑائی، پھر سنبھلی، پھر لڑکھڑائی اور پل کی بنی پر جھک گئی۔ ایک چھپاکے کے ساتھ اس کے بدن نے سستی سے بہتے پانی کو بیدار کیا اور پھر دریا کی خاموشی اس کی پھڑپھڑاہٹ کو نگل گئی۔ دریا کا بہاؤ اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ ##ختم شد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ثاقب علی رانا کی دیگر تحریریں