ہم کیسی دنیا میں رہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یہ دنیا کیا ہے۔ رنج و الم کی تصویر ہے، یہاں موت ہے اور دکھ ہے، طاعون، بیماری اور قحط ہے، خشک سالی، سیلاب اور پالا ہے، یہ دنیا آفتوں کا گھر ہے اور ان دیکھے حادثات کی آماجگاہ ہے، یہاں ظلم ہے، فساد ہے، گنوار پن ہے، بے یقینی ہے، پاگل پن ہے، یہاں نیکی کے نتیجے میں گناہ پیدا ہوتا ہے اور فسق و فجور سے اچھائی کا کام لیا جاتا ہے، یہاں خوشی بھی بے معنی ہے اور خود غرضی کا بھی کوئی فائدہ نہیں، یہاں مصیبتوں کی کوئی وجہ ہے اور نہ خوف سے فرار کی کوئی صورت!“ ہنری ایڈمز، 1838 ء تا 1918 ء۔

اس سفاک دنیا کی شاید اس سے بہتر تعریف ممکن نہیں۔ اس سے پہلے کہ کسی مطمئن ارب پتی کو اس بیان میں غلو نظر آئے اور وہ مجھے پرلے درجے کا قنوطی قرار دے، میں پہلے ہی وضاحت کردوں کہ جس ہنری ایڈمز نے یہ بات کہی تھی خود اس کا تعلق اشرافیہ سے تھا، ابراہم لنکن نے اسے برطانیہ میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا تھا اور اسے سیاحت کا چسکا تھا، گھوم پھر کر اس نے یہ دنیا دیکھی تھی لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قول کسی ایسے شخص کا ہے جس کی اپنی زندگی کرب میں گزری تھی۔

اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے کیا زندگی گزاری، فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ کسی نے زندگی کو محسوس کیسے کیا۔ مہاتما بدھ نے جب یہ دکھ محسوس کیا تو انہیں اپنی زندگی بے معنی لگی، تخت و تاج چھوڑ کر وہ نروان حاصل کرنے نکل کھڑے ہوئے، ان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا تھا کہ وہ اپنے ارد گرد پھیلے دکھ اور درد کو نظر انداز کر کے پر آسائش زندگی گزارتے۔ مگر ہر کوئی مہاتما بدھ نہیں ہوتا۔ آج اس دنیا میں 2,153 ارب پتی لوگ ساڑھے چار ارب کی آبادی سے زیادہ دولت مند ہیں، یہ دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ساٹھ فیصد بنتا ہے۔

دنیا کو ان اڑھائی تین ہزار لوگوں کی نظر سے دیکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا، دنیا کی اکثریت وہی زندگی گزارتی ہے جس کا ذکر ایڈمز نے سو برس پہلے کیا تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے جو مجھے نظر نہیں آ رہا کیونکہ ہر سال کروڑوں لوگ تفریح کی غرض سے جہازوں میں سفر کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اپنے مسرت کے لمحات شیئر کرتے ہیں، کامیابیوں کی داستانیں سناتے ہیں، قہقہہ لگاتے ہوئے تصویریں کھنچواتے ہیں، اپنے بچوں کو کلکاریاں مارتے ہوئے دیکھ کر نہال ہوتے ہیں، تہواروں پر جشن مناتے ہیں، موج مستی کی زندگی گزارتے ہیں، اس دوران اگر کبھی کوئی بیماری، حادثہ یا آفت آن پڑے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ دنیا مصیبتوں کا گڑھ ہے اور یہاں سوائے دکھ، درد اور اذیت کے اور کچھ بھی میسر نہیں! شاید ایسا ہی ہو، قدرتی آفات تو کہیں بھی کسی بھی لمحے آ سکتی ہیں اور آنے والے کل میں کیا ہو کسی کو معلوم نہیں مگر اس ظلم و زیادتی کا مداوا کیسے ہو جو انسان ایک دوسرے کے ساتھ روا رکھتے ہیں!

اس زمین پر انسان کی عمر تقریباً دو لاکھ سال ہے، اس تمام عرصے نے اس مخلوق نے ناقابل یقین ترقی کی، کہاں یہ انسان جنگلی جانوروں کے خوف سے غاروں میں رہتا تھا اور کہاں آج یہ خلائی جہاز بنا کر مریخ پر جھنڈے گاڑ چکا ہے۔ سائنسی اور مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اسی انسان نے فلسفے میں بھی کمال حاصل کیا اور ایسی ایسی ذہنی گتھیاں سلجھائیں (یا الجھائیں ) کہ جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں رہا جس کا انسان نے حل تلاش نہ کیا ہو۔

مگر اس سب کے باوجود کیا آج کا انسان دو لاکھ سال پہلے کے انسان کے مقابلے میں زیادہ رحم دل ہے یا اسی طرح سفاک ہے؟ دو لاکھ سال کو چھوڑ کر گزشتہ تین ہزار برس کی بات کر لیتے ہیں، ان تین ہزار برسوں میں تخلیق کائنات کے گمبھیر مسئلے سے لے کر اخلاقیات کے اصولوں تک فلاسفہ نے ہر مسئلے کا کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ ریاست کیا ہوتی ہے، جمہوریت کی روح کیا ہے، عوامی نمائندے کیسے منتخب کیے جائیں، انصاف کی فراہمی یقینی کیسے بنائی جائے، شخصی آزادی کتنی اہم ہے، مساوات کا تصور کیا ہے، ریاست اور فرد کا باہمی ربط کیا ہونا چاہیے، سوشل کنٹریکٹ کس مرض کی دوا ہے، علم کے ذرائع کیا ہیں، منطقی گفتگو کیسے کی جائے، دلیل کیا ہے، عقیدہ کیا ہے، ایمان کیا ہے۔

غرض انسانی معاشرت کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر انسان نے علم کے پہاڑ نہ کھڑے کر دیے ہوں! مگر عقل کے یہ تمام مدارج طے کرنے کے باوجود آج کی دنیا کا انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے کرہ ارض سے ظلم اور نا انصافی کا خاتمہ کر دیا ہے، اب کہیں جنگ اور کشت و خون نہیں ہوگا، اب معصوم بچوں کی لاشیں ساحلوں پر پڑی نہیں ملیں گے، اب دنیا میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اور کوئی انسان بیماری سے اس وجہ سے نہیں مر جائے گا کہ اس کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔

ترقی یافتہ ممالک کے پاس تو شاید ان باتوں کا کوئی سچا جھوٹا جواب ہو، ہمارے ایسے ملکوں کے پاس تو اپنے شہریوں کو دینے کے لیے حوصلہ بھی نہیں ہے۔ یہاں مائیں اپنے بچوں کی لاشوں پر سینہ کوبی کرتی ہیں اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر دہائیاں دیتی ہیں تو جون ایلیا کا شعر یاد آ جاتا ہے ”یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو ، کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا“ ۔

یہ دنیا بلاشبہ بہت حسین اور دلکش ہے، صاحب ثروت لوگوں کے لیے یہاں عیش و عشرت کا سامان بھی ہے اور پر کیف لمحات گزارنے کے مواقع بھی، خدا ان کو ایسے ہی شاد رکھے، ان کے عشرت کدے آباد رہیں، ان کے محلات یونہی محفوظ رہیں، ان کی مسکراہٹوں کو کسی نظر نہ لگے، ان کے خوشنما چہروں پر کبھی جھریاں نہ پڑیں، ان کے آنگن میں کبھی اداسی نہ اترے اور نہ کبھی ایسا وقت آئے جب ان کے بچے اپنے ننھے منے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے شہر کی سڑکوں پر اپنے باپ کی تلاش میں مارے مارے پھریں! ممکن ہے گلاس آدھا بھرا ہوا ہی ہو، مگر جن لوگوں کے گھروں پر قیامتیں ٹوٹتی ہیں ان کی نظر میں گلاس آدھا نہیں پورے کا پورے خالی ہے۔ کاش کوئی صاحب اقتدار و ثروت اس گلاس کو ان مظلوموں کی نظر سے بھی دیکھے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 137 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada