کیا ریپ کردہ خاتون کو انصاف مل سکے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر سن کر پہلا تاثر شاک کا تھا۔ موٹروے پر بھی ایسا ہو سکتا ہے؟ شروع کی خبروں سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ دن کا واقعہ ہے اور موٹر وے پر ہوا ہے۔ کچھ دیر بعد ایف آئی آر کی کاپی ملی تو پتہ چلا کہ نہیں رات کے تین چار بجے کا واقعہ ہے۔ پھر مزید خبریں آئیں تو علم ہوا کہ موٹر وے کا نہیں بلکہ رنگ روڈ کے کسی علاقے کا ہے۔ دماغ نے کہا کہ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کا انتظار کیا جائے اور میڈیکل کا بھی پتہ چلے۔

پولیس کی ابتدائی تحقیق میں سامنے آیا کہ واقعہ ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ یعنی واقعہ ایسے ہی ہوا ہے جیسے رپورٹ ہوا ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ فرماتے ہیں کہ  ”کہانی یہ ہے کہ یہ خاتون اگر آپ کے علم میں ہو تو رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفینس سے نکلی ہیں ادھر جانے کے لیے گوجرانوالہ۔ اب میں پہلے تو یہ حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہے، اکیلی ڈرائیور ہے، آپ سیدھا روڈ لو جی ٹی روڈ جہاں آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر آپ اس طرف سے نکلی ہو تو کم از کم اپنا پٹرول چیک کر لو کہ اس سائیڈ پر پٹرول پمپ نہیں ہوتے۔ بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا۔ جیسے ہی انہوں نے ٹول پلازا کراس کیا، سیالکوٹ موٹر وے پر تو اس سے ذرا آگے جا کر انہوں نے کہا کہ میرا پٹرول ختم ہو گیا ایک بجے رات۔ اب یہ کوئی رات پٹرول ختم ہو جائے، انفارچونیٹلی موٹر وے (پولیس) ابھی تک یہاں پر ڈپلائے منٹ نہیں کر سکی۔ ان کے پاس ریسورسز ہیومن وغیرہ کم ہیں“ ۔

مانا کہ خاتون نے ناقابلِ یقین حماقت کی۔ رات کو ایسے وقت ایسے ویرانے سے گزری جس سے گزرتے ہوئے مرد بھی گھبراتے ہیں۔ مزید حماقت کی کہ گاڑی میں پٹرول بھی چیک نہیں کیا۔ کوئی حادثہ ہوتا تو ان کو مدد بھی نہ ملتی۔ لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پنجاب پولیس اور حکومت کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے؟ اگر کوئی شہری حماقت کرے تو کیا اسے قانون کا تحفظ حاصل نہیں رہتا؟

اطلاعات کے مطابق موٹر وے پولیس کو سیالکوٹ موٹر وے کے لیے ابھی تک عملہ اور ساز و سامان فراہم نہیں کیا گیا ہے اس لیے اس سڑک کے مسافر بے یار و مددگار ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق اس خاتون نے اپنے شوہر کو فون کیا، جس نے اسے وہاں آنے تک موٹر وے پولیس کو مدد کے لئے فون کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم، موٹر وے پولیس آپریٹر نے خاتون کی مدد کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی بیٹ کسی کو تفویض نہیں کی گئی تھی۔

میڈیا کے مطابق موٹر وے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ان کی حدود میں شامل نہیں ہے اور رنگ روڈ کی حدود میں ہے۔ اس صورت میں بھی ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی ہے۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک اکیلی خاتون اگر رات کے تین بجے انہیں ایک ویرانے میں سڑک پر بے یار و مددگار کھڑی مدد کے لیے کال کر رہی ہے تو کیا یہ موٹر وے ہیلپ لائن کا فرض نہیں بنتا کہ اس معاملے کو انتہائی اہمیت دے اور رنگ روڈ اور لاہور پولیس کو فوراً مطلع کرے تاکہ اس کا اور اس کے بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے؟

چلیں واقعہ ہو گیا۔ اندوہناک ہے، شاکنگ ہے، ہماری حکومت کی ترجیحات کی خبر بھی دیتا ہے کہ اس کے پاس عوام کو تحفظ دینے کے لیے نہ تو فنڈ ہیں اور نہ نیت۔ سوال یہ ہے کہ کیا مجرم پکڑے جائیں گے اور انہیں سزا ملے گی؟

آئی جی پنجاب انعام غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس نے ملزمان کے گاؤں کا سراغ لگا لیا ہے، ہمیں ملزمان تک پہنچنے کے لیے ثبوت مل چکا ہے اور ہم ملزمان تک پہنچیں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر شہباز گل نے بتایا ہے کہ  ”12 کے قریب مشتبہ افراد گرفتار ہو چکے۔“

ایف آئی آر میں سردار شہزاد نامی شخص کی جانب سے یہ لکھا ہے کہ  ”میری عزیزہ مسماۃ ث نے اطلاع دی کہ میری گاڑی۔ ۔ ۔کا پٹرول ختم ہو گیا ہے اور گاڑی بند ہو گئی ہے اور اپنی لوکیشن سے آگاہ کیا جس پر میں نے انہیں 130 ہیلپ لائن کو کال کرنے کا کہا اور خود بھی اپنے دوست جنید کو ساتھ لے کر گوجرانوالہ سے فوراً نکل پڑا۔ قریب 4 بجے رات ہم بتائی گئی لوکیشن پر پہنچے تو دیکھا کہ گاڑی کا ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازہ پر خون کا نشان تھا۔ گاڑی میں کوئی موجود نہ تھا۔ میں نے اور جنید نے مسماۃ ث کو تلاش کرنا شروع کر دیا تو دیکھا کہ مسماۃ ث اپنے بچوں کے ہمراہ موٹر وے اور جنگل کے درمیان کچا راستہ پر آتی دکھائی دی جس نے مل کر بتایا کہ میں پٹرول کے انتظار میں کھڑی تھی کہ وہ کس نامعلوم جن کے حلیہ جات ۔ ۔ ۔ مسلح پسٹل اور مسلح ڈنڈا آئے اور ڈرائیونگ سائیڈ کا شیشہ توڑ کر دروازہ کھولا اور مجھے میرے بچوں سمیت گاڑی سے نکال کر موٹر وے کے ساتھ نیچے کی جانب جنگل میں لے گئے جہاں ان دونوں نے باری باری میرے ساتھ زنا بالجبر کیا“ ۔

ہماری رائے میں عدالت میں اس ایف آئی آر کے پرخچے اڑ جائیں گے۔ جس شخص کی مدعیت میں درج ہے وہ خاتون کا عزیز نہیں راہگیر ہے۔ وہ اس پرچے میں مندرج بیان سے منکر ہے۔

انڈی پینڈنٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ گینگ ریپ اور ڈکیتی کی دفعات والی ایف آئی آر ایک راہگیر سردار شہزاد کے نام سے درج کی گئی ہے جس نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ سردار شہزاد نے انڈی پینڈنٹ کو بتایا کہ واقعے کے وقت وہ رنگ روڈ سے گجرانوالہ میں واقع اپنے گھر آرہے تھے کہ انہوں نے ایک گاڑی کے پاس ڈولفن پولیس اور ریسکیو 1122 کی ایمبولینس دیکھی تو وہ رک گئے۔  ”اسی دوران پولیس نے مجھ سے تفصیلات لینا شروع کردیں اور نام، ولدیت، پتہ اور موبائل نمبر بھی معلوم کیا۔ میں نے یہ سمجھ کر تفصیلات دے دیں کہ شاید مشکوک سمجھ کر پوچھا جا رہا ہے۔ پھر پولیس جلد ہی خاتون کو ایمبولینس میں لے کر روانہ ہو گئی تو ہم بھی وہاں سے واپس آ گئے۔“ لیکن جب دس پندرہ منٹ بعد انہیں فون آنا شروع ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی تفصیلات ایف آئی آر میں درج کر دی گئی ہیں۔

حضرت عمرؓ کے دور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایسا امن تھا کہ ایک بڑھیا سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے تک بلا کھٹکے سونا اچھالتی چلی جاتی تھی اور اسے کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔ پنجاب میں ایسا واقعہ ہوا تو لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ اس عورت کی اپنی غلطی ہے، اسے خود خیال کرنا چاہیے تھا۔

بہرحال ہمیں تو اس کیس میں عدالت سے مجرم کو سزا ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ڈی این اے کی شہادت پر کیس کا مکمل انحصار ہے جسے ہمارے محدود علم کے مطابق کلیدی شہادت نہیں سمجھا جاتا۔

ڈکیتی کے دوران ریپ کے کیس عام طور پر پولیس، عدالت لے کر بھی نہیں جاتی۔ ایسے مجرموں کے ساتھی انہیں چھڑانے کے لیے حملہ کر دیتے ہیں اور پولیس مقابلے میں مارے جاتے ہیں۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ قصور کی زینب کے کیس سے پہلے جب ادھر کئی بچیوں کے ریپ اور قتل کے کیس ہوئے تھے تو ایک شخص کو مجرم قرار دے کر انصاف کر دیا گیا۔ بعد میں جب زینب کیس میں اصل مجرم عمران پکڑا گیا تو علم ہوا کہ معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کسی بے گناہ کے ساتھ انصاف کر دیا گیا تھا۔ یہاں بھی ایسا نہ ہو۔

اسی بارے میں

لاہور موٹروے ریپ: بارہ مشتبہ افراد گرفتار۔ ملزمان کے گاؤں کی نشاندہی ہو گئی
لاہور: موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ مبینہ ریپ، ڈکیتی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا نوٹس
 لاہور کے نواح میں موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar