کیا ریاست شہریوں کی حفاظت سے دستبردار ہو گئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں کبھی کسی چوکیدار سے منہ سے آتی یہ آواز سن کر کہ ”جاگتے رہنا“ توہم بہن بھائیوں نے اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ چوکیدار دوسرے الفاظ میں یہکہنا چاہتا ہے کہ جاگتے رہنا اور میرے پر نہ رہنا۔

بھلا بندہ پوچھے کہ اگر خود ہی جاگنا ہے تو تمہارا پہرہ دینا چہ در معنی!

لاہور پولیس کے آفسر کا بیان سن کر بے ساختہ یہ بات آ گئی کہ بھئی عورت کوضرورت کیا تھی رات بارہ بجے گاڑی لے کر نکلنے کی؟

ہماری سوسائٹی تو ایسی ہی ہے اور ہم اتنے بے بس ہیں کہ ہم ان کھلے پھرتے جنسی درندوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ یہی پاکستانی پولیس کسی غریب، بے بسپر ٹوٹ کر پڑتی ہے لیکن مجرموں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ پاکستان کا شماربدقسمتی سے ان ممالک میں ہوتا ہے جو مجرم کے جرم کو نہیں بلکہ اس کی مالیحالت اور اس کے اثر و رسوخ کو دیکھ کر سزا دیتی ہے۔

میں کوئی فیمنسٹ نۂیں میرے خیال کے مطابق انسان اچھے اور برے ہوتے ہیں نا کہ عورت اچھی اور مرد برا۔
یہ فارمولا، اس عورت مرد گیم کی میں قائل نہیں۔

ظلم جس کے بھی ساتھ اس کی مزاحمت کرنا ضروری ہوتا ہے چہ جائکہ کہ اسکیجنس کا تعین کرتے پھریں۔ ایک اکیلی عورت کو اس کے بچوں کے سامنے جنسیزیادتی کا شکار بنایا گیایہ خبر سب نے پڑھی سنی اور اپنے اپنے تبصرے کیے۔ لیکن یہ ایک اکیلی عورت کا ریپ نہیں ہوا ان دو معصوم ذہنوں کا بھی ریپہوا۔ کیسے وہ ماں ان معصوم بچوں سے نگاہیں ملائے گی کیسے وہ بچے اپنی ماں کیاذیت کو کم کریں گے۔ ماں جو ایک قابل احترام ہستی ہے۔ بچے تو باپ بھیاگر ماں کے ساتھ غصے سے بات کریں اونچا بولیں تو احتجاج کرتے ہیں اور جنگھروں میں بول نہ سکیں وہاں ذہنی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو کجا یہ کہکوئی غیر وحشی درندے آکر ان کے سامنے ان کی ماں کو بھنبھور جائیں۔ میرے ہاتھکانپ رہے ہیں یہ لکھتے ہوئے یہ سوچتے ہوئے کہ یہ واقعہ کتنا اذیت ناک کتنادردناک ہے۔ کوئی حساس دل رکھنے والا اس واقعہ کا صرف تصور ہی کر لے تواسکی راتوں کی نیندیں اڑ جائیں۔ تو جن پر یہ سب بیتا ان کا کیا؟

صرف چند روز سوشل میڈیا پر ہاہاکار وٹس ایپ کے اسٹیس لگا لینا کالم لکھ لینا اور بس چند روز بعد یہ واقعہ بھی باقی سب کے لیے قصہ پارینہ بن جائے گا جیسے پہلے واقعے بنتے رہے۔ عملی طور پر کیا ہوا؟ نتیجہ کیا نکلا؟ صفر! ہمیشہ کی طرح صفر

میں پاکستان سے باہر رہتی ہوں۔ یہاں بھی سنا ہے کہ اس طرح کے واقعاتہوتے ہیں۔ لیکن شاذو نادر

وہی پاکستانی مرد (سب مراد نۂیں ) جو پاکستان میں رہتے ہوئے ہر عورت کا ایکسرے کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ برقع والی عورت کے پاس سے گزرتے ہوئے بھی سبحان اللہ، ماشاء اللہ جیسے اسلامی الفاظ استعمال کرکے اپنی تربیت دکھا کر جاتے ہیں۔ وہ ان ملکوں میں آکر قابل اعتراض ملبوساتمیں ملبوس خواتین کو دیکھ کر بھی ان کو چھونا یا کچھ کہنا تو دور کی بات ہے انکودیکھتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں۔ بہت سوچا بہت سوچا تو وجہ ایک ہی سمجھ آئیکہ یہ قوم لاتوں کی بھوت ہے۔

یہاں قوانین کی پاسداری اور ہر مجرم کے لیے سزا جیسے قوانین نے ان وحشیوں کو انسان بنایا ہے ورنہ یہ تو وہی راہ چلتے کتے ہیں جو ہر آنے جانے والے پر بھونکنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کو پتا ہے کہ اگلیعورت چپ کر کے نہیں بئٹھے گی وہ اسی وقت پولیس کو کال کرے گی اور ہم پرکیس کروا دے گی۔ بے شک اس قانون کی قباحتوں سے بھی میں واقف ہوں۔ لیکن ایسے مجرموں کے لئے قرار واقعی سزا ہونی چاہیے اور ہر کسی کے لیے ہونی چاہیے چاہے وہ کسی وڈیرے کا بیٹا اپنی مزارع کی بیٹی کی عصمت دریکرے چاہے کسی ایم این اے، ایم پی اے کے صاحبزادے کسی راہ چلتیلڑکی کو زبردستی اپنی گاڑی میں دھیکیل کر اس سے زبردستی کریں۔

ہر کسی کے لیے ایک ہی کلیہ ہونا چاہیے۔ اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ انقوانین پر عمل درآمد کروائے۔ یہ جو پولیس کے اعلی افسر یا کچھ اپنی ذات میں بنے عالم فتوی دیتے نظر آ رہے ہیں کہ اکیلی عورت کیوں باہر نکلے یا محرم کے بغیر عورت کو سفر کرنا جائز نہیں تو یاد رہے کہ ایسے بھی بے شمار واقعات ملجائیں جب محرم کے ساتھ ہوتے بھی عورت کو پامال کیا گیا۔ جب مجرم زورآور ہو تو اس کے سامنے محرم کی بھی بھلا کیا پیش جاتی ہے۔

یہ تو قبر میں دفن مردے تک نہیں چھوڑتے۔ ادھ کھلی معصوم کلیاں تک نوچجاتے ہیں۔ دادی نانی کی عمر کی معمر خاتون تک میں ان کو بزرگی کی بجائے صرفایک جسم نظر آتا ہے۔ ان وحشی درندروں سے بچنے کا صرف ایک راستہ ہے کہبلا تفریق سب کو سزا دی جائے۔ کم از کم جن کی وڈیوز تصاویر گواہیاں ملرہی ہیں ان کو تو پھانسی پر چڑھایا جائے۔ خدارا کوئی تو عملی اقدام کیا جائے۔ ورنہ یہ چار دن کے افسوس والے ڈرامے کو بھی بند کیا جائے۔

گفتار کے غازی بننے کی بجائے کردار دکھائیں۔ میڈیا پر پوسٹ لگانے کی بجائے ارباب اختیارکے دروازے کھٹکھٹائیں جائیں۔ ان کو اتنا مجبور کیا جائے کہ وہ مجرموں کو سزادینے پر مجبور ہو جائیں۔ اور کم از کم پولیس ڈیپاٹمنٹ سے ایسے راشی، زانیاور کم ہمت، بے حوصلے افسران کو بے دخل کر کے ان کی جگہ بہادر، نڈر لوگ بھرتی کیے جائیں جو عوام کو تحفظ دینے والے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •