ڈراما چینلز ہوش کے ناخن لے لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشتری ہوشیار باش! اے آر وائی کے ڈراما ”جلن“ پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف عوام کی طرف سے پیمرا کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ تنبیہ کے باوجود پروڈیوسر، ڈائریکٹر، اور چینل نے کہانی کے مواد میں تبدیلی نہ کی لہذاٰ اخلاقی اور معاشرتی اقدار و روایات سے متصادم ہونے کی بنا پر اسے آن ائر جانے سے روک دیا گیا ہے۔
پیمرا نے یہ اعلان ایک پریس ریلیز کی صورت میں نو ستمبر کو ڈرامے کی تازہ قسط آن ائر جانے کے بعد کیا۔

قبل ازیں، دو ڈراموں ”پیار کے صدقے“ اور ”عشقیہ“ کے نشر مکرر پر پابندی لگائی گئی تھی۔ مذکورہ تین میں سے دو ڈراموں کی کہانی بہنوئی اور خواہر نسبتی کے معاشقے اور ایک کہانی سسر کے بہو پر بری نظر رکھنے کے موضوع پر تھی۔ پیمرا کے مطابق ان کہانیوں کے اخلاق و اقدار کے خلاف ہونے کی بنا پر پابندی عائد کی گئی۔

اس اقدام پر کچھ سوالات اٹھتے ہیں :

٭ چونکہ ڈراما معاشرے کی عکاسی کرتا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ڈرامے کی اصلاح پر وقت ضائع کرنے کی بجائے معاشرے کی اصلاح پر توجہ دی جائے؟ (اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی ڈرامے پر تنقید نہ کی جائے۔ لیکن یہ تنقید تعمیری اور مثبت ہو نہ کہ محض دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے ) ۔

٭ پابندی لگانے کی بجائے اس بات پر کیوں نہ زور دیا گیا کہ موضوعات کی یکسانیت اور انہیں دہرانے سے گریز کیا جائے؟

٭ پیمرا یہ تکلیف کیوں نہیں گوارا کرتا کہ سکرپٹ اور کہانی کا جائزہ لے کر ہدایات جاری کرے تاکہ پری پروڈکشن سے لے کر پوسٹ پروڈکشن تک ڈراما چینلز کا کروڑوں کا سرمایہ ضائع نہ ہو؟ ایک آن ائر ڈرامے پر پابندی لگانے سے ہونے والے مالی اور دیگر نقصانات کا ازالہ کیا پیمرا کرے گا؟

٭ کچھ لوگوں نے ٹویٹر پر کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی کے ذمہ دار ڈرامے بھی ہیں۔ موٹر وے پر ایک ماں کی جنسی بے حرمتی کے افسوس ناک واقعے کو بھی اسی تناظر میں بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ڈراموں کے ایسے موضوعات اور مرد و عورت کے مراسم دکھانا اخلاقی انحطاط کا سبب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جنسی درندے ایسے ڈرامے دیکھ کر جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جبکہ انہیں انٹرنیٹ پر پورن مواد بآسانی دستیاب ہے؟

٭ مذکورہ تینوں ڈراموں کی کہانیوں سے زیادہ خطرناک اور بے راہ روی پیدا کرنے والا مواد انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ کیا پیمرا حکام نے اسے روکنے کے بارے میں کبھی سوچا ہے؟

٭ جن لوگوں نے ان ڈراموں کے خلاف پیمرا کو شکایات درج کروائیں، ان کا کوئی ثبوت پیمرا کے پاس موجود ہے؟ (یا طاقت اور اختیار کے مظاہرے کے لئے محض عوام کا کندھا استعمال کیا گیا؟ )

٭ اچانک پیمرا کے سر پر کون سا باجا بجایا گیا جو وہ ہڑبڑا کر خواب خرگوش سے جاگ گئی؟ کہیں یہ باجا ترکی کے ارطغرل نے تو نہیں بجایا؟ (اگر ایسا ہے تو شکریہ کا ایک خط انہیں سرکاری لیٹر پیڈ پر ضرور لکھ بھیجیں ) ۔ ویسے اس پی پی باجے کا اثر کتنے عرصے تک قائم رہے گا؟

٭ برادر اسلامی ملک ترکی سے یاد آیا، چند سال قبل ایک گھٹیا معاشقے پر مبنی ترک ڈراما ”عشق ممنوع“ بھی پاکستان میں دکھایا گیا تھا، کیا اس کی کہانی اور مواد پاکستانی معاشرے کی اخلاقیات سے مطابقت رکھتا تھا؟ (غالباً اس وقت پیمرا ادارہ بطن مادر میں تخلیق کے مرحلے سے گزر رہا تھا) ۔

٭ جن عوام کو معاشرے کے انحطاط سے اتنی ہی تکلیف ہے، وہ بچوں کی درست تربیت پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ کیوں والدین اپنے بیٹوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ خواہر نسبتی کے ساتھ احترام کا رشتہ ہوتا ہے اور شادی شدہ مرد کو صرف بیوی تک محدود رہنا چاہیے؟ کیوں والدین بیٹیوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ موجودہ یا ہونے والے بہنوئی سے معاشقے یا تعلق سے ان کی اپنی ہی بہن کا گھر برباد ہو گا؟

٭ جن لوگوں اور حکام کو ڈراما کہانیوں میں رشتوں کے تقدس کی پامالی دیکھ کر اتنی ہی تکلیف ہے، وہ اپنے گھروں کی اصلاح کیوں نہیں کرتے؟ وہ کیوں اپنے اردگرد ہونے والی خرافات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں؟

٭ جن لوگوں کو ”اڈاری“ اور ”ڈر سی جاتی ہے صلہ“ برے اور شرمناک لگتے تھے، انہوں نے کبھی اپنے گھر کے مردوں اور لڑکوں کے کردار پر نگاہ رکھنے کی زحمت گوارا کی ہے؟

٭ جس معاشرے میں مرد کی بدکاری اور بے حیائی کو یہ کہہ کر جواز فراہم کیا جائے کہ یہ تو مرد ہے، اسے کیا فرق پڑتا ہے، وہاں ڈراموں میں بہنوئی، دیور، جیٹھ، سسر، اور غیر مردوں کی بے حیائی قابل اعتراض کیوں ہے؟

٭٭٭ اہم ترین سوال: جس وقت ایک عورت دشمن خبطی ڈراما نگار نے مڈل کلاس گھرانے کی لڑکی کو ”دو ٹکے کی“ بنا کر پیش کیا اور اپنے قلم کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے عورت کی تذلیل اور رشتوں کے نام نہاد تقدس کی پامالی کا سبب بنا، اس وقت کیا پیمرا حکام دھنیہ پی کر سو رہے تھے؟

جس ادارے نے عوام کی شکایات پر ڈراموں پر پابندی عائد کی ہے، تو پابندی پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا بھی اس کا فرض ہے۔ قلم اور فنون پر بزور بندوق پابندی عائد کر دینے سے معاشرے میں اگر کوئی مثبت تبدیلی آ جائے یا جنسی جرائم میں کمی ہو جائے تو پیمرا ضرور بتائے۔

ڈراما چینلز اپنے ہی معاشرے میں جاری حالات و واقعات کو موضوع بنائیں گے ناں، نہ کہ چاند اور مریخ کی کہانیاں لکھنے بیٹھ جائیں۔ تاہم چینلز کو بھی موضوعات کی یکسانیت اور انہیں دہرانے سے بہرحال گریز کرنا ہو گا۔ ایک مرد اور دو بہنوں کی مثلث ہم کئی سابقہ اور جاری ڈراموں میں دیکھ چکے ہیں، اب اسے لازمی تبدیل ہو جانا چاہیے۔

حرف آخر:

اگر عوام ڈراموں کے خلاف بول سکتے ہیں، تو حقیقی زندگی کے واقعات تو اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور دہشت ناک ہیں، ان کے خلاف بھی بولنے کی جرات پیدا کریں۔ کم از کم ایسی برائیوں کو زبان سے ہی برا کہہ دیا کریں۔ مزید یہ کہ ترک ڈرامے سے موازنہ کرنے کے بعد جن با اخلاق و باحیا ناظرین کو پاکستانی ڈرامے میں کیڑے مکوڑے اور سنڈیاں نظر آنے لگی ہیں، وہ یہ مت بھولیں کہ انہی کی بخشی ہوئی پذیرائی اور ریٹنگز نے پاکستانی ڈرامے کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ تبدیلی چاہیے تو پاکستانی ڈراما دیکھنا چھوڑ دیں، ورنہ اس کے خلاف ہذیان گوئی سے باز آ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •