اجتماعی زیادتی سے متاثرہ کم سن لڑکی کے یہاں لڑکی کا جنم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فروری کی بیس تاریخ تھی اور سال یہی 2020، جب راول پنڈی سے خبر آتی ہے کہ ایک کم سن بچی کو مسلسل کئی ماہ تک چار آدمی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان چار میں سے دو کالج کے لڑکے ہیں تو دو شادی شدہ جن کی اپنی بیٹیاں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کی ہیں۔ ایک زیادتی کا مرتکب تو قریباً ساٹھ ستر سال کا بھی ہے۔ اسد علی، بہادر، یحییٰ اور عابد، یہ ان چار آدمیوں کے نام ہیں جو ایک کم سن لڑکی کو اس کے ہی گھر میں جا کر بلا جھجک، بے دریغ، نڈر ہو کر زیادتی اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ بچی کی سگی ماں دنیا سے جا چکی ہے جبکہ سوتیلی ماں ناراض ہو کر میکہ جا چکی ہے۔ بچی کا باپ صبح جاتا ہے اور شام کو لوٹتا ہے۔ یہ چار آدمی اس بچی سے روز جا کر زیادتی کرتے ہیں اور دھمکاتے ہیں کہ کسی کو علم ہوا تو اس کے باپ کو قتل کر دیا جائے گا۔

بچی کم عمر تھی، ڈرتی مرتی چپ ہی رہی۔ دنیا کے تمام مرد مل بیٹھیں تب بھی قیامت تک اس پر گزرنے والی قیامت کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس کی کیفیت کیا ہوتی ہوگی۔ اس لئے یہ جو عورتیں ہیں اس قدر غصہ میں ہیں، اس لئے پیچ و خم کھاتی ہیں، اس لئے بدتمیز ہیں اور اسی لئے مزاحمت پر اترتی ہیں کیونکہ ایسی بے بسی کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ کسی نہ کسی موڑ پر یہ عورتیں اس اندوہناک کیفیت، بے بسی اور لاچاری سے گزری ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں اپنے ہر مجرمانہ عمل کو ڈھانپنے کے لئے ”دین سے دوری“ کے جملے کی لسی پھینٹی جائے۔

چھ ماہ تک چار مردوں کے ہاتھوں ریپ ہوتی بچی منہ سے تو چپ تھی مگر اس کا بدن آہستہ آہستہ جواب دینے لگا۔ بچی کی حالت بگڑتی گئی، اتنی بگڑی کہ اسپتال لے جانا پڑ گیا۔ فطرت چپ نہیں کی، اس نے حقیقت کھول کر رکھ دی۔ بچی کے جسم میں ایک نہیں، دو نہیں چار چار درندوں کے روپ میں انسانوں کی شہوت موجود تھی۔ وہ لاکھ چپ کرتی، لیبارٹری کے ٹیسٹ سب سامنے لے آئے۔ بختوں کی پھوٹی جو چھ ماہ تک عذاب اور دہشت کے حصار میں رہی، اب حمل سے تھی۔

اپنے بطن پر ظلم و تشدد کا بوجھ لئے ہوئے تھی جو اس کا حق تھا نہ جس کو اٹھانا اس کا کوئی اخلاقی فریضہ۔ مجرم تو پکڑے گئے، خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی پھر آگ ہماری قومی بے ضمیری کے تعفن اٹھاتے پانی سے بجھ بھی گئی۔ کم سن معصوم سات ماہ تک اپنی اجتماعی زیادتی کا بوجھ اٹھائے رہی۔ اب جا کر سات ماہ بعد نو ماہ سے بھی پہلے ایک بچی نے بچی کو جنم دیا ہے۔ مبارک ہو۔ یہی نہیں، لاڑکانہ میں استادکے ہاتھوں مہینوں ریپ ہوتی ایک اور تیرہ سالہ بچی نے بچی کو جنم دیا اور نجانے کتنی معصوم اس جبر کا بوجھ اٹھائے جان سے جاتی ہیں۔

وہ تمام ناموس کے خود ساختہ پہرے دار اور اقدار کے سپاہی جو ایک لمحہ ضائع کیے بنا اس ملک کی خواتین کے کرداروں، ایمانوں اور حقوق نسواں تحاریک پر گندگی اچھالنے سے بازنہیں آتے، ایسے گھناؤنے معاملات میں بھی مصلحت اور حکمت تلاش کرنے سے باز نہیں رہتے۔ وہ ڈگریوں والے اور بنا ڈگریوں والے اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے غیر انسانی نظریات جو ان کے اذہان کے گوشوں سے اس وقت امڈ کر برساتی کیچوؤں کی طرح باہر آتے ہیں جب کسی مظلوم کی جان بچانے کی کوشش کی جارہی ہو۔ یہ ان کوششوں کو تلف کرتے ہیں اور پھر نازاں ہوتے ہیں کہ اخلاقیات کے مردہ بدن میں روح پھونک دی گئی۔ مظلوموں پر خداؤں کی طرح ہی تو سایہ کیے ہوئے ہیں، جب چاہیں قہر کی روح پھونک دیں اور جو چاہیں عنوان دیں یا تکرار کریں۔

جو کسی ریپ، زبر دستی کی نشانی ہوں، دنیا سر پٹخے یا جان کو آئے، ایسے حمل ٹھہرنے نہیں چاہئیں۔ ایک کمسن بچی جس کی عمر بارہ چودہ سال بھی نہ ہو، اس کو اس قدر تکلیف اور ہولناکی کے بعد اس عمل سے گزارنا بالکل ویسا ہے جیسے وہی عمل اس کے ساتھ بار بار ہو۔ جو لوگ ریپ کے بعد اسقاط حمل کے مخالف ہیں، ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ آگے آئیں اور ان بچیوں کے ریپ کے طفیل پیدا ہونے والے بچوں کو اپنائیں، اپنا نام دیں، اپنے گھر میں اپنے بچوں کی طرح برابری کے ساتھ پروان چڑھائیں، بہترین تعلیم مہیا کریں، جائیداد میں برابر کا حق دیں اور ان کو معاشرے کا باعمل رکن بنائیں۔ ریپ سے متاثرہ، گڑیوں سے کھیلتی ماؤں کی تعلیم کا بندوبست بھی کریں، ان کا مکمل علاج کرائیں اور اپنے جیسا وقار اور مرتبہ دلوائیں۔

افسوس کے ساتھ مگر ہماری شدید آرزو ہے کہ ریپ سے متاثرہ لڑکی کی تکلیف کو اس کی قسمت کا لکھا سمجھیں، اس کے حمل پر نظریات کی بوچھاڑ کریں، انسانیت کا درس دیں، اس کو اس بابت شرمسار بھی کریں، قدم قدم پر اس کو احساس دلائیں کہ وہ کس سانحہ سے گزری ہے۔ جب بچہ اس دنیا میں آئے پھر اس بچے کو ناجائز بھی کہیں، کہیں سے فتویٰ داغ کر اس بچے کو اپنانے بھی نہ دیا جائے، نالی کا کیڑہ بھی کہیں اور عمربھر کسی فلاحی تنظیم کے حوالے کیے رکھیں۔ یہاں بھی تضحیک اور گھمنڈ کی آمیزش کو بگھار نہ لگے تو زبردستی لڑکی کی شادی اس کے مجرم سے کر دی جائے تاکہ معاشرے میں ایسے مجرموں جیسے دوسرے لوگوں کو کھلی چھوٹ اور بچ جانے کی نوید ملے تاکہ وہ یہ جرائم کھلے عام کرتے رہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ یہاں اس معصوم کی شادی کس سے کریں گے؟ ان چاروں مردوں سے؟

کیا غضب ہے کہ ماں اور نومولود دونوں ہی ”بچوں“ کے حفاظتی مرکز میں مقیم ہیں اور کوئی ہوش کی دوا لینے کو تیار ہے نہ مزاحمت کی جنبش دکھلانے کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •