‏لاہور موٹروے کا واقعہ اور آسڑیلیا کے حاجی صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‏حاجی صاحب سے اچھی شناسائی ہے اور ہماری دوستی کو عرصہ دراز ہونے کو آیا ہے۔ حاجی صاحب کا اصل نام تو محمد لطیف ہے لیکن سب ان کو حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ حاجی صاحب باقاعدگی سے صبح پارک میں ورزش کرنے آتے ہیں۔ میری ان سے دوستی کا آغاز بھی صبح کی سیر سے ہی ہوا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلے دو تین دن سے حاجی صاحب صبح کی سیر پر نہیں آئے تو تھوڑی سی تشویش ہوئی اور سوچا کہ آج حاجی صاحب کو فون کرکے ان کا حال احوال پوچھوں گا۔ لیکن اگلے دن حاجی صاحب تشریف لے آئے، چہرے سے لگ رہا تھا کہ حاجی صاحب کی طبیعت خراب ہے۔ اس دن وہ ویسے نظر نہیں آرہے تھے، جیسے روز نظر آتے تھے۔

‏حاجی صاحب کیسے ہیں؟ میں نے گرم جوشی سے پوچھا۔ بہتر ہوں، انہوں نے سنجیدگی قائم رکھتے ہوئے جواب دیا کیا۔ کیا ہوا دو دن آئے نہیں آپ، مجھے تو فکر لاحق ہو گئی تھی، کہ خیریت ہو۔ میں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ بس یار لاہور میں جو واقعہ ہوا اس نے اپنے اثرات یہاں تک چھوڑے ہیں۔ حاجی صاحب نے رنجیدہ آواز میں کہا۔ حاجی صاحب اس واقعے کے اثرات یہاں کیسے؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے چونک کر پوچھا۔ یار دیکھو انسانی زندگی باہمی طور پر کتنی منسلک ہو چکی ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں 22 کروڑ لوگ رہتے ہیں، لیکن دو لوگوں کی بری حرکت نے اس معاشرے کی دنیا میں جو تصویر کشی کی ہے، وہ کتنی بد صورت ہے کہ ایک عورت اپنے بچوں کے ساتھ مدد کی متلاشی تھی، لوگوں نے مدد تو کجا، اسی کو بے آبرو کر دیا۔ میں چاہتا تھا کہ میرے بچے اپنے ملک پاکستان سے بھی روشناس ہو ں۔ ہماری تمدن میں تو عورت ہر روپ میں انسانی زندگی کے لئے باعث رحمت اور باعث شرف رہی ہے۔ ماں سے گھر، گھر لگتا ہے اور ماں کے بغیر گھر، مکان۔ بہن کی شرارتیں بھائیوں کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیتے ہیں۔ بیوی کے روپ میں عورت اپنی زندگی کی ساتھی ہوتی ہے اور اس کا ساتھ آپ کی زندگی کو مزید دلکش بنا دیتا ہے۔

بیٹی آ کر باپ کی زندگی کو پیار، احساس اور رونق سے بھر دیتی ہے۔ میں نے یہ سب پاکستان میں دیکھا اور میں یہ چاہتا تھا کہ میری بیٹی بھی جانے کہ پاکستانی کلچر کتنا خوبصورت اور اپنائیت سے بھرپور ہے۔ لیکن ان دو لوگوں کی حرکت نے میری بیٹی کے ذہن میں پاکستانی معاشرے کے حوالے سے وہ نقشہے کھینچتے ہیں کہ شاید وہ اب پاکستان نہ جائے۔ حاجی صاحب نے نے نہایت افسردہ لہجے میں بات مکمل کی۔ میں خاموش رہا اور یقین جانیے کہ کچھ کہنے کو بھی نہیں تھا۔ بس سنجیدگی سے حاجی صاحب کو دیکھتا رہا۔

‏حاجی صاحب پھر گویا ہوئے اور کہا جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ میں ایک دو برس میں پاکستان جانے والا تھا۔ تاکہ میرے بچے کچھ عرصے اپنی زمین پہ رہیں لیکن لاہور کے واقعے کے بعد میری بیٹی مجھے پوچھتی ہے کہ یہ وہ معاشرہ ہے جس میں آپ ہمیں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ حاجی صاحب نے بات مکمل کی۔ لیکن حاجی صاحب اب ان لوگوں کی نشاندہی ہو گئی ہے، اور ایسے واقعات تو دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو سکتے ہیں، اس میں دل چھوٹا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب پولیس ان کو گرفتار کرے گی اور ان کو ان کے کیے کی سزا مل جائے گی۔ میں نے حاجی صاحب کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

ان کو سزا اس جرم کی ملے گی جو انہوں نے اس رات لاہور موٹروے پر کیا۔ کیا ان کو اس جرم کی سزا بھی مل سکتی ہے جو انہوں نے میرے بچوں کے ذہنوں میں پاکستان کی تصویر کشی کر کے کیا؟ کیا میں ان کے خلاف پرچہ کٹوا سکتا ہوں؟ کہ انہوں نے میری امید اور آس کو توڑا۔ ان خوابوں کو توڑا جو میں نے اپنی اولاد کے ساتھ پاکستان میں رہنے کے دیکھے تھے۔ حاجی صاحب نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا۔

‏اس دن حاجی صاحب کی باتوں کے بعد میں گھر آیا تو سارا دن سوچتا رہا کہ ایسے واقعات کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟ پہلے تو یہ کہ اگر کوئی خاتون کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو کال کریں اور مدد کی درخواست کرے، تب اس کی ہر حال میں مدد ہونی چاہیے اور ذمہ داری اور حدود کی لڑائی بعد میں کر لینی چاہیے۔ اس کے علاوہ موٹرویز کی ویڈیو نگرانی کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے کہ روکنے والی گاڑی کنٹرول روم سے رابطہ کرے اور اپنا مسئلہ بتائے، کنٹرول روم کو پتہ لگ جانا چاہیے کہ موٹروے کی فلاں جگہ پر کوئی گاڑی رک چکی ہے اور نزدیکی ٹیم کو فوراً اس گاڑی کے پاس بھیجنا چاہیے تاکہ رکنے کی وجہ معلوم کی جا سکے اور اس صورتحال کے مطابق ضروری تدابیر کی جا سکے۔ مزید یہ کہ ہمیں اپنے بچوں کو ایک اضافی مضمون پڑھنا چاہیے، ”اخلاقیات“ اس میں وہ سب اخلاقی اصول سکھانے چاہیے جو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سکھا ئے، اور ایک بہترین معاشرہ تشکیل دیا۔ ہماری افرادی قوت آج کل پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنا سکتی ہے یا اس کو بگاڑ سکتی ہے۔ ملالہ اور راحت فتح علی خان اس کی ایک مثبت مثال ہیں، جو ملک کے لیے باعث افتخار ہیں۔

‏ارباب اختیار کے ہاتھوں میں ہے کہ چاہے تو اگلا الیکشن جیتنے پر توجہ مرکوز کریں یا لوگوں کی تربیت پر توجہ دیں کہ بہترین لوگ ہی بہترین معاشروں کی تشکیل کرتے ہیں۔ صاحب اختیار نعرہ تو ریاست مدینہ کا لگائیں، اور ان رہنما اصولوں کی پیروی نہ کریں جن کی وجہ سے ریاست مدینہ، اصل میں ریاست مدینہ بنی تھی، تو وہ خود بیوقوف ہیں یا عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •