ہم‌ مسلمان اتنے سلیکٹیو کیوں ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب دشمن یا جس سے اختلاف ہو وہ کسی مصیبت میں ہو یا بیمار ہو تو کہتے ہیں اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے اس کے کیے کی سزا مل رہی ہے اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے لیکن جب خود پر آن پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بیشک اللہ کا نظام ایسا ہی ہے کہ بسا اوقات انسان کو اس کے کرتوتوں کی سزا اسی دنیا میں بھی ملتی ہے۔ اسی کو قرآن کریم میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ اسی طرح اللہ کا یہ نظام بھی ہے کہ اپنے بندوں کو مختلف پریشانیوں میں مبتلا کر کے آزماتا ہے۔ اسی کو قرآن کریم میں اللہ نے بیان کیا ہے۔ و لنبلونکم بشئی من الخوف والجوع و نقص من الاموال والانفس و الثمرات۔

یعنی البتہ ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قسم کے ڈر سے، بھوک اور فاقہ کشی سے مال وجان کا ‌نقصان کر کے باغ باغیچوں کو برباد کر کے۔

وبشر الصابرین الذین اذا إصابتھم مصیبة قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایسی مصیبت اور پریشان کن آزمائش کی گھڑی میں جس نے کہا انا للہ و انا الیہ راجعون ہم اور ہمارا سب کچھ اللہ کا ہے اور اللہ کی طرف ہی ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ ایسے صبر کرنے والوں کو اے اللہ کے رسول آپ خوشخبری سنا دیجئے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والوں اور کہنے والوں پر اللہ کی طرف سے صلوات اور اللہ کی رحمت برستی ہے۔

لیکن کس کے ساتھ اس کے کیے کا عذاب نازل ہو رہا ہے اور کس کے ساتھ آزمائش کا معاملہ ہے اس کا علم تو صرف اور صرف اللہ رب العزت کو ہے پھر ہم کسی کے لئے جنت اور جہنم طے کرنے والے کون ہوتے ہیں!

ظالم و جابر حکمرانوں کو کوسنے سے پہلے اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ہم اللہ کے نیک بندے ہیں کیا ہمارے اعمال اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر ہیں۔ اگر نہیں تو پھر اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ یا وہ بستیوں کو زیر و زبر کر دیتے ہیں وبا بھیج دیتے ہیں، زمینی یا آسمانی آفات برپا کر دیتے ہیں یا ہم زبانی مسلمانوں پر جابر و ظالم بے رحم حکمران مسلط کر دیتے ہیں۔ اعمالکم عمالکم۔ ۔ ۔ تمہارے اعمال کے مطابق ہی تمہارے حکمراں متعین ہوتے ہیں۔

سات جہنمی عورتیں، شوہر کی حکم عدولی کا انجام ان موضوعات پر خوب کتابیں لکھی جاتی ہیں اصلاح معاشرہ کے جلسوں میں تقریریں کی جاتی ہیں۔ کیا خاوندوں اور مردوں کی جنسی شذوذ، ادھر ادھر منہ مارنے نگاہیں نیچی نہ رکھنے والوں پر بھی کتابیں لکھی جاتی ہیں؟ اصلاح معاشرہ کے جلسے منعقد کیے جاتے ہیں؟ یہ تفریق کیوں؟

والدین کے حقوق، ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے باپ جنت کا دروازہ ہے ان موضوعات پر ہر جگہ کتابچے ملتے ہیں اولاد کی تربیت کی جاتی ہے لیکن کیا اولاد کے حقوق پر بھی اسی طرح والدین کی تربیت کی جاتی ہے تقریریں ہوتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ تفریق کیوں؟

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن کریم میں کہا کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ تو پھر ہم اپنی سہولت کے حساب سے جو مجھے سوٹ کرتا ہے اسے اپناتے ہیں جو ہمارے مزاج اور نفس کے خلاف ہوتا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں ایسا کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •