شرعی سزا ہی علاج ہے
لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 پر گزشتہ ہفتے ایک خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو قیامت گزری اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا کرب و الم ہر با ضمیر نے محسوس کیا اور ہر کوئی اب تک غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ وطن عزیز میں درندگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں ملزمان نے ایک ماں کے ساتھ اس کے کمسن بچوں کے سامنے جس ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی مذمت الفاظ میں ممکن نہیں ہو سکتی۔
قارئین اس قسم کے واقعات کے نہ رکنے کی ایک وجہ معاشرے کی فکری تقسیم بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی بھی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں بھی ہم باہم اتفاق کا مظاہرہ کرنے اور ایک بیانیے پر اکٹھا ہونے میں ناکام رہتے ہیں اسی لیے آج تک ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر مرتبہ اس قسم کے واقعات کے بعد بجائے اس کی وجوہات کے خاتمے یا مجرمان کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا سنانے کے، پہلے سے طے شدہ باتوں کو چھیڑ لیا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی سیاسی پہلو نکال کر مخالفین پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق بھی اپنے مسلک کا دفاع شروع کر دیتا ہے اور اصل مسئلہ پس پشت پڑا رہ جاتا ہے۔ صرف سیاسی ہی نہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے مذہب اور معاشرت سے متعلق مسائل میں لبرلز اور مذہب پسندوں میں خیالات کی تقسیم اختلاف رائے سے بڑھ کر نفرت اور کدورت تک پہنچ چکی ہے۔
دو سال قبل قصور میں ننھی زینب کے ساتھ زیادتی کے واقعے کے بعد جو بحث ہوئی حالیہ دنوں وہ ایک بار پھر چل پڑی ہے۔ مذہب پسند طبقہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کو سر عام سنگین ترین سزا دینے کے حق میں ہے جبکہ لبرل طبقہ اس کا مخالف ہے۔ ہر کسی کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ لبرل طبقے کا خیال ہے کہ حکومت سنگین جرائم میں ملوث افراد کی کونسلنگ کے لیے ادارے قائم کرے اور ان کی تعلیم پر توجہ دے۔ اپنے موقف کے حق میں عموماً ان کے پاس یہ دلیل ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نفسیاتی پیچیدگی کے سبب بربریت پر مائل ہو چکا ہے تو ہمیں بھی اس کے ساتھ ظلم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی نفسیاتی الجھنیں سلجھانے میں اس کی مدد کرنی چاہیے۔
اس کی مخالفت میں یہ دلیل ملتی ہے کہ نہ تو ہماری ریاست کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں مجرمان کی ذہنی کونسلنگ کے ادارے قائم کر کے ان کی بحالی کے اخراجات اٹھا سکے اور نہ ہی یہ تجربہ زیادہ کامیاب ہوگا۔ کیونکہ اکثر دیکھا یہی گیا ہے کہ منشیات کے عادی افراد جب تک بحالی سینٹرز میں ہوتے ہیں تو نشہ وغیرہ چھوڑ دیتے ہیں جونہی مگر وہ گھر لوٹتے ہیں تو دوبارہ نشہ شروع کر دیتے ہیں۔
اس لیے اگر اس طرح کے جرائم کا مستقل سدباب کرنا ہے تو ہمیں اسلامی سزائیں نافذ کرنا ہوں گی۔ کسی مجرم کو اس کے جرم پر سخت سزا دینے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس سزا سے معاشرہ عبرت حاصل کرے اور دیگر جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ اس وقت سعودی عرب، ایران، چین اور شمالی کوریا میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین میں کرپشن کے جرم میں سر میں گولی مارنے کی سزا دی جاتی ہے اس لیے کرپشن کیسز وہاں بہت کم نظر آتے ہیں۔
اسی طرح شمالی کوریا میں ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث افراد کو سر عام فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے بھون دیا جاتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کے طبقاتی فرق کو آڑے نہیں آنے دیا جاتا۔ سعودی عرب میں ایک عرصہ سے چوری کی سزا میں ہاتھ کاٹے جاتے ہیں اور منشیات فروشی کے جرم میں سزائے موت دی جاتی ہے اسی لیے وہاں اس طرح کے جرائم بہت کم ہیں۔ جبکہ ایرانی حکومت کی اپنے ملک پر مضبوط گرفت کے پیچھے بھی اپنے مجرموں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک ہی کار فرما ہے۔ حالیہ دنوں میں ایرانی حکومت نے اپنے ایک ریسلر کو عالمی دباؤ مسترد کر کے سزائے موت دی ہے۔
ہمارے ہاں اسلامی سزا کی بات کرنے والے کو طالبان کا حامی قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ ہمیں چودہ صدی پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارا رب ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ آج سے چودہ صدیاں قبل اس محبت کرنے والے رب نے ہمیں شریعت اور شرعی قوانین عطا فرمائے تھے اور اسی نے اپنے کلام میں قصاص کو زندگی بتایا تھا۔ اس وقت کا معاشرہ جن برائیوں اور بشری کمزوریوں کا شکار تھا کیا آج کا معاشرہ ان سے پاک ہو چکا ہے؟
یقیناً نہیں، تو پھر اب تک ہم اسلامی سزاؤں کے نفاذ پر متفق کیوں نہیں ہو پا رہے؟ پاکستان کے حصول کا مقصد کیا بتایا گیا تھا؟ یہی کہ ایسے قطعہ اراضی کا حصول جہاں ہم اللہ کے بتائے قوانین اور شریعت کے مطابق زندگی بسر سکیں۔ تو کیا پاکستان کے قیام کا مقصد ہم نے حاصل کر لیا؟ عوام کو ایسا معاشرہ مل گیا جہاں وہ خود کو محفوظ تصور کرتے ہوئے اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کر سکیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت تک محض سخت سزا بھی مسئلے کا حل نہیں جب تک قانون کی عملداری مکمل قائم نہیں کی جائے گی۔ آئے روز یہاں ریپ، اغوا برائے تاوان اور توہین مذہب جیسے گھناؤنے واقعات اس لیے پیش آتے ہیں کہ نہ صرف یہاں اسلامی سزاؤں کا رواج نہیں بلکہ نظام عدل پر معاشرے کا یقین بھی متزلزل ہے۔ ہر کسی کے علم میں ہے کہ بڑے سے بڑا جرم کرنے کے بعد بھی اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ نظام عدل پر یقین بحال کرنے کے لیے سب سے پہلے پولیس اصلاحات کی ضروری ہیں لیکن پولیس کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
اس کے بعد باری آتی ہے پراسیکیوشن کی۔ اول تو پولیس کا تفتیشی افسر مقدمہ ہی کمزور بناتا ہے۔ بعد میں رہی سہی کسر پراسیکیوشن والے نکال دیتے ہیں۔ پراسیکیوشن کا کام ہے پولیس یا تفتیشی ایجنسی کے جمع کردہ شواہد کو عدالت کے روبرو مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کرنا۔ اس اسٹیج پر بھی توجہ نہیں دی جاتی جس کے سبب ملزمان عدالتوں سے با آسانی چھوٹ کر دوبارہ سے جرم کرنے نکل پڑتے ہیں۔ لیکن ایک بار شرعی سزائیں اپنی روح کے مطابق نافذ ہو جائیں تو قانون کی عملداری بھی ازخود قائم ہو جائے گی۔ کیونکہ جب کسی ریاستی ملازم کو یہ علم ہوگا کہ فرائض سے پہلو تہی کی سزا کتنی سنگین ہوگی تو کبھی وہ اس کی جرات نہیں کرے گا۔


