بلوچ ٹرک ڈرائیور کی بچیوں کے چار روپے اور انسانیت کا رشتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین سال قبل گرمیوں میں تعلیمی اداروں کو چھٹیاں تھیں اور عید کے قریب میں عملے کو تنخواہیں دینے لاہور سے اوکاڑہ روانہ ہوا اوکاڑہ پہنچ کر بائی پاس سے اتر کر شہر کی طرف ڈرائیور نے کار موڑ دی جب ہم چوک پر پہنچے تو ایک تیز رفتار ٹرک نے بائیں طرف سے کار کو ٹکر ماری جس طرف سے میں بیٹھا تھا ٹکر اتنی شدید تھی کہ میں بیہوش ہو گیا اس چوک پر امرود اور کنو کے تازہ پھلوں کی دیہاڑی دار لوگوں کی چھابڑیاں اور چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں چوک پر موجود ان لوگوں نے کار سے نکال کر مجھے بنچ پر لٹایا اور میرا موبائل نکال کر گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

جب کافی دیر بعد مجھے ہوش آیا تو آنکھیں کھلنے کے بعد جو پہلا خیال آیا وہ حضرت علی کا قول تھا کہ ”موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے“۔ میرے ارد گرد لوگ جمع تھے میں دیکھ سکتا تھا سن سکتا تھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی بچ گئی ہے لیکن جب سر میں اور ٹانگوں میں درد کی شدت بڑی تو ان کا دوسرا قول ذہن میں آنے لگا کہ تم اتنے نادان ہو کہ بازار میں تمہارا کفن آ چکا ہے اور تمہیں خبر نہیں ہے۔

زندگی اور موت کے درمیان ایک خفیف سا پردہ ہے حادثے کے بعد یا تو آپ اپنی زندگی میں واپس لوٹ آتے ہیں جس کی دلکشی سے آپ مسحور رہتے ہیں زندگی جو آپ کے لئے بہت جاذبیت رکھتی ہے اور آپ بے شمار دکھوں کے باوجود اس کی پناہ میں رہنا چاہتے ہیں کوئی ولی اللہ ہوگا یا کوئی برگزیدہ شخصیت ہوگی جو اس معلوم دنیا پر نا معلوم دنیا کو اہمیت دیتی ہو گی لیکن ہم ٹھہرے دنیا دار لوگ اس لئے ہوش و حواس میں آنے پر خوشی ہو رہی تھی۔

بے شمار اجنبی لوگوں کو اپنے ارد گرد کھڑے پایا مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر ان کی خوشی دیکھنے والی تھی انسان کا انسان سے ازلی محبت کا جو رشتہ ہے اس لئے وہ خوشی محسوس کر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ میرے اوسان بحال ہوئے تو ٹانگوں میں شدید درد شروع ہو گیا اور سر پہ بھی جو چوٹ لگی تھی، اس وجہ سے سر اور گردن میں بھی درد محسوس ہو رہا تھا سامنے کار دیکھی تو وہ بری طرح حادثے کی نظر ہو چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد پولیس والے ٹرک ڈرائیور کو پکڑ کر میرے سامنے لے آئے وہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ اس کی غلطی کی وجہ سے ایک آدمی بیہوش تھا دوسرا کار تباہ ہو چکی تھی جس پر اس کا بچنا مشکل تھا اس کی حالت دیکھ کر میں یادوں میں کھو گیا۔

جب میری بہاولپور پوسٹنگ تھی تو ٹریفک حادثات کے ڈرائیور اکثر جیلوں میں آتے جاتے رہتے تھے، اس طرح کے ایک ٹرک ڈرائیور کو حادثے کے بعد پولیس جیل لے آئی۔ عام طور پر بسوں اور ٹرکوں کے مالکان دوسرے تیسرے دن ڈرائیوروں کی ضمانت کرا کر لے جاتے ہیں لیکن یہ پہلا کیس دیکھا کہ اس بیچارے کے پیچھے ایک ماہ تک کوئی نہ آیا تو اس نے مجھے دورے پر کہا کہ میں نے پرائیویٹ سوال کرنا ہے۔ یہ میں نے نیا طریقہ شروع کیا تھا کہ جو لوگ اتنے قیدیوں کے سامنے ذاتی بات بیان نہیں کر سکتے وہ پرائیویٹ سوال لکھوا لیا کریں تاکہ میں آفس میں ان کو بلا کر ان کی بات سن لوں۔

جب وہ میرے آفس میں پیش ہوا تو اس نے درخواست کی کہ اتنا عرصہ گزر گیا ہے میرا مالک ابھی تک میرے پیچھے نہیں آیا آپ بلوچستان میرے گھر پر میری طرف سے خط بھیجیں کہ مالک سے رابطہ کریں تا کہ وہ میری رہائی کرا جائے اگر وہ نہ آ سکے تو گھر والے میرے جیل کے پتے پر پیسے بھجوا دیں تا کہ میں ضمانت کرا کر رہا ہو جاؤں ہم نے فوراً اس کے گھر پر خط بھیج دیا۔

ادھر یہ ہوا کہ خط لکھنے کے تین دن بعد ٹرک کا مالک آ گیا اور اس کی رہائی کرا کر اس کو لے گیا بات ختم ہو گئی لیکن بات ختم نہ ہوئی اس کے جانے کے دس دن بعد اس کی بیوی کا خط ملا قیدیوں کے خط کھول کر پڑھنا اور سنسر کرنا ہماری ڈیوٹی ہے۔

جب میں نے خط کھول کر پڑھا تو لکھا تھا ”آپ گھر کی حالت تو اچھی طرح جانتے ہیں میں ادھر محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں کہ آپ کی ضمانت کرا سکوں بچیوں نے کچھ پیسے جمع کیے ہیں میں وہ بھیج رہی ہوں“۔

خط سے معلوم ہوا اس کی چھوٹی چھوٹی تین بچیاں تھیں خط پر پیسوں کے سامنے بچیوں کے نام اور انگوٹھے لگے ہوئے تھے لفافے میں چار روپے رکھے ہوئے تھے بڑی بچی کے دو روپے اور چھوٹی بچیوں کا ایک ایک روپے کا نوٹ۔ خط پڑھ کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔

آپ اندازہ نہیں کر سکتے بلوچستان کے مکینوں کی غربت کا اور ہم ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے ماسوائے اس کے کہ ان کو اٹھا کر گم کردیں یا بے رحمی سے قتل کر دیں۔ حیات بلوچ کی ماں کی کسمپرسی اور بے بسی میری روح کو تڑپا دیتی ہے چنانچہ یادوں کا قرض جو ایک عرصے سے میں لئے پھرتا تھا آج اسی طرح کا ایک ٹرک ڈرائیور میرے سامنے کھڑا تھا اور پولیس والا اس کو گرفتار کرنے میں چوکس تھا۔

کانسٹیبل نے کہا ”سر میں اس کو لے جاؤں“ میرے گرد مجمع میں ایک لمحے کے لئے سکوت چھا گیا میں نے پولیس والے کو کہا ”اسے جانے دو“ پولیس والے کو میری بات پر یقین نہ آیا وہ اسے گرفتار کرنے کی ٹھان چکا تھا میں نے اسے کہا سنو! اسے چھوڑ دو اور میری روانگی سے پہلے یہ ٹرک چلا کر میرے سامنے روانہ ہو جائے۔

چوک پر کھڑے ہوئے مجمع کی کیا کیفیت تھی مجھے اس وقت اندازہ نہ ہوا جبکہ کئی سال بعد دو میجر آپریشن کرا کر میں صحت یاب ہوا اور اسی چوک پر تازہ فروٹ خریدنے کے لئے رکا تو وہی چھابڑی والے اور دکاندار جو حادثے کے وقت میرے گرد جمع تھے ان میں کوئی بھی مجھ سے فروٹ کے پیسے لینے کو تیار نہیں تھا بار بار کہنے کے باوجود انہوں نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا سر آپ کو آج اس حالت میں دیکھ کر ہمیں جس قدر خوشی ہوئی ہے آپ اندازہ نہیں کر سکتے وہ ٹرک ڈرائیور ان کے لئے اجنبی تھا وہ میرے لئے اجنبی تھے اور ہم تینوں فریق ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے لیکن درد کا رشتہ مشترک تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •