جب شام کو ویرانے میں امریکی شاہراہ پر میری گاڑی خراب ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹر وے پر پیش آنے والے سانحے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت میں نے قلم اس لئے نہیں اٹھایا ہے کہ اس واقعے کے کسی اخلاقی پہلو پر گفتگو کروں۔ اس مظلوم عورت کا دفاع کروں جس کی گاڑی بیچ راستے میں بند ہو گئی تھی یا کسی سفاکانہ بیان بازی پر احتجاج کروں کہ ”اے عورت تورات کو تنہا کیوں نکلی؟“ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا یہ سانحہ ایک ایسی سرزمین پر پیش آیا جہاں چپے چپے میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے۔ جہاں جمعے کے جمعے ہر مسجد میں ایمان تازہ کرنے والے خطبے دیے جاتے ہیں اور جو مملکت خداداد کہلاتی ہے۔

میرے ذہن میں یہ سوال اس لئے بھی اٹھ رہے ہیں کہ میں پچھلی تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہوں۔ اس غیر اسلامی ریاست میں تیس برس سے میں گاڑی دوڑاتی، دندناتی پھر رہی ہوں یہاں کبھی کسی نے مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ اے عورت تو آدھی رات کو تنہا کیوں نکل پڑی۔ مجھے کبھی کسی نے یہاں گھور کر نہیں دیکھا۔ میں نے یہاں ملازمت بھی کی اور اکیلے لانگ ڈرائیو بھی کی۔ اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہوا یہ کہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ ہیوسٹن سے آسٹن جا رہی تھی۔

یہ سن دو ہزار نو یا دو ہزار دس کی بات ہے۔ ان دنوں میں یونیورسٹی آف ٹیکساس، آسٹن میں لیکچرار تھی۔ میری دو بیٹیاں بھی اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں۔ بڑی بیٹی آنرز پروگرام میں تھی اور چھوٹی بیٹی اسکول آف کمیونیکیشن سائنس کی طالبہ تھی۔ ہم تینوں کے اوقات کار اور شیڈول میں اتنا فرق ہوتا تھا کہ ہماری ملاقات بھی سرسری سی ہوتی تھی۔ گھر ہیوسٹن میں ہونے کی وجہ سے ویک اینڈ پر میں کبھی تنہا تو کبھی کسی بیٹی کے ساتھ ہیوسٹن آتی تھی۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی آف ہیوسٹن میں ہی پڑھ رہا تھا اور شوہر کی ملازمت اور ہماری مستقل رہائش شروع سے ہیوسٹن ہی میں ہے۔

بتاتی چلوں کہ ہیوسٹن، ٹیکساس کا سب سے بڑا شہر ہے اور آسٹن شہر، ریاست ٹیکساس کا دارالحکومت ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن جو عرف عام میں یو ٹی آسٹن کہلاتی ہے۔ یو۔ ایس۔ اے کی اعلی درجے کی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے اس لئے ہیوسٹن سے بہت بڑی تعداد میں طلبہ اور طالبات اس یونیورسٹی میں پڑھنے آتے ہیں۔ تعلیم مکمل ہونے تک یہاں قیام کرتے ہیں اور ہیوسٹن مستقل آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہاں لڑکی ہو یا لڑکا سبھی اکثر اکیلے سفر کرتے ہیں۔

ان دونوں شہروں کے بیچ لگ بھگ ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ ہے۔ راستے میں جنگل بھی ہیں، ندی نالے، دریا، کھیت کھلیان اور میلوں پھیلی سنسان چراگاہیں بھی۔ بتاتی چلوں کہ پورے امریکہ میں زیادہ تر لوگ بائی روڈ ہی سفر کرتے ہیں۔ یہاں شہر سے باہر ہائی وے پر بجلی کے کھمبے نہیں ہوتے۔ شروع شروع میں مجھے عجیب لگا۔ پھر گاڑی کی ہیڈ لائٹ کی روشنی میں سفر کرنے کی عادت ہو گئی۔

اس روز جس کا میں نے اوپر ذکر کیا، میں اور میری چھوٹی بیٹی ہیوسٹن سے سہ پہر کے بعد آسٹن کے لئے نکلے۔ گھر سے نکلتے ہوئے حسب عادت گاڑی کے ٹائر چیک کیے، پٹرول پمپ پر رک کر ٹینک بھرا اور چل پڑے۔ یہاں ہائی وے پر پچھتر میل فی گھنٹہ کی رفتار ہے۔ ہم اپنی دھن میں باتیں کرتے پوری رفتار سے چلے جا رہے تھے کہ بند شیشوں کے باوجود برابر سے گزرنے والی گاڑی سے کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ میں نے چونک کر دیکھا تو گاڑی دور جا چکی تھی۔

میں نے بیٹی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور پوچھا تمہیں کچھ سنائی دیا۔ اس نے کہا جی کوئی چیخا تھا۔ پھر اس نے کہا امی آپ گاڑی بہت تیز چلا رہی ہیں۔ ٹکٹ مل جائے گا۔ میں نے رفتار تھوڑی کم کی اور سلو ٹریک پر آ گئی تب مجھے احساس ہوا کہ گاڑی کچھ ناہموار چل رہی ہے۔ میں نے بیٹی سے پوچھا کہ کیا تمہیں محسوس ہو رہا ہے کہ گاڑی تھرتھرا رہی ہے۔

اس بے چاری کو کیا پتہ اسٹیرنگ ویل تو میرے ہاتھ میں تھی۔

ہائی وے پر عموماً دو ہی ٹریک ہوتے ہیں۔ جب کوئی شہر یا گاؤں آتا ہے تو ٹریک میں اضافہ ہوتا ہے۔ آگے جاکر معمول کے مطابق پھر دو ہی لائنیں چلنے لگتی ہیں۔ مجھے اس راستے کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ اکیلے سفر میں اکثر کوئی کیسٹ لگا لیا تو ڈھائی تین گھنٹے کا سفر آرام سے کٹ جاتا تھا۔ اس وقت بھی سوائے اس کے کہ گاڑی ہلکی سی ناہموار تھی اور کوئی پریشانی نہیں تھی۔ ہم ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک اونچا پک اپ ٹرک ہمارے قریب برابر آ کر آہستہ ہوا اور گورے آدمی نے چیخ کر کچھ کہا۔ حالانکہ ہماری گاڑی کا شیشہ پوری طرح بند تھا پھر بھی وہ آواز آئی اور میں نے مڑ کر دیکھا کہ وہ گورا اپنے پک اپ ٹرک کا شیشہ نیچے کیے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں کچھ بتا رہا ہے۔ اور زور سے کچھ کہہ رہا ہے۔ وہ چونکہ فاسٹ ٹریک پر تھا اس لئے اشارہ کرتا ہوا آگے نکل گیا۔ اس کا اشارہ پہیے کی طرف تھا۔

یہ دوسرا آدمی تھا جس نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ میں نے گاڑی کی رفتار مزید کم کردی اور ہیزرڈ لائٹ جلا دی۔ سردیوں کا موسم تھا۔ شام کا وقت اور سورج غروب ہونے میں کچھ ہی دیر تھی۔ اس مقام پر ایک طرف جنگل اور دوسری طرف گہرا برساتی نالہ۔ اس پوائنٹ پر شولڈر بھی بہت کم تھا۔ گاڑی اب بری طرح تھرتھرا رہی تھی۔ میں نے بیٹی سے کہا کہ یہاں کہیں جگہ ملے تو گاڑی پارک کر کے ٹائر چیک کرنا ضروری ہے۔ بیٹی نے کہا امی یہ ڈھلوان ہے یہاں دور سے آنے والی گاڑیوں کو ہماری گاڑی بالکل نظر نہیں آئے گی۔

دھند بڑھ رہی ہے کوئی گاڑی ہمیں مار بھی سکتی ہے۔ بہتر ہے کہ آہستہ آہستہ چلتے رہیں۔ شاید کوئی گیس اسٹیشن نظر آ جائے۔ ہم اس امید پر چلتے رہے۔ ویسے بھی کوئی چارہ نہیں تھا۔ تھوڑی دور جا کر ایک جگہ شولڈر کچھ کشادہ تھا ہم نے گاڑی روکی اور ٹائر دیکھا۔ پیچھے کا ایک ٹائر پنکچر تھا۔ میں کانپ گئی۔ اگر ان گوروں نے ہمیں خبردار نہ کیا ہوتا تو میں جس رفتار سے جا رہی تھی اور ساتھ میلوں تک جو ڈچ تھا اس میں سیدھے گاڑی جاتی۔ امریکہ میں ہر سال ہزار ہا اموات روڈ ایکسیڈنٹ میں ہوتی ہیں۔ ہائی وے پر ایکسیڈنٹ زیادہ جان لیوا ہوتا ہے۔

ہم نے گھر فون ملایا لیکن یہاں فون سروس نہیں تھی۔ ہائی وے پر اکثر جگہوں پر فون کام نہیں کرتا۔ اب یہ بھی امید جاتی رہی کہ ٹریپل اے کی روڈ سروس سے کچھ مدد مل جائے گی۔ ہمارے برابر سے گاڑیاں تیز رفتاری کے ساتھ گزرتی تھیں تو لگتا تھا ہم ان کی ہوا سے اڑ جائیں گے۔ مغرب کا وقت ہوچکا تھا۔ ہم اللہ کا نام لے کر دوبارہ روانہ ہوئے کہ کم از کم کسی ایسے پوائنٹ پر پہنچیں جہاں سے فون سروس ہی بحال ہو جائے۔ لیکن پانچ منٹ ہی چلے ہوں گے کہ عجیب سی آواز کے ساتھ ٹائر پھٹ گیا۔

ہم پھر شولڈر پر آ گئے۔ اب ہم کھڑے ہوئے ہر آنے والی گاڑی کو اشارہ کرتے۔ بیٹی نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ ہم خود سے ٹائر بدلنے کی کوشش کریں لیکن جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ ڈھلوانی حصہ تھا۔ گاڑیاں تیز رفتاری سے گزر رہی تھیں۔ ہمارے اشارے پر جو رکنا بھی چاہتیں تو روکتے روکتے ایک آدھ میل نکل جاتیں۔ ہمیں وہاں کھڑے ہوئے پانچ دس منٹ ہو گئے تھے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں اتنے میں ایک چھوٹا سا پک اپ ٹرک آتا نظر آیا۔

میں نے ہاتھ ہلایا۔ یہ بہت پرانا اور خستہ حال پک اپ ٹرک تھا۔ وہ رکتے رکتے بھی کچھ دور نکل گیا۔ ہم مایوس ہو گئے کہ یہ بھی دوسروں کی طرح مجبوراً آگے بڑھ جائے گا۔ لیکن اس نے گاڑی ریورس کرنا شروع کی۔ اس وقت میں سانس روکے کھڑی تھی۔ لگتا تھا وہ چھوٹا سا کھٹارا سیدھا ڈچ میں جانے والا ہے لیکن وہ آہستہ آہستہ کافی قریب آ گیا اور گاڑی رکی تو دو آدمی باہر آئے۔ ان میں ایک پچاس ساٹھ سال کا بوڑھا اور دوسرا بیس پچیس سال کا نوجوان تھا۔ دونوں صورت سے غریب مزدور یا کسان لگ رہے تھے۔ انہوں نے ہمارے قریب آتے ہی ہائے ہیلو کے بعد پوچھا کہ ہم تمہاری کیا مدد کر سکتے ہیں۔ ان کا لہجہ خالص ٹیکسن تھا۔ ہم نے ٹائر دکھایا۔ انہوں نے تیزی سے ڈگی کھولی اس میں سے اسپئر ٹائر نکالا، سامان نکالا اور جٹ گئے۔

ابھی بمشکل دس منٹ گزرے ہوں گے کہ بوڑھے آدمی نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ایک نٹ بولٹ ٹوٹ گیا ہے اس لئے ٹائر کھلنا مشکل ہو رہا ہے۔ مجھے یہ بات عجیب لگی اور میرے ذہن میں ایک شک سا پیدا ہوا۔ اگلے لمحے میں نے دیکھا کہ لڑکا جسے اس نے اپنا بیٹا بتایا تھا وہ اپنی گاڑی سے ہتھوڑا نکال کر لا رہا ہے۔ وہ دونوں پھر اس آخری نٹ کو کھولنے میں لگ گئے۔ میں نے دل میں سوچا کہ آج کوئی بدقسمتی ہمارے ساتھ ہے۔ حد یہ کہ ہائی وے پٹرول کی بھی کوئی گاڑی نظر نہیں آئی۔

عموماً ہائی وے پر پولیس گاہے بگاہے نظر آتی رہتی ہے۔ اس دن پولیس کے آنے کی دعا مانگ رہی تھی تو پولیس غائب تھی۔ ہم دونوں ماں بیٹی سڑک کے کنارے خاموش کھڑے تھے اور وہ اجنبی باپ بیٹے ہمارا ٹائر بدلنے میں جٹے ہوئے تھے۔ تو میں نے غور کیا کہ ان کے ٹرک میں کچھ سائن بورڈ رکھے ہوئے ہیں۔ میری بیٹی نے بتایا کہ یہ مزدور لوگ ہیں اور اس سائن بورڈ کو سڑک کے کنارے زمین میں لگانے کی انہیں بہت کم اجرت ملتی ہے۔ امی انہیں کچھ دے دیجئے گا۔ میں اندر سے خوفزدہ تھی۔ اور مشکوک بھی لیکن بچی پر اپنا خدشہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کے چہرے کی طرف میں جب بھی دیکھتی تو اس پر اطمینان نظر آتا۔

آخر کا روہ لوگ ٹائر کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے بہت تیزی سے ٹائر بدلا، نٹ بولٹ ٹوٹنے پر ہم سے معذرت کی، ڈگی میں ہمارا پرانا ٹائر ڈالا سامان رکھا اور مسکراتے ہوئے ہمیں خدا حافظ کہا تو میرے اوسان بحال ہوئے، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اب جو پرس میں ہاتھ ڈالا تو کیش کے نام پر ایک دو کواٹر پڑے تھے۔ گاڑی میں بھی ادھر ادھر ہاتھ مارا لیکن کیش نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ پرس میں پڑے کریڈٹ کارڈ میرا منہ چڑا رہے تھے۔

میں نے شرمندہ ہو کر ان سے ان کا وزٹنگ کارڈ مانگا کہ ہم چیک میل کردیں گے۔ ان کے پاس وزٹنگ کارڈ نہیں تھا۔ وہ بہت جلدی میں تھے۔ میں نے روک کر کہا اچھا اپنا فون نمبر ہی دے دو۔ تو اس کا بیٹا بولا ہمارے پاس فون نہیں ہے۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ انہوں نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا، خدا حافظ کہا اور چلے گئے۔ میں ممنون نگاہوں سے ان فرشتوں کو دیکھتی رہی جو نہ میرے ہم مذہب تھے نہ میرے ہم رنگ۔

میرے ذہن میں وہ آواز اور وہ چہرے آج تک نقش ہیں۔ وہ شخص جس نے چیخ کر اور اشارے کر کے زناٹے سے بھاگتی گاڑیوں کے بیچ گزرتے ہوئے مجھے خبر دار کیا۔ وہ جس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے سمجھایا کہ رفتار کم کرو، خطرہ ہے! ۔ اور پھر وہ باپ بیٹے جنہوں نے ہائی وے کے اس خطرناک بلائنڈ اسپاٹ پر شام کے دھندلکے میں ایک نوجوان لڑکی اور اس کی نہتی ماں کو دیکھ کر انہیں لوٹنے کے بجائے ان کی مدد کی۔ وہ نہ جانے کون تھے۔ لیکن سر راہے انسانیت کا جو ثبوت انہوں نے دیا۔ ان کی اس انسانیت اور انسان دوستی کو میرا سلام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •