مولانا طارق جمیل کا حور کا بیان فحش نہیں، قصور مخلوط تعلیم کا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر بری چیز کی وجہ ایک ہی ہے۔ آپ کوشش کریں سوچنے کی۔ ذہن پر زور دیں۔ ہو سکتا ہے آپ صحیح طریقے سے زور نا دیں سکیں۔ تو کوشش کریں کہ کوئی پتھر یا اینٹ سر پر رکھ کر دیکھیں۔ اس سے بھی حل نا نکلے تو ایک مزید پتھر سر پر رکھیں مجھے لگتا ہے۔ اور سو فیصد یقین ہے۔ حل نہیں نکلے گا۔ تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ دیوار میں سر مار کر دیکھیں۔ شدید زور و شور سے ماریں۔ اتنی زور سے کہ دیوار ٹوٹ جائے۔ کیونکہ آپ کا اگر سر پھٹتا ہے۔ تو اس میں غلطی آپ کی نہیں ہے۔

ایک صاحب عقل انسان کا اس طرح سے مسلسل دیوار کو ٹکریں مارنا غلطی نہیں ہو سکتا۔ پھر آخر غلطی کس کی ہے۔ اس کو حل کرنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہے کہ آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ تو اس کی ایک واحد وجہ سمجھ آتی ہے۔ وہ ہے مخلوط تعلیم۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا وجہ ہوئی۔

آپ کو اپنی سوچ پر مجھ پر یقین نہیں تو کسی عالم سے پوچھ لیں۔ بھلا پوچھنے کی بھی کیا ضرورت ہے۔ بس ایک نظر سوشل میڈیا پے ڈال لیں۔ تو اہل علم و دانش کا ایک ایک بیان نظر سے گزر جائے گا۔ جہاں آپ کو ہفتوں سے خاموش اہل علم بتاتے نظر آئیں گے۔ کہ بھائی پٹرول اور آگ کو اکٹھے مت رکھیں۔ مگر آپ کو سمجھ نہیں آتی کہ ہر چیز جیسے کہ فتنہ فساد، سیکس، ریپ، لاقانونیت، آمریت، عدل و انصاف کی عدم دستیابی، بھوک افلاس، انسانوں کے حقوق کی پامالی تو اس کا سبب ایک ہی ہے وہ ہے۔ مخلوط تعلیم۔ مگر مجھ جیسے جاہل کو یہ بات کہاں سمجھ آتی ہے۔

اکثر میرے سمجھدار دوست بتاتے ہیں۔ جو مجھے درست بھی لگتا ہے کہ موٹر وے حادثہ ہو کہ مدرسوں میں بچوں کے ساتھ ہوئی زیادتی، یا پچھلے چند دنوں کی نیوز سن لیں۔ اس میں ایک ہی روز میں فیصل آباد میں تین کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی، گوجرانوالا میں سوتیلے باپ کا بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانا، حافظ آباد میں خاتون سے اجتماعی زیادتی، بورے والا میں لڑکے سے زیادتی، سڑکوں پے تشدد، ٹارگٹ کلنگ، پنگھوڑے سے لے کر قبر میں لیٹی لڑکی یا لڑکا سب اسی کے سبب زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ سب اسی کا شاخسانہ ہے۔ ویسے یہ سب چھوڑیں ہم تو ریاست مدینہ کے باسی ہیں۔ ہم سب تو بکریاں ہیں ہماری قربانیوں سے ہماری آبادی زیادہ ہو گی برکتیں ہوں گی۔

ایک بات آپ سے کہنا چاہوں گا آپ سمجھیں گے کہ میں مزاح میں یہ بات کر رہا ہوں۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ ریپ، زیادتی ایک مکروہ فعل ہے۔ اس کو مزاح کا حصہ نا بنائیں۔

مگر آپ کو کیا معلوم ”ہمارے ادارے تربیت ساز نہیں ہیں۔ ہمارے کالجز میں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں۔ جب پٹرول اور آگ اکٹھا ہو گا۔ پھر آگ نا لگے یہ کیسے ہو گا۔ کو ایجوکیشن مخلوط تعلیم اس نے بے حیائی کو پرموٹ کیا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔“

مگر ٹھہریں۔ جو میں آ کو منظر دکھاؤں گا اس کی طلب میں کوئی کہیں جا کر نہیں پھٹے گا۔ ساری برائی مخلوط تعلیم میں ہے۔

” پردے میں سرسراہٹ ہو گی۔ پردہ ہٹے گا۔ آہستہ آہستہ، سامنے تخت پہ ایک لڑکی کہنی سے ٹیک لگائے نیم دراز ہو گی۔ اس کے جسم پہ سو جوڑے ہوں گے، ہر جوڑا الگ نظر آ رہا ہو گا۔ ہر جوڑے کے لحاظ سے چہرے پہ میک اپ کی لہریں اٹھ رہی ہوں گی۔ ہر جوڑے کی خوشبو الگ مہک رہی ہو گی۔ ہر جوڑے کا ڈیزائن الگ الگ نظر آئے گا۔ میرے کرتے کے نیچے بنیان نظر نہیں آ رہی۔ اس کے سو جوڑے الگ الگ نظر آئیں گے۔ سو جوڑوں کے پیچھے اس کا پورا جسم دکھے گا۔“

کیا کہنے تھوڑا آگے چلتے ہیں۔

”جب اس پہ پہلی نظر پڑے گی۔ تو بندے کی آنکھیں پھٹ جائیں گی۔ وہیں پے سٹنڈ۔ کتنی دیر دیکھے گا۔ بندہ اسے بیٹھ کے چالیس سال دیکھتا رہے گا۔ آنکھ نہیں جھپکے گا۔ آخر وہ بولے گی۔ آپ میرے پاس نہیں آئیں گے۔ دور ہی بیٹھیں رہیں گے۔ پھر اس کو ہوش آئے گا“

بھائی یہ مت سوچ لینا کہ یہ سب مخلوط تعلیم ہے۔ اس کا تو یہاں ذکر کرنا ممنوع ہے۔
تھوڑا اور آگے چلتے ہیں بس تھک نا جائیے گا۔

” انگوٹھے سے ناف تک زعفران، گھٹنے سے سینے تک مشک، سینے سے گردن تک امبر، گردن سے سر تک کافور، اس کا قد ہے ایک سو تیس فٹ۔ سر کے بال چوٹی سے آتے ہیں۔ آبشار کی طرح اور پاؤں کی ایڑیوں کا بوسہ لیتے ہیں۔ ایک سو تیس فٹ لمبے بال۔ اور اس میں موتی ہیرے جڑے ہوئے۔ یوں جب سر ہلاتی ہے۔ پوری جنت میں جگمگ جگمگ بجلیاں چمکنے لگتی ہیں۔ دانتوں سے جو نور نکلتا ہے، ساری جنت کو روشن کر دیتا ہے۔ ایک قدم اٹھاتی ہے خاوند کے لئے تو ایک لاکھ ناز و انداز اپنے خاوند کو دکھاتی ہے۔ ایک سو تیس فٹ لمبی لڑکی“

آخر میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ اس کو ایجوکیشن کے شیطانی قدم کا ایک ہی حل ہے۔ کہ آپ نے ایک سو تیس فٹ کی حور لینی ہے تو کلاسوں میں کو ایجوکیشن ختم کریں۔ نہیں کر سکتے۔ تو ان کے درمیان فاصلہ تین میل کر دیں۔ کرونا سے بھی بچاؤ ہو جائے۔ گا اور فحاشی بھی نہیں پھیلے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •