نوشابہ کی ڈائری: ”چیرا“ اور دوسرے ماورائے عدالت اقدامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


30 دسمبر 1996

کتنے دن بعد ذیشان کی صورت دیکھی، لگتا ہے مہینے نہیں سال گزرے ہیں۔ کتنا بدل گئے ہیں، کچھ بدلے ہیں کچھ خود کو بدل لیا ہے۔ ایک تو دبلے بہت ہوگئے ہیں، پھر داڑھی، بالوں کا نیا انداز اور سیاہ چشمہ، وہ ”یہ میں ہوں نوشی“ نہ کہتے تو جانے کتنی دیر تک میں دروازے پر کھڑے اس ”اجنبی“ کو پہچاننے کی کوشش کرتی رہتی۔ ان چند گھنٹوں کی ملاقات میں وہ میرے اور سارنگ کے ساتھ کم اپنے خوف کے ساتھ زیادہ رہے۔ مسلسل چوکنا، ذرا سے کھٹکے پر چونک جاتے۔

میں نے کہا، ”ذیشان! بے نظیر کی حکومت ختم ہوگئی، اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نگراں حکومت ایم کیوایم کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے، اب آپ لوٹ آئیں یا خود کو پولیس کے حوالے کردیں۔“ ان کے ہونٹوں پر انکار اور آنکھوں میں مجبوری تھی، ”صورت حال بہتر ہوئی ہے تبھی آنے کی ہمت کر سکا، لیکن واپسی کا تو راستہ ہے ہی نہیں نوشی۔ اور خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا مطلب ہے درجنوں قتل اپنے سر لینا، اعترافات کی فہرست دے کر طوطے کی طرح رٹوانا، اور پھر کسی دن یہ کہہ کر مار دیا جائے گا کہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ دیکھا نہیں فہیم کمانڈو اور فہیم بھورا کے ساتھ کیا ہوا۔ فہیم کمانڈو ریاست کا بھی مجرم بن گیا ہمارا بھی۔ میں اگر پولیس سے بچ بھی گیا تو لڑکے مار دیں گے۔ ایم کیوایم میں غداری کی سزا صرف موت ہے۔“

ذیشان نے ہی بتایا تھا کہ فہیم کمانڈو کا جرم اس کی شادی تھی۔ وہ اور اس کے ساتھی فہیم کمانڈو کی پنجابی بیوی ناہید بٹ کی مخبری پر پکڑے گئے۔ شاید ناہید بٹ کے پنجابی ہونے کی وجہ سے اس پر شک کیا جا رہا ہے۔ گرفتاری اور بیان لینے کے بعد فہیم کو مار کر کہہ دیا گیا کہ وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ فہیم کمانڈو کی غلطی کی وجہ سے اس کے گروپ کا تتربتر ہوجانا اور بہت سے کارکنوں کی ہلاکت وگرفتاری اتنا بڑا نقصان تھا کہ اسے ایم کیوایم کے ”شہداء“ اور ”ہیروز“ کی فہرست میں جگہ نہیں دی گئی۔ ”جب فہیم اور اس کے گروپ کے لڑکے کسی مشن کے لیے نکلتے تھے تو ناہید بٹ دروازے پر قرآن لے کر کھڑی ہوجاتی اور سب کو قرآن کے سائے میں رخصت کرتی تھی۔“ ذیشان کا انکشاف سن کر میں نے کہا تھا وہ جنھیں مارنے نکلتے تھے انھیں بھی گھروں سے قرآن کی آیتیں پھونک کر الوداع کہا جاتا ہوگا۔

ذیشان کے جانے کے بعد میں کتنی ہی دیر اس تکیے کو آنکھوں سے بھگوتی رہی جس پر سر رکھتے ہی ذیشان جاگتے رہنے کی پوری کوشش کے باوجود گہری نیند سوگئے تھے۔ اور جب سارنگ کے ہاتھ سے کھلونا گرنے کی آواز سن کر وہ جھٹکے سے اٹھے تو ان کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر مجھے ان پر کتنا ترس کتنا پیار آیا تھا۔ مجھے ان کی صورت پر پیار آتا ہے، ان کی آنکھوں کی معصومیت اب بھی سیدھی میرے دل میں اتر جاتی ہے، لیکن ان کے ہاتھ مجھے سرخ دکھائی دیتے ہیں، خون میں لتھڑے ہوئے۔

قربت کے وہ لمحات جو مجھے مدہوش کر دیا کرتے تھے اب کس قدر گھناؤنے لگنے لگے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے صبح کے وقت قصائی کی دکان میں کھڑی ہوں اور تازہ تازہ گوشت کی بساند ہر طرف پھیلی ہے۔ اپنی بے زاری اور اذیت پر یہ سوچ کر ضبط کیے رکھتی ہوں کہ میرے اس رویے کو کوئی اور نام نہ دے دیا جائے، میرا کردار سوال اور شک کی صلیب پر نہ چڑھا دیا جائے۔ یہ عجیب سماج ہے، عورت ملاپ کے پلوں میں وارفتگی کا اظہار کرے تو اس کا ماضی مشکوک اور کسی بھی وجہ سے عدم دل چسپی کا مظاہرہ کرے تو مرد کو ”دال میں کالا“ دکھائی دینے لگے۔

ذیشان سے محبت کم نہیں ہوئی، چٹکی بھر بھی نہیں۔ ان کی یاد میں تڑپتی ہوں اور ان کی قمیص سینے سے لگاکر سوجاتی ہوں۔ لیکن ان کے قاتل ہونے کا احساس جان نہیں چھوڑتا۔ کاش میں ان عام عورتوں کی طرح ہوتی جن کا سچ، حق، شعور سب صرف ان کا شوہر، باپ، بھائی اور بیٹا ہوتے ہیں، مرد کی ذات میں پوری طرح گم عورتیں، لیکن میں ایسی نہیں، کوشش کرنے کے باوجود نہیں بن پارہی۔ سوچنے کی عادت اور کتابوں نے میری اس فطرت کو میری شخصیت بنادیا ہے۔ سو دو راہے پر کھڑا رہنا میرا مقدر ٹھہرا ہے۔

بے نظیر کی حکومت کے خاتمے پر لوگوں نے سکون کی سانس لی ہے۔ ایک خونیں دور تھا جو ختم ہوا۔ قدرت کا عجیب کھیل ہے، پولیس مقابلوں کا جو کھیل ایم کیوایم کے لیے شروع کیا گیا تھا اس میں وزیراعظم کا اپنا بھائی مرتضیٰ بھٹو بھی مارا گیا۔ بے نظیر مقابلوں کے نتیجے میں ہونے والے امن کو اپنا کارنامہ قرار دیتی تھیں، لیکن ان ہی کی جماعت کے صدر، فاروق لغاری نے انھیں برطرف کرتے ہوئے ان مقابلوں کو بے نظیر کے لیے الزام بنادیا۔

پیپلزپارٹی کے دور میں مقابلوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل تو ہوئے، لیکن شہر میں بڑی حد تک امن قائم ہوگیا ہے۔ مگر اس طرح کا ”ماورائے عدالت“ امن تو پورے ملک میں قائم کیا جا سکتا ہے، پھر عدالتوں کی کیا ضرورت ہے، مقدمات میں وقت کیوں ضائع کیا جائے؟ ماورائے عدالت اقدامات کا سلسلہ تو عدالتوں تک پھیل گیا تھا۔ نوشادچچا کے وکیل دوست شاداب انصاری نے انھیں بتایا کہ ایم کیوایم کے کئی کارکن ان کے موکل ہیں۔ جج نے شاداب صاحب کو اپنے کمرے میں بلاکر ان سے کہا، ”سائیں! اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ ہمیں حکومت کی خفیہ ہدایت ہے کہ ان لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں دینا۔“ اگر یہ سچ ہے تو کتنا خوف ناک سچ ہے۔ ایک بھیانک سچ یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی نے ان مقابلوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

ایم کیوایم کی ضعیف رکن سندھ اسمبلی فیروزہ بیگم نے جب حکومت میں شامل ہوکر وزارت کا حلف اٹھایا تو مجھے افسوس ہوا تھا کہ ایک بزرگ خاتون نے اپنی بزرگی کا اعتبار اور احترام کھو دیا۔ لیکن بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ انھیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر حکومت کے کہنے پر عمل نہ کیا تو ان کے اسیر بیٹے اور ایم کیوایم کے سرگرم کارکن اسامہ قادری کو دوران حراست ماردیا جائے گا۔ سو گرفتار اور تشدد کا شکار بیٹے کی ماں وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ کا حکم ماننے پر مجبور ہوگئی۔

یہ تو اردشیر کاؤس جی نے ”ماں کی ہائے“ کے عنوان سے ”ڈان“ میں کالم لکھ کر اس ظلم سے پردہ اٹھایا۔ ایم کیوایم کے رکن سندھ اسمبلی وسیم اختر نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام خط یہ کالم ساتھ لگا کر بھیجا، جس پر عدالت نے کارروائی کی اور فیروزہ بیگم نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ انھیں بیٹے کے قتل کی دھمکی دے کر حکومت میں شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد انھیں اس جبر سے نجات ملی۔

نوشاد چچا نے صحیح کہا تھا، ”ایم کیوایم جنگ ہار رہی ہے“ ریحان کانا اور پھر نعیم شری کے مارے جانے کے بعد یہ طے ہوگیا تھا کہ کھیل ختم۔ نعیم شری کی دہشت کا کیا عالم تھا۔ اب تو ایم کیوایم کے کسی ”جرنیل“ کی دہشت اور ”کارکردگی“ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ حکومت نے اس کی گرفتاری پر کتنی رقم بہ طور انعام مقرر کی ہے۔ نعیم شری کو گرفتار کروانے پر انعامی رقم پچاس لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔

نوشاد چچا نے اس کی ہیبت کا قصہ سنایا تھا، ”جب نعیم شری کا نام ایم کیوایم کی عسکری قیادت میں سرفہرست آ گیا تو ایک دن پولیس نے اس کی بیوی کو حراست میں لے لیا۔ نعیم شری نے فون کرکے پولیس کے حکام کو دھمکی دی․․․ اگر میرے خاندان کو کچھ ہوا تو کسی کا خاندان نہیں بچے گا۔ اس دھمکی کے بعد اس کی بیوی کو عبدالستارایدھی کے حوالے کرکے گھر بھجوا دیا گیا۔“

ایم کیوایم کے کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد خوف اور دہشت کا رخ تبدیل ہوگیا۔ ایم کیوایم کے ہتھیاربند راہ فرار اختیار کرنے لگے، کسی نے ملک کے مختلف شہروں کی راہ لی، کوئی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ملک چھوڑ گیا۔ مسجد کے سامنے رہنے والے ظفر صاحب کے گھر قرآن خوانی اور میلاد تھا، میں بھی گئی تھی، وہاں پتا چلا بیٹے کے بہ خیروعافیت جنوبی افریقہ پہنچنے پر یہ اہتمام کیا گیا ہے۔ امریکا اور یورپ کے مقابلے میں جنوبی افریقہ پہنچنا زیادہ آسان ہے، اس لیے ایم کیوایم کے کتنے ہی ”لڑکے“ جنوبی افریقہ نکل گئے۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کنور خالد یونس نے جائے عافیت تک رسائی کا اچھوتا طریقہ نکالا۔ وہ گرفتار تھے، عدالت سے جیل جاتے ہوئے پولیس اہل کاروں سے یہ کہہ کر گاڑی رکوائی کہ امریکی قونصل خانے کی لائبریری سے کتابیں لینا ہیں، اور پھر پولیس والوں کو جل دے کر قونصل خانے میں داخل ہوگئے اور سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ کوئی سوا چار گھنٹے تک مذاکرات کے بعد انھوں نے خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ کنورخالد یونس رکن قومی اسمبلی تھے، ایم کیوایم کے راہ نماؤں میں شامل تھے، اس کے باوجود پولیس نے ان پر کتنا بھیانک تشدد کیا۔

ذیشان نے بتایا تھا کہ کنور خالد یونس کو ”چیرا“ لگایا گیا۔ ”ملزم کو دیوار کے ساتھ لگا کر بٹھا دیا جاتا ہے اور اس کی ٹانگیں سیدھی کرکے کھول دی جاتی ہیں۔ دو اہل کار اس کے ہاتھ پکڑتے ہیں، دو ٹانگوں کو آخری حد تک چیرتے ہیں اور دو رانوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دونوں ٹانگیں کھینچے جانے سے ملزم تکلیف سے تڑپ اٹھتا ہے لیکن اس وقت تک ٹانگیں چیری جاتی ہے جب تک ملزم اپنے جرم کا اعتراف نہ کر لے۔“ یہ پوچھنے پر کہ چیرا کیا ہوتا ہے ذیشان نے مجھے تفصیل بتائی تو میں لرز گئی تھی۔

ذیشان نے یہ بھی بتایا کہ تشدد کا یہ طریقہ کراچی میں انسپکٹر بہادر علی نے متعارف کرایا اور ایم کیوایم کے کارکنوں پر آزمایا تھا۔ کنور خالد اور کتنے ہی لڑکے چیرا لگنے کے باعث نامردی کا شکار ہو گئے تھے۔ تشدد اور تذلیل کے یہ حربے اپنے جھیلنے والوں کو پرتشدد بنانے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ میں نے اخبار میں ایم کیوایم کے ایک سترہ اٹھارہ سالہ کارکن کی تصویر دیکھی تھی، جو اندرون سندھ کی کسی جیل میں قید تھا۔ وہ تھانے کے صحن میں گڑے کھمبوں پر لگی فولادی سلاخ پکڑے لٹکا تھا․․․صرف ایک ہاتھ سے ․․․کیوں کہ دوسرے ہاتھ سے وہ دامن تھامے تھا․․․اپنی برہنگی چھپانے کے لیے۔ جانے اس لڑکے نے اس ذلت کا انتقام کس کس طرح لیا ہوگا!

جس اسلحے نے قبرستان بھردیے اب وہ جگہ جگہ دفن کیا اور چھپایا جا رہا ہے۔ کبھی کہیں سے کلاشنکوفوں، ریپیٹر اور ہینڈکریکرز کا مدفن دریافت ہوتا ہے تو کبھی کسی جگہ سے چھپایا جانے والا اسلحہ برآمد ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد ایک دور ایسا بھی آیا جب کئی کئی دن تک دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، کسی کی جان نہیں گئی، بس یک طرفہ کارروائی تھی، گرفتاریاں اور مقابلوں میں ہلاکتیں تھیں۔

حالات نے الطاف حسین کا لب ولہجہ بھی بدل دیا تھا۔ دھمکی آمیز تیور التجاؤں میں ڈھل گئے تھے، یہاں تک کہ انھوں نے ”جنگ“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ”ہم انسان ہیں اور ہم سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں اور اس سلسلے میں قوم سے معافی مانگنے کو تیار ہیں۔“ ان کے لیے صورت حال اتنی مایوس کن تھی کہ انھوں نے اپنے کارکنوں کے نام ایک خط میں انھیں ہدایت دی ”کارکن مکمل روپوش ہوجائیں، سورج کی کرن تک نہ دیکھیں۔“

ویسے الطاف حسین کے تیوروں کا پتا نہیں ہوتا۔ کبھی آگ کبھی پانی۔ کبھی اپنی غلطیوں پر معافی مانگنے کا عندیہ دیتے ہیں تو کبھی کہتے ہیں، ”جن سرکاری اہل کاروں نے بے گناہ مہاجروں کا خون بہایا ہے ان کو معاف کر نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انیس جون 1992 کے بعد سے اب تک جن سرکاری اہل کاروں اور کرپٹ جنرلوں نے معصوم مہاجروں پر ظلم ڈھایا ہے وقت آنے پر ان سب کے خلاف جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔“ الطاف حسین کہتے ہیں آپریشن شروع ہونے سے اب تک پندرہ ہزار سے زیادہ مہاجر قتل کردیے گئے ہیں۔

یقیناً مقتولوں کی فہرست میں مہاجر ہی زیادہ ہیں، لیکن کوئی قاتلوں کی صحیح فہرست بنائے تو پتا چلے کہ کس کی آستین کس کے خون سے رنگین ہے، مگر قاتلوں کی فہرست بنتی ہی کب ہے۔ مقتول کو ”شہید“ کا تمغہ پہناکر حساب پاک کر دیا جاتا ہے، ”شہید“ کا کوئی قاتل ہوتا ہے نہ خوں بہا، مقدمہ نہ سزا۔

الطاف حسین نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ایم کیوایم وقت آنے پر مقدمات چلانے کے لیے اپنے تمام کارکنوں کے قاتل جرنیلوں اور افسران کی فہرستیں تیار کر رہی ہے۔ ”مہاجروں کا مقدمہ تو ڈھنگ سے لڑ نہ پائے۔ یہ دوٹوک اور مدلل موقف اختیار کرنے کے بجائے کہ پاکستان مسلم قوم کے نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا اور اس نظریے کی رو سے برصغیر کے مسلمان ایک قوم قرار پائے جس میں اقلیتی صوبوں کے مسلمان بھی شامل ہیں، چناں چہ اس ملک میں آنا، بسنا ہمارا حق تھا کسی نے ہم پر احسان نہیں کیا․․․․ یہ قربانی کا راگ الاپتے رہے، انھیں کون سمجھائے کہ قربانی کی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔

“ نوشاد چچا نے کیا پتے کی بات کی۔ خیر اب تو ایم کیوایم اپنے اوپر قائم مقدمات میں اتنی الجھ گئی ہے کہ مہاجروں کا مقدمہ شاید ہی لڑپائے۔ مہاجروں کا مقدمہ ایوانوں اور سڑکوں پر لڑنے کے بجائے ایم کیوایم نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹکایا تھا، ایک پنجابی قانون داں ڈاکٹر فاروق حسن بارایٹ لا کے ذریعے۔ یہ مقدمہ عدالت کے کمروں میں رینگ رہا ہے۔ بھلا قوموں کا حق کبھی عدالتوں سے ملتا ہے؟

مہاجر سارے حقوق بھول کر اب صرف امن اور پرسکون زندگی کا حق چاہتے ہیں۔

امن کے اس وقفے سے پہلے خون بہانے اور دہشت پھیلانے کا سلسلہ کم ہوا تھا مگر جاری تھا۔ اس سال کے شروع میں کراچی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی صدر سے گلشن حدید جانے والی بس میں دھماکے سے سات افراد کی ہلاکت کی خبر پڑھ بہت افسوس ہوا تھا، مگر جب بھائی جان نے بتایا کہ وہ اس بس پر سوار ہونے ہی والے تھے کہ ان کے ایک دوست نے آواز دے کر انھیں اپنی موٹرسائیکل پر بٹھا لیا، تو میرا دم ہی نکل گیا، یہ سوچ کر کہ اگر بھائی جان اس بس میں بیٹھ جاتے تو کیا ہوتا۔ سفید اور آسمانی رنگ کی، اونچی چھت والی کے ٹی سی کی بسیں کتنی بڑی اور تیزرفتار ہیں، یہ نہ ہوں تو لمبے لوگ گھسٹتی ہوئی منی بسوں میں مرغا بنے سفر کرتے رہیں۔ اس دھماکے سے پہلے ایم کیوایم حقیقی کے مرکز پر راکٹ فائر کیے گئے تھے۔ قتل کے واقعات بھی ہوتے رہے تھے۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایم کیوایم کے کارکنوں اور ان کے گھروالوں کی جان میں جان آئی ہے، شہریوں کو بھی چھاپوں، محاصروں اور خوف کی فضا سے نجات ملی ہے۔ اب تو الطاف گروپ کے راہ نماؤں اور کارکنوں پر قائم مقدمات واپس لینے کی خبریں زوروں پر ہیں۔ نئے حالات ایم کیوایم پر اتنے مہربان ہیں کہ الطاف گروپ کے کارکن پوری شان سے حقیقی گروپ کے گڑھ لائنزایریا کے کئی علاقوں میں واپس آگئے۔ انھوں نے مساجد کے لاؤڈاسپیکروں سے اپنی آمد کا فاتحانہ انداز میں اعلان کیا، اپنے دفاتر کھول لیے اور پرچم لہرادیے۔ الطاف گروپ اور حقیقی کے کارکنوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، مگر میدان الطاف گروپ کے ہاتھ رہا۔

اب انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ ایم کیوایم اپنی ساری نشستیں جیت جائے گی۔ الطاف حسین اور نواز شریف کی قربت بتارہی ہے کہ نواز شریف وزیراعظم بنے تو ایم کیوایم حکومت کا حصہ ہوگی۔ مگر سیاست کا کیا پتا۔ کچھ عرصہ پہلے ایم کیوایم اور جماعت اسلامی بھی ایک دوسرے کے قریب آ گئی تھیں۔ دونوں جماعتوں نے سندھ کے شہری علاقوں میں ریاستی جبروتشدد، حکومت سندھ کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں کمی کے بل، واٹربورڈ کو بلدیہ کراچی سے لے کر حکومت سندھ کو دینے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا تھا، اس سلسلے میں دونوں جماعتوں کے مذاکرات بھی ہوئے تھے، لیکن اب یہ دونوں جماعتیں پہلی کی طرح ایک دوسرے کی حریف ہیں۔

نوشادچچا کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کراچی پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول چاہتی ہے، ایم کیوایم کی روش اور آپریشن نے پیپلزپارٹی کو اپنے مقصد میں کام یابی عطا کی ہے اور پی پی پی کا متعصبانہ چلن ایم کیوایم کی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ دونوں جماعتیں درحقیقت ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔ یہ تو حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی کے اقدامات شہری سندھ میں ایم کیوایم کو مضبوط کرتے ہیں اور ایم کیوایم کے بیانات دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کی حمایت بڑھاتے ہیں۔

یہ سیاست بھی کیا گھن چکر ہے، فلسفہ، کرکٹ، مذہبی مباحث اور سیاست کی یہ پیچیدگی ہی تو انھیں ایسا دل چسپ بنادیتی ہے کہ لوگ ان کے ہوکے رہ جاتے ہیں، اس جادونگری میں کسی کے ہاتھ الہ دین کا چراغ لگ جاتا ہے اور کوئی ہاتھ بھی کٹوا بیٹھتا ہے۔ سیاست تو وہ بلا ہے کہ ہم اس میں پڑیں نہ پڑیں یہ کسی بھی بہانے ہمارے پیچھے پڑجاتی ہے۔ جیسے میرے غیرسیاسی گھر تک پہنچی اور ذیشان کو چھین کر تاریک راہوں پر لے گئی۔ سارنگ نہ ہوتا، کتابیں نہ ہوتیں، اور پیاری ڈائری تم نہ ہوتیں تو نہ جانے شوہر سے دوری، اس کے اندھیرے راستوں پر نکل جانے کا غم اور ہر پل اس کے مارے جانے کا خوف مجھے کب کا پاگل کرچکے ہوتے۔

یہ صدمہ اور خوف ابوجان کو بھی بے کل کیے رکھتا ہے۔ وہ بیٹے کا دکھ پوتے کی ہنسی میں چھپاتے ہیں، کبھی عبادت میں دل کا اطمینان ڈھونڈتے ہیں۔ خود کو مزید مصروف رکھنے اور گھر کا خرچہ چلانے کے لیے میں نے ایک اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا ہے۔ کل تنخواہ ملی تو راشن کی دکان پر کے چڑھے ہوئے پیسے چکانے گئی۔ دکان کے مالک ریاض نے جب پہلی بار ادھار سامان دیا تو اپنے سیاہ سینے کے بال سہلاتے ہوئے مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا، ”چھوڑو پیسے کوئی اور ضرورت ہو تو بتانا“ میں نے خشک اور درشت لہجے میں جواب دیا تھا، ”آپ کو جلد پیسے دے دوں گی۔ ضرورتیں بتانے کے لیے میرا شوہر ہے۔“ آج پیسے دینے گئی تو بانچھیں پھاڑ کر کہنے لگا، ”ارے باجی رینے دو، آپ تو بھینوں کی طراں ہو، آپ سے کیسے پیسے“ میں نے زبردستی اس کے ہاتھ میں پیسے تھما دیے، پلٹ کر دو قدم آگے بڑھی تو یاد آیا چاول لینا ہیں۔ مڑ کر واپس پہنچی تو سنا․․․ وہ چہرہ دوسری طرف کیے دکان کے ملازم سے کہہ رہا تھا، ”تیری ماں کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابے بتایا کیوں نہیں یہ شانی بلٹ کی بیوی ہے۔“ میں چاول لیے بغیر دبے پاؤں واپس آ گئی، اپنی نئی پہچان کے ساتھ۔

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری: کھجی گراؤنڈ فتح ہو گیا․․․ ایم کیو ایم جنگ ہار رہی ہےنوشابہ کی ڈائری: حکیم سعید شہید․․․سندھ میں گورنر راج․․․ ”مہاجر“ لفظ ”متحدہ“ سے تبدیل -قسط 22۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •