چناب سے موٹروے تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے ترقی یافتہ دور میں جب سوہنی مہینوال کے قصے کو پڑھا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شاہجہانی عہد، کل کی طرح آج بھی عورت اور مرد کے تعلق کے درمیان اپنی تمام تر فرسودگی کے ساتھ اپنے مقام پر ساکت کھڑا ہے۔ بلکہ پہلے کی نسبت سماجی تنزل نے اسے اب جرم کا گہوارہ بنا دیا ہے۔

سوہنی کی داستان کئی سوالات اور قیاسات ذہن میں ابھارتی ہے۔ مثلاً کیا واقعی اس وقت کی عورت بہادر تھی یا احمق کہ ایک طوفانی رات اس نے کچے گھڑے کے سہارے دریا عبور کرنے کا فیصلہ کر لیا؟ یہ سوچے، سمجھے بغیر کہ اس کی نند نے پکے گھڑے کی جگہ کچا گھڑا رکھ دیا ہے؟

اس فیصلے کے پس منظر میں کبھی بخارا کے امیر تاجر کے بیٹے عزت بیگ المعروف مہینوال کا پنجاب کی اس کمہارن کے لاشعور میں دبا یہ رعب دکھائی دیتا ہے کہ اگر وہ دریا کے پار اسے ملنے نہ پہنچی تو عشق ناراض ہو جائے گا۔ اور کبھی سوہنی کا عمل بتاتا ہے کہ اس کے اندر سماج، برادری اور اپنے باپ کا اتنا دبدبا ہے کہ وہ روزانہ رات کو مہینوال سے ملنے جاتی ہے مگر صبح ہونے سے پہلے واپس آ جاتی۔ سوال یہ ہے کہ دل کی آواز پر لبیک کہنے والی باغی سوہنی مستقل طور پر راہ فرار اختیار کیوں نہیں کرتی؟

کیا مہنیوال پر اسے یقین نہیں یا مہینوال میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اسے بھگا لے جائے؟ اس کہانی میں بہت کچھ اور ہوگا لیکن پدر سری معاشرے میں عورت کی ذہنی آزادی اور مرضی کو دبانے والی مردانہ سوچ، انا اور نا اہلی کی بے شمار مثالیں اس داستان کا حصہ ہیں۔ یہاں تک کہ برادری کو راضی رکھنے کے لیے بیٹی کو اس کی مرضی کے خلاف ایک بیمار اور مجذوب شخص کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے۔ اور بے عمل عاشق جس کے لیے سوہنی رسم و رواج سے بغاوت کرتی ہے، وہ عشق کا دم بھرنے کے علاوہ، عملی طور پر کچھ نہیں کر پاتا۔

مہینوال عجیب جذباتی انسان ہے، سوہنی کے لیے مچھلی نہیں ملی تو اپنی ران کا گوشت کاٹ کر نڈھال ہوجاتا ہے اور ملاقات کے سلسلے کو بحال رکھنے کے لیے سوہنی کے اصرار پر کہ آئندہ وہ دریا پار کرکے دوسرے کنارے پر ملاقات کے لیے آئے گی، بخوشی راضی ہوجاتا ہے، جب کہ وہ یہ جانتا ہے کہ سوہنی کو تیرنا نہیں آتا۔ اور وہ مشرقی عورت وفا کے نام پر احمقانہ قدم اٹھانے کی اجازت پر خوش ہوجاتی ہے۔ بہرحال اس حوالے سے دوسری راے نہیں کہ اپنے عمل اور کردار کے حوالے سے وہ مہینوال سے زیادہ تگڑی ہے۔

مہینوال کے لیے، اس نے تمام رشتوں، سماجی اقدار اور سب سے بڑھ کر عقل کو خدا حافظ کہہ دیا لیکن مہینوال کے پیش نظر اس معاملے کا کوئی قابل عمل حل موجود نہیں۔ مہینوال کے پاس نوعمری کی جذباتیت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ادھر سوہنی تین محاذوں پر لڑ رہی ہے شادی شدہ بھی ہے، والدین کی عزت کا بھی خیال ہے اور عاشق کو ملنا بھی ضروری ہے۔ ۔ ۔ بیک وقت تین جنگیں اپنی فراست کے مطابق لڑنے والی یہ پنجابن صرف دوسروں کو راضی رکھنے کے لیے اپنے آپ کو مشکالات میں ڈالے ہوئے ہے۔

ادھر موٹروے کی طرف دیکھیے ایک آزاد معاشرے فرانس کی پڑھی لکھی، پلی بڑھی اور با اعتماد خاتون گوجرانوالہ سے لاہور شاپینگ کی غرض سے گئی، رات کا کھانا اپنے میکے گھر لاہور میں کھایا ; بچوں کو نیند آنے لگی تو اس نے واپس گوجرانوالہ جانے کا فیصلہ کیا کہ میکے اور سسرال کے تعلقات خراب ہیں۔ خاوند کو اگر پتا چلا کہ وہ رات میکے گھر ٹھہری ہے تو ناراض ہوگا۔ واپس پہنچنے کی جلدی میں اس نے گاڑی کا پیڑول بھی چیک نہیں کیا اور رات بارہ بجے موٹروے کی سنسان سڑک پر اتر گئی۔ لگتا ہے اس فیصلے کے پس منظر میں خاوند اور سسرال کا رعب اور دبدبا تھا۔

بہرکیف موٹروے پر ان تمام مردوں کی نسبت خاتون کا کردار جاندار ہے، جنھیں خاتون نے مدد کے لیے فون کیا۔ بیان کردہ واقعہ کے مطابق وہ اپنی عزت کے تحفظ کے لیے بھاگی لیکن جب اس نے دیکھا کہ درندے بچوں کو لے کر سڑک کی ایک جانب واقع سنسان جنگل میں اتر رہے ہیں تو وہ بچوں کی خاطر بغیر کسی گھڑے کے سہارے درندوں کے پیچھے سڑک سے نیچے اتر گئی اور ممتا کو امر کر گئی۔ اس دفعہ مہینوال فرانس میں تھا۔ وہاں سے سوہنی کی آواز نہ سن سکا۔ بس معمول کی زندگی میں وہاں سے گاہے گاہے خاتون کو میکے سے دور رہنے کا حکم نامہ جاری کرتا رہتا۔ یہ خاتون ایک وقت میں کتنے محاذوں پر لڑ رہی ہے؟ یہ ہم سب کے سامنے ہے۔

باقی رہ گئی سوہنی کی کہانی تو اس میں سے تصوف نکال دیجیے۔ پھر دیکھیے آج کے اخبار اور میڈیا والے اسے کیسی خبر بناتے ہیں۔ ایک شادی شدہ۔ ۔ ! ۔ شادی چاہے مرضی کے خلاف تھی۔ ۔ ۔ مرضی کے مطابق کتنی ہوتی ہیں؟ سوہنی کے زمانے میں آج کی طرح کا کوئی پولیس افسر ہوتا تو کہتا ”آگ تھی دریا نے بجھا دی بس آیندہ بچیوں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھیں“ ۔ ممکن ہے شاہجہانی عہد کے کسی درواغے نے بھی کچھ ایسا کہا ہو۔ اور ہم سب اسی رسم کی پیروی کرتے ہوئے عورت کو ردعمل کے اس مقام پر لے آئے ہوں، جہاں وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئی ہو کہ ”میرا جسم میری مرضی“

بہر حال سوہنی کا کردار اس سارے منظر نامے میں ہمارے سماج کی عورت کے قوت فیصلہ، بہادری اور ایفائے عہد کا استعارہ ہے۔ اور کچا گھڑا ہمارے بوسیدہ نظام کا اشاریہ ہے۔ جو موٹروے جیسے وقوعہ کے بعد کبھی پولیس آفسر بن جاتا ہے اور کبھی نت نئی سزائیں کا تجویز کرنے والا۔ کچے گھڑوں پر انحصار کرنے والے، جان لیں کہ وہ اس وقت تک ڈوبتے اور لٹتے رہیں گے جب تک ان کے بنانے والوں کے لیے کوئی جامع لائحۂ عمل حکومتی سطح پر متعارف نہیں کرایا جاتا۔ یہ مسئلہ صرف ہوس کا نہیں فرسودہ اقدار اور معاشرتی نا انصافی کی بیخ کنی کا بھی ہے۔ اس خطے میں جس طرح کی اخلاقی تعلیم و تربیت اور فضا، صدیوں سے آدمی کو آدمیت سے آشنا کرنے کے لیے فراہم کی جارہی ہے وہ عالمی منظرنامے میں اب متروک ہو چکی ہے۔

بہر حال اب اہم سوال یہ ہے کہ انسانی زندگی کے اس ناگزیر رشتے ( مرد اور عورت ) کو باہمی اعتماد سے منور کرنے کے لیے کیسی فضا درکار ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ورنہ جس طرح کے بیان مرد و زن کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں اور جس طرح عصمت دری کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر منظر عام پر آ رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے ادوار میں نسل انسانی کی بقا کے دیگر مسائل کی نسبت یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر صورت اختیار کر جائے۔ لیکن سر دست اتنا ضرور سوچیے کہ اگر اسی طرح باپ، بھائی، خاوند سماج اور جنس زدہ درندوں سے خائف عورت، چناب اور موٹروے پر یونہی ڈبوتی اور لٹتی رہی تو اس وجود سے ظہور پانے والی ارفع ترین ہستی، ماں کا کیا بنے گا؟ یہی ایک ادارہ تو بچا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •