بشری ببوشکا سیکس ورکر کیسے بنی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا نام بشری تھا۔ اپنا یہ نام مجھے کبھی کبھی ہی یاد آتا ہے۔ کیونکہ میرے کئی نام رکھے اور بدلے گئے۔ یہ بشری نام بھی عجیب ہے۔ جب اوپر تلے کئی لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو ایک کا نام بشری رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ آنے والے بیٹے کی بشارت لائے گی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بڑی بہنوں مہ ناز اور مہ جبیں کے بعد میرا نام بالکل الگ سا لگتا۔ لیکن یہ ٹوٹکا بھی کام نہ آیا اور اماں اگلی بار بھی اسپتال سے بیٹی ہی لے کر لوٹیں۔ اس کا نام مہوش رکھ دیا گیا۔ میں اور میرا نام اور بھی اوپرے اوپرے سے لگنے لگے۔ لیکن مہوش کے بعد بھی اماں نے ہمت نہ ہاری اور دو برس بعد بیٹا لے کر سرخرو اسپتال سے لوٹیں۔ اس کے بعد ایک اور بیٹے کی چاہ میں دو بیٹیاں لے آیں۔ ماہم اور ماہا۔ ان کے بعد ایک مردہ بیٹے کو جنم دیتے ہوئے خود بھی جان دے دی۔

میں نے اسکول میں داخلہ لیا تو ابا کو مجھ پر ترس آگیا اور وہاں میرا نام مہتاب لکھوایا تاکہ باقی بہنوں کے ناموں جیسا لگے۔ گھر والوں کو بھی تاکید کی کہ مجھے اسی نام سے پکارا جائے۔ کوئی بشری کہتا تو میں جواب ہی نہ دیتی۔ مہتاب پھر تابی بن گیا۔ اب شاید ہی کسی کو یاد ہوا کہ کبھی میرا نام بشری بھی تھا۔

ابا کچھ سوچ کر نئی ماں لے آئے۔ اس کے اپنے تین بچے تھے۔ وہ دل کی بری نہیں تھی، لیکن غربت نے چڑچڑا کردیا تھا۔ ابا مزدوری کرتا تھا۔ غذا کی کمی اور پیسے کی تنگی ہمیشہ رہی۔ نئی ماں بچوں کو دھنک کر غصہ نکالتی۔

اب گھر بچوں سے بھرا ہوا تھا۔ بڑی بہنیں چوتھی، پانچویں کے بعد گھر بیٹھ گیں۔ گھر کے کاموں اور چھوٹے بچوں کو سنبھالنے میں نئی اماں کی مدد کرتیں۔ روکھا سوکھا کھا کر اور پھٹا پرانا پہن کر ہم جیسے تیسے بڑے ہو گئے۔ مہ ناز ماموں کے گھر اور مہ جبین چاچا کے گھر ایک غربت سے نکلا کر دوسری غربت میں بیاہ دی گئیں۔

میں آٹھویں میں آ گئی۔ شادی کی عمر تو گھر والوں کے حساب سے کب کی آ چکی تھی۔ پر ستم یہ تھا کہ خاندان اور برادری میں میرے جوڑ کا کوئی لڑکا نہیں تھا۔ جو ہم عمر تھے وہ شادی شدہ ہو چکے تھے۔ باقی بہت چھوٹے تھے ابا کو فکر لگ گئی۔ نئی ماں نے بھی کوششیں شروع کر دیں۔ اور ایک رشتہ ڈھونڈ ہی لیا۔

برادری ہے اور دور کی رشتہ داری بھی۔ لڑکا انگلینڈ میں رہتا ہے۔ آگے پیچھے کوئی نہیں۔ چھٹی پر آیا ہے جلدی میں ہے۔ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں فی الفور بلا لیا گیا۔ جیسا کہ سب لڑکیاں کرتی ہیں میں بھی کھڑکی کا پردہ ہلکا سا سرکا کر دیکھ رہی تھی۔ میرے بہنوئی کے ساتھ ایک پکی عمر کا شخص ساتھ تھا۔ انہیں کرسیوں پر بٹھا کر ابا نے کہا ”اچھا ہوتا آپ لڑکے کو بھی ساتھ لے آتے۔ ملاقات ہو جاتی“ بہنوئی نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ ”چاچا جی یہی ہیں اپنے برخوردار کمال دین صاحب“۔ ابا نے قدرے دکھ سے اسے دیکھا۔ کمال برمنگھم کی ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ وہاں ایک حادثے میں زخمی ہو گیا۔ ٹانگ میں لنگ آ گیا۔ بیساکھی سے چلتا تھا۔ پنشن ملتی ہے گذارا اچھا ہو رہا ہے۔ بہنوئی نے مجھ سے کہا ”دیکھ میں جانتا ہوں تیرا اور کمالے کا جوڑ نہیں لیکن اس جہنم سے نکل کر ولایت جائے گی تو کم سے کم سانس تو لے سکے گی۔ “۔ ابا کے جھکے کندھے دیکھ کر میں نے بھی سر جھکا دیا۔

مجھے سانس لینے کی بہت خواہش تھی۔ میری شادی ہو گئی۔ بری میری بڑی اچھی آئی۔ قیمتی جوڑے اور زیور کا سیٹ اور چوڑیاں بھی۔ بہنیں رشک کر رہی تھیں۔ سب یہی کہہ رہے تھے ”تابی انگلینڈ جا کر ہمیں بھی بلا لینا“۔ شادی کے بعد کمال مجھے ایک کرائے کے کمرے میں لے گیا۔ اپنے گھر سے یہاں آ کر مجھے یہ بہت پر سکون لگا۔ رات ہوئی تو وہ بولا ”دیکھ میں نہیں چاہتا کہ تجھ سے کوئی تعلقات بناؤں۔ بچے وچے کا سلسلہ ہو گیا تو تجھے مشکل پڑ جائے گی۔ تیرا ویزا آتے آتے سال دو سال لگ جائیں گے۔ آرام سے رہ۔ پیسے میں بھیجتا رہوں گا۔ اور جلد سے جلد تجھے بلا لوں گا“ مجھے اس کی بات اچھی لگی۔ میرا اپنا دل بھی کون سا اس کے لئے دھڑک رہا تھا۔

کمال دو ہفتے بعد واپس چلا گیا۔ میری ضرورت سے کہیں زیادہ پیسے دے گیا اور میں اپنے گھر واپس آ گئی۔ گھر کے پاس ایک دوکان میں ہر مہینے کی چار تاریخ کو شام پانچ بجے اس کا فون آتا۔ میں پہلے ہی وہاں پہنچ جاتی۔ فون پر وہ حال پوچھتا۔ اور ویزا جلد آنے کی امید دلاتا۔ پیسے بھی باقاعدگی سے بھیجتا رہا۔ میں نے ابا کے ساتھ جا کر اپنا پاسپورٹ بھی بنوا لیا۔ سال بعد میرا ویزا آگیا۔ کمال نے ٹکٹ کے پیسے بھی بھیجے اور تیاری کی شاپنگ کے لئے بھی۔ میں نے سوٹ کیس خریدا۔ گرم کپڑے کے سوٹ بنوائے۔ کڑھائی والی شالیں خریدیں۔ کمال کے لئے شلوار ْقمیض کے سوٹ بھی۔

مجھے ولایت جانے کا شوق تو تھا لیکن دل خالی خالی سا تھا۔ اسلام آباد ایرپورٹ سے برمنگھم جانے والے کئی پاکستانی تھے۔ ابا نے ایک فیملی کو میرا خیال رکھنے کو کہہ دیا۔ برمنگھم ایر پورٹ پر کمال آیا ہوا تھا۔ میں نے کھلی فضا میں گہری سانسیں لیں۔ ہم وہاں سے ٹرین میں بیٹھے۔ ایک اسٹیشن پر اتر کر ٹیکسی لی۔ کمال کا گھر اچھا تھا۔ چھوٹا سا لیکن صاف ستھرا اور ہوا دار۔ کھانا بھی اس نے بنایا ہوا تھا۔ ”میں سب کچھ بنا لیتا ہوں پر روٹی مجھ سے نہیں بنتی۔ وہ بازار سے لاتا ہوں۔ “ وہ ہنسنے لگا۔ ”میں بنایا کروں گی روٹی۔ کوئی مشکل نہیں۔“ ”ارے نہیں چھوڑ یہ جھنجھٹ۔ دوکان سے مل جاتی ہے“

میں ہاتھ منہ دھو کر آئی تو اس نے کھانا میز پر لگا دیا تھا۔ آلو گوشت اور دال چاول۔ کھانا واقعی اچھا تھا۔ کھانے کے بعد اس نے کہا ”تو تھک گئی ہو گی اتنا لمبا سفر کر کے۔ جا آرام کر لے۔ میں رات دیر تک ٹی وی دیکھتا ہوں ادھر صوفے پر ہی سو جاوں گا۔ تیری نیند خراب نہ ہو“ میں بیڈ روم میں جا کر آرام سے سو گئی۔ صبح اٹھی تو ناشتہ تیار تھا۔ آملیٹ، ٹوسٹ، جیلی اور گرم گرم چائے۔ میں نے ساری عمر دوسروں کی خدمت کی اور دوسروں کے آگے پکا کر رکھا۔ اب یہاں اپنی اتنی خاطریں دیکھ کر خوشی ہو رہی تھی۔

کمال میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں تھی جس پر میرا دل دھڑکتا لیکن اس کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔ اتنی شفقت سے بات کرتا کہ مجھے ابا یاد آ جاتے۔ دوسری رات بھی وہ صوفے پر سویا۔ پھر تیسری اور چوتھی بھی اور پھر پورا ہفتہ۔ وہ مجھے گھمانے لے گیا۔ شاپنگ بھی کرائی۔ باہر کھانا بھی کھلایا۔ لیکن فاصلہ رکھا۔ عجیب نا سمجھ میں آنے والا تعلق تھا ہمارا۔ ایک رات کھانے کے بعد وہ بولا۔

”دیکھ تابی میں تیرے قابل نہیں ہوں۔ وہ تو برادری کا دباؤ تھا کہ میں نے شادی کر لی۔ تو مجھے اچھی بھی بہت لگی۔ لیکن تیری زندگی برباد ہو یہ مجھے گوارا نہیں۔ ترس آتا ہے تجھ پر۔ میں تیری مدد کروں گا“ میں سنتی رہی۔ ”میں تیرے لئے کوئی اچھا سا بندہ ڈھونڈوں گا، جو تیرے قابل ہو اور جو تجھے پسند ہو۔“ میں اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔

چند دن بعد ہی اس نے بتایا کہ اس نے کچھ دوستوں کو کھانے پر بلایا ہے جو کسی لڑکی کو اپنانا چاہتے ہیں۔ ”تو دیکھ لے ان کو کوئی اچھا لگے تو بتا دے تیری بات طے کر دیں گے“ وہ اور بھی عجیب باتیں کر رہا تھا۔ ایسا کہاں ہوتا ہے بھلا۔

میں نے کھانا میز پر لگا دیا۔ کمال اور اس کے دوست بھی آ گئے۔ میں نے دیکھا کہ مہمانوں میں سے ایک بار بار میری طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت سجیلا سا مرد تھا۔ اس کے چہرے پر کرختگی نہیں تھا۔ میں بھی نظر بچا بچا کر اسے دیکھنے لگی۔ دونوں کی نظریں ٹکراتیں تو ہم دونوں جھینپ کر پلیٹوں پر جھک جاتے۔ مجھے لگا کمال نے بھی ہماری یہ چوری پکڑ لی تھی۔ اگلے دن اس نے کہا ”امجد ملک کو تو پسند آ گئی ہے“ ”کون امجد ملک؟ “ میرا دل دھڑک اٹھا۔ ”وہی جسے تو چوری چوری تک رہی تھی“ وہ ہنسا میں شرما گئی۔ ”چل پھر بات طے ہو گئِی۔ تو امجد ملک کے ساتھ ہو جا“ ”کیسے؟ میں تو تمہارے نکاح میں ہوں“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3