ریاض شاکر – وہ مسکراہٹیں بکھیرنا نہ بھولتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم مسکرانا کیوں بھول جاتے ہیں، رب نے ہمیں اس خصوصیت سے نوازا ہے، ہمارے مزاج پر مسکرانے سے بڑا مثبت اثر پڑتا ہے، تھوڑی سے کوشش کر کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ ریاض شاکر نے میرے اس سوال کے جواب میں یہ سب کہہ ڈالا، جب میں نے پوچھا آپ زیادہ تر ہنستے یا دوسروں کو ہنساتے رہتے ہیں، یہ کیونکر ممکن ہے؟

نیوز روم سے شیشوں کی پارٹیشن میں راہداری کی دوسری جانب رپورٹنگ میں جب بھی دیکھنا، قہقہے لگ رہے ہوتے، ہمیں یہ سب عجیب محسوس ہوتا کہ یہاں سارے بڑی سنجیدگی سے خبروں کی ترتیب سیدھی کرنے میں لگے ہیں، ادھر سبھی ہنسی مذاق میں مصروف ہیں۔

ریاض شاکر سے ایک بار دریافت کیا کہ آپ لوگ کورٹ رپورٹنگ کرتے ہو اس کا حس مزاح سے کوئی تعلق ہے، انہیں حیرت ہوئی پوچھا کیا مطلب، میں نے چند دوسرے سینیئر کورٹ رپورٹرز کا حوالہ دیا کہ وہ بھی بڑے لطیفے سناتے اور ہنساتے رہتے ہیں۔ شاکر بولے نہیں یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے، ہم لوگ عدالتوں میں بڑی عجیب و غریب قانونی زبان سن اور پڑھ کر آتے ہیں، کئی بار ججوں کے سخت رویے بھی دیکھتے ہیں، یہ سب اس کیفیت کو زائل کرنے کے لئے بھی کرتے ہیں۔ تاکہ ذہنی دباؤ سے نکلے رہیں۔

ریاض شاکر ایک اچھے رپورٹر کے ساتھ ساتھ منجھے کارٹونسٹ بھی تھے، یہ شوق اپنے والد سے انہیں ورثے میں کہہ لیں ملا تھا۔ وہ بیٹھے بیٹھے کسی کا کیری کیچر بنا ڈالتے، یہاں تک جج صاحبان کے کارٹون بھی۔ جنہیں وہ بڑی خوش دلی سے دیکھتے اور قبول بھی کرلیتے۔

دفتری ماحول کی کبھی کبھار تلخی کو کم کرنے میں شاکر کوئی چٹکلا چھوڑ دیتے، وہ کہتے کہ بندے کو زیادہ ٹینشن نہیں لینا چاہیے، انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے، عدالتی خبروں کے لئے بھاگ دوڑ لگی رہتی، کبھی حکومتوں کے خلاف فیصلہ آ جاتا کبھی کسی بڑی سیاسی شخصیت کو عدالتوں چکر لگانا پڑتے، اس سب کے دوران کورٹ رپورٹر کی بھاگ دوڑ بڑھ جاتی۔ فیصلوں اور ریمارکس کی باریکیاں کئی بار گلے پڑ جاتیں، ان کی وضاحتیں کبھی آفس اور کبھی کورٹ میں دینا پڑ جاتیں۔ یہ کوئی کم ذہنی دباؤ والا کام نہیں رہا۔

ریاض شاکر اس سب کے باوجود مسکراہٹیں بکھیرنا نہ بھولتے، وہ شاعری بھی کرتے، جس میں غم روزگار کا تذکرہ اور زندگی کی تلخیوں کا احاطہ بھی کرتے، لیکن سادہ باتوں کا ہمیشہ سادہ لفظوں میں مفہوم بیان کردیتے۔ کئی برس بیت گئے، ملاقاتوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا، لیکن وہ باتیں اور یادیں ذہن کے کونوں میں پڑی رہیں، جنہیں کبھی کبھار کسی بہانے نکال کر تھوڑا مسکرا لیتے۔

لیکن آج فیس بک کھولی سامنے بدر منیر چودھری کی پوسٹ پڑھی فوری سمجھ گیا، اب ریاض شاکر نے لبیک کہہ دیا، اس کی باری آ گئی، اب شاکر کی باتیں ہوں گی، اس کا ذکر ہوگا۔ پھر وہ مسکراہٹیں، ہنسی، قہقہے اور سب گپ شپ مگر یہ سب کرنے والا، اس کے بارے میں کہتے ہیں، اب نہیں ہوگا۔ بیمار تھا، اتنا بھی نہیں کہ فوری رخصت کی اطلاع آ جائے۔
بس وقت آ گیا، اور ریاض شاکر بھی اپنی مسکراہٹوں اور یادوں کے دریچے کھول کر چلا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 76 posts and counting.See all posts by nauman-yawar