رات بھر جاگنا اور آہیں بھرنا: یہ کیسا پیار ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وہ جسے تم سکون کہتے ہو
اس میں بھی سکون نا ملا تو؟

آج کل میں سوشل میڈیا کو زیادہ وقت دے رہی ہوں یا شاید لوگوں کے رویوں کو زیادہ نوٹ کر رہی ہوں۔ کچھ لوگوں کو دیکھتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ لوگ کس طرح پوری پوری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا مسئلہ یہ عشق محبت ہی ہے جس نے ان کی زندگیوں کو بے سکون کیا ہوا ہے۔ کبھی تو مجھے واقعی بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ کوئی کیسے کسی سے اتنا پیار کر سکتا ہے اور ساتھ میں شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے کوئی اس حد تک بے سکونی یا مسئلہ نہیں ہے۔

لوگ دوسروں کو بے سکون کرکے خود کیسے سکون تلاش کر سکتے ہیں اگر آپ اپنے پاس کسی چیز کی فراوانی چاہتے ہیں تو پہلے وہ دوسروں کو دیا کریں۔ اور یہ آپ نے کون سا کانسیپٹ بنا لیا ہے کہ عورت میں وفا نہیں ہے اس لئے آپ عورت کے ساتھ بے وفائی کریں گے یا کچھ بھی۔ مرد پہلے اپنی بے رخی اور بے توجہی سے سب کھو دیتا ہے پھر کہتا پھرتا ہے کہ عورت میں وفا نہیں ہے یا عورت گولڈ ڈگر ہے۔ ارے بھائی صاحب اگر عورت میں وفا نہیں ہے تو آپ اسے وفا دو، اسے اپنی محبت سے امیر کر دو۔ اگر عورت واقعی عورت ہوئی تو وہ کسی اور چیز کی خواہش بھی نہیں کرے گی۔

آپ مرد ہو یا عورت کیسے سوچا ہے آپ نے کہ آپ کسی کے ساتھ غلط کریں گے اور آپ کے ساتھ ”سب اچھا“ ہوتا رہے گا۔ دوسروں کی زندگی عذاب کرکے آپ ایک دن بھی سکون سے رہ کر دکھائیں۔ ذاتی مفادات اس قدر اہم ہوتے جا رہے ہیں کہ لوگ تمیز، تہذیب سب بھولتے جا رہے ہیں۔

میں کئی ہفتوں سے ایک لڑکی کو آبزرو کر رہی ہوں۔ نام میں اس کا یہاں لکھنا نہیں چاہتی مگر وہ لڑکی پوری پوری رات جاگ گر، روتے ہوئے، تڑپتے ہوئے گزارتی ہیں۔ ایک ایسے شخص کے لئے جو اس کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔ یا طلاق دے چکا ہے وہ بھی ایک ایسے بہانے پر جو آج کل ہر مرد کی زبان پر عام ہے کہ ”بھئی میں تو مجبور ہوں“۔ (نکاح کرنے سے پہلے یا عشق فرمانے سے پہلے والدین سے اجازت لینی چاہیے تھی نا۔ اجازت نا ملتی تو کہہ دیتے کہ نہیں کر سکتا پیار، ابا کی اجازت نہیں ہے)۔

ہاں تو میں اس لڑکی کی بات کر رہی تھی کہ اس کے دن رات بے سکونی میں گزرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہجر یار میں بھی مزا ہے ( تو ہجر یار کو سر پر کیوں چڑھایا ہے ) ۔ چلو آپ ایک بندے کو ثابت کردو کہ آپ اس کے لئے بہت ہی سچے جذبات رکھتی ہیں تو کیا فائدہ؟ یا جو بندہ چلا گیا ہے اس نے کہاں دیکھنا ہے آپ کا رونا دھونا، چلو فرض کریں وہ واپس آ جائیں تب آپ کے دل میں اس کے لئے وہی جگہ رہے گی؟ مطلب آپ کس طرح ایک استعمال شدہ شخص کو قبول کریں گی۔

خود کو اہمیت دیں اگر مرد اپنی بے رخی اور بے توجہی سے سب کھو دیتا ہے تو عورت خود کو اہمیت نا دینے کی وجہ سے سب کھو دیتی ہیں۔ کیوں آپ میسر ہوتی ہیں ہر وقت ہر کسی کے لئے۔ جس نے جانا ہے کہہ دو کہ بھاڑ میں جاؤ، منتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

جتنی انرجی آپ اس کے لئے رونے دھونے یا فضول قسم کی شعر و شاعری میں ضائع کرتے ہیں کسی صحت مند سرگرمی میں خرچ کریں۔ کوئی گیم کھیلیں فٹ بال، باسکٹ بال یا کوئی بھی جس سے آپ کی ٹینشن ریلیز ہو سکے۔ یہ ساتھ ساتھ آپ کے صحت مند رہنے کے لئے بھی مفید ہے۔

اگر آپ کسی بڑے شہر سے تعلق رکھتے ہیں تو کسی یتیم خانے میں یا اولڈ ایج ہوم یا کسی بھی ویلفیئر ورک کو اپنا وقت دیں۔ دوسروں کو توجہ اور خوشی دینے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کسی چھوٹے شہر یا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں تو بھی بہت سی چیزوں یا لوگوں کو آپ کی توجہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ خود کو ضائع ہونے سے بچائیں، خود کو عزت دیں۔ آپ کی جگہ یا آپ کا کردار کوئی اور ادا نہیں کر سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ودیہ ظہور خٹک کی دیگر تحریریں