ایک تھے مصطفیٰ زیدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصطفیٰ زیدی کے حوالے سے کچھ لکھنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔ آسانی کی بات کریں تو ان کی جمال پرستی، رومانوی زندگی اور شاعری پر اظہار خیال کرکے کہانی مکمل کی جا سکتی ہے اور اگر دشواری کو دیکھیں تو ان کی شخصیت کی جذباتی پیچیدگیوں، نفسیاتی الجھنوں اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کا منظر نامہ سامنے رکھ کر کچھ لکھنا پڑتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔ ان پر کافی لوگوں نے لکھا، ان کی شخصیت کی خوبیوں اور کمزوریوں کو اجاگر کیا مگر ایسی اکثر تحریروں میں ان کی جمال پرستی کا پہلو ہی نمایاں نظر آتا ہے جس نے ان کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں کو اجاگر نہیں ہونے دیا۔

نئی نسل تو شاید اس با کمال اور قادرالکلام شاعر کے نام سے بھی ناآشنا ہو، جس نے نو عمری میں ہی اپنی عمدہ شاعری کے ذریعے لکھنے پڑنے والوں کو حیران کر دیا تھا اور محض انیس سال کی عمر میں ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے پہلا شعری مجموعہ شائع کروا دیا۔ بہت کم عمر پائی مگر بہت سے شعرا سے زیادہ لکھا اور عمدہ لکھا۔ وہ 10 اکتوبر 1930 کو الہٰ آباد (بھارت ) میں پیدا ہوئے اور 12 اکتوبر 1970 کو پر اسرار موت سے دوچار ہوئے مگر چالیس سال کے اس مختصر عرصے میں ”موج مری صدف صدف“ کے علاوہ ”روشنی“ ، شہر آذر ”، زنجیریں“ ، قبائے ساز ”، گریبان“ اور ”کوہ ندا“ (جو ان کی وفات کے بعد چھپا ) کے نام سے شعری مجموعے مکمل کیے ۔

1952 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کیا۔ کچھ عرصہ اسلامیہ کالج پشاور اور اسلامیہ کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور 1954 میں سول سروس کا امتحان پاس کرکے اس نظام کا حصہ بنے جسے عرف عام میں بیوروکریسی کہتے ہیں۔ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں وہ لیہ، ساہیوال، نواب شاہ، جہلم، سیالکوٹ، ڈیرہ غازی خان، لاہور، گوجرانوالہ، مری اور کراچی میں تعینات رہے۔ 1969 میں یحییٰ خان کا مارشل لا لگا تو انتظامی تطہیر کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس کی زد میں 303 اعلیٰ افسران آئے جن میں مصطفیٰ زیدی بھی شامل تھے، پہلے معطل ہوئے اور پھر ملازمت سے فارغ کر دیے گئے جس کے نتیجے میں وہ بے پناہ ذہنی اور مالی دشواریوں کا شکار ہوئے۔

”کوہ ندا“ میں بہت سی نظمیں اس عہد ابتلا کی یاد دلاتی ہیں، اسی زمانے میں وہ پراسرار موت سے دوچار ہوئے جس کے بارے میں آج بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے خود کشی کی یا انہیں قتل کیا گیا۔ عدالتی طور پر ان کی موت کو خود کشی قرار دیا گیا تاہم ان کے کئی جاننے والے اسے تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ اسے قتل قرار دیتے ہیں، عجیب اتفاق ہے کہ ان کا یہ معروف شعر بھی اس اندھی واردات کی طرف اشارہ کرتا ہے :

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

ڈاکٹر صفیہ عباد نے بھی اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے (ادیبوں میں خود کشی کے محرکات: اردو ادب کے خصوصی حوالے سے) میں (جو ”راگ، خواہش مرگ اور تنہا پھول“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے) مصطفیٰ زیدی کو ان ادیبوں اور شاعروں میں شامل کیا ہے جنہوں نے خود کشی تو نہیں کی مگر وہ خود کشی کے راستے پر چلے۔ اسی کتاب میں مصطفیٰ زیدی کے بھتیجے شاہد رضا نے جو عمر میں ان سے صرف تین سال چھوٹے تھے اور اپنے چچا کے گہرے دوست تھے، ان کے آخری ایام کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے کہ وہ بعض وجوہات کی بنا پر اپنی زندگی خطرے میں محسوس کرتے تھے۔

ان کو یقین ہے کہ ان کو قتل کیا گیا اور وہ اس واردات میں ان کے آخری چند سالوں کی رفیق شہناز گل کو ملوث قرار دیتے ہیں۔ اس واقعے نے مصطفیٰ زیدی کی شخصیت پر ایسا گہرا اثر ڈالا ہے جس سے ان کی شخصیت کے دیگر پہلو نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں اور صرف ان کی ذات اور شخصیت کا رومانوی اور جمالیاتی پہلو نمایاں ہو گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ ایک انتہائی جذباتی اور جمال پرست انسان تھے اور ایسا لگتا ہے کہ عشق و محبت ان کے لئے محض ایک کھیل تھا جس کو وہ جہاں چاہیں اور جس کے ساتھ چاہیں، کھیل سکتے ہیں۔

وہ خود اپنی ایک تحریر ”پاگل خانہ“ میں اپنے بارے میں کہتے ہیں، ”میں چھبیس سال کا ہو چکا تھا اور مزاج کے اعتبار سے عشق پیشہ“ ۔ ان کی محبتوں میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی ہیٹی ”سروج بالا سرن“ بھی شامل تھی اور اس سے عشق کی پاداش میں ان کو الہٰ آباد بھی چھوڑنا پڑا۔ معروف ادیب اور صحافی مسعود اشعر نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے :

”یہ سن 1952 کے آخر کا ذکر ہے کہ ان ( مصطفیٰ زیدی) کو الہٰ آباد سے ایک عشق کی پاداش میں لاہور بھیجا گیا تھا اور ہم شیشے کے کھلونے کی طرح اس کی حفاظت کر رہے تھے۔ اس کی دل کی گہرائیوں سے ہوک اٹھتی،“سروج”، وہ ساری رات آنسوؤں سے تکیہ بھگوتا رہا“

اسلامیہ کالج پشاور میں ملازمت کے دوران میں بھی وہ ایک امریکن کولیگ کی محبت میں گرفتار ہو گئے (ان دنوں میں وہاں بیرون ملک سے بھی اساتذہ پڑھانے کے لئے آتے تھے) اور وہاں سے بھی ان کو نکلنا پڑا۔ صوفی تبسم کا یہ شعر بڑی حد تک ان پر صادق آتا ہے :

جلوؤں کے تمنائی جلوؤں کو ترستے ہیں

تسکین کو روئیں گے جلوؤں کے تمنائی

وہ شاید اسی تسکین کی تلاش میں جگہ جگہ بھٹکتے رہے۔ جرمن خاتون ویرا فان سے ان کی شادی بھی محبت ہی کے ایک تجربے کا نتیجہ تھی جس وہ ویرا زیدی ہو ئیں۔ ان سے ان کی ملاقات انگلستان میں ہوئی اور چند ملاقاتوں کے بعد ہی مصطفیٰ زیدی نے انہیں شادی کے لئے پسند کر لیا مگر وہ ان کی طرح جذباتی نہیں تھیں۔ انہوں نے اپنی والدہ کی اجازت کے بغیر شادی سے انکار کیا۔ چنانچہ وہ جرمنی واپس گئیں، اپنی والدہ سے اجازت لی اور یوں مصطفیٰ زیدی سے ان کی شادی ہوئی اور وہ ان کے ساتھ پاکستان آ گئیں اور یہیں ان کے ساتھ رہیں۔ ان کے دو بچے بھی پیدا ہوئے۔ مصطفیٰ زیدی کی نظم ”اعتراف“ ان کی اہلیہ کی محبت، وفا کیشی، خلوص اور ایثار کا اعتراف ہے جس میں وہ اپنے شب و روز کے مشاغل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ اس کے چند اشعار دیکھئے :

ترے کرم نے مجھے کر لیا قبول مگر
مرے جنوں سے محبت کا حق ادا نہ ہوا
ترے غموں نے مرے ہر نشاط کو سمجھا
مرا نشاط ترے غم سے آشنا نہ ہوا
کہاں کہاں نہ مرے پاؤں لڑکھڑائے مگر
ترا ثبات عجب تھا کہ حادثہ نہ ہوا
ترے دکھوں نے پکارا تو میں قریب نہ تھا
مرے غموں نے صدا دی تو فاصلہ نہ ہوا
ہزار دشنہ و خنجرتھے میرے لہجے میں
تری زباں پہ کبھی حرف ناروا نہ ہوا
ہزار شمعوں کا بنتا رہا میں پروانہ
کسی کا گھر ترے دل میں مرے سوا نہ ہوا
مری سیاہی دامن کو دیکھنے پر بھی
ترے سفید دوپٹوں کا دل برا نہ ہوا

ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد جیسے کہ پہلے ذکر کیا جا چکا، وہ ذہنی اور مالی طور پر بہت سی پریشانیوں کا شکار ہوئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی فیملی کو جرمنی بھیج دیا تاکہ ان کے بچے ناسازگار حالات کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ پریشانیوں کے اس دور میں ان کے ایک دوست فیاض ملک (ماسٹر ٹائر اینڈ ربڑ کے مالک) نے رہائش کے لئے اپنے گھر کی انیکسی فراہم کر دی اور گزر اوقات کے لئے ان کا واحد وسیلہ ایک مکان کا کرایہ تھا جو انہوں نے بھلے وقتوں میں بنوا لیا تھا۔ اپنی اہلیہ سے وہ خطوط کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہے۔ ان کی اہلیہ نے ان کے لئے آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی میں ملازمت کا بھی بندوبست کیا تھا اور وہ وہاں جانے کے لئے بالکل تیار تھے کہ پر اسرار موت کا شکار ہو گئے۔ ان کی وفات کے بعد ویرا پاکستان آئی تھیں۔ وہ ابھی حیات ہیں اور جرمنی میں ہی مقیم ہیں۔

یو ٹیوب پر مصطفیٰ زیدی کی یاد میں ایک تقریب کی طویل وڈیو دستیاب ہے جس میں افتخار عارف، آصف فرخی مرحوم اور کئی لوگوں نے اظہار خیال کیا تھا، مگر اس تقریب کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں مصطفیٰ زیدی مرحوم کی بیٹی عصمت زیدی بھی جرمنی سے پاکستان آ کر اس میں شریک ہوئیں۔ اپنے والد کی وفات کے وقت ان کی عمرچھ سات برس تھی۔ انہوں نے اس تقریب میں اپنے والد کے ان بیسیوں خطوط میں سے چند خطوط بچشم نم پڑھ کر سنائے جو انہوں نے اپنے دور ابتلا میں ان کی والدہ کو لکھے تھے۔

ان خطوط سے ان حالات کا اندازہ ہوتا ہے جن سے ان کے والد اور ان کی فیملی دوچار تھی۔ ان خطوط میں مالی مشکلات سے نکلنے کے لئے کئی کاروباری منصوبے بھی بنتے نظر آتے ہیں جو بالآخر ناکام ہوئے۔ اگر مصطفیٰ زیدی نے بد عنوانی سے دولت جمع کی ہوتی، جیسا کہ ان پر الزام لگا کہ ان کا معیار زندگی ان کی آمدنی سے زیادہ ہے تو وہ اس ناسازگار زمانے میں مالی دشواریوں کا شکار کیوں ہوتے؟

ان کی بیٹی نے اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے یہ بھی بیان کیا کہ اگرچہ اس وقت ان کی عمر کم تھی مگر انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم آخری بار جرمنی کے لئے روانہ ہوئے تو ان کی والدہ زار وقطار رو رہی تھیں۔ میں اور میرے بھائی نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں رو رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے لگتا ہے کہ تمھارے والد سے ہم آخری بار مل رہے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔

مصطفیٰ زیدی کی زندگی اور شخصیت ان کی جذباتی زندگی کے بوجھ تلے اس قدر دبی نظر آتی ہے کہا ان کی شاعری کا ذکر قدرے کم کم ہوتا ہے، جب کہ وہ اپنے عہد کے ایک اہم اور با کمال شاعر تھے۔ بنیادی طور پر انہیں نظم کا شاعر کہا جاتا ہے تاہم ان کی غزلیں بھی کم معیار کی نہیں ہیں اور ان کی غزلوں کے کچھ اشعار تو زبان زد عام ہیں۔ مثال کے طور پریہ مشہور اشعار دیکھئے :

کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
غم دل مرے رفیقو، غم رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئی ہم زباں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

وہ بلند آہنگ اور بلند لہجے کے ایسے قادرالکلام شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری میں جدید لفظیات کو بھی کامیابی کے ساتھ برتا، خاص طور پر ان کی نظموں میں ایسے الفاظ بکثرت ملتے ہیں جو عام طور پر ادرو شاعری میں روایتی طور پر استعمال نہیں کیے جاتے۔ جوش ملیح آبادی اور فراق گورکھ پوری کے وہ پسندیدہ شاعر تھے اور ان کو مصطفیٰ زیدی سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ شاعری میں بہت آگے تک جائیں گے مگر ان کی اچانک موت نے ان امکانات کو ختم کر دیا۔

وہ مایک انتہائی با صلاحیت، ذہین، کثیرالمطالعہ اور منفرد انسان تھے اور ایسے لوگ عموماً روایتی سماجی نظام اور انتظامی معاملات میں حالات کے دھارے کے موافق چلنے کی بجائے مخالف سمت میں چلنا پسند کرتے ہیں اور شاید اسی لئے بعض المیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ شاید مصطفیٰ زیدی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ معروف ادیب اور بیورو کریٹ مختار مسعود کا خیال ہے کہ ہماری بیوروکریسی میں ایک زمانے تک ادیبوں ا ور شاعروں کو پسند نہیں کیا جاتا تھا، مگر اب وقت بدل گیا ہے اور ادب سے وابستگی تہمت نہیں رہی۔ وہ اس صورت حال کے بارے میں لکھتے ہوئے فضل احمد کریم فضلی اور مصطفیٰ زیدی کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں :

”عجب نامبارکی ہے کہ جب سول سروس کا سینئر اور مستند شاعر کام سے بے کام کر دیا جاتا ہے تو اس ( فضل احمد کریم فضلی) نے پناہ کے لئے فلم کی دنیا کا انتخاب کیا۔ جونئیر شاعر نے فارغ کیے جانے اور دنیائے حسن و عشق کا پھیرا لگانے کے بعد دوسری دنیا کا انتخاب کیا اور خود کشی کر لی۔ فضلی صاحب اور مصطفیٰ زیدی کے انجام سے ڈرتے ہوئے سول سروس کا کوئی رکن ملک الشعرا کا تاج سر پر رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ سرکاری توشہ خانے میں یہ تاج گرد آلود ہو چکا ہے“ (حرف شوق) ۔

سول سروس ہو یا کوئی اور شعبہ، اس میں بعض اوقات ذہانت اور صلاحیت سدراہ بن جاتی ہے۔ معاصرانہ چشمک، حسد، رقابت اور مقابلے کی فضا اکثر اوقات حساس لوگوں کے لئے جان لیوا ہوتی ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ مصطفیٰ زیدی ایسے ہی حالات کا شکار بنے ہوں۔ ان کے بھتیجے کی گفتگو سے یہی اندازہ ہوتا ہے ( ڈاکٹر صفیہ عباد، ”راگ، رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول“ ) ۔ ان سوالات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان کی شخصیت کے گرد جو ان کی جمالیاتی، جذباتی اور رومانوی زندگی کا تانا بانا ہے، اسے ہٹا کر بطور ایک شاعر کے ان کے سنجیدہ مطالعے کی بھی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •