پاکستان کی خارجہ پالیسی ۔ گزشتہ نصف صدی کا مختصر خاکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انگریزی سے ترجمہ : محمد نادر

دھونس، دھاندلی اور ریاستی مشینری کو استعمال کرکے جنرل ایوب نے صدارتی الیکشن میں کامیابی کا اعلان کر دیا تھا مگر گرتی ہوئی مقبولیت کو بحال کرنے کے لیے کشمیر میں در اندازی شروع کروا دی جس کا نتیجہ تباہ کن جنگ میں نکلا۔ 1965 کی جنگ اور الیکشن میں حاصل ہونے والی نام نہاد کامیابی کے بدولت ایوب خان صدارتی عہدے پر براجمان ہوگیے۔ مگر اب وہ امریکا سے ناراض تھے۔ 60ء کی دہائی کے اواخر میں حالات نے پلٹا کھایا اور جنرل ایوب خان کے ماتحت جنرل یحییٰ ملک کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے۔

پاکستان کا حکمران طبقہ مشرقی پاکستان کے عوام کا اعتماد کھو چکا تھا بے یقینی اور بے اطمینانی پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی۔ 1970 میں پورے ملک میں انتخابات منعقد ہوئے جس میں عوامی لیگ نے شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی۔ جنرل یحییٰ نے منتخب نمائندوں کو اقتدار کی غیر مشروط منتقلی سے انکار کر دیا۔ عوامی لیگ نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ اس احتجاج نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی راہ ہموار کردی۔

فوجی کارروائی کا نتیجہ 1971 میں پاک بھارت جنگ کی صورت میں سامنے آیا اور جنگ کے نتیجے میں ہمارا ایک بازو کٹ کر الگ ہوگیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اب پاکستان کی اندرونی اور علاقائی سیاست ذوالفقار علی بھٹو کے زیر اثر آچکی تھی جو پاکستان کے ابھرتے ہوئے سیاسی رہ نما تھے۔ بھٹو کا اسلامی سوشلزم کا نعرہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ سوویت یونین کے اشتراک سے پاکستان اسٹیل مل کا قیام، ایٹمی صلاحیت کے حصول کا آغاز اور پاک فوج کی تعمیر اور تشکیل نو۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ان تمام اقدامات نے ملک کی اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی پر دور رس اثرات مرتب کیے۔

1977 میں بھٹو کے خلاف جنرل ضیاءالحق کی بغاوت میں اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل کار فرما تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی پر بے جا پابندی لگا کر بھٹو نے بائیں بازو کے لوگوں کو مشتعل کر دیا تھا۔ دوسری جانب دائیں بازو کی پارٹیں بھی پی این اے کے پلیٹ فارم پر بھٹو کے خلاف منظم کردی گئی تھیں پی این اے کے رہنماؤں نے دھاندلی کا الزام لگاکر 1977 کے انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بھٹو کو اقتدار سے باہر نکالنے کے لیے فوج سے ساز باز شروع کردی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل ضیا کے ہاتھوں اقتدار سے بیدخلی دراصل بین الاقوامی سازش کا نتیجہ تھی۔ کچھ تجزیہ کار اس بات پر متفق تھے کہ 1977 ءمیں پاکستان میں ہونے والی فوجی بغاوت کو امریکہ کی آشیر باد حاصل تھی۔ 1979 ءمیں جنرل ضیاءالحق نے قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں ناکافی شواہد کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا اس حرکت نے جنرل ضیاءکو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دیا تھا۔ جنرل ضیا کی قسمت اس وقت بدلی جب دسمبر 1979 میں سوویت یونین کی فوج افغانستان میں داخل ہوگئی۔

سوویت یونین کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکہ کو پاکستانی فوج کی ضرورت تھی چنانچہ اسے جنرل ضیاء پر بھروسا کرنا پڑا۔ اس خطے کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ 1980 کی دہائی میں ہم نے دیکھا کہ جنرل ضیاءکی پوری توجہ افغانستان کی خانہ جنگی پر مرکوز رہی افغانستان جنگ کے نتیجے میں پاکستان افغان مجاہدین کی تربیت کا مرکز اور ان کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔ جس کے لیے پاکستان کو امریکہ، سعودی عرب اور مصر کا بھرپور مالی تعاون حاصل رہا۔

دیگر مغربی قوتوں کی بھی یہ شدید خواہش تھی کہ سوویت یونین کو طویل عرصے تک افغان جنگ میں الجھا کر تباہ کر دیا جائے۔ 1980ء کے عشرے میں جنرل ضیا کو مسئلہ کشمیر بالکل یاد نہیں آیا بلکہ اس نے پوری کوشش کی کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے بھارت ناراض یا مشتعل ہو جائے۔ جنرل ضیا اور اس کے ساتھ جنرلوں نے اپنی تمام توانائیاں افغان جنگ میں جھونک دیں کیونکہ وہ خود کو امریکہ اور سعودی عرب کا وفادار ثابت کرنا چاہتے تھے۔

پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو پروان چڑھانے کے لیے ساز گار ماحول تیار کیا جاچکا تھا۔ جس کے ثمرات بہت جلد آنا شروع ہوگئے۔ ان عوامل نے ہمارے سماجی ڈھانچے کے تار پور بکھیر کر رکھ دیے ے 1980 کے عشرے کے اواخر میں سوویت یونین نے اپنی افواج افغانستان سے نکال لیں جنرل ضیاءایک فضائی حادثے میں لقمہ اجل بن گیا۔ پاکستان میں جمہوریت محدود آزادی کے ساتھ بحال کردی گئی۔ 1990ء عشرے میں ہم نے سیاسی حکومتوں کو سانپ اور سیڑھی کا کھیل کھیلتے دیکھا۔

سانپ کبھی بے نظیر کو کھا جاتا کبھی نواز شریف کو۔ حالانکہ دونوں نے سانپ کو دودھ پلانے میں کبھی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پاکستان میں جمہوریت بحال ہونے کے باوجود اندرونی سیاست اور خارجہ پالیسی فوجی مقتدرہ ہی کے ہاتھ میں رہی جو بے نظیراور نواز شریف دونوں پر اعتماد کرنے کو بالکل تیار نہیں تھی۔ اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان پر انتہا پسند طالبان کی حکومت مسلط کرکے ایک خطرناک کھیل کا آغاز کر دیا۔ طالبان نے ازمنہ وسطی کی سخت گیر مذہبی ریاست تشکیل دے دی۔

عوام خصوصاً خواتین کے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے جانے لگے۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت یعینی 1997 سے 1999 ءکے دوران تین اہم واقعات رونما ہوئے۔ پہلا بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے ایٹم بم کا تجربہ کر لیا۔ چنانچہ پاکستان کی جانب سے اس دھماکے کا جواب دینا ایک لازمی امر بن گیا۔ دوسرا تناؤ کم کرنے کے لیے اور تعلقات معمول پر لانے کے لیے باجپائی نے دورہ پاکستان کا فیصلہ کیا۔

نواز شریف نے اس دورے کا مثبت انداز میں جواب دیا لیکن دونوں ملکوں کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اس اہم پیشرفت سے خوش نہیں تھی۔ تیسرا اہم واقعہ جنرل مشرف کا پیدا کرکے کارگل کا تنازع تھا اور یہی تنازع آگے چل کر نواز حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف نے نواز حکومت ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

اکیسویں صدی کے آغاز پر پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک تھا جہاں ایک فوجی جنرل نے منتخب حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا اور منتخب وزیر اعظم کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ جنرل ضیا کی طرح جنرل مشرف کو بھی اپنے ابتدائی دور میں دنیا کی حمایت کرنا مشکل ہو گیا تھا، دنیا اسے ایک غاصب حکمران ہی سمجھتی تھی اب اسے مشرف کی خوش قسمتی کہیے یا دنیا کی بدقسمتی کہ 11 ستمبر 2001 امریکہ ایک بہت بڑے حملے کا نشانہ بن گیا۔

لوگوں نے دیکھا کہ پلک جھپکتے ہی عالمی منظر نامہ تبدیل ہوگیا۔ نیٹو میں شامل ممالک اور امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے متحد ہوگئے۔ افغانستان طالبان حکومت کے زیر تسلط تھا، طالبان پر الزام تھا کہ وہ حملہ آوروں کے سہولت کاروں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں۔ جنرل مشرف کو سنہری موقع مل گیا اور ایک لمحہ کی دیر کیے بغیر جنرل مشرف نے افغانستان کے خلاف کارروائی میں امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا۔ جنرل مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کا حصہ بن گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان ان تین ممالک میں سے ایک تھا جو طالبان حکومت کو سرکاری سطح پر تسلیم کر چکے تھے۔ لیکن بڑی طاقتیں طالبان پر حملہ آور ہوئیں تو مشرف نے ان کا ساتھ چھوڑنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔

ستمبر 2001 ءکے بعد جنرل مشرف کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی لیکن اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ جنرل مشرف اور اس کے ساتھی جنرلوں نے اتحادی افواج کی خوب مدد کی اور خوب مال بنایا جنرل مشرف کی بالادستی 1999ء سے 2008 تک قائم رہی اس دوران میں مشرف کے دو اقدامات ایسے تھے جن کا تذکرہ ضروری ہے۔

جنرل مشرف نے امریکہ کی بھرپور معاونت کی دوسرا بھارت کے ساتھ کشمیر کا تنازع حل کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن دونوں اقدامات کے نتائج الٹے برآمد ہوئے۔ امریکہ کی غیر مشروط حمایت سے ملک میں مشرف کی مقبولیت کم ہونا شروع ہوگئی اور اس کی کشمیر پالیسی کو ان کی اپنی فوج نے مسترد کر دیا۔ مشرف کے بعد اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پاکستان امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ہاتھوں میں کھلونا بنارہا۔ چین سی پیک کے ذریعے پوری دنیا میں اپنی تجارت اور اثرو رسوخ میں اضافہ کرنا چاہتا تھا۔

سعودی عرب پاکستان کی مالی مدد کرتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ امید بھی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اس کے مشورے سے تیار کرے۔ یہ بات اس وقت بہت واضح ہوگئی جب عمران خان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا اور وزیر خارجہ کو بھی شریک نہیں ہونے دیا۔ ٹرمپ پاکستان کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار تھا اور چاہتا تھا کہ پاکستان چین پر انحصار کی پالیسی ترک کردے۔ اس تجزیے میں بیان کردہ حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے اب جبکہ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا آغاز ہے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے لیکن موجودہ نظام حکومت میں یہ ہونا ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ بظاہر یہ حکومت عمران خان کی ہے لیکن اس حکومت کے اصل کرتا دھرتا ہمیں نظر نہیں آتے یا شاید ہم انہیں دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔

بنیادی تبدیلیاں اور انقلابی اقدامات وہی حکومت کر سکتی ہے جسے عوام نے منتخب کیا ہو، جو سویلین بالادستی پر یقین رکھتی ہو اورجس حکومت میں فیصلے کرنے کا اختیار افسر شاہی یا غیر منتخب مشیروں کے پاس نہ ہو۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہماری عدلیہ اور ہماری افواج جمہوریت کے محافظ بن کر کھڑے ہوجائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •