جشن احفاظ الرحمن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انتیس ستمبر کو کراچی کی سول سوسائٹی احفاظ الرحمن کی زندگی اور کارناموں کا جشن منا رہی ہے۔ بارہ اپریل 2020 ء کو پانچ سال تک کینسر سے لڑنے کے بعد جب اس نے آنکھیں موند لیں تو کرونا کی وبا کووڈ 19 کی وجہ سے کراچی میں سخت قسم کا لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ ایک طرف وائرس کا خوف، دوسری طرف پولیس کی سختی اس لئے صرف چند قریبی رشتہ دار اور دوست ہی جنازے میں شرکت کر پائے مگر چینلز، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر لوگوں نے اتنے محبت بھرے مضامین لکھے، اتنی خوبصورت باتیں کیں کہ اہل خانہ کی ڈھارس بندھی اورسب کا ہی کہنا تھا کہ حالات بہتر ہوتے ہی احفاظ کی یاد میں ایک ریفرنس منعقد کریں گے۔

اپنی صحافتی زندگی کا آغاز احفاظ نے اخبار جہاں سے کیا۔ وہ اخبار جہاں نکالنے والی پہلی ٹیم کا رکن تھا لیکن جب انتظامیہ نے ایک دو صحافیوں کو برطرف کیا تو اس نے بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا اور بے روزگاری کا عذاب کاٹنے لگا۔ کچھ عرصہ بعد جمیل الدین عالی نے رائٹرز گلڈ کی طرف سے چین کے غیر ملکی زبانوں کے اشاعت گھر میں کام کرنے بھجوا دیا جہاں وہ چار سال رہا۔ تب چین میں ثقافتی انقلاب آیا ہوا تھا۔ 1972 میں چین سے واپس آ کر کچھ عرصہ ہفت روزہ الفتح میں کام کیا اور جب کراچی سے روزنامہ مساوات نکلنا شروع ہوا تو شوکت صدیقی اس کے ایڈیٹر اور احفاظ اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ٹریڈ یونین سرگرمیاں بھی عروج پر رہیں۔

جب ضیا الحق کی آمریت کی طویل اور تاریک رات شروع ہوئی تو مساوات بند ہو گیا اور 1977-78 میں صحافیوں نے پاکستان کی صحافتی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑی۔ اس تحریک میں چار صحافیوں کو کوڑے بھی لگے۔ ان میں سے دو صحافی ناصر زیدی اور خاور نعیم ہاشمی جشن احفاظ الرحمن میں ان خوفناک یادوں کا تذکرہ کریں گے۔ تحریک ختم ہوئی تو کوئی اخبار یا رسالہ احفاظ کو نوکری دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔ طویل عرصہ تک بے روزگاری کا عذاب جھیلنے کے بعد 1985 میں اسے ایک مرتبہ پھر چین کے غیر ملکی زبانوں کے اشاعت گھر میں نوکری مل گئی اور وہ بیوی بچوں کے ہمراہ چین چلا گیا۔ 1993 میں چین سے واپس آنے کے بعد روزنامہ جنگ کا میگزین ایڈیٹر مقرر ہوا۔

احفاظ الرحمن اپنے نام کی طرح ایک منفرد شخص تھا، سچا اور کھرا، اپنے اصولوں پر ڈٹ جانے والا۔ چوہا دوڑ میں مصروف معاشرے سے الگ تھلگ ظلم اور ناانصافی کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہونے والا۔ محنت کشوں کے دشمنوں سے اس کی جنگ تو رہتی ہی تھی لیکن دوستوں سے بھی اکثر ناراض ہو جاتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ چاہتا تھا کہ جس طرح وہ اخباری مالکان، صنعتکاروں اور اقتدار کی مسند پر براجمان لوگوں سے نبرد آزما رہتا ہے، اس کے سارے دوست بھی اسی کے طریقے سے یہ لڑائی لڑیں لیکن ظاہر ہے، ہر ایک کا اپنا مزاج اور طریقہ ہوتا ہے۔

بہر حال دوستوں کے ساتھ معاملہ یہ تھا کہ ’جب گلے لگ گئے، سارا گلہ جاتا رہا‘ ۔ منہاج برنا اس کے گرو تھے، ویسے تو ان کی زندگی میں ہی ضیاالحق نے پی ایف یو جے کے دو دھڑے کروا دیے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد جس طرح معاملات مزید بگڑتے چلے گئے، اس بنا پر آہستہ آہستہ وہ پریس کلب اور کے یو جے سے دور ہوتا چلا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ جنگ کی میگزین ایڈیٹر ی کے دوران 2002 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا صدر بھی رہا، یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جب جیو چینل شروع ہوا تو انتظامیہ نے اسے دبئی جا کے چینل کے معاملات سنبھالنے کی پیشکش کی تھی لیکن اس نے محض اس لئے یہ پیشکش قبول نہیں کی تھی کہ اسے پی ایف یو جے کی ذمہ داریاں زیادہ عزیز تھیں اور اس کا خیال تھا کہ اگر دبئی آنا جانا لگا رہا تو وہ پی ایف یو جے کی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا۔

اس دوران ویج بورڈ کے نفاذ کی لڑائی بھی لڑی جس کی پاداش میں ایک مرتبہ پھر بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ایک سال تک روزنامہ امن کا ایڈیٹر رہنے کے بعد ایکسپریس اخبار میں میگزین ایڈیٹرکی ذمہ داری مل گئی۔ جب بھی کسی حکومت نے کسی اخبار پر دباؤ ڈالنے کے لئے اس کے اشتہارات بند کیے یا میڈیا چینلز پر پابندیاں لگائیں، وہ سراپا احتجاج بن گیا۔ 2007 ء میں مشرف حکومت کے دور میں اسی طرح کے احتجاج کی بنا پر دیگر صحافیوں کے ساتھ گرفتاربھی ہوا۔ ایکسپریس اخبار میں آنے کے بعد اس کی توجہ شاعری پر زیادہ ہو گئی تھی۔ ملک میں رونما ہونے والے ہر دلخراش واقعے اور ہر نا انصافی پر اگلے روز اس کی نظم ایکسپریس میں شائع ہوتی تھی۔ اس کے بقول:

۔ ۔ ۔ روز سینہ زنی، روز غم پروری
روز لاشوں کے پیغام پڑھتے ہوئے اور سنتے ہوئے
آنکھیں پتھرا گئیں، کان بنجر ہوئے

فروری 2008 میں آرٹس کونسل میں اپنی چار کتابوں کی ایک ساتھ تقریب رونمائی منعقد کر کے اس نے اردو ادب کی تاریخ میں ایک درخشاں باب رقم کیا۔ کراچی آرٹس کونسل کی چھٹی اردو کانفرنس 2013 میں اس کی کتاب ”زندہ ہے زندگی“ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ فہمیدہ ریاض اور زاہدہ حنا اس کی ہر کتاب کی تقریب رونمائی کے مقررین میں شامل ہوتی تھیں۔ 2015 میں ”سب سے بڑی جنگ“ کے نام سے اس نے 1977۔ 78 کی صحافیوں کی تحریک کو قلم بند اور مرتب کیاجو یقیناً ایک کارنامہ ہے۔ اس وقت وہ کینسر کی وجہ سے ہونے والے دو آپریشنوں کے بعد ریڈیو تھراپی کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔

وہ لوگوں کے دکھ اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر تڑپ اٹھتا تھا۔ اپنے قلم کے ذریعے وہ لوگوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا تھا۔ لوگ پراسرار طور پر غائب ہونے لگے تو وہ ان کے بچوں کے بارے میں سوچ کر دکھی ہوتا تھا ”میرے بابا کہاں ہیں؟ کیسے ہیں؟ اب تک نہیں آئے؟ کوئی بتلائے کب آئیں گے؟ اب تک کیوں نہیں آئے؟“ اسی طرح باچا خان چارسدہ یونیورسٹی میں خون ریزی ہوئی تو اپنی نظم چارسدہ سے کیماڑی تک میں اس نے اعلان کیا کہ ”نفرت پھیلانے والوں سے نہیں ڈریں گے۔ علم کے در سے نہیں ہٹیں گے۔“ وہ دہشت پھیلانے والوں سے کبھی نہیں ڈرا اور نوجوانوں کے لئے بھی اس کا یہی پیغام تھا کہ خون ریزی کے کارندوں سے نہیں ڈرنا۔ اس کا کہنا تھا کہ امن کی خواہش تہذیب انساں کا ورثہ ہے اور جنگل کا آئین درندوں کا سرمایہ ہے۔

احفاظ الرحمن ایک خواب دیکھنے والا حساس شخص تھا اور اس کے ساتھ ساتھ تقریر و تحریر کے ذریعے ظلم اور نا انصافیوں کے خلاف لڑنے والا مجاہد بھی تھا جس نے جیلیں بھی کاٹیں اور صوبہ بدر بھی ہوا اور پھر یہی سوچتا ہوا اس دنیا سے چلا گیا کہ ”جتنے کام کیے سب کے سب ایسے ویسے تھے۔ ورنہ ارماں تو اس دل میں کیسے کیسے تھے۔ دامن میں کانٹے پائے اور خالی ہات رہے۔ ہر رستے پر ٹھوکر کھائی، ہر جانب بھٹکے۔ گھر کے اندر بیٹھے رہ گئے، ہات پہ ہات دھرے۔ سوچتے رہ گئے ایسا کیوں ہے اور ویسا کیوں ہے۔ ایسا ہو جاتا تو کتنا اچھا ہو جاتا۔ ویسا ہو جاتا تو کتنا اچھا ہو جاتا۔ ایک کسک سی رہ جاتی ہے اس دل کے اندر۔ ان ہونی کیوں ہو جاتی ہے ہونی کے اندر۔“ بقول فہمیدہ ریاض ان (احفاظ) کا احساس زیاں اور ملال ایک حساس اور باشعور قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔

احفاظ کی بنیادی شناخت ایک صحافی اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ کی تھی لیکن اس کی دیگر شناختیں بھی تھیں اور ہر شناخت کے حوالے سے اس کے چاہنے والوں اور احباب کا ایک حلقہ موجود تھا بہت سے لوگ اسے کرکٹ کے حوالے سے جانتے تھے۔ وہ اردو کالج کی ٹیم کا کیپٹن بھی رہا تھا۔ زمانہ طالبعلمی میں فیض احمد فیض پر آل انڈیا پاکستان مقابلہ ء مضامین میں اول انعام جیتا۔ صحافت میں آنے سے پہلے اس نے ملیر کے ایک اسکول میں پڑھایا تھا، بہت سے شاگرد آخر دم تک رابطے میں رہے۔

اسی زمانے میں اس نے بچوں کے لئے ناول ”نیمو کیمو“ اور بہت سی کہانیاں لکھیں۔ بہت سے افسانے بھی لکھے لیکن کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے ہی مسودہ گم ہو گیا۔ اردو کالج کے ساتھیوں اور این ایس ایف کے احباب نے آخرتک ساتھ نبھایا۔ معراج محمد کے ساتھ سیاست میں بھی سرگرم رہا۔ اس کا ایک حوالہ برج اور شطرنج کا کھیل بھی تھا۔ بیجنگ میں اس نے کئی اہم مقابلے جیتے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیسٹ بیٹسمین ہونے کا انعام بھی حاصل کیا۔

آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ احفاظ اپنے خوابوں اور اپنی سچائی کے ساتھ صرف اپنے خاندان اور صحافتی برادری کے دلوں میں نہیں بلکہ ہر اس شخص کے دل میں زندہ رہیں گے جو ایک خوبصورت اور منصفانہ معاشرے کے خواب دیکھتا ہے اور اس کے لئے جدوجہد کرنے میں یقین رکھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •