تقسیم ہند: بٹوارے کے دوران اپنے خاندان سے بچھڑنے والی لڑکی 73 برس بعد اپنے خاندان سے کیسے ملی؟

عمردراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پہاولپور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

aysha

BBC
غلام عائشہ کو اپنا بچپن کچھ کچھ یاد ہے، وہ بچپن جب اُن کا نام داپھیا بائی ہوا کرتا تھا۔ چولستان کے علاقے میں ریت کے ٹیلوں میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے وہ اپنے والدین کو قریب ہی کام کاج کرتے دیکھا کرتی تھیں۔ یہ تقسیمِ ہند سے پہلے کی بات ہے۔

انھیں وہ سفر بھی یاد ہے جب وہ کئی میل دور بکنیر کے علاقے مورخانہ میں اپنے ماموں کی شادی کی تقریب میں شریک ہونے گئیں تھیں۔

پھر کچھ ہی عرصہ بعد داپھیا بائی کے والدین نے اُن کی بھی شادی کر دی۔ رخصتی کے وقت اُن کی عمر لگ بھگ 12 برس تھی۔

ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور میں گنجیانوالا کھو چار چک سے اُن کے والدین نے جہیز دے کر جب انھیں اُن کے شوہر ہیملہ رام کے ساتھ خیرپور ٹامیانوالہ کے لیے رخصت کیا تھا تو انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ آخری مرتبہ انھیں دیکھ رہے تھے۔

خیرپور اپنے سسرال پہنچے ابھی داپھیا بائی کو تین، چار روز ہی گزرے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم کا باقاعدہ اعلان ہو گیا۔

وہ بتاتی ہیں اس اعلان کے ساتھ ہی ایک بھگدڑ سی مچ گئی، لوٹ مار شروع ہوئی تو ان کے خاندان کی خواتین نے اپنے زیورات اُتار کر چھپا لیے تاکہ وہ پہچانی نہ جا سکیں اور کوئی انھیں لوٹ نہ لے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ہر طرف قتل و غارت اور مار دھاڑ شروع ہوئی اور لوگ جانیں بچا کر بھاگنے لگے۔‘

یہ بھی پڑھیے

65 سال بعد ملے مگر بات نہیں ہو پائی

تقسیم کی ایک نامکمل محبت کی کہانی

نام تبدیل مگر فیروز پور کی یادیں تازہ

کئی دیگر ہندو خاندانوں کی طرح اُن کے سسرال والوں نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ جس روز انھیں نکلنا تھا بخشندے خان کانجو نامی ایک مقامی زمیندار نے یہ کہہ کر داپھیا بائی کو روک لیا کہ وہ اُن کے گھر پر کام کاج میں ہاتھ بٹا کر شام تک فارغ ہو جائیں گی

وہ بتاتی ہیں کہ ’میں چھوٹی تھی، لڑکیوں کے ساتھ کھیلتے کودتے شام سے رات ہو گئی۔ میرے سسرال والے چلے گئے۔ خدا جانے وہ کہاں گئے، مجھے نہیں معلوم۔ بعد میں مجھے کچھ خواتین نے بتایا کہ انھیں وہاں سے جلدی نکال دیا گیا تھا۔‘

اس صورتحال میں اب وہ بخشندے خان کے رحم و کرم پر تھیں۔

بائی کا دعویٰ ہے کہ زمیندار نے دو بیلوں کے عوض انھیں غلام رسول نامی شخص کے خاندان کو فروخت کر دیا۔ داپھیا بائی کی زندگی یکسر بدل چکی تھی۔ انھیں بالکل نہیں معلوم تھا کہ اُدھر گنجیانوالہ کھو میں ان کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

کیا اُس کے والدین نے اُسے ڈھونڈا ہو گا؟

اگلے کئی برس بھی داپھیا بائی کو اپنے خاندان کی کوئی خبر نہ مل سکی۔ ان برسوں میں وہ اپنے نئے مسلمان خاندان میں گھل مل گئیں۔ ان کے بچوں کے ساتھ قرآن پڑھنے بھی جاتی تھیں۔ اب وہ مسلمان ہو چکی تھیں اور ان کا نام غلام عائشہ رکھ دیا گیا تھا۔

ان حالات میں وہ اپنے حقیقی خاندان کی تلاش اس ڈر سے نہ کر سکیں کہ ’اس حوالے سے بات کرنی بھی چاہیے یا نہیں اور اگر کریں بھی تو کس سے کریں۔‘

مگر غلام عائشہ کے دل میں اپنے باپ نولا رام، ماں سونیا بائی، بہن میرا بائی اور بھائیوں السو رام اور چوتھو رام سے دوبارہ ملنے کی خواہش وقت گزرنے کے ساتھ شدت اختیار کر رہی تھی۔ کیا انھوں نے بھی داپھیا کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہو گی؟ ’یہ تو وہ مل کر ہی بتا سکتے تھے۔‘

aysha

BBC
جلد ہی ان کی شادی غلام رسول کے بیٹے احمد بخش سے کر دی گئی۔ غلام عائشہ کہتی ہیں ان کے نئے خاندان نے نہایت محبت کے ساتھ انھیں پالا۔،انھیں اپنا علیحدہ کمرہ دیا گیا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’کسی نے کبھی مجھ پر حکم نہیں چلایا۔ کسی نے یہ تک کبھی نہیں کہا کہ یہ پانی کا گلاس بھر کر دو ہمیں۔‘

’میں ڈھونڈنے والوں کو پیسے دیتی، دیسی گھی دیتی‘

احمد بخش سے شادی کے بعد ان کے ہاں سات بچوں کی ولادت ہوئی جن میں تین بیٹے تھے۔ جب ان کے دو بچے ہو چکے تو انھوں نے اپنے حقیقی خاندان کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ ان کے شوہر احمد بخش نے بھی اس کام میں اُن کا ساتھ دیا۔

’وہ (احمد بخش) دیکھتا تھا کہ میں روتی رہتی ہوں تو اس نے بھی میری مدد کی۔ وہ ان لوگوں کو ڈھونڈتا جو احمد پور کی طرف جا رہے ہوتے تھے اور پھر ہم ان سے درخواست کرتے کہ وہ میرے ماں باپ کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘

’جو کوئی بھی احمد پور کی طرف جا رہا ہوتا میں اس کو پیسے دیتی یا دیسی گھی دیتی اور بتاتی کہ میرے ماں باپ بھی اس طرف رہتے ہیں، ان کا پتہ کرنا۔ کوئی واپس نہ آتا۔‘

کچھ عرصے بعد غلام عائشہ اپنے شوہر کے ساتھ خیر پور سے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی منتقل ہو گئیں۔ یہیں وہ آج اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں اور ان کی اولادوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کی عمر اب لگ بھگ 86 برس ہے، شوہر کا انتقال ہو چکا اور بچوں میں سے بھی صرف دو بیٹیاں ہی زندہ ہیں۔

مجھے ایسے لگ رہا ہے میرے بھائی میرے پاس آ گئے

aysha

BBC
اب 73 برس کی تلاش کے بعد انھیں بالآخر تقسیم کے وقت بچھڑے اپنے خاندان کا پتہ مل گیا ہے۔

حال ہی میں ویڈیو کال پر اُن کی انڈیا میں رہائش پذیر اپنے ایک بھتیجے کھجاری لال اور ایک بھتیجے کے بیٹے سے بات ہوئی ہے۔ سرسبز لہلہاتے کھیتوں کے درمیان شہتوت کے درخت کی چھاؤں میں بیٹھے جب پہلی مرتبہ ان کی اپنے بھتیجے سے بات ہوئی تو اُن کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔

انھوں نے موبائل فون کی سکرین کو بوسے دیے اور روتے ہوئے اپنے بھتیجے کو بتایا کہ ’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میرے بھائی میرے پاس آ گئے ہیں۔ میں نے تم لوگوں کو دیکھنے کے انتظار میں ساری عمر رو کر گزاری ہے۔‘

تاہم مشکل یہ تھی کہ ان کی نظر کمزور ہو چکی ہے اور وہ سکرین پر اپنے بھتیجوں کی شکلیں صحیح سے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ وہ ان کی زبان بھی نہیں سمجھ سکتی تھیں کیونکہ وہ مارواڑی بولتے تھے اور یہ صرف سرائیکی بول اور سمجھ سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فون بہت قریب کرتی ہوں تو اُن کی کچھ جھلک نظر آتی ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے ان سے بات ہوئی اور میرا بھتیجا ہنسا تو مجھے لگا کہ اس کا گورا گورا سا رنگ ہے اور اس کے سفید دانت چمکے ہیں۔‘ تاہم ان کے ایک نواسے نصیر خان ان کے مترجم اور سہولت کار کا کام سر انجام دیتے ہیں۔

عائشہ

BBC
داپھیا بائی جو اب غلام عائشہ ہیں

غلام عائشہ داپھیا بائی کے خاندان تک کیسے پہنچیں؟

نصیر خان ہی نے ان کے خاندان کو ڈھونڈنے میں اُن کی مدد کی تھی۔

ان کا خاندان انڈین پنجاب کے ایک علاقے بکنیر میں مورخانہ کے علاقے میں آباد تھا اور کھیتی باڑی کرتا تھا۔ یہ وہی مورخانہ ہے جہاں تقسیم سے قبل داپھیا بائی اپنے ماموں کی شادی میں گئی تھیں۔ یہ میلسی سے تقریباً 200 سے زائد کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

غلام عائشہ کی یاد داشت میں چھپی اس کہانی نے ان کے بھتیجوں تک پہنچنے میں معاونت کی تھی۔ تاہم ان کی یادداشت میں چھپے کئی افراد صرف یاد ہی میں رہ جائیں گے۔ وہ ان سے مل نہیں پائیں گی۔

’کہہ رہے ہیں کہ میرے بھائی فوت ہو گئے ہیں۔ بھتیجے ہیں، میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔ اور میری بہن بھی زندہ ہے، اس سے بھی ملنا چاہتی ہوں۔‘ ان کی چھوٹی بہن میرا بائی سے تاحال ان کی بات نہیں ہو پائی کیونکہ وہ کسی اور گاؤں میں رہتی ہیں۔

تاہم ان کے بھتیجوں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ان سے ان کی بات کروائیں گے۔ وہ اس وقت کے لیے بیتاب ہیں۔

سوشل میڈیا کیسے ان کے کام آیا؟

عائشہ کے شوہر کی وفات کے بعد ان کے نواسے نصیر خان نے اس تلاش میں ان کا ساتھ دیا۔ وہ انھیں ساتھ لے کر احمد پور بھی گئے اور خیرپور کا بھی چکر لگایا۔

ہر طرف سے ناکامی کے بعد انھوں نے ذرائع ابلاغ کی مدد لینے کی ٹھانی۔

ایک سال 14 اگست کے موقع پر انھوں نے مقامی اخبار میں غلام عائشہ کے خاندان سے بچھڑ جانے کی کہانی شائع کروائی۔ اس کو پڑھ کر بات ٹی وی تک بھی پہنچی، مگر آگے نہیں بڑھی۔

رواں برس ایک مرتبہ پھر 14 اگست پر انھوں نے خبر شائع کروائی جس سے بات سوشل میڈیا تک اور وہاں سے انڈیا کے شہر دہلی میں مقیم محمد زاہد نامی صحافی تک پہنچی۔ انھوں نے نصیر خان سے رابطہ کیا۔

’میں نے انھیں اماں کے حوالے سے ساری تفصیل سے آگاہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ جلد معلومات لے کر مجھے بتائیں گے۔ پھر دوسرے ہی دن ان کی کال آ گئی کہ اماں کے خاندان کا پتہ چل گیا ہے۔‘

نصیر خان کے مطابق اس کے بعد غلام عائشہ سے ان کے بھتیجوں کی بات کروائی گئی۔ ان کے خاندان کا پتہ غلام عائشہ کی طرف سے بتائی گئی نشانیوں سے ملا اور اس کی تصدیق حکومتی ریکارڈ اور حالات و واقعات میں مماثلت سے ممکن ہوئی۔

دا

BBC
’میری زندگی میں ایک دفعہ مجھے اُن سے ملوا دو‘

غلام عائشہ اب بغیر سہارے کے زیادہ چل پھر نہیں سکتیں۔ چارپائی پر بیٹھے وہ فون پر اپنے خاندان والوں کی تصویریں دیکھتی رہتی ہیں اور اب انھیں انتظار ہے کہ کب وہ ان سے مل پائیں گی۔ وہ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں سے اپیل کرتی ہیں کہ ان کے بھتیجوں کو ویزہ دیں تاکہ وہ ان سے ملنے آ سکیں۔

’میں چاہتی ہوں میری زندگی میں ایک دفعہ مجھے ان سے ملا دو۔ انھیں ویزہ دو تاکہ وہ آ کر مجھ سے مل جائیں۔‘ تاہم اُن کی اس خواہش کو حقیقت میں بدلنے میں پاکستان اور انڈیا کے کشیدہ حالات حائل ہیں۔

86 سالہ غلام عائشہ مطمئن ہے کہ اس کی دہائیوں پر محیط تلاش آخر رنگ لے آئی مگر اس کے اندر کی 12 سالہ داپھیا بائی اب بھی منتظر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16114 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp