بدھا کے حضور: گیان جیوتی کا دیا اور نربل سادھنا کی شکتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جونہی ہم سڑک سے مڑے سامنے بلند چبوترے پر ایک دیو ہیکل پیکر دکھائی دیا۔ درختوں کے جھنڈ میں گھرا یہ مہاتما بدھ کا عظیم الشان مجسمہ تھا۔ جاپانی مہاتما کو دائی بتس Diabatsu کہتے ہیں۔ آلتی پالتی مارے بدھا پورے انہماک سے اپنی دنیا میں گم بیٹھے تھے ان کے چہرے پر اس قدر شانتی تھی کہ جس پر سکون کی کئی دنیائیں قربان کی جا سکتی تھیں۔ اس طرح کی شانتی تو دیکھنے والوں کو بھی سکون کی دولت سے مالامال کر دیتی ہے۔ مہاتما کے چہرے پر نظر پڑی تو روشنی کے سارے دائرے مہاتما کی شبیہ کے گرد پھیل گئے۔

آرٹسٹ نے ایک انسان کی عظمت اور اس کے حسن و جمال کو ایک خوبصورت مجسمے میں ڈھال دیا تھا۔ وہاں ایک آدمی بھی ایسا موجود نہیں تھا جس کے ذہن میں بت پرستی کا تھوڑا سا بھی شائبہ ہو۔ ہر ذہن میں اور ہر زبان پر بدھا کی تعلیمات ان کی ریاضت، تپسیا، انسان سے محبت اور لازوال سچائیوں کا ذکر تھا کہ یہ جیون دکھ سے بھرا ہے۔ دکھ کہاں سے آتا ہے، نجات کا راستہ کیا ہے اس سے مکتی کیسے ملے گی۔ میری نظریں دوبارہ اومیدا کے اس عظیم مجسمے پر مرکوز ہو گئیں جسے سنسکرت میں امیتابھ کہتے ہیں۔

میں امیتابھ کے چہرے پر سکون کا گہرا اور ٹھہرا ہوا ساگر دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ ہمارے اندر جو انقلاب آتے ہیں وہ ان عظیم ہستیوں کا کرشمہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ کتنے نادان ہیں جو کہتے ہیں کہ بدھا الہامی مینڈیٹ سے محروم تھا۔ حکم ربانی ہے کہ الہام تو ہم شہد کی مکھی کو بھی عطا کر دیتے ہیں۔ میرے ذہن میں کلام خداوندی کے الفاظ تواتر سے آ رہے تھے کہ ”ہم نے امتوں کی طرف رسول بھیجے اور اس قوم کی زبان میں بھیجے۔“ ہم خدائے برتر کے کاموں میں نہ جانے کیوں دخل دے کر خود خدا بن جاتے ہیں۔

موسم آج بہت خوشگوار تھا بہار کی آمد آمد تھی، موسم میں تبدیلی محسوس ہو رہی تھی۔ بہار کی پیشگی ہوائیں چل پڑی تھیں جو آنے والے خوشگوار دنوں کا سندیسہ دے رہی تھیں۔ غنچے چٹکنے لگے تھے، درختوں سے برف کا کہرا چھٹنے لگا تھا، سبز پتوں کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے موسم میں میں کماکرا Kamakura کے تاریخی شہر کو دیکھنے نکلا تھا۔ ٹوکیو سے کئی ٹرینیں بدل کر اس عظیم ورثہ کے حامل شہر میں پہنچا۔ ٹرین میں بائیں ہاتھ جوزفین بیٹھی تھی جو کہ تقریباً اٹھائیس تیس سال کی ایک امریکی خاتون تھی اور اس کے سامنے مائیکل بیٹھا تھا۔

دونوں امریکی لیکن دونوں کی طبیعتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ مس جوزفین بھرپور جوان اور محنتی خاتون تھی اور جاپان کے بارے ان کی معلومات بے پناہ تھیں۔ دادا رحمن کو اگر یہ علم ہوتا کہ آج کس طرح کے لوگوں نے ہمارا ہم سفر بننا ہے تو اس نے میرا ساتھ نہیں چھوڑنا تھا۔ میں نے جب کل شام کو اپنے دونوں ساتھیوں رحمن اور چٹراج کو کماکرا کے اس عظیم تاریخی ورثہ کو دیکھنے کی بات کی تو انہوں نے کوئی گرم جوشی کا ثبوت نہ دیا۔ چٹراج نے شاید اس لیے کہ بدھ ازم نے صدیوں ہندوازم کو پریشان کیے رکھا۔

بنگلہ دیش کا رحمن جو اب میرا واحد سہارا بچا تھا۔ اس نے بھی صاف جواب دے دیا۔ ”کوئی عقل کی بات کرو اتنے زندہ مجسموں کو چھوڑ کر پتھر کا مجسمہ دیکھنے کی ضد کر رہے ہو اور وہ بھی اتنا دور۔“ چنانچہ میں جیب میں پرس ڈال کر اور کماکرا جانے کے لیے ٹرینوں کا نقشہ ہاتھ میں لے کر نکل کھڑا ہوا۔ میرے پوچھنے پر جوزفین نے بتایا کہ اسے جاپان میں دو سال ہو گئے ہیں اور وہ ٹوکیو یونیورسٹی میں آرٹ کی ڈگری لے رہی ہے۔

مائیکل نے لڑکیوں کی طرح بالوں کی پونی ٹیل بنائی ہوئی تھی۔ اس کو ٹوکیو میں رہتے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا تھا لیکن نہ تو اسے راستوں کا علم تھا نہ جاپانی زبان کی کچھ سدھ بدھ۔ جو بات بھی میں جاپان کے بارے پوچھتا تو وہ آگے سے مسکرا دیتا۔ میں نے تنگ آ کر ہنستے ہوئے ان سے کہا۔ ”مسٹر مائیکل لگتا ہے آپ نے جاپان میں یہ سارا عرصہ پونی ٹیل بنانے پر لگا دیا ہے۔“ وہ ہنسا اور کہا You are very naughty

مائیکل متواتر جوزفین کو للچائی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ جبکہ جوزفین کی تمام تر توجہ نقشوں پر تھی۔ اس نے مختلف مشہور مقامات کو نشان زد کیا ہوا تھا۔ میرے پوچھنے پر بہت خوش ہو کر وہ مختلف مقامات کی اہمیت اور ان کا محل وقوع بتاتی رہی۔ مس جوزفین کے مشورہ کے مطابق ہم نے پہلی مشہور عبادت گاہ سورو گاؤکا ہاچی منگ کا رخ کیا۔ کماکرا جب بارہویں صدی میں شوگن کا دارالحکومت تھا تو اس وقت اس شہر میں اور اس کے گردونواح میں تریسٹھ بدھ مندر تھے اور انیس شنٹو معبد تھے۔

جوزفین ہمیں قریب ہی مقدس جزیرہ Enoshima لے گئی۔ ہم katase پہنچے اور ایک کنکریٹ پل Bentenbashi کے اوپر سے گزرے۔ یہ ایک ہزار فٹ سے زائد لمبا پل تھا۔ اوپر آسمان پر چھائے ہوئے بادل اور نیچے تیزی سے گزرتا پانی ایک دلکش منظر پیش کر رہے تھے اس طرح کے مقدس مقامات اور پلوں پر سے گزرتے ہوئے نہ معلوم مجھے اکثر عجیب سا خیال کیوں آتا ہے جس کے ساتھ میں پیچھے ماضی میں چلا جاتا ہوں اور جیسے صدیاں بیت گئی ہیں میں بھکشوؤں کے گروپ میں شامل ہوں اور ہمارا گروپ شہر سے بھیک لینے کے بعد واپس شنٹو شرائن جا رہا ہے۔

تیز ہوا کے جھونکے میری روح کو سکون پہنچا رہے ہیں۔ آج ہم اسی جذبے سے شرائن کو دیکھ رہے تھے جو کافی وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے سامنے سمندر تھا اور جزیرے کا بیشتر حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا تھا۔ یہ جزیرہ ایک میل کے قطر پر محیط ہے اور سمندر کی لہریں جاپانیوں کے مزاج کی طرح مدھم انداز میں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔

ہمارے سامنے بینتن Benten دیوی کا مجسمہ تھا۔ بینتن دیوی کو انڈیا میں ”دیوی سرسوتی“ کہتے ہیں۔ انڈین میتھالوجی کے مطابق سرسوتی آرٹ، ادب، میوزک اور خطابت کی دیوی ہے۔ اس دیوی کو تمام تخلیقی کاموں کی دیوی سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر انڈین میوزک کے منچ کی دیوی ہے۔ اسی دیوی نے سنسکرت زبان اور دیوناگری رسم الخط متعارف کرایا۔ یہی وہ دیوی ہے جو شاعری، لٹریچر اور آرٹس کی سرپرست بھی کہلاتی ہے۔ اینوشیما جزیرہ اسی دیوی کی وجہ سے بینتن جزیرہ کہلاتا ہے۔

اب معلوم نہیں یہ دیوی جاپان کیسے پہنچی۔ لیکن ہم بہرحال یہاں پہنچ گئے تھے جوزفین، مائیکل اور میں اس وقت تتاگھت گوتم بدھ کے سامنے کھڑے تھے جو ابھی تک عرفان کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے لگتے تھے کہ زندگی کیا ہے، ابتدا کیا ہے، انتہا کیا ہے۔ زندگی مایا ہے، فریب ہے بدھا کے چہرے کی شانتی اور سادھنا سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ سکون کی دولت سے مالا مال ہو گئے ہیں۔ جوزفین بولی آپ کو معلوم ہے کہ عظیم بدھا کی دنیا کے لیے کیا خدمات تھیں۔

ذرا سوچئے اور اس دور میں چلے جائیے اس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ جوزفین کا بیان بہت موثر اور انداز دلکش تھا۔ میرے سامنے صدیاں گھوم گئیں۔ ہر طرف مفلوک الحال انسان تھے جن کے دکھ ان گنت اور ان پر جبر کرنے والے انسان بے شمار تھے ہر طرف انسانوں کے لیے دکھ کے پہاڑ کھڑے کر دیے گئے تھے اور ان سے نجات کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اس سمے ایک عظیم انسان کی آواز بلند ہوتی ہے۔

انڈیا میں آریاؤں نے جو معاشرتی ڈھانچہ کھڑا کیا تھا وہ ذات پات کی تقسیم پہ کھڑا تھا۔ کوئی اعلیٰ تھا کوئی ادنیٰ۔ انسان کو مختلف معاشرتی گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اس وقت مساوات تو ایک خواب بھی نہیں تھا جو اس وقت کے لوگ تصور کر سکیں۔ ہزاروں سال قبل اس طرح کے خیالات کے بارے تو بندہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ”پورا معاشرہ ذات پات کی پرتوں میں قید تھا۔ زندگی دکھ اور مسلسل دکھ تھا۔ لیکن انسان سخت کوش مخلوق ہے۔ اس ظلم اور زیادتی کے باوجود زندگی آگے بڑھ رہی تھی۔ مزدور مزدوری کر رہے تھے، کسان کھیتوں میں کام کر رہے تھے، محنت کش مزدوری میں مگن تھے، بیماروں کا علاج ہو رہا تھا، مائیں بچوں کو پیار کر رہی تھیں، محبت کرنے والے محبت کر رہے تھے، ظالم ظلم کر رہے تھے مذہبی لوگ بھگوان کے نام پر سادہ لوح انسانوں کا استحصال کر رہے تھے خوشیاں نہ ہوتے ہوئے بھی انسان کے دلوں میں خوشیاں تھیں خوشیوں کے خواب تھے۔

میں نے اوپر بدھا کی طرف نگاہ کی اور پوچھا

تت گتھ کی خوشیوں کا کیا بنا؟ جوزفین بولی گوتم ایک نوجوان حسین راجکمارتھا۔ شکار کا شیدائی۔ وہ ایک ریاست کے فرمانروا کا بیٹا تھا۔ ریاست جو ہمالیہ کی ڈھلان میں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھی اس وادی میں اس کے باپ کی حکمرانی تھی۔ ریاست کے فرائض اس کا باپ سنبھالتا اور وہ دورتک پھیلی وادی میں باغوں میں جنگلوں اور دھان کے کھیتوں میں شکار کھیلنے نکل کھڑا ہوتا۔ کھلا آسمان افق تک پھیلے میدان زرخیز وادی اس کے جوان جذبوں اور شوق کی آماجگاہ تھے۔

شہزادوں کا جاہ و جلال، چست و توانا بدن، ہاتھ میں تیر کمان لے کر جب وہ محل سے شکار کے لیے نکلتا تو اس کے ابروؤں کی کمان سے نہ جانے کتنی ناریاں شکار ہو جاتیں۔ لیکن وہ ایک پوتر انسان تھا جب کبھی گلیوں میں کھیتوں میں اور راستے پہ ناریوں سے اس کی مڈبھیڑ ہوتی تو اس کی نگاہیں ہمیشہ آسمان کی وسعتوں میں مرکوز ہوتیں لیکن ان تمام خوشیوں، جاہ و جلال اور بھرپور زندگی کے باوجود کوئی چیز اس کے من کو پریشان کیے رکھتی اور ہر وقت کانٹے کی طرح چبھتی رہتی۔

محلات کی آسودگی اور روزمرہ کے جشن اس کے دل میں دنیا کی محبت پیدا نہ کر سکے۔ گوتم جب ناتواں ضعیف العمر، بیمار شخص دیکھتا یا کوئی جنازہ تو یہ تینوں چیزیں انسان کی اندوہناک انجام کی طرف اس کو توجہ دلاتیں۔ ایک خیال جو اس کے دل میں پیوست ہو گیا تھا کہ یہ جو زندگی وہ گزار رہا ہے غیر حقیقی ہے ناپائیدار ہے جہاں شکاری خود ایک دن شکار ہو جاتا ہے یہ خوشیاں غیر حقیقی ہیں ان خوشیوں کے کھو جانے اور موت کے احساس نے گوتم کو زندگی سے بیگانہ کر دیا تھا گوتم نے خود کو زندگی کے ایسے جزیرے میں پایا جس کے گرد تلخ پانیوں کا راج تھا۔

چاروں طرف موت، دکھ، عدم اطمینان، ظلم اور جبر نے اس کے ذہن میں ایک ہلچل برپا کر دی۔ یہ نئے خیالات نئے وسوسے نئے تفکرات اس کو بے چین کیے رکھتے۔ طبقاتی ظلم سے پسے ہوئے انسانوں کو دیکھتا تو سہم جاتا جبر دیکھتا تو اس کی روح کانپ جاتی اور راج پاٹ کی چکا چوند زندگی کی ناپائیداری کی تپش میں پگھل جاتی۔ امیدوں کے ستارے ماند پڑ جاتے اور جوانی کے تند و تیز ٹھاٹھیں مارتے دریا کی جولانی تھم جاتی وہ برہمنوں سے رگ وید کے شبدوں پر بحث کرتا، تپسیا کرتا دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھاتا، برہمنوں کی محبت میں رات دن گزارتا کہ وہ ہی بھگوان کے سب سے قریب سمجھے جاتے تھے لیکن اس کے دل کی بے کلی ختم نہ ہوتی۔ وہ ان دیوتاؤں کے بارے پوچھتا۔ ”یہ فانی دیوتا کیا چیز ہیں؟“

ان کے جواب سے وہ مطمئن نہ ہوتا۔ دراصل اسے ابدی ذات کی تلاش تھی۔

گوتم نوجوان تھا اس کی ایک خوبصورت بیوی تھی جیسے راجکماریاں ہوتی ہیں جس رات اس کی بیوی نے ایک بیٹے کو جنم دیا تو پورے شہر میں جشن کا سماں تھا۔ نئے مہمان کی آمد پر مندروں میں گھنٹیاں بجائی جا رہی تھیں۔ سنکھ بجائے جا رہے تھے جو اس امر کا اعلان تھا کہ ایک نیا ولی عہد پیدا ہوا ہے لیکن گوتم انتہائی دکھ اور کرب سے گزر رہا تھا وہ محسوس کر رہا تھا جیسے اس کے بڑھتے ہوئے قدموں میں بیڑیاں ڈال دی گئی ہوں۔ ایک طرف وہ محل کی رونقیں گھر بار دولت بیوی بچے سب کچھ چھوڑ کر بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا اور دوسری طرف بیٹے کی محبت اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی کہ وہ اس کمرے میں جا کر بچے کو اٹھا کر سینے سے لگائے اس سے پیار کرے۔

وہ دبے پاؤں اس کمرے کی طرف گیا جہاں اس کی بیوی تھک کر میٹھی نیند سو رہی تھی۔ مندروں میں چڑھاوے چڑھانے کے بعد بچے کے کمرے کی دہلیز پر رسومات ادا کی گئی تھیں۔ ہر طرف پھول بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی بیوی اور بچے کے گرد پھول تھے۔ محل کی غلام گردشوں میں پھول ہی پھول تھے جو پھول سے بچے کی مسکان کی خبر دے رہے تھے۔ مشعلیں جل رہی تھی۔ مشعلوں کی روشنی میں اس نے دیکھا کہ بچہ ماں کے ساتھ لپٹا ہوا ہے اور ماں نے اس کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیا ہوا ہے۔

وہ انتہائی جذبات کے سنگم پر کھڑا تھا۔ ایک جذبے نے اسے جکڑ لیا تھا کہ جانے سے پہلے وہ اپنے بیٹے کو اٹھائے، اس سے باتیں کرے لیکن دوسرے جذبے کی انتہا نے اس کو روک دیا کہ اگر اس کی بیوی کی آنکھ کھل گئی اور وہ جاگ اٹھی جس سے وہ اتنی محبت کرتا تھا اور بیٹے کو اپنی آغوش میں لے لیا تو اس کا سفر کھوٹا ہو جائے گا اس کے من میں جو جوت لگی تھی وہ بجھ جائے گی۔ وہ کافی دیر تک ٹکٹکی لگائے بیوی اور بیٹے کو دیکھتا رہا آخر کار وہ واپس مڑا اور اپنے ایک قابل اعتماد ملازم کو ساتھ لیا۔

گھوڑے پر سوار ہو کر محل سے نکلا اور جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ تیاگ اس لیے تھا کہ دکھ کی ابتدا دریافت کرے۔ راستے میں اپنے قیمتی زیورات اتارے، قیمتی اشیا، تلوار، تیر کمان، زرہ بکتر، اپنی اعلیٰ پوشاک تمام چیزیں گھوڑے پر لاد کر ملازم کے ذریعے گھر واپس بھیج دیں اور خود پھٹے پرانے کپڑے پہن کر جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔

وہ اسی جذبے کے ساتھ جس نے اس کے من میں ہلچل پیدا کر رکھی تھی دنیا کی ہر چیز اور ہر نعمت کو ٹھکراتا دوسری دنیا میں چلا گیا۔ انتیس سال کی عمر میں اس نے جلاوطنی اختیار کر لی جس کو ”“ مہا تیاگ ”کہا جاتا ہے۔ اس نے یہ دنیا چھوڑ دی دنیا سے ہر قسم کی محبت کو خیرباد کہہ دیا اور اس سے ہر رشتہ توڑ لیا۔ اس کے دل میں ایک ہی جستجو تھی کہ وہ اس ازلی حقیقت کو پہچان لے جس کو زوال نہیں ایسے دیوتا کی تلاش جو امر اور لازوال ہے اور جس کو فنا نہیں وہ اس تلاش کے سفر پر روانہ ہو گیا۔

پھر اس کا سفر جاری رہا۔ مسلسل فاقہ کشی۔ بیداری۔ خود اذیتی کا سفر۔ اس نے تمام دنیاوی آسائشوں کو تیاگ دیا۔ تمام مادی اشیاء سے کنارہ کشی کر لی۔ اراوندھیا کے پہاڑوں میں غاروں میں۔ جنگلات میں، نگر نگر سچ کی تلاش میں سرگرداں رہا، سادھوؤں سے گیان سیکھا، اس نے اپنی آتما کو نفی کر لیا، کبھی پرندہ بن گیا، کبھی جانور کی آتما کو لے لیا، کبھی اس کی آتما مچھلی کے جسم میں داخل ہو گئی، اپنی آتما کو ختم کر کے پرندوں چرندوں مچھلیوں کی آتما بن گیا، کبھی چیونٹیوں کی شکل اختیار کی کبھی رینگنے والے جانوروں کی، مکمل جوگ (negative capability)۔

اس نے ہر ذی روح کی آتما کا احساس اپنے اندر سمو لیا کہ ان کی خوشی کیا ہو سکتی ہے اور کیا دکھ ہو سکتا ہے جو بعد میں اس کی تعلیمات کا اہم نکتہ بنی کہ کسی انسان کو کسی جاندار کو کسی ذی روح کو اذیت اور تکلیف نہیں دینی۔

لیکن ایک عرصہ گزرنے کے باوجود جو سوالات دل میں لیے اس نے گھر بار چھوڑا تھا ان سوالات کا جواب نہ مل سکا کوئی برہمن کوئی سادھو اس کے سوالات کا جواب نہ دے سکتا تھا اس کی پیاس کی شدت مزید بڑھتی گئی۔ وہ علم کی پیاس بجھانے ایک ایک در پہ جاتا اپنی ذات اپنی انا کو مٹانے کے لیے در در بھیک مانگتا۔ شہر شہر، نگر نگر، بستی بستی دل کا سکون پانے کی تلاش میں سرگرداں رہتا۔ ایک صبح جب وہ برگد کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو مارا اور گوتم کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ مارا اور گوتم کی جنگ دراصل اس کے اندر کی جنگ تھی ”نروان حاصل کرنے کے بعد بدھا کی تقریر جاری ہے۔ پیدائش دکھ ہے۔ عارضہ دکھ ہے۔ غم و اندوہ دکھ ہے۔ برے لوگوں سے تعلق دکھ ہے۔ پیاری چیزوں سے جدائی دکھ ہے۔ ناکام خواہش دکھ ہے۔

”میں نے سنسار کے تمام راستوں کو پرکھ لیا ہے، دکھ اور سکھ کا مزہ چکھ لیا ہے۔ سب دل کو دھوکہ دینے والی چیزیں ہیں۔ اصل چیز ہے نیک عمل اور نیت کی صفائی۔ ایثار اور سچائی، سیوا اور دل کی شکتی ہے۔ میری جائیداد میرا کرم ہے، میرا کرم میری ارث ہے۔ تم نہ سمندر کی تہہ میں نہ پہاڑوں کی غاروں میں نہ ہوا میں کہیں بھی تم اپنے کرموں کے پھل سے اپنے اعمال سے نہیں بچ سکتے۔ زر و مال کافور کی طرح ہیں اگر کسی کے کام آئیں تو فائدہ مند ہیں۔ دنیا اور آخرت کی امید کے بغیر دان دینا، سخاوت کرنا سب سے بہترین دان ہے“۔

”اگر نروان (نجات) حاصل کرنی ہے تو اپنے من کو اندر سے صاف کرو۔ جب کسی انسان کے خیال اور عمل میں جذبات اور ارادوں میں نیکی کی یہ روح سرایت کر جاتی ہے تو اس کے سامنے ابدی مسرت کا وہ راستہ کھل جاتا ہے جو اسے نروان کی منزل تک پہنچا سکتا ہے“۔ تقریر جاری ہے۔ علم و آگہی کا دریا موجزن ہے۔

میں نے کہا جوزفین عجیب بات ہے کہ اس شخص کے لیے دھرتی اور آسمان کی کوئی چیز کشش پیدا نہ کر سکی۔ یہ کرنیں بکھیرتا سورج، نیلگوں آسمان، آسمان کی رفعتوں میں پھیلے پرندے، سبز اشجار کی قطاریں جو دھرتی کے حسن میں چار چاند لگا دیتی ہیں۔ شاداب وادیاں بہتی ندیاں گرتی آبشاریں۔ سربفلک چوٹیاں، چوٹیوں پر پڑی دھند، رات کو چمکتے ستارے، ستاروں کے کارواں، دھیرج سے مکمل ہوتا چاند، ہمالیہ کے دامن میں دور تک پھیلی حسین وادیاں، وادیوں کے افق سے ابھرتے خوشنما رنگا رنگ پھول، پھولوں پر منڈلاتے بھنورے، ہوا کے دوش پر تیرتی تتلیاں، برسات میں برستا پانی جو گرمیوں کی حدت ختم کر کے آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتا ہے، ٹھٹھرتی سردیوں میں سورج کی تمازت، ماں کی ممتا، بیوی کی محبت، باپ کی شفقت، انسانی محبتیں یہ سب گوتم کے دل میں کوئی جذبہ کوئی آرزو پیدا نہ کر سکیں وہ دن بدن ان سے دور ہوتا گیا۔

زندگی کا یہ تمام حسن تمام جذبے، ان سے جڑے تمام خیالات اور احساسات اس کے دل میں کوئی ہلچل پیدا نہ کر سکے۔ اس کے دل میں جو ایک بے چینی پیدا ہو گئی تھی جس نے اس کا تمام سکھ چین ختم کر دیا تھا۔ اور جب اس کو نروان مل گیا۔ اس نئی روشنی ملنے کے بعد وہ جو دنیا اور دھرتی چھوڑ آیا تھا دوبارہ اس دنیا میں آ گیا کہ جس دنیا کو وہ مایا اور فریب سمجھتا تھا اسے معلوم ہوا یہی دنیا ستیہ ہے سچ ہے جیون جو دکھ سے بھرا ہے اس کو اسی دنیا میں رہ کر سکھ میں بدلنا ہے۔ ہر لحظہ بدلتی ہوئی اور فانی چیزوں کو چھوڑ کر لازوال سچائیوں سے پیار کرنا ہے۔ ”

جوزفین نے کہا۔ ”واقعی یہ وہ انسان ہے جس کو اپنے گرد دھرتی پر چاروں طرف پھیلا لازوال حسن بھی اپنی طرف مائل نہ کر سکا۔ زندگی کے دکھ اور انسان کی محرومیوں نے اسے پریشان رکھا اور اس آواز کو سنو یہ آواز قبل از مسیح کی ہے۔ اس آواز کی طاقت کا اندازہ کرو یہ آواز انڈیا سے اٹھی۔ دنیا کے نصف حصے پر چھا گئی، باقی تمام مذاہب مغرب کی طرف پھیلے یہ مشرق کی طرف پھیلی۔ نیپال، چین، برما، سیام، انڈونیشیاء، ملائیشیا، کوریا اور جاپان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آندھی اور طوفان کی طرح پھیل گئی۔

اربوں انسان اس آواز کے تقدس سے مسحور ہو گئے اور انہوں نے اپنی زندگیاں بدل ڈالیں اس آواز نے انسان اور انسان کا فرق مٹا دیا اور اس کے جیون میں سکھ کا امرت بھر دیا اور صدیوں کرہ ارض پر اس آواز کی گونج سنائی دیتی رہی۔ کیا ہم چند لمحوں کی خاموشی اختیار کر کے اس انسان کی عظمت کے سامنے سر نہیں جھکا سکتے۔ ”

اور اس کی تعظیم میں ہم سب نے سر جھکا دیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).